مرکزی صفحہ » عصرِحاضر کی تحریکیں » القاعدہ » خوارج کی امام اہل السنہ احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے بیگانگی کیوں؟ الشیخ احمد البلتی حفظہ اللہ

خوارج کی امام اہل السنہ احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے بیگانگی کیوں؟ الشیخ احمد البلتی حفظہ اللہ

image_pdfimage_print

بیگانگی کیون

خوارج کی احمد بن حنبل سے بیگانگی

خوارج کی امام اہل السنہ احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے بیگانگی کیوں؟

الشیخ احمد البلتی حفظہ اللہ

الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد

کیا وجوہات ہیں کہ تکفیری اور خارجی فکر کے حاملین آپ کو کبھی بھی امام اہل السنہ احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا نام لیتے یا انکے منہج کی بات کرتے ہوئے نظر نہیں آئیں گے؟؟؟

وجہ صاف ہے کیونکہ جو امام اہل السنہ رحمہ اللہ کے منہج سے متفق نہیں تو اسکا اہل السنہ میں سے ہونا ہی مشکوک ہے۔

یہ ایک مختصر مضمون ہے جو عصر حاضر میں تکفیری و خارجی حضرات کے لئے ایک کھلا چیلنج ہے۔ امام احمد بن حنبل نے ایک ایسے حکمران کی اطاعت کا حکم دیا کہ جو خلق القرآن جیسے کفریہ عقیدے کا حامل بھی تھا اور اسے بزور قوت لوگوں پر نافذ تشریع عام بھی کرتا تھا اور بہت سے اہل السنہ علماء کو اس عقیدہ سے انکار پر قتل بھی کرواتا تھا۔

مگر امام اہل السنہ نے کبھی اس حکمران کی نہ تو تکفیر کی اور نہ ہی خروج کیا اور نہ ہی اس کی دعوت دی بلکہ وہ لوگوں کو اس قبیح فعل سے روکتے رہے۔

حتی کہ خود انکو سرعام دربار میں حکمران کے سامنے کا مارا پیٹا گیا ، کوڑے لگائے گے ، وہ بیہوش ہو گئے ، پابند سلاسل رہے مگر نہ ہی ان حکمروانوں کی تکفیر کی اور نہ خروج۔

وجہ ؟

وجہ صاف ہے کہ اہل السنہ کے ہاں کسی حکمران کی تکفیر اور اس کے خلاف خروج انتہائی ہح حساس معاملہ ہے۔ امام اہل السنہ کے مطابق وہ حکمران جاہل و متاول تھے ، اس لئے انکے عذر کی وجہ سے تکفیر غیر شرعی قرار دی۔

اب کوئی گمراہ کن فکر کا حامل شخص یہ کہے کہ آج کے حکمران کی تاویل قبول نہیں کیونکہ ان کے سامنے حق بات کئی بار بیان کی جا چکی ہے مگر پھر بھی نہیں مانتے تو ان کو اس فضول تلبیس پر سوچنا چاہیئے۔

کیونکہ امام احمد بن حنبل رحمہ اس مسئلہ پر حکمرانوں کے طرف سے متعین کردہ ”درباری علماء” کو مناظرے میں وا شگاف شکست دے چکے تھے اور خود بنفس نفیس بادشاہ کے دربار میں بھی مسئلہ کو کھول کر بیان کر چکے تھے مگر انہوں نے تو یہ نہیں کہا کہ بس اب “تاویل قابل قبول نہیں”۔

لہذا عصر حاضر کے تکفیری و خارجی حضرات جس مدر پدر آزاد تکفیر و خروج کے ڈھول کو پیٹ رپے ہیں اس پر سلف صالحین کے نام کی ملمع کاری تو خوب نکھار کر کرتے ہیں مگر سلف صالحین کے فہم کے سرے سے ہی منکر ہیں اور آج کل کی”جدید تشریحات” کو سلف صالحین کے فہم و منہج پر ترجیح دے کر یہ بات ثابت کرتے ہیں کہ جس منہج باطل کا وہ پرچار کر رہے ہیں ، سلف صالحین اس سے بری ہیں۔

اب ہم ایک مختصر مضمون میں امام احمد بن حنبل کا مسلم حکمرانوں اور خوارج بارے کیا منہج تھا اس پر روشنی ڈالتے ہیں تاکہ متلاشیان حق کے سامنے راستہ روز روشن کی طرح واضح ہو جائے اور تکفیری و خارجی افکار کے حاملین یا انسے متاثرین کے نرغے میں آ کر دنیا و آخرت تباہ کرنے سے بچ جائیں۔ آمین 

 امام اہل السنہ احمد بن حنبل ؒ فرماتے ہیں:

1️⃣ – “امیر المؤمنین جو خلافت پر والی ومتمکن ہوجائے اور لوگ اس پر مجتمع ہوکر راضی ہوجائیں، یاپھر جو تلوار کے زور پر غالب ہوجائے یہاں تک کہ (اپنے آپ) خلیفہ بن بیٹھے، اور امیر المؤمنین (مسلمانوں کا حاکم) کہلایا جانے لگےتو اس کا حکم سننا اور اطاعت کرنا ہے خواہ نیک ہو یا بد۔”

2️⃣ – “امراء(حکام)خواہ نیک ہوںیابد،کےساتھ مل کر(ان کی سربراہی میں)تاقیام قیامت ،غزوہ (جہاد)باقی رہے گا، اسے چھوڑا نہیں جائے گا۔”

3️⃣ – “اسی طرح مال فئ کی تقسیم اور اقامتِ حدود ان آئمہ (حکام) کے ساتھ باقی رہے گی۔ کسی کے لئے جائز نہیں کہ وہ ان پر طعن کرے یا ان سے (حکومت کے معاملے میں) تنازع کرے۔ انہیں صدقات (زکوۃ) ادا کرنا جائز ونافذ رہے گا۔ جو اس (زکوۃ)کو ان (حکام)کو ادا کردے تو یہ اس کے لئے کافی ہے۔ (یہ تمام باتیں ان حکام کے حق میں باقی رہیں گی)خواہ نیک ہو یا بد۔”

4️⃣ – “ان (حکام)اور جنہیں یہ امام مقرر کریں ان کے پیچھے نماز جمعہ جائز ہےاورباقی ہے مکمل دو رکعتیں۔ جس نے اپنی نماز کو (ان کے پیچھے پڑھنے کے بعد)لوٹایا تو وہ بدعتی، آثار کو ترک کرنے والا اور سنت کی مخالفت کرنے والا ہے۔ اگر وہ نیک وبد آئمہ کے پیچھے نماز کو جائز نہیں سمجھتا تو اس کے لئے جمعہ کی فضیلت میں سے کچھ بھی حصہ نہیں۔ سنت یہ ہےکہ ان کے ساتھ دو رکعتیں پڑھو، اور یہ یقین رکھو کہ یہ مکمل ادا ہوگئی ہے، اور تمہارے دل میں اس بارے میں کوئی شک بھی نہ ہو”۔

5️⃣ – “جو آئمہِ مسلمین(مسلمانوں کے حکام) پر خروج کریں جبکہ لوگ اس پر مجتمع ہوچکے ہوں اور اس کی خلافت (حکومت) کا اقرار کرتے ہوں کسی بھی طور پر، چاہے رضامندی سے ہو یا (جبراً) غلبہ حاصل کرلے (تو ایسے حکام پر بھی خروج کرنے والا) مسلمانوں کی حکومت واتحاد کو پارہ پارہ کرنے والا ہے، اور رسول اللہ (ﷺ) سے ثابت شدہ آثار (احادیث) کی مخالفت کرنے والا ہے۔ اگر وہ اسی خروج کی حالت میں موت پاتا ہے تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہے۔

6️⃣ – “سلطان (حاکم) سے قتال کرنا (تختہ الٹنا)جائز نہیں، اور نہ ہی کسی انسان کے لئے ان پر خروج جائز ہے۔ جس نے ایسا کیا تو وہ بدعتی ہے نبی کریم (ﷺ)کی سنت اور ان کےطریقے پر نہیں۔”

7️⃣ – “چوروں (ڈاکوؤں) اور خوارج سے قتال کرنا جائز ہے اگرو ہ کسی شخص کی جان ومال کے درپے ہوں تو اسے چاہیے کہ اپنی جان ومال کی حفاظت کے لئے ان سے لڑے اور ان کا دفاع کرے جس قدر بھی اس کی طاقت ہو۔ مگر اس کے لئے یہ جائز نہیں کہ اگر وہ اسے چھوڑ کر بھاگ جائیں تو انہیں طلب کرے یا ان کا پیچھا کرے،یہ حق سوائے مسلمانوں کےحکمرانوں کے اور کسی کا نہیں۔ اسے بس چاہیے کہ وہ اپنے جگہ پر اپنا دفاع کرے اور اپنی اس کوشش کے بارے میں یہ نیت رکھے کہ کسی کو قتل نہیں کرنا، لیکن اگر اس کے ہاتھوں اپنا دفاع کرتے ہوئے لڑائی میں کوئی قتل ہوجائےتو اللہ تعالی نے اس مقتول (چور وخوارج وغیرہ) کو رفع دفع کردیا، اور اگر یہ دفاع کرنے والا اس حالت میں کہ وہ اپنی جان ومال کا دفاع کررہا تھا قتل ہوجائے تو اس کی شہادت کی امید کی جاتی ہے۔ اس بارے میں جو احادیث اور تمام آثار آئے ہیں ان میں صرف اس سے (موقع پر) لڑنے کا حکم ہے، اس کے (لازمی) قتل کرنے یا اس کا پیچھا کرنے کا حکم نہیں دیا گیا، اور نہ ہی اس پر خود حملہ آور ہونے کا، اگر وہ گر جائے یا زخمی ہوجائے، یاپھر اسے بطور قیدی قید کرلے تو اس کے لئے جائز نہیں کہ اسے قتل کردے، اور نہ ہی اس پر حد قائم کرے، بلکہ اس کا معاملہ اس حاکم تک لے جائے جسے اللہ تعالی نے اس کا ذمہ دار بنایا ہے، اور وہی اس کے بارے میں فیصلہ کرے گا”۔

(شیخ کی مایہ ناز تصنیف اصول السنہ سے اقتباس)

Print Friendly

About alfitan

مزید دیکھئے

داعش: ابتداء اور نظریاتی بنیادیں

داعش:ابتداء اور نظریاتی بنیادیں شام اور عراق میں داعش ایک عسکریت پسند نام نہاد جہادی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *