صحابہ و سلف کے اقوال

حکمرانوں کی اطاعت پر صحابہ و ائمہ سلف کے اقوال ۔ الشیخ ذکاءاللہ السندھی حفظہ اللہ

صحابہ و سلف کے اقوالحکمرانوں کی اطاعت پر صحابہ و ائمہ سلف کے اقوال ۔ الشیخ ذکاءاللہ السندھی حفظہ اللہ

حکام وقت کی اطاعت وفرمانبرداری پر اقوال صحابہ سے دلائل:

1۔  سوید اابن غفلہؓ سے روایت ہے کہ مجھ سے عمر نے کہا: اے ابوامیہ ہوسکتا ہے کہ میں اس سال کے بعد تم سے نہ مل سکوں ، اگر تمہارے اوپر ایک نک کٹا حبشی غلام بھی امیر بنادیا جائے تو اس کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو، اگر وہ تمہیں مارے تو صبر کرو، اور تمہیں محروم کر دے تو صبر کرو، اور اگر تم سے کوئی ایسا کام چاہے جو تمہارے دین کو ختم کر رہا ہو تو اسے کہو: لبیک اے امیر بس میرا خون لے لو لیکن میں اپنے دین کو نقصان نہیں پہنچاسکتا، اور کسی بھی حال میں جماعت سے الگ مت ہو۔  (السنۃ للخلال 1/111 ، دار الرایہ)

2۔ عبد اللہ بن دینار سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: جب لوگوں نے عبد الملک کی بیعت کی ، توعبد اللہ بن عمرؓ نے اس کی طرف خط لکھا: اللہ کے بندے امیر المومنین عبد الملک کی طرف : میں اللہ کے بندے امیر المومنین عبد الملک کی بیعت کا اقرار کرتا ہو ں کہ میں اللہ اور رسول کے طریقے پر جس قدر ہوسکا اس کی اطاعت کروں گا اور میرے بیٹے بھی اس کا اقرار کرتے ہیں۔ (بخاری:7205)۔

حکام وقت کی اطاعت میں ائمہ اہل السنۃ والجماعۃ کے اقوال:

سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: اے شعیب تمہارا لکھا ہوا تمہارے کچھ کام نہیں آئے گا جب تک تم ہر نیک وبد حاکم کے پیچھے نماز صحیح نہ سمجھو، شعیب اس وقت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کے عقیدہ کے کچھ اجزاء لکھ رہے تھے۔   (شرح اصول الاعتقاد اہل السنۃ والجماعۃ للالکائی ، ط۔ دار طیبہ(1/173)۔

 

نیز امام احمد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اور سننا اور اطاعت کرنا ہرامیر کی، وہ نیک ہو یابد ، یاوہ اپنے باپ کےبعد خلافت سنبھالے اور اس پر لوگوں کا اتفاق ہوجائے اور وہ اس سے راضی ہوجائیں ، یا وہ جوبذریعہ قوت امیر بنے یہانتکہ وہ خلیفہ بن جائے اور امیر المومنین کہلانے لگے۔(ایضاً 1/180)۔

 

3۔ نیز انہیں امام ممدوح نے امیر کے ظلم وجور پر صبر کی ، نیز اس کی خیر خواہی چاہنے اور اس کے خلاف بغاوت نہ کرنے کی وہ عملی مثالیں دی ہیں جو سونے کے پانی سے لکھنے کے قابل ہیں؛ چانچہ خلال نے اپنی کتاب السنۃ میں حنبل سے صحیح سند سے روایت کیا ہے (1/132-134ط: دارالرایہ) کہ: واثق کے دور حکومت میں بغداد کے فقہاء ابوعبداللہ (یعنی احمد بن حنبل) کے پاس آئے اور ان سے کہا: اے ابو عبد اللہ! اب یہ معاملہ بہت بڑھ گیا ہے اور پھیل گیا ہے(یعنی آپ کا خلق قرآن کے مسئلے کو بیان کرنا وغیرہ) امام احمد نے فرمایا: آپ لوگ کیا چاہتے ہیں؟ انہوں نے کہا ہم آپ سے اس امارت کے بارے میں مشورہ چاہتے ہیں ہم اس (واثق) کی امارت اور حکومت سے راضی نہیں ہیں، امام احمد نے ان لوگوں سے ایک گھنٹے مناظرہ کیا اور انہیں کہا: نہیں چاہیئے کہ تم دل سے برا جانو اور اس کی اطاعت سے ہاتھ مت کھینچو، مسلمانوں کے کلمے کو متفرق مت کرو اور اپنے اور اپنے ساتھ دوسروں کے خون مت بہاؤ، اپنے امر کے انجام پر غور کرو، اور صبر کرو یہانتکہ نیک کو آرام آجائے یا پھر بد کے شر سے لوگ پر امن ہوجائیں۔

 
4۔ فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اگر میری کوئی قبول ہونے والی دعا ہوتی تو میں امیر کے لئے دعا کرتا ۔(شرح السنۃ/امام بربہاری ص: 108ط: دارا الصمیعی)۔

 
5۔ امام سھل بن عبد اللہ تستری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: یہ امت تہتر فرقوں میں تقسیم ہوجائے گی جن میں سے بہتر ہلاک ہوں گے، جو سب کےسب حاکم وقت سے بغض رکھتے ہوں گے، اور نجات وہ ایک فرقہ پایئگا جوحاکم وقت کے ساتھ ہوگا۔(قوت القلوب/ابوطالب مکی 2/242 ط : دار صادر)۔

 
6۔ امام حسن بن علی بربہاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اگر تم کسی کو حاک وقت پر بددعا کرتے دیکھو تو سمجھ لو کہ اہل بدعت میں سے ہے اور اگر کسی کو حاکم وقت کے لئے دعا کرتے دیکھو تو سمجھ لو کہ صاحب سنت ہے( ان شاء اللہ تعالی) (ایضاً ص:107) دوسری جگہ پر آپ فرماتے ہیں: کسی کے لئے جائز نہیں کہ وہ ایک رات بھی اس حال میں گزارے کہ وہ اپنے آپ کو کسی نیک یا بدامام کی امارت سے آزاد سمجھتا ہو۔(ایضاً ص:70)۔

 
7۔ عقیدہ طحاویہ میں امام اطحاوی فرماتے ہیں: اور ہم اس بات کو جائز نہیں سمجھتے کہ کوئی حکام وقت واہل حل وعقد کے خلاف بغاوت کرے اگر چہ وہ کتنا ہی ظلم کیوں نہ کریں، اور نہ ہی ہم ان پر بددعا کرتے ہین اور نہ ہی ان کی اطاعت سے اپنا ہاتھ کھینچے ہیں اور ہم ان کی اطاعت کو اللہ کی اطاعت کے ضمن میں داخل سمجھتے ہیں جو کہ فرض ہے، سوائے اس کے کہ وہ کسی گناہ کا حکم دیں، نیز ہم ان کے سیدھر نے کی اور ان کی سلامتی کی دعا کرتے ہیں   ۔( شرح الطحاویہ لابن ابی العز، بتخر یج الالبانی ، ص: 379،ط: مکتب اسلامی)۔

 
8۔ اور ابن قدامہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جس کی امامت ثابت ہوگئی اس کی اطا ہیں۔ عت کی فرضیت بھی ثابت ہوگئی اور اس کے خلاف بغاوت حرام ہوگئی؛ کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: (يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ ۔۔۔۔)    (مغنی 12/273 ط: دار ہجر)

 
نیز امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتےہیں: اسی بناء پر اہل السنۃ کا مشہور مذہب یہ ہے کہ وہ ائمہ کے خلاف بغاوت کو جائز نہیں سمجھتے اور ان کے خلاف قتال بالسیف کو حرام سمجھتے ہیں، اگرچہ یہ ائمہ کتنے ہی ظالم کیوں نہ ہوں، جیسا کہ متعدد احادیث صحیحہ سے ثابت ہے؛ کیونکہ قتال وبغاوت سے پیدا ہونے والا فتنہ ان کے ظلم کے فتنے سے کہیں زیادہ ہے اس لئے چھوٹے فساد کے ذریعے بڑے فساد کو دفع کرنا دانشمند انہ فعل نہیں اور شائد ہی کوئی فرقہ ایسا ہو جس نے کسی حاکم کے خلاف بغاوت کی ہواور پھر اس کے خروج سے پیدا ہونے والا فساد اس ظلم کے فساد سے زیادہ نہ ہوا ہو جسے اس خروج نے مٹایا۔

(منہاج السنۃ 2/391،ط: مکتبۃ المعارف)۔

10۔ نیز شیخ الاسلام محمد بن عبد الوھاب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: کمال اجتماعیت میں سے ایک چیز یہ بھی ہے کہ ہم حاکم وقت کی بات سنیں اور اس کی اطاعت کریں اگرچہ وہ ایک حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو؛ اس لئے آپﷺ نے اس بارے میں کافی شافی بیان فرمایا اور اس ضمن میں شرعی ودنیوی لحاظ سے بیان کے تمام طرق وآداب استعمال فرمائے پھر حال یہ ہوا کہ یہ عظیم اصول اکثر مدعیان علم اذہاں سےبھی غائب ہوگیاچہ جائیکہ اس پر عمل ہو!!      (الجامع الفرید ، ص: 324)