مرکزی صفحہ » مسئلہ تکفیر » مسئلہ تحکیم » توحید فی الحکم اور حکمرانوں کی تکفیر کے متعلق خوارج کی غلط فہمی کا اذالہ ۔ مولانا طاہر القاسمی فاضل جامعہ بنوریہ کراچی

توحید فی الحکم اور حکمرانوں کی تکفیر کے متعلق خوارج کی غلط فہمی کا اذالہ ۔ مولانا طاہر القاسمی فاضل جامعہ بنوریہ کراچی

image_pdfimage_print

 توحید فی الحکم اور حکمرانوں کی تکفیر کے متعلق خوارج کی غلط فہمی کا اذالہ

مولانا طاہر القاسمی فاضل جامعہ بنوریہ کراچی


توحید فی الحکم :

’ومن لم یحکم بماانزل اللہ فاولئک ھم الکافرون‘‘ (النسآء)

اس آیت کی رو سے وہ سب لوگ کافر ہیں جو کہ اللہ کی اتاری ہوئی شریعت کیخلاف فیصلے کرتے ہیں اسی آیت کے ساتھ ملحقہ آیات میں اللہ تبارک و تعالی فرماتے ہیں کہ ” ومن لم یحکم بماانزل اللہ فاولئک ھم الظالمون “ کہ وہ لوگ ظالم (گناہ گار ) ہیں جو کہ اللہ کی اتاری ہوئی شریعت کے مطابق فیصلے نہیں کرتے ان سے پوچھا جائے کہ” گناہ گار“ کون ہے اور” کافر یا مشرک“ کون ہے۔

اسکے علاوہ سورہ النساء آیت نمبر 60 میں اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ

’’الم ترالی الذین یزعمون انھم امنو بما انزل الیک و ما انزل من قبلک یریدون ان یتحاکموا الی الطاغوت و قد امروا ان یکفروا بہ و یرید الشیطن ان یظلھم ضللا بعید‘‘

”کیا تم نے انہیں نہیں دیکھا؟ جن کا دعوی تو یہ ہے کہ جو کچھ آپ پر اور جو کچھ آپ سے پہلے اتارا گیا اس پر ان کا ایمان ہے لیکن اوہ اپنے فیصلے طاغوت کی طرف لے کر جانا چاہتے ہیں حالانکہ انہیں حکم دیا گیا ہے کہ شیطان کا انکار کریں، شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ انہیں بہکا کر دور ڈال دے۔

اسکے بعد اللہ تبارک و تعالی آیت نمبر 63سورة النساءمیں ان لوگوں کے ساتھ سلوک کا ذکر کرتے ہیں کہ

’’لئک الذین یعلم اللہ مافی قلوبھم فاعرض عنھم و عظھم و فل لہم فی انفسہم قولا بلیغ‘‘

’’ وہ لوگ ہیں کہ اللہ ان کے دلوںکا بھیدخوب جانتا ہے پس آپ ان سے اعراض کریں اور ان کو نصیحت کرتے رہیں اور انہیں وہ بات کہیں جو ان کے دلوں میں گھر کرنے والی ہو‘‘

ان آیات سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ایسے لوگوں کو اللہ ہمیں سمجھانے کا حکم دے رہا ہے اور ان سے منہ موڑنے کا نہ کہ ان کے قتل کرنے کا۔لہذا یہ لوگ (حکمران وغیرہ) منافقین کی صف میں شامل کئے جائیں گے نہ کہ کافروں کی صف میں اور ان کی اصلاح کی جائے گی

افسوس آج قرآن پاک کی اس آیت پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے اور اللہ کے اس حکم کو پس پشت ڈالنے کی وجہ سے یہ گمراہ کن گروہ اپنے ہی وضع کردہ اصولوں کے تحت خود بھی تکفیر کا شکار ہو رہا ہے۔یعنی کیا یہ اللہ کے ہر حکم پر عمل کرتے ہیں کیا ان سے کبھی اللہ سے کسی حکم کی خلاف ورزی نہیں ہوتی تو اس طرح یہ بھی اللہ کے حکم کی صریحا خلاف ورزی ہے اور اسی طرح نبی کریم جس بات سے منع کرگئے یہ لوگ اسی بات کو سر انجام دینے کے باوجود اپنے آپ کو حق پر ثابت کریں یہ کیسا انصاف ہے اللہ ہمیں حق بات سمجھ کر اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔

اور منافقین کو قتل نہ کرنے کی ایک دلیل مسند احمد کی حدیث ہے جس میں صحابہ کرام نے اللہ کے نبی ﷺسے کہا کہ منافق لوگ کفریہ کام کر رہے ہیں ہمیں اجازت دیں کہ ہم ان کاصفایا کر دیں آپ ﷺنے فرمایا:

” اولئک نھانی اللہ عنھم “ کہ یہ (منافقین) وہ لوگ ہیں جن کو قتل کرنے سے اللہ تبارک وتعالی نے مجھے منع کیا ہے۔

محترم بھائیو اس گمراہ کن فرقہ نے جو سب سے بڑی غلطی کھائی وہ یہ ہے کہ ان میں اصلاحی پہلو منقود ہے قرآن کریم میں اللہ تبارک وتعالی فرماتے ہیں ’اے نبی ﷺلوگوں کو اللہ کے رستے کی طرف دانائی اور بہترین حکمت عملی کے ذریعے بلاؤ اور ان کے ساتھ احسن انداز میں گفتگو کرو۔ ‘سورة الاعراف آیت نمبر 138

حضرت موسی علیہ السلام اپنی قوم کے ساتھ ایک میدان سے گزرے تو قوم نے دیکھا کہ لوگ بت کی عبادت کر رہے ہیں تو انہوں نے آپ سے علیہ السلام سے کہا کہ اے موسی ہمارے لئے بھی کوئی بت معبود مقرر کردیں جس طرح ان لوگوں کا بت ہے تو حضرت موسی علیہ السلام نے ان سے جو بات کہی قرآن نے اس کو یوں نقل کیا ہے ” انکم قوم تجھلون “بے شک تم جاہل قوم ہوحضرت موسی علیہ السلام نے تکفیر کرنے کی بجائے ان کو جاہل کہا ۔

آج بھی لوگ جہالت کی وجہ سے درباروں ، قبور اور فوت شدہ لوگوں سے ہر قسم کی مدد مانگتے ہیں ہمارا فرض انکی اصلاح ہے نہ ان کی تکفیر کرکے ان کے لئے فتنہ بنیں اللہ تعالی سے دعا ہے کہ

اللھم لا تجعل فتنة للقوم الظلمین

اسی طرح ایک دفعہ آنحضرت ﷺکے ساتھ نئے ایمان لانے والے صحابہ موجود تھے انہوں نے حضور ﷺسے کہا کہ ” اجعل لنا ذات الانواط “ تو آپﷺ نے فرمایا کہ تم نے موسی علیہ السلام کی قوم والی بات کہی ہے۔ حضور ﷺ نے اصلاحی انداز اختیار کیا۔ اسی طرح طائف کے لوگ جب فتح مکہ کے بعد حضور ﷺکے پاس ایمان لانے اور بیعت کرنے کیلئے آئے تو انہوں نے جملہ عبادات پر عمل نہ کرنے کا اظہار کیا حضور ﷺنے نماز کے علاوہ مصلحت کے تحت وقتی طور پر تمام فرائض چھوڑنے کی اجازت دے دی کہ وہ لوگ آہستہ آہستہ خود اسلام میں اگے بڑھنے پر ان کو اختیار کر لیں گے اور جب انھوں نے کہا کہ ہم نماز ادا نہیں کریں گے تو آپ ﷺنے ان کی اصلاح اس طرح کی کہ ” لاخیر فی دین لاصلاة فیھا “ اس دین میں کوئی خیر نہیں جس میں نماز نہیں۔

محترم بھائیو ان واقعات میں غور طلب بات یہ ہے کہ موسی علیہ السلام کی قوم ان سے اللہ کی جگہ ایک اور الہ مقرر کرنے کا کہ رہی ہے یہ واضح شرک ہے اسی طرح نبی ﷺکے نئے ایمان لانے والے صحابہ بھی اسی چیز کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن مسلمان کی تکفیر کی بجائے اصلاح کی جا رہی ہے۔

ان بھائیوں کا ایک بڑا اعتراض یہ ہے کہ آپ لوگ اپنے ملک میں ان درباروں کو کیوں نہیں توڑتے یہ اللہ کی بغاوت کے اڈے ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ اللہ کی بغاوت کے اڈے ہیں لیکن قرآن مصلحت اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے۔ ایسے واقعات پاکستان میں ہوئے ہیں کہ درباروں کو ڈھایا گیا لیکن اسکا نتیجہ یہ نکلا کہ اھل شرک و بدعت نے ان مقامات کو پہلے سے زیادہ بھرپور انداز میں آباد کیا۔

اللہ تبارک وتعالی نے ہمارے لئے حضرت ابراہیمؑ کی زندگی کو قرآن میں نمونہ قرار دیا ہے۔آپ امام الموحدین تھے، انکی زندگی کا ایک اہم واقعہ جب کہ انکی قوم میلے پر گئی ہوئی تھی آپ نے جا کر تمام بت توڑے اور ایک سب سے بڑے بت کو چھوڑ کر اس کے کندھے پر کلہاڑا رکھ دیا ۔

اب چاہیے تو یہ تھا کہ وہ اس بت کو بھی توڑ دیتے لیکن انہوں نے مصلحت اور قوم کو سمجھانے کی خاطر ایسا نہ کیا اور جب قوم واپس آئی تو انھوں نے ابراھیم علیہ السلام سے دریافت کیا اور کہا کہ یہ آپ کا کام ہو سکتا ہے۔تو آپ نے جواب دیا کہ اس بڑے بت سے پوچھو جس کے کندھے پر کلہاڑا ہے۔ قوم والے کہنے لگے کہ یہ نہ تو بولتے ہیں نہ تو سنتے ہیں اور نہ ہی حرکت کر سکتے ہیں۔ یہی چیز حضرت ابراھیم علیہ السلام اپنی قوم کو سمجھانا چاہتے تھے کہ بت ہمارے کسی طرح سے بھی ہمارے معبود نہیں ہو سکتے

لہذا بات سمجھ میں آئی کہ کبھی کبھی بت نہ توڑنے میں بھی اللہ کے دین کا فائدہ ہو سکتا ہے۔  اس لیے کسی کی برائی دیکھ کر جلد بازی نہیں بلکہ سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہیے اور تب بھی صرف وہی کچھ کرنا چاہیے جس کے ہم مکلف ہیں ۔۔۔ یعنی دعوت و تبلیغ  نبوی منہج کے مطابق ۔۔۔۔

اللہ سے دعا ہے کہ غلبہ دین اسلام کے اس سفر میں ہم سے کچھ خدمت کروا لے زندہ رکھے تو دین اسلام کی خدمت کرتے رہیں اور موت آئے تو شہادت کی افضل موت سے نوازے آمین ۔

وآخر دعونا ان الحمد لللہ رب العالمین

 

Print Friendly

About alfitan

مزید دیکھئے

photo721249554916288725

آیت کریمہ ((وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ ۔۔۔۔)) کی تفسیر – الشیخ مفتی مبشر احمد ربانی حفظہ اللہ تعالی

((وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ)) کی تفسیر و تشریح  الشیخ مفتی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *