مرکزی صفحہ » مسئلہ تکفیر » امام بخاری اور فتنہ تکفیر ۔ حافظ عبدالستار الحماد حفظہ اللہ

امام بخاری اور فتنہ تکفیر ۔ حافظ عبدالستار الحماد حفظہ اللہ

image_pdfimage_print
امام بخاری اور فتنہ تکفیر

امام بخاری اور فتنہ تکفیر

حافظ عبدالستار الحماد حفظہ اللہ

(مسئلہ ایمان و کفر)​

محدثین کے ہاں امام بخاری ؒکا جو مقام ہے وہ کسی سے مخفی نہیں ،امت نےانہیں امیر المؤمنین فی الحدیث کے طور پر قبول کیا اور ان کی مایہ ناز تالیف “الجامع الصحیح”کو”اصح الکتب بعد کتاب اللہ” قرار دیاہے۔

امام بخاریؒ نے مسئلہ تکفیر میں وہی موقف اختیار کیا ہے جو عام اہل سنت کا موقف ہے کہ:  لوگ اگر دین دار اور شرائع اسلام پر عمل پیراہیں ، تمام انبیاء کو ماننے والے اور اللہ کی طرف سے نازل شدہ کتابوں پر یقین رکھنے والے ہیں لیکن عقائد ونظریات میں سنگین قسم کی خرابیوں کے مر تکب ہیں ،عقائد کی خرابی کسی انکار وتکذیب کی وجہ سے نہیں بلکہ معقول تأویل یا جہالت کی وجہ سے ہے ایسے لوگوں کو دین اسلام سے خارج قرار نہ دیا جائے اور نہ ہی کافر کہا جائے بلکہ اس قسم کے لوگوں سے روایات لینے میں بھی نرم گوشہ رکھاجائے ،بشرطیکہ وہ عدالت وامانت سے موصوف ہوں اور صداقت و پر ہیز گاری میں معروف ہوں ،امام بخاری ؒنے اپنی صحیح میں اس موقف کے ثبوت وتائید میں کئی ایک اسلوب اور اندازاختیار کیے ہیں جن کی ہم وضاحت کرتے ہیں ۔

imam bukhari ٭ کوئی انسان ایمان کے منافی کسی بات یاعمل کا مرتکب ہوتا ہے اگر تومعقول تاویل یا جہالت کی وجہ سے ایسا کرتا ہے تو اسے دین اسلام سے خارج قرار نہیں دیا جاسکتا ،البتہ اگر کوئی دیدہ ودانستہ بلاتاویل وجہالت ،کسی کفر پر مبنی بات یا کام کامرتکب ہے تو بلاشبہ وہ کافر اور دین اسلام سے خارج ہے ، امام بخاری ؒنے اس سلسلے میں اپنی صحیح میں ایک باب بایں الفاظ قائم کیا ہے :

“جو اپنے بھائی کو بلاتاویل کافر کہتاہے وہ اپنے کہنے کے مطابق خودکافر ہو جاتاہے “

(صحیح بخاری، کتاب الادب ،باب:73)

پھر آپ نے اس بات کو ثابت کرنے کے لئے رسول اللہ ﷺ کی حدیث پیش کی ہے آپ ﷺنے فرمایا :

“جب کوئی اپنے بھائی کو “یاکافر”کے الفاظ سے پکارتاہے تو ان دونوں میں سے ایک ضرور کافر ہو جاتا ہے “

(صحیح بخاری ،الادب:6103)

پھر امام بخاری ؒنے اس سلسلہ میں ایک دوسراباب بایں الفاظ قائم کیا ہے :

“جو شخص کسی دوسرے کو تاویل یا جہا لت کی وجہ سے کافر کہتا ہے تو اس صورت میں خود کافر نہیں ہوگا۔”

(صحیح بخاری ،کتاب الادب ،باب:74)

امام بخاری ؒنے اس عنوان کوثابت کرنے کےلئے حضرت عمرفاروقؓ کا واقعہ پیش کیاہے :

“انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے سا منے حضرت حاطب بن أبی بلتعہ ؓکو منافق قرار دیاتھا ،رسول اللہ ﷺ نے حضرت حاطب ؓ کا دفاع تو کیا،لیکن ردّعمل کے طور پر حضرت عمر ؓ کو کافر یامنافق نہیں کہا، کیونکہ حضرت عمر ؓ نےانہیں ایک معقول تاویل کی بناء پر منافق کہا تھا کہ انہوں نے اہل مکہ کے نام ایک خط لکھا تھا جس میں اسلام اور اہل اسلام کے خلاف ایک اہم راز کا افشا تھا ،یہ عمل کفار سے دوستی کے مترادف ہے ،چونکہ حضرت عمر ؓ نے ایک معقول وجہ سے انہیں کافر کہا تھا اس لئے رسول اللہ ﷺ نے انہیں کافر یا منافق قرار نہیں دیا بلکہ آپ نے صرف حاطب ؓکے دفاع پر اکتفا فرمایا کہ جو لوگ غزوہ بدر میں شریک ہو چکے ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کر دیا ہے “

(صحیح بخاری ،المغازی:3983)

امام بخاری ؒ نے اپنے موقف کو مضبوط کرنے کے لئے حضرت عمر ؓ کا وہ واقعہ بھی بیان کیا ہے جس میں انہوں نے رسو ل اللہ ﷺ کے سامنے اپنے باپ کی قسم اٹھائی تھی ،چونکہ آپ کا یہ اقدام لاعلمی کی وجہ سے تھا اس لئے رسو ل اللہ ﷺ نے وضاحت کرتے ہوئے فرمایا :

“اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے باپ دادا کی قسم اٹھانے سے منع کرتا ہے اگر کسی نے قسم اٹھا نی ہوتو صرف اللہ کی قسم اٹھائے ۔”

(صحیح بخاری ،الادب:6108)

رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر ؓ کی لاعلمی کے پیش نظرانہیں کافر یامشرک قرار نہیں دیا ،حالانکہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے :

“جس نے اللہ کے علاوہ کسی اور چیز کی قسم اٹھائی اس نے شرک کا ارتکاب کیا ۔”

(مسند امام احمد ،ص:125ج2،ص87ج2)

ان احادیث سے معلوم ہو ا کہ اگر کوئی کسی معقول تاویل یا جہالت کی وجہ سے کافر انہ اقدام یاکفر یہ بات کرتا ہے تو اسے کافر نہیں کہا جائے گا۔

٭ امام بخاری ؒ کے نزدیک فتنہ پروراور بدعتی کی اقتدامیں نماز جائز ہے چنانچہ آپ نے اپنی صحیح میں ایک عنوان بایں الفاظ قائم کیا ہے :

“فتنہ انگیز اور بدعتی کی امامت کابیان “

(صحیح بخاری ،الاذان ،باب:56)

اس کے بعد امام بخاری ؒنے حسن بصری ؒکاایک جواب نقل فرمایاہے،آپ سے سوال ہوا کہ بدعتی کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے ؟تو آپ نے فرمایا:

“اس کے پیچھے نماز پڑھو اور بدعت کاوبال خود اسی پر ہو گا۔”

پھر آپ نے حضرت عثمان ؓ کے ایک واقعہ سے استدلال کیاہے جبکہ آپ اپنے گھر میں محصور تھے اور مدینہ منورہ پر فساد یوں اور فتنہ پرور لوگوں کا قبضہ ہو چکا تھا اور مسجد نبوی میں بھی انہوں نے اپنا امام تعینات کر دیا تھا ،لوگوں نے حضرت عثمان ؓ سے عرض کی کہ حالات آپ کے سامنے ہیں ،مسجد نبوی میں ایک فتنہ انگیز شخص نماز پڑھاتا ہے اورہم اس کے پیچھے نماز پڑھنے میں حرج محسوس کرتےہیں ،آپ نے فرمایا :کہ نماز کی ادائیگی لوگوں کے اچھے اعمال سے ہے اگر وہ اچھا کام کرتے ہیں ،تو تم بھی اچھائی میں ان کے شریک ہو جاؤ اور اگر وہ برا کام کریں تو ان کی برائی سے اجتناب کرو ۔

(صحیح بخاری ،الاذان :695)

واضح رہے کہ امام فتنہ سے مراد کنانہ بن بشر ہے جو فتنہ میں خوارج کے سرداروں سے تھا ،حضرت عثمان ؓ کے اس فتویٰ کی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی نے بھی مخالفت نہیں کی ،اگر خوارج کے فتنہ پرور اور بدعتی لوگ دین اسلام سے خارج ہوتے تو حضرت عثمان ؓ ان کے پیچھے نماز پڑھنے کا فتویٰ نہ دیتے ۔

امام بخاری ؒکے اس انداز اور اسلوب سےمعلوم ہوتا ہے کہ آپ تکفیر کے معاملہ میں بہت محتاط ہیں، معمولی جرائم کی وجہ سے کسی کو کافر قرار دینا آپ کا منہج اور طریقہ کار نہیں ہے ۔وھو المقصود ۔

٭امام بخاری ؒکے نزدیک کفر ، ظلم اور امور جاہلیت کی چند ایک اقسام ہیں ،ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں جن کے ارتکاب سے انسان دین اسلام سے خارج نہیں ہوتاچنانچہ آپ نے اپنی صحیح میں ایک عنوان بایں الفاظ قائم کیا ہے :

“خاوند کی ناشکری کرنا اور کفر کی چند اقسام ہیں “

(صحیح بخاری ،کتاب الایمان ،باب :21)

پھر آپ نے وہ حدیث بیان کی ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے خاوند کی ناشکری پر کفر کا اطلاق کیاہے جیسا کہ آپ نے اکثر عورتوں کو جہنم میں دیکھا تو آپ نے انہیں خبردار کیا کہ تم اپنے خاوند کی ناشکری کرتی ہو،اس لئے اللہ تعالیٰ نے تمہارے ساتھ یہ بر تاؤ کیا ہے ۔

(صحیح بخاری ،الایمان ،باب:22)

اس عنوان کو ثابت کرنے کے لئے آپ نے حضرت ابو ذر ؓ کا ایک واقعہ بیان کیا ہے کہ انہوں نے ایک آدمی کو اس کی ماں کی وجہ سے عار دلائی ،جب رسول اللہ ﷺ کے پاس اس کا ذکر ہوا تو آپ حضرت ابو ذر سے فرمایا:
“تو ایسا شخص ہے جس میں ابھی تک جاہلیت کی خوبو باقی ہے ۔”

(صحیح بخاری،الایمان :30)

امام بخاری ؒکا موقف واضح ہے کہ تکفیر بہت ہی خطرناک چیز ہے ۔معمولی گناہوں کے ارتکاب پر کسی کو کافر قرار دینا دانشمندانہ اقدام نہیں ،رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوذر ؓ کو جاہلیت کی عادت پر خبردار کیا لیکن انہیں کافر قرار نہیں دیا ۔

٭ آخر میں امام بخاری ؒ نے ظلم کی اقسام بیان کرتے ہوئے ایک عنوان قائم کیا ہے کہ ظلم بھی کئی طرح کا ہوتا ہے۔ (کتاب الایمان ،باب:23)پھر آپ نے ظلم کی ایسی قسم بتائی ہے جو شرک کے مترادف اور ناقابل معافی ہے ۔چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کا بیان ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی :

اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰۗىِٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَهُمْ مُّهْتَدُوْنَ

“جو لوگ ایمان لائے پھر اپنے ایمان کو ظلم سے آلودہ نہیں کیا ،انہی کے لئے امن وسلامتی ہے اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں ۔”

(الانعام:82)

تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی یا رسول اللہ ! ہم میں سے کون ہے جس نے ظلم نہ کیا ہو ؟اس ظلم کی وضاحت کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :

اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ

“بے شک شرک بہت بڑاظلم ہے ۔”

(اللقمان :13)

یعنی اس آیت میں مذکورہ ظلم سے مراد شرک ہے ۔(صحیح بخاری ،الایمان :32)امام بخاری ؒنے اپنی صحیح میں لعن مطلق اور لعن معین میں فرق کو واضح کیا ہے یعنی کسی معصیت کے ارتکاب پر مطلق طور پر لعنت کرنا تو صحیح اور جائز ہے ،لیکن مرتکب گناہ کو نامزد کر کے لعنت کرنا صحیح نہیں ہے ،چنانچہ آپ نے اس سلسلے میں بایں الفاظ باب قائم کیا ہے :

“شراب نوشی کرنے والے کو نامزد کر کے لعنت کرنا ایک نا پسندیدہ فعل ہے اور شراب نوشی سے انسان ملت اسلام سے خارج نہیں ہوتا۔”

(صحیح بخاری ،کتاب الحدود،باب:5)

پھر آپ نے ایک حدیث بیان کی ہے کہ ایک شرابی کو جب حد لگائی گئی تو کسی نے اس پر لعنت کی ،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

“اس پر لعنت نہ کرو ،اللہ کی قسم !یہ شخص اللہ اور اس کے رسو ل سے محبت کرتا ہے۔”

(صحیح بخاری ،الحدود:6780)

حالانکہ متعدد احادیث میں شراب نوشی پر لعنت کرنے کو جائزقرار دیا گیا ہے ۔مزید وضاحت کرتے ہوئے امام بخاری ؒ نےایک دوسرا عنوان بایں الفاظ قائم کیا ہے :

“چور پر لعنت کرنا جائز ہے بشرطیکہ نامزد نہ کیا جائے ۔”

(صحیح بخاری ،الحدود،باب:6)

پھر آپ نے ایک حدیث کا حوالہ دیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

“اللہ تعالیٰ چور پر لعنت کرے ،معمولی سا خود(ہیلمٹ) چرانے پر اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتاہے ۔”

(صحیح بخاری ،الحدود :6783)

ان روایات سے امام بخاری ؒ کا موقف واضح ہوجا تا ہے کہ لعن مطلق سے لعن معین مراد نہیں لی جا سکتی ،ان دو نو ں میں واضح فرق ہے ،مختصر یہ کہ کسی کو کافر قرار دینا بہت نازک مسئلہ ہے ،اس سلسلہ میں جلد بازی سے کام نہیں لینا چاہیے ۔جب تک کسی میں ایسی شرائط نہ پائی جائیں کہ اسے کافر قرار دیاجاسکے اور کوئی مانع بھی نہ ہو ، وہاں قطعی طور پر کسی کو کافر کہنے سے گریز کرنا چاہیے ۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں حق سمجھنے اور اسے اختیار کرنے کی توفیق دے ۔

“سبحانک اللھم وبحمدک واشھد أن لاالٰہ الاانت واستغفرک واتوب إلیک”

(آمین )

Print Friendly

About alfitan

مزید دیکھئے

مسلمانوں پر ہتھیار اٹھانے کی مذمت

مسلمان پر ہتھیار اٹھانے کا حکم الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *