مرکزی صفحہ » مسئلہ تکفیر » ’جو آدمی کسی کافرکو کافرنہ کہے، وہ بھی کافرہے‘ کےقول کا معنی۔ الشیخ علی بن محمد الصلابی حفظہ اللہ

’جو آدمی کسی کافرکو کافرنہ کہے، وہ بھی کافرہے‘ کےقول کا معنی۔ الشیخ علی بن محمد الصلابی حفظہ اللہ

image_pdfimage_print

جو کافر کو کافر نہ کہےجو کافر کو کافر نہ کہےجو کافر کو کافر نہ کہے

’جو آدمی کسی کافرکو کافرنہ کہے، وہ بھی کافرہے‘ کےقول کا معنی۔

الشیخ علی بن محمد الصلابی حفظہ اللہ

ان عبارتوں میں سے ، جو ایسے لوگوں کی زبانوں پر عام و مشہور ہوگئی ہیں کہ جو لوگوں کو تکفیر کے کوڑوں سے ہانکتے ہیں ، ان کا یہ کہنا بھی ہے :” جو آدمی کسی کافرکو کافر نہ جانے اوراسے کافرنہ کہے وہ بھی کافر ہے َ” انہوں نے یہ اصول و قاعدہ وجہ جواز کے طور پر اختیار کررکھا ہے تاکہ وہ ہراس آدمی پر کفر کا حکم و فتویٰ لگا سکیں جو ان کی رائے کے بارے میں ان کی مخالفت کرے ـ حقیقت بات یہ ہے کہ ان لوگوں نے اس جملے کو اس کے اصلی مقام باسلوب احسن استعمال ہی نہیں کیا ہے ار نہ ہی انہوں نے اس نے اس کا فہم و معنی اچھے طریقے سے سمجھا ہے ، سو بات یہ ہے کہ :

اس کافر سے مراد جو کافرکوکافرنہ سمجھے وہ بھی اسی طرح کاکافرہوتا ہے یہ ہے کہ : اس سے مراد وہ شخص ہے جو اپنے کفرکی وجہ سے حتمی کافر ہو کہ جس میں کفر کی تمام شروط مکمل طور پر پائی جاتی ہوں اور تمام کے تمام موانع اس سے ختم ہوں اور یہ کہ وہ شروع سے ہی کافرہو،اسلام میں داخل ہی نہ ہوا ہوـ یہاں وہ حتمی کافرمراد ہے ـجیسے کہ : فرعون،ابوجہل،ابولہب اورمارکس وغیرہم

سو ۔۔۔ جو آدمی ان لوگوں اور ان جسے دوسرے کافروں کو کافرنہ کہے اور کافرنہ جانے وہ بھی کافر ہوگا ،  نہ وہ شخص کہ مثلا جس کا حال اس کے اسلام کے اظہار کے لیے مخفی رہے اور کچھ لوگ اس شخص کی اس مجبور والی حالت سے مطلع بھی ہو اور خاص مجلسوں میں اور اس کے ساتھ ملاقات کے وقت اس کی اسلام والی حقیقت کو جان بھی لیں ـ پھر یہ کہ اسلام کی شروط کا پایا جانا بھی اس میں خوب تحقیق سے جان لیں اور موانع وعید و تکفیر بھی پائی جاتی ہوں ـ اس کے بارے میں تکفیر ووعید کا حکم نہیں لگایا جائے گا اور جس شخص میں یہ سب کچھ نہ پایا جاتا ہواس کا کافر جاننے کے لیے عقیدہ رکھنا واجب ہے ـ ہم تو ظاہر پر ہی حکم لگا سکتے ہیں دلوں کے رازوں اور مخفی باتوں کو اللہ عزوجل ہی بہترجانتا ہے ـ

نبی اکرم ﷺ کی حیات طیبہ میں منافقین بھی وہی ہی معاملہ (اشہارِ اسلام ، نماز، روزہ، حج، زکٰوتہ اور جہاد فی سبیل اللہ جیسے اعمال) کرتے تھے جیساکہ اہل ایمان ، مسلمان کرتے تھ ـ اس لیے کہ وہ اسلام کا اظہار کرتے مگر اپنے کفر کا اعلان واظہار نہیں کرتے تھے ـبلکہ اپنے کفرکو وہ چھپاتے تھے ـ آئمہ سلف صالحین کے اقوال اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ:کافر سے مراد: اپنے حتمی کفرکے ساتھ اس پرقائم ودائم کافر ہے ، نہ کہ وہ شخص کہ جس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہوـ فی تکفیرہ اختلاف سے دوچار آدمی کو کافرقرار نہیں دیا جا سکتا اورنہ ہی اس شخص کو کافر قرار دیا جا سکتا ہے جو ایسے آدمی کو کافرنہ کہے ـ

اس کی دلیل یہ ہے کہ : امام احمدبن حنبل رحمہ اللہ نماز چھوڑ دینے والے شخص کے بارے میں کفر کی رائے رکھتے ہیں ـجب کہ باقی تینوں آئمہ کرام (شافعی ،مالک ، ابوحنیفہ) ایسے شخص کے بارے میں (کہ جو نمازکوچھوڑے ہوئے ہو ) کفر کی رائے نہیں رکھتے تھے ـ چنانچہ اس ضمن میں ، اس مسئلے پر امام شافعی و امام احمد کے درمیان مناقشہ بھی ہو اـ تو بتلائیے ! کیا امام احمد بن حنبل نے امام شافعی پر کفر کا فتویٰ لگایا تھا ؟ اس لیے کہ وہ تارک صلاتہ کو کافرنہیں کہتے تھے ؟ آپ کو کسی کتاب میں بھی کہیں پر یہ نہیں ملے گا کہ : امام احمد نے امام شافعی پر کفر کافتویٰ لگایا ہوـ

امام احمد کی طرف اہل بدعات کو کافر قرار نہ دینے والے شخص کے بارے میں حکم کی جو نسبت کی جاتی ہے تو امام ابن تیمیہ نے اس بات کی تحقیق کرتے ہوئے لکھا ہے :” امام احمد کی طرف َ” اس شخص کے بارے میں دو روایات آئی ہیں کہ جو اس آدمی کو کافر نہیں کہتا جو کافر کو کافر نہ کہے “ان دونوں روایات میں سے صحیح روایت یہ ہے کہ : امام احمدرحمہ اللہ اس کو کافر قرار نہیں دیتے تھے

(فتاوی شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ جلد12، ص486)

کس قدر دو ٹوک سی بات ہے کہ : یہ تو حکم ہوا اس شخص کے بارے میں جو ایسے آدمی کو کافرقرار نہیں دیتا کہ جس کا کفر مختلف فیہ ہو ، البتہ حتمی کافر کو کافرکہنا او رجاننا لازم ہے۔ شیخ محمد بن عبدالوہاب کی طرف اس حکم و فتویٰ کی جو نسبت کی جاتی ہے کہ : آپ اس کو بھی کافر قرار دیتے تھے جو اس کفر کا مستحق نہ ہو ۔ ۔ ۔ تو درج ذیل میں ان کے اقوال کو بالا جمال ہم بیان کردیتے ہیں جو دعوت الی اللہ میں ان کے اسلوب و منہج کو خوب واضح کر رہے ہیں اور ان کی طرف جو افتراء و بہتان کی بناء پر اس بات کو منسوب کیا جاتا ہے کہ آپ اس شخص پر بھی کفر کا حکم و فتویٰ لگاتے تھے جو اس کا مستحق نہ ہوتا تھا، اس کی بھی آپ نے خود ہی خوب نفی کی ہے ـ
شریف مکہ کی طرف لکھے گئے اپنے مکتوب میں شیخ موصوف رحمہ اللہ نے فرمایا تھا:”

“اور جہاں تک اس کذب و بہتان کا تعلق ہے کہ ہم سب مسلمانوں (یا اکثر مسلمانوں ) پر کفر کا حکم لگاتے ہیں اور اپنی طرف ان لوگوں کا ہجرت کر آنے کو واجب قرار دیتے ہیں کہ جو اپنے دین کے اظہار کی مقدرت رکھتا ہو اور یہ کہ ہم اس کو بھی کافرقرار دیتے ہیں جو تکفیر کا راستہ اختیارنہ کرے اور نہ ہی قتال فی سبیل اللہ کرے اور اس طرح کی کئی گناہ اور افتراء و کذب والی باتیں ۔۔۔۔ ؟

تو اس طرح کی تمام باتیں جھوٹ اور ہم پر بہتان ہیں ـ لوگ دراصل ایسی جھوٹی باتوں اور افواہوں کے ذریعے دیگرلوگوں کو اللہ عزوجل اور اس کے رسولﷺ کے دین حنیف سے روکنے کی کوشش کررہے ہیں ـ جب ہم ایسے کسی آدمی پر کفر کا حکم و فتوی نہیں لگاتے کہ جو شیخ عبدالقادرجیلانی اور احمد البدوی کی قبروں پر یا ان جیسے دوسرے اللہ کے صالح بندوں کی قبروں پر لگے پتھروں کی پوجاکرتا ہے اور یہ بھی ہم جانتے ہیں کہ ایسا آدمی اپنی دین حنیف ، اسلام کی تعلیمات سے ناواقفیت کی بنا پر کرتا ہے اور یہ کہ اسے وہ لوگ میسر نہیں ہیں جو اس کو ایسے شرکیہ کام سے خبردار و منع کرسکیں ۔۔۔ تو پھر ہم اس شخص پر کفر کا حکم کیسے لگا سکتے ہیں کہ جو اللہ عزوجل کے شرک کرتا ہی نہ ہو اور یہ کہ وہ ہماری طرف ہجرت کا ارادہ نہ کرے؟ نہ اس نے کبھی کفر کا ارتکاب کیا ہو اور نہ ہی وہ اللہ کی راہ میں لڑا ہو ؟سبحانک ھذا بہتان عظیم

(شیخ عبداللطیف بن عبدالرحمن آل شیخ کی کتاب “مصباح الظلام ص :43 ــ سے اقتباس)

اسی طرح شیخ موصوف امام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ نے السویدی البغدادی کی طرف لکھے گئے اپنے ایک مکتوب میں اس بہتان و افتراء کا رد کرتے ہوئے تحریر فرمایا تھا کہ :

“تم نے یہ جو بیان کیا میں ان لوگوں کے علاوہ کہ جو میری اطاعت و اتباع کریں،تمام لوگوں پر کفر کا حکم و فتویٰ لگاتا ہوں اور یہ کہ میں گمان رکھتا ہوں کہ ان لوگوں کے نکاح درست نہیں ۔۔۔۔تو یہ کس قدر حیران کن بات ہے ؟ کسی عقل مند آدمی کی عقل میں یہ باتیں کیسے آسکتی ہیں ؟ کیا اس طرح کی بات کوئی مسلمان، مومن علوم شرعیہ سے بہرور آدی کہے گا یا پھرکوئی کافر اور پاگل انسان ؟ ۔۔۔۔۔

کیا معلوم بھی ہے کہ تکفیر ہوتی کیا ہے ؟(جب مجھے اس کا بحمد اللہ العزیز پورا پورا علم ہے ) تو کیا میں اس آدمی کو کافر کہوں گا جو دین اسلام کے بارے میں (ایمان لانے اور اس پر عمل پیرا ہونے کے بعد) پوری پوری معروفت رکھتا ہو؟ نہیں ۔۔۔ بلکہ :

میں اس شخص کو کافر قرار دیتا ہوں جو دین حنیف ، اسلام کو خوب اچھی طرح جان چکا ہو اور پھر اس کے بعد وہ اسلام کے متعلق پور پورا علم رکھتا ہوں، اسلام کو گالیاں دے ـ لوگوں کو اسلام سے روکے منع کرے اور اہل اسلام کے ساتھ دشمنی رکھے تو ایسے شخص کو میں کافر جانتا اور اس پر کفر کا حکم لگاتا ہوں اور امت اسلامیہ کو اس سے آگاہ بھی کرتاہوں ـ یہ بھی جان لیجئے کہ الحمد للہ اکثر اہل ایمان واسلام ایسے نہیں “

(شیخ عبداللطیف بن عبدالرحمن آل شیخ کی کتاب “مصباح الظلام ص :43 ــ سے اقتباس)

فكرالخوارج والشيعة في ميزان اهل السنة والجماعة
شیخ علی بن محمد الصلابی
ترجمہ : ابو عبداللہ بن ابراہیم الفتح​
Print Friendly

About alfitan

مزید دیکھئے

index132

اپنی ذات پر دین حنیف کے معاملے میں تشدد اور دوسروں کو تنگی میں ڈالنا

تکفیری سوچ کو جنم دینے والے چند اہم محرکات  اپنی ذات پر دین حنیف کے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *