مرکزی صفحہ » عصرِحاضر کی تحریکیں » تحریکِ طالبان پاکستان » سانحہ پشاور پر مسلمانوں کو نصیحت ۔ امام مسجد نبوی الشیخ عبد الرحمن الحذیفی حفظہ اللہ

سانحہ پشاور پر مسلمانوں کو نصیحت ۔ امام مسجد نبوی الشیخ عبد الرحمن الحذیفی حفظہ اللہ

image_pdfimage_print

پشاور حملہ

 سانحہ پشاور پر مسلمانوں کو نصیحت

امام مسجد نبوی الشیخ عبد الرحمن الحذیفی حفظہ اللہ

حمد و صلاۃ کے بعد:

تقوی الہی اختیار کرو اور اسی کی اطاعت کرو، ہمیشہ گناہوں و معصیت سے بچ کر رہو،کیونکہ اللہ تعالی کی پکڑ بہت سخت ہے۔

اللہ کے بندو!

لوگوں پر اللہ کی طرف سے حجت قائم ہو چکی ہے، کہ خود اللہ تعالی نے صلح کروانے والوں پر احسان کرتے ہوئے دنیا و آخرت میں ملنے والا ثواب بیان فرما دیا ، اور فسادیوں کو سزا دینے کیلئے دنیاوی رسوائی، اور آخرت میں انکے منتظر عذاب کے بارے میں بتلا دیا۔

جس طرح اللہ تعالی اصلاح اور مصالحت کو پسند فرما کر دنیا و آخرت میں ناقابل بیان حد تک اجر و ثواب سے نوازے گا، اسی طرح اللہ تعالی فساداور فسادیوں کو بھی ناپسند فرماتا ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے:

{وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِي الْأَرْضِ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ}

زمین میں فساد مت تلاش کرو، بیشک اللہ تعالی فسادیوں کو پسند نہیں فرماتا۔ [القصص : 77]

اسی طرح فرمایا:

{ وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ}

اور زمین پر اصلاح کے بعد فساد مت پھیلاؤ، اگر تم مؤمن ہو تو یہی تمہارے لئے بہتر ہے۔ [الأعراف : 85]

اسی طرح فرمایا:

{ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ}

اور اللہ تعالی فساد کو ناپسند کرتا ہے۔ [البقرة : 205]

ایک جگہ فرمایا:

{ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ}

فسادیوں کے راستے پر مت چلو۔[الأعراف : 142]

انسانی جانوں کے قتل کے بعد کونسا فساد شرک کے بعد سنگین ہوسکتا ہے؟!! اللہ تعالی نے معصوم جانوں کا قتل حرام قرار دیا ہے، پاکستان کے شہر پشاور میں رونما ہونے والے سانحہ میں بہت سے معصوم بچوں سمیت 120 جانوں کا قتل ایک ایسا سنگین جرم ہے جو سنگلاخ پہاڑ بھی نہیں کر سکتے، یہ قتل عام مجرم قاتلوں کے ہاتھوں ہوا، یہی فسادی لوگ ہیں، یہی دہشتگرد اور رسوا ہونے والے لوگ ہیں، یہ شریر انسانیت کے بھی دشمن ہیں۔

بہت سے لوگ عام معاشروں میں عموما ، اور مسلم معاشروں میں خصوصا اس قسم کے دہشت گردی ، اور المناک جرائم سے متاثر ہیں ، یہ سانحہ المناک سانحہ ہے، یہ دہشت گردی اور مجرمانہ فعل ہے، اس سانحے میں بہت سے سنگین گناہوں کا ارتکاب کیا گیا ، اس ملک کے تمام ذمہ داران ، علمائے کرام، اور عوام الناس اس سنگین جرم کی انتہائی پر زور مذمت ، کرتے ہیں، اور ساتھ میں اس قسم کے جرائم کو ختم کرنے کیلئے انہیں جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا مطالبہ کرتے ہیں، تا کہ دوبارہ اس قسم کا اندوہناک سانحہ پیش نہ آئے، یہ کام تو ابلیس خود بھی نہیں کر سکا، اس لئے علمائے کرام پر ضروری ہے کہ درندگی پر مبنی ایسے اعمال سے لوگوں کو خبردار کریں، ایسے ہی کاموں سے اسلام کی روشن صورت کو بگاڑا گیا، اور اسلام سے انکا کوئی تعلق نہیں ہے، کیونکہ اسلام رحمت، سلامتی، بھلائی، اور عدل و انصاف کا دین ہے، اسلامی نصوص بھی اسی بات کا پرچار کرتی ہیں، اور تاریخ بھی اسی بات کی گواہی دیتی ہے-

اللہ تعالی کا فرمان ہے:

{مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ كَتَبْنَا عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنَّهُ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا}

اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل کے لیے (تورات میں) لکھ دیا تھا کہ

”جس شخص نے کسی دوسرے شخص کو قتلِ قصاص کے بغیر ، یا زمین میں فساد بپا کرنے کی غرض سے قتل کیا تو اس نے گویا سب لوگوں کو ہی مار ڈالا اور جس نے کسی کو (قتل ناحق سے) بچا لیا تو وہ گویا سب لوگوں کی زندگی کا موجب ہوا”     [المائدة : 32]

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(جن کو اللہ تعالی نے نیکیوں کیلئے دروازہ ، اور برائی کیلئے روکنے کا سبب بنایا انکے کیلئے خوشخبری ہے، اور جن کو اللہ تعالی نے برائیوں کیلئے دروازہ ، اور نیکیوں کیلئے روکنے کا سبب بنایا انکے کیلئے ہلاکت ہے)

یہ حدیث صحیح ہے ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔

 اقتباس از: خطبة جمعة الحرم النبوي الشريف 27 صفر 1436هـ الشيخ علي الحذيفي​

Print Friendly

About alfitan

مزید دیکھئے

پاکستان کا آئین غیراسلامی ہے یا پھر خود خوارج کا اپنا ایجنڈا؟

پاکستان کا آئین غیراسلامی ہے یا پھر خود خوارج کا اپنا ایجنڈا؟ کالعدم تحریک طالبان پاکستان …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *