مرکزی صفحہ » عصرِحاضر کی تحریکیں » داعش » داعش کی دو نمبر خلافت اور خلافت کا شرعی طریقہ کار نہائت دلچسپ مناظرانہ تحریر!

داعش کی دو نمبر خلافت اور خلافت کا شرعی طریقہ کار نہائت دلچسپ مناظرانہ تحریر!

image_pdfimage_print

داعش کی خلافتداعش کی دو نمبر خلافت
خلافت کا شرعی طریقہ کار
نہائت دلچسپ مناظرانہ تحریر!

الشیخ عبد الرحمن کشمیری  

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خراسانی: السلام علیکم

عبد اللہ : وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ , سناؤ خراسانی کیسے آنا ہوا؟

خراسانی: میں آپ سے آخری ملاقات کرنے آیا ہوں شاید ہم دوبارہ نہ مل سکیں !

عبد اللہ: وہ کیوں؟

خراسانی: ابوبکر بغدادی حفظہ اللہ , امیر المؤمنین بن چکے ہیں انہوں نے قیام خلافت کا اعلان کر دیا ہے ۔ اب چونکہ خلافت قائم ہو چکی ہے تو میں اس جمہوری نظام کے تحت زندگی نہیں گزارنا چاہتا ۔ اس لیے میں ہجرت کر کے جا رہا ہوں ۔ اور تمہیں بھی دعوت دیتا ہوں کہ تم بھی خلیفۃ المسلمین کی بیعت کرلو , آخرت کی کامیابی اسی میں ہی ہے

عبد اللہ: یہ کونسی خلافت ہے کہ ایک کونے میں چھپ کر چند افراد ایسے بندے کو خلیفہ قرار دے دیں جسے امت جانتی ہی نہیں !

خراسانی: تو کیا تم بغداد ی کو خلیفہ نہیں مانتے؟!

عبد اللہ: میں تو اسے خلیفہ نہیں خارجی مانتا ہوں!

خراسانی: کیا مطلب ؟

عبد اللہ: میں اپنے ساتھ سو پچاس نمازیوں کو جمع کرکے آج مغرب کی نماز کے بعد اپنی خلافت کا اعلان کردوں تو کیا تم مجھے خلیفہ مان لوگے ؟

خراسانی: نہیں !

عبد اللہ : پھر میں بغدادی خلافت کو کیوں مانوں ؟

خراسانی: تم تو خواہ مخواہ ہی الجھنا شروع کر دیتے ہو , دیکھو داعش نے خلافت قائم کرکے دنیا بھر سے مسلمانوں کو ہجرت کی دعوت دی ہے ۔ اور جب ایک خلیفہ بن جائے تو دوسرا کوئی بھی شخص شرعی خلیفہ نہیں بن سکتا ۔ کیونکہ ایک وقت میں شرعی خلیفہ صرف ایک ہی ہوتا ہے ۔اور خلیفہ کی اطاعت واجب ہے ۔

عبد اللہ : یعنی اسکا مطلب یہ ہوا کہ جو بھی پہلے خلافت کادعوى کر دے وہ خلیفہ ہوا؟ خواہ وہ جعلی طریقے سے ہی دعویدار بن جائے ! بس پہل کرلے ۔

خراسانی: صرف پہل کرنے کی بات نہیں اس میں خلافت کی شرطیں بھی پوری ہوتی ہوں تو تب وہ خلیفہ بن سکے گا , وگرنہ نہیں !

عبد اللہ: وہ شرطیں کیا ہیں ؟

خراسانی: بہت سی شرطیں ہیں , مثلا وہ خود امارت کا طلبگار نہ ہو , لوگ اتفاق رائے سے اسے خلیفہ یا امیر مقرر کریں , اسکے فضل وشرف کا سب کو اعتراف ہو , وہ کوئی متنازعہ شخصیت نہ ہو , علم , ورع , تقوى , زہد جیسی عالی صفات اس میں موجود ہوں ۔

عبد اللہ : تو کیا یہ ساری شرطیں ابوبکر بغدادی میں پائی جاتی ہیں ؟

خراسانی : بالکل !

عبد اللہ : آپ نے شرطوں میں ذکر کیا کہ اسے لوگ اتفاق رائے سے خلیفہ مقرر کریں , جبکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کی اکثریت اسکی خلافت کو تسلیم نہیں کرتی ! , باقی شرطوں پر بات بعد میں کریں گے پہلے اسی شرط کو پورا کرکے دکھائیں بغدادی خلیفہ میں !

خراسانی: جو لوگ وہاں موجود تھے ان سب نے انکے خلیفہ ہونے پر اتفاق ہی تو کیا تھا ! اور پھر جس جس کو انکی خلافت پر اتفاق ہے وہ سب انکی بیعت کرتے جار ہے ہیں ۔

عبد اللہ : جب اسے خلیفہ قرار دیا گیا اس وقت گنتی کے چند لوگ وہاں تھے اور وہ بھی القاعدہ سے جدا ہونے والے , خارجی ذہن کے افراد ۔ ایک ارب سے زائد افراد پر مشتمل امت مسلمہ میں سے چند ہزار افراد مل کر کسی شخص کو پوری امت کا خلیفہ کیسے قرار دے سکتے ہیں ؟ اور وہ شخص بھی ایسا جسے دعوى خلافت سے قبل کوئی نہیں جانتا تھا

خراسانی : پھر تم ہی بتاؤ اگر خلیفہ کے انتخاب کا یہ طریقہ درست نہیں تو کیسے چناؤ ہوگا ؟

عبد اللہ : خلیفہ کا انتخاب مشورہ کے ذریعہ ہوتا ہے ۔

خراسانی : مشورہ کون لوگ دیتے ہیں ؟

عبد اللہ : جو لوگ مشورہ دینے کے اہل ہوتے ہیں وہی مشورہ دیتے ہیں , انہیں اہل شورى کہا جاتا ہے ۔

خراسانی: ان لوگوں کا پتہ کیسے چلے گا کہ کون مشورہ دینے کا اہل ہے ؟

عبد اللہ : یہی بات اچھی طرح سمجھنے کی ہے کہ مشورہ دینے کے اہل لوگوں کا پتہ کیسے چلایا جائے گا , جان لیجئے کہ مشورہ کے اہل صرف اہل تقوى , اہل بصیرت اور اہل علم ہیں, اور یہ ایسی کیفیات ہیں کہ جنہیں ماپنے کے لیے کوئی پیمانہ نہیں بلکہ اسلامی معاشرہ خود انہیں محسوس کرتا ہے ۔ اسلام نے مسلمانوں کو عقیدہ کی بناء پر ایک ملت قرار دیا ہے , اور ملت معاشرہ کے افراد کا نام ہے , ان افراد میں سے ملی ودینی خدمات کی بناء پر ملی راہنما خودبخود فطری طریقہ سے ابھر کر سامنے آتے ہیں ۔ اور یہ کام ہر معاشرہ میں ہوتا ہے ۔ اگر معاشرہ اسلامی ہوگا تو وہاں جس کی دینی خدمات زیادہ ہونگی مسلمان اسے دینی رہنما تصور کریں گے ۔ اور یہ رہنما نہ تو روپے پیسے کے زور پر ابھرتے ہیں , نہ ہی جمہوری ہلڑ بازی انہیں میدان میں لاتی ہے , نہ ہی چند افراد مل بیٹھ کر انہیں رہنما ہونے کا تمغہ دیتے ہیں , اور نہ ہی یہ خود اپنے رہنما ہونے کا دعوى کرتے ہیں ۔ آپ سیرت کا مطالعہ کیجئے آپکو چند نمایاں نام نظر آئیں گے مثلا : عشرہ مبشرہ , مہاجرین , انصار , اصحاب بدر, اصحاب رضوان, وغیرہ ۔ یہ سب گروہ کس طرح معرض وجود میں آئے؟ یہ مسلمانوں کے وہ رہنما تھے جو دینی خدمات کی بدولت معاشرے میں ابھر کر سامنے آگئے , اور یہی لوگ مشورہ کے اہل سمجھے گئے ۔ان لوگوں کو انکی ملی خدمات کی بناء پر مسلمانوں کی قیادت ملی , اور ایسی قیادت ہی ملت کی نمائندگی کا حق ادا کرسکتی ہے ۔ جمہوریت میں قیادت علاقہ کی بناء پر اکثریت کی بنیاد پر ابھرتی ہے جو اکثر لوگوں کی نمائندہ ہوتی ہے , اور بغدادی خلافت جو سارے مسلمانوں کی قیادت ہونیکی دعویدار ہے وہ تو اس اعتبار سے جمہوریت سے بھی گئی گزری ہے کہ اسے تو اکثریت کیا ایک فیصد مسلمانوں کی نمائندہ بھی کہنا مشکل ہے !

خراسانی: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی تو ” چند افراد” پر مشتمل ایک شورى بنائی تھی , جو خلیفہ کا انتخاب کرتی تھی ۔ تو آج اگر خلیفۃ المسلمین ابو بکر البغدادی حفظہ اللہ کو چند افراد نے منتخب کر لیا تو اس میں کون سی قیامت ٹوٹ پڑی ؟

عبد اللہ :سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جو شورى منتخب کی تھی ان میں سے کسی ایک بندے پر دنیا بھر کے مسلمانوں میں سے کسی ایک فرد کو کوئی ایک بھی اعتراض تھا ؟

خراسانی : نہیں !

عبد اللہ : یہی فرق ہے بغدادی خلافت اور اسلامی خلافت کے انتخاب میں ! ۔ کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جو اراکین شورى منتخب کیے تھے وہ متفق علیہ افراد تھے , جبکہ داعشی خلیفہ کے اراکین شورى تمام تر اہل اسلام کے نزدیک مردود اور ناپسندیدہ ہیں !

خراسانی : تمام تر اہل اسلام کے نزدیک تو نہیں بہت سے لوگ ماننے والے ہیں انکی خلافت کو

عبد اللہ : ماننے والے, نہ ماننے والوں کے مقابلہ میں ایک فیصد بھی نہیں , اور جو اتنے تھوڑے ہوتے ہیں انکا ہونا یا نہ ہونا برابر ہوتا ہے ۔

خراسانی : تو پھر خلافت کیسے آئے گی ؟

عبد اللہ : خلافت کے قیام کا آج بھی وہی طریقہ ہے جو آغاز اسلام میں تھا , پہلے تو دعوت کے ذریعہ معاشرہ کو شرک سے پاک کیا جائے , یا کم از کم اسقدر لوگوں کو توحید آشنا کر لیا جائے کہ اہل شرک نہ ہونے کے برابر ہوں , جب لوگوں میں ایمان آ جائے گا تو خلافت زور لگائے بغیر خود ہی قائم ہو جائے گی ۔ آ پ دیکھتے نہیں کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں توحید کی دعوت دی ہجرت سے کچھ پہلے نمازیں فرض ہوئیں , اسکے بعد ہجرت ہوگئی اور مدینہ میں جب مسلمان عقیدہ وعمل میں پختہ ہوگئے تو ایک اسلامی حکومت معرض وجود میں آگئی ۔

خراسانی: تو کیا ہم اب تبلیغی جماعت کی طرح دعوت و تبلیغ ہی کرتے رہیں , اور طاغوتی نظاموں کو کچھ نہ کہیں ؟

عبد اللہ : میں نے کب کہا ہے کہ تم کفر کے اماموں کو کچھ نہ کہو , دعوت کے ساتھ ساتھ جہاد ایک اہم جزء ہے ۔ جہاں آپکو دعوت توحید میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے , نماز روزہ پر کوئی پابندی نہیں , آپ دین کے جس رکن پر عمل پیرا ہونا چاہیں ہوسکتے ہیں , وہاں آپ دعوت دیں اور لوگوں کو مزید ایمان میں پختہ کریں , زیادہ سے زیادہ لوگوں کو حق پہنچائیں , اور جہاں کفار مسلمانوں پر ستم ڈھا رہے ہیں , انہیں آزادی سے اسلام پر عمل پیرا نہیں ہونے دیتے , مسلمانوں کے علاقوں پر قابض ہوئے بیٹھے ہیں , وہاں آپ علم جہاد بلند کریں ۔

خراسانی:تو آپکا مطلب یہ ہوا کہ ہم ملک سے باہر جا کر جہاد کرتے رہیں اور ملک میں حکمران جو چاہیں کرتے پھریں

عبد اللہ : میں نے کہا ناں کہ انہیں دعوت دو , جب یہ لوگ آپکی دعوت مان لیں گے تو ملک میں خون خرابہ کیے بغیر اسلامی نظام کھڑا ہو جائے گا ۔ آپ اپنے آپ کو سلفی کہتے ہیں , سلف کو دیکھیں تو سہی کہ انہوں نے کیا کردار ادا کیا تھا ؟ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ناصر الدین قلاؤن کے ساتھ مل کر تاتاریوں کے خلاف جہاد کیا تھا , حالانکہ وہ خود بھی شرکیہ نعرے لگانے والا تھا ۔ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اسے دعوت دی , سمجھایا , اصلاح کی , مگر اسکے خلاف علم جہاد بلند نہیں کیا , نہ ہی اس پر کفر کے فتوے لگائے ۔

اور مجدد الدعوۃ الاسلامیہ شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ کو دیکھیں تو انہوں نے بھی حکام کے خلاف خروج نہیں کیا بلکہ انہیں دعوت دی ہے اور اپنے ساتھ ملایا ہے ۔ ہم بھی جب اپنے حکام کو انکے مقام ومرتبہ کا لحاظ رکھتے ہوئے دعوت دیں گے تو یقینا وہ بھی اس سے ضرور متأثر ہو جائیں گے ۔ اور جب حکام درست ہوگئے تو پھر نظام خود ہی درست ہو جائے گا اور اسلامی طرز حکمرانی سے ہم مستفید ہونگے ۔ اور یہ طریقہ مخلوق کا بنایا ہوا نہیں ہے بلکہ اللہ تعالى نے خود مقرر فرمایا ہے :

وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُم فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْناً يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئاً

[النور : 55]

اللہ نے تم میں سے ایسے لوگوں کے ساتھ وعدہ کیا ہے جو ایمان لے آئے اور نیک اعمال کرنے لگے کہ وہ انہیں زمین میں ضرورت خلافت عطاء کریں گے جیسا کہ پہلے لوگوں کو دی تھی , اور انکے اس دین کو بھی قوت عطاء کریں گے جس اس نے انکے لیے پسند کیا ہے اور انکے خوف کو امن سے بدل دیں گے , (شرط یہ ہے کہ) وہ میری عبادت کریں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں ۔

تو اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالى نے تین انعام دینے کا وعدہ کیا ہے :

1⃣۔ خلافت

2⃣۔ غلبہ دین 

3⃣۔ امن
اور یہ وعدہ ان لوگوں کے لیے ہے جو چار کام کریں :

1⃣. ایمان لے آئیں ۔

2⃣. نیک اعمال کریں۔

3⃣. اللہ کی عبادت کریں۔

4⃣. شرک سے بچیں۔

اور ہم ایسا معاشرہ جس میں یہ چاروں صفات موجود ہوں بنیادی طورپر “دعوت” کے ہی ذریعہ پیدا کر سکتے ہیں

خراسانی : اچھا تو اسکا مطلب ہوا کہ غلبہ اسلام اور خلافت کا جہاد سے کوئی تعلق نہیں؟

عبد اللہ : یہ کس نے کہا ہے کہ جہاد کا غلبہ اسلام اور خلافت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ میں نے تو ایک آیت آپکے سامنے پیش کی ہے جس میں قیام خلافت, استحکام امن, اور غلبہ اسلام کا طریقہ کار اللہ نے متعین فرمایا ہے ۔

خراسانی : لیکن اس میں آپ نے جہاد کا تو ذکر ہی نہیں کیا ! مجھے تو یہ تبلیغی جماعت والا طریقہ لگتا ہے

عبد اللہ : در اصل آپ سمجھ بیٹھے ہیں کہ غلبہ اسلام اور قیام خلافت کے لیے جہاد اساس اور بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے ۔ جبکہ ایسا نہیں ہے! حقیقت میں دعوت ہی غلبہ اسلام اور قیام خلافت اور استحکام امن کی بنیاد ہے ۔ جہاد اسکی بنیاد نہیں بلکہ ضرورت ہے ۔ یعنی جب ضرورت ہوگی تو جہاد کیا جائے گا۔ دعوت کے راستے کھولنے کے لیے, مسلمانوں پر ہونے والے ظلم وستم کو ختم کرنے کے لیے, مسلمانوں کے علاقے کفار کے پنجہ سے چھڑانے کے لیے,فتنہ وفساد وغیرہ مٹانے کے لیے جہاد ہوگا۔ اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ ہمارا منہجِ سیاست دعوت وجہاد ہے۔ اسلام کا مزاج قتل وغارت کا نہیں ہے ۔ آپ دیکھتے نہیں کہ مسلمان جس علاقہ پر حملہ کریں وہاں بھی انہیں بچوں, عورتوں, کمزور بوڑھے مردوں, حتى کہ ایسے نوجوانوں کو بھی قتل کرنے سے اسلام منع کرتا ہے جو انکے خلاف لڑتے نہیں اور ہتھیار نہیں اٹھاتے۔ اتنی پر امن لڑائی کسی اور مذہب میں کہاں ؟

اسی طرح ایک صحیح حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

” نبوت کے بعد تیس سال خلافت رہے گی، پھر بادشاہت آئے گی اور پھر جبر و استبداد کی سیاست ہو گی اور پھر خلافت ایسے قائم ہوگی جیسے نبوت کے طریقہ پر پہلے قائم ہوئی.” ( مشکوۃ : ۱۳۰۹)

خراسانی : عبد اللہ بھائی! نبوت کے طریقہ پر خلافت آنے کا کیا مطلب ہے؟ یہ طریقہ کیاہے؟

عبداللہ: یقینا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو ہی کام کئے. ایک ہے دعوت اور جب اس دعوت کے عمل میں رکاوٹ آئے تو دوسرا کام کفار کے ظلم وستم کے مقابلہ میں جہاد کیا! اور کلمہ گو پر نہائت نرم رہے حتی کہ عبد اللہ بن ابی جیسے رئیس المنافقین اور اسکے ساتھیوں کے خلاف بھی کبھی تلوار نہیں اٹھائی! ہمیں بھی ایسا ہی کرنا چاہیئے. اپنوں میں دعوت کا کام اور جہاں کفار مسلمانوں پر ظلم ڈھا رہے ہیں وہاں جہاد کرنا چاہیئے. اور اپنے اندر وہ خصلتیں پیدا کرنی چاہییں جس سے خلافت قائم ہوتی ہے.یہی خلافت لانے کا نبوی منہج ہے.

خراسانی : تو یہ کام تو داعش بھی کر رہی ہے اور تم پھر بھی اسکو برا بھلا کہہ رہے ہو؟

عبد اللہ : اگر تم تھوڑا سا جذبات کو قابو میں رکھو تو میں یہی تو اتنی دیر سے سمجھانے کی کوشش میں ہوں. کہ داعش نبوی منہج کے بالکل الٹ چل رہی ہے. نبوی منہج ہے کہ آپس میں نرم اورکفار پہ گرم! جبکہ ان داعشیوں نے مسلمان حکمرانوں سے لڑ کر، حماس ، افغان اور شامی مجاہدین کو شہید کر کے بتا دیا کہ یہ ایک طرف اپنوں پہ سخت ہیں اور دوسری طرف انڈیا امریکہ اور اسرائیل کے خلاف انکی لڑائی نہ ہونے کے برابر! لحاظہ غیروں پر نرمی کی پالیسی اپنا کر انہوں نے نبوی طریقہ کار سے بالکل الٹ کیا.

خراسانی : لیکن عبد اللہ بھائی ان حکمرانوں نے بھی تو ظلم کی انتہا کر رکھی ہے۔ سب کچھ لوٹ کر کھا گئے ہیں۔ عوام ان سے تنگ ہے۔ انکا کیا کیا جائے؟

عبد اللہ : آپ کی بات بالکل ٹھیک ہے لیکن ایسے حکمران جو کہ ظالم ہوں ، کرپٹ ہوں ان کیساتھ ہمارا سلوک کیسا ہے ہونا چاہئے اسکی رہنمائی بھی ہمیں نبی ﷺ سے مل جاتی ہے۔

آپ ﷺ نے فرمایا:

“میرے بعد ایسے حکام ہونگے جو نہ تو میری سنت کی پیروی کرینگے اور نہ ہی میرے طریقہ کی پیروی کرینگے۔ ان میں سے ایسے لوگ پیدا ہونگے جن کے جسم انسانوں کی مانند لیکن ان کے دل شیطانوں کی مانند ہونگے ۔ اگر تم ایسا زمانہ پا لو تو ایسے حاکم کی اطاعت کرنا چاہے وہ تمہاری پیٹھ پر کوڑے مارے یا سارا مال چھین لے ” (مسلم:1848)

بھائی حدیث کے الفاظ پر غور کرو جو خرابیاں تم موجودہ حکام کی بیان کر رہے ہو ان سے زیادہ خرابیاں موجود ہونے پر بھی حدیث میں انکی اطاعت کا حکم ہے! جبکہ ہمارے جذباتی لوگ اطاعت کے بجائے بغاوت کا منہج اپنا کرنبوی طریقہ کار کی مخالفت کرتے ہیں اور جو بیچارہ ان احادیث کو سامنے رکھ کر اطاعت کا کہے تو اسے حکام کا ایجینٹ اور عجیب و غریب القابات سے نوازہ جاتا ہے!

خراسانی: تو ظالم حکمران کے خلاف کلمہ حق کہنے کو افضل جہاد کہا گیا ہے کیا تم اس کے قائل نہیں؟

عبد اللہ : کیوں نہیں! کلمہ حق کہنے سے کس نے روکا ہے؟ ضرور کہو! لیکن اس کلمہ حق کو “تلوار حق” بنانے کا ہر گزہرگزنہیں کہا گیا۔ اورجب کلمہ حق کہنے کی وجہ سے حاکم ظلم کرے تو ایسی صورت میں صبرکرو اور اسکی اطاعت کرو جیسا کہ اوپر حدیث میں آیا ہے اور سلف صالحین کے اسوہ سے بھی ثابت ہے جیسا کہ امام احمد بن حنبل پر خلق قرآن کے مسئلہ میں کلمہ حق کہنے پر کیا کچھ نہیں ہوا ،اسی طرح امام مالک کو جبری طلاق والے مسئلہ میں کلمہ حق کہنے پر حاکم نے ان کیساتھ نہائت برا رویہ اختیار کیا لیکن ان علما نے آگے سے صبر کا مظاہرہ کیا۔ اسی طرح ابن تیمیہ اور اسلاف میں سے کئی اوروں کی مثالیں موجود ہیں!

خراسانی : ہاں یہ بات تو تمہاری ٹھیک ہےلیکن خلیفہ کا ہونا بھی تو ضروری ہے تو کیا اب ہم ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے رہیں اور کچھ نہ کریں؟

عبد اللہ : بھائی کس نے کہا کہ کچھ نہ کریں۔ مسلمانووں اور پرامن کفار میں دعوت کا کام کریں اور حربی کفار کے خلاف جہاد کریں! اور ان دونوں کاموں کے لئے خلافت کا ہونا ہر گز ضروری نہیں! اس کیلئے ایک صحیح حدیث سناتا ہوں جس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ جب خلافت نہ ہو تو ہمیں کیا کرنا چاہیئے؟

نبی صلی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

“سب سے پہلے نبوت و رحمت ہوگی، پھر خلافت و رحمت ہو گی، پھر بادشاہت ورحمت ہو گی، اور پھر امارت و رحمت ہوگی اور اس کے بعد لوگ اس حکومت کو حاصل کرنے کیلئے ایک دوسرے کو گدھے کی طرح کاٹیں گے. اس دور میں تم جہاد کو لازم پکڑنا، اور تمہارا افضل جہاد الرباط (یعنی سرحدوں کی حفاظت) ہے اور افضل رباط عسقلان شہر کا رباط ہے.” (طبرانی:۱۱۱۳۸)۔

اب بھائی دیکھیں حدیث میں کتنے آسان الفاظ میں سمجھایا گیا ہے کہ جب خلافت نہ ہو اور لوگ حکومتوں کے لئے لڑ رہے تو اس وقت تم ان جھگڑوں سے علیحدہ ہو کر جہاد و رباط کو لازم پکڑنا. اور پھر یہ بھی بتایا کہ افضل رباط عسقلان شہر کا ہے جو کہ آجکل اسرائیل کے قبضہ میں ہے. غور کریں داعش تو اس حدیث کے بھی الٹ چل رہی ہے. بجائے عسقلان کی آزادی کیلئے اسرائیل سے لڑنے کے الٹا حماس کے فلسطینی مجاہدین کو طاغوت اور کافر کہہ کر شہید کر رہی ہے!

خراسانی : عبد اللہ بھئی ماشاللہ آپ نے اتنے دلائل دئیے مجھے اختصار سے بتاواب ان حالات اور موجودہ دور میں ہم کیا کریں؟

عبد اللہ : دیکھو بات سیدھی اور آسان ہے. سورہ النور کی وہ آیت سامنے رکھو اور یہ تمام احادیث سامنے رکھو تو یہی بات سمجھ آتی ہے کہ اس پر فتن دور میں فتنوں سے بچتے ہوئے ہمیں اپنے حصے کا یہ کام کرنا چاہیئے انشا اللہ ان کاموں کی برکت سے خلافت خود بخود قائم ہوگی!

1⃣۔اللہ پر صحیح ایمان لے آئیں جیسا ایمان لانے کا حق ہے

2⃣۔نیک اعمال کے ذریعہ سے اللہ کی عبادت کریں

3⃣۔شرک سے بچیں

4⃣ ۔مسلمانوں اور غیرحربی کفار سے نرمی برتتے ہوئے ان میں دعوت کا کام کریں

5⃣۔اور جہاں ضرورت ہے وہاں کفار کے خلاف جہاد کریں اور رباط (مسلمان ملکوں کی سرحدوں کا دفاع) کریں.

انشا اللہ اسی نبوت کے طریقہ پر چلتے ہوئے خلافت قائم ہوگی جیسا کہ قرآن اور حدیث میں آیا ہے! یہ باقی سب طریقے چاہے جمہوری ہوں یا حکومتی تختے الٹانے والے ہوں، یہ سب لوگوں کے اپنی عقلوں سے بنائے ہوئے طریقے ہیں انکا قرآن اور اسوہ رسولﷺ سے کوئی ثبوت نہیں ملتا! بلکہ یہ طریقے الٹا قرآن و سنت کی تعلیمات کے منافی ہیں!

خراسانی : یہ تو سب باتیں خلافت کے قیام کے حوالے سے ہیں , یہ تو مجھے سمجھ آتی ہیں , لیکن ابو بکر البغدادی کی خلافت پر تمہیں کیا اعتراض ہے ؟ اسے تم خلیفہ کیوں نہیں مانتے؟

عبد اللہ : اسکی بہت سی وجوہات ہیں ۔

ایک تو پہلے ہی ذکر کرچکا ہوں کہ اسکے انتخاب اور نامزدگی کا طریقہ کار بالکل غیر شرعی ہے اور انکا نبوی طریقہ کار سے ٹکراو بھی اوپر تمہیں سمجھایا ہے مزید یہ کہ!

1⃣ ۔ خلیفہ بننے والا یہ شخص بالکل مجہول ہے , اسکی ثقاہت وعدالت بھی مشکوک ہے ۔

2⃣۔ اسے خلیفہ بنانے والے افراد بھی نامعلوم اور غیر معروف ہیں ۔

3⃣۔ خلیفہ اور اسکے چیلے سبھی اہل علم کی نظروں میں “خارجی ” اور “تکفیری” ہیں ۔

4⃣۔ یہ عجب خلافت ہے جو نوجوان لڑکیوں کو گھروں سے بھاگنے کی دعوت دیتی ہے۔

5⃣۔ اور پھر انکے اولیاء کی اجازت کے بغیر ہی ان سے نکاح کیا جاتا ہے ۔

6⃣۔ غیر شرعی فیصلے کیے جاتے ہیں , اور اسلام میں حرام کاموں کا ارتکاب کیا جاتا ہے جسکی ایک مثال انسانوں کو بہیمانہ طریقہ سے زندہ جلانا ہے ۔

7⃣۔ وحشت وبربریت کی انتہاء ہے کہ مسلمانوں کو صرف اس بناء پر ذبح کر دیا جاتا ہے کہ وہ انکی “چنگیزی خلافت” کو نہیں مانتے ۔

8⃣۔ اور جو لوگ انکے بہکاوے میں آکر انکے پاس چلے جاتے ہیں , تو جب وہ انکی حقیقت سے آشنا ہو کر پلٹنے لگتے ہیں انہیں بھی موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے ۔

9⃣۔ اسلامی خلافت میں انسانی خون اتنا سستا نہیں ہوتا , بلکہ اسلامی خلافت میں تو مسلمانوں کے ساتھ ساتھ کفار کے مال وجان کی بھی حفاظت کی جاتی ہے اور کسی بھی ایسے شخص کو قتل کرنے کی اجازت نہیں ہوتی جو مسلمانوں کے خلاف نہ لڑے۔ آپ خلافت راشدہ پر نظر دوڑائیں کس قدر امن وشانتی کا دور دورہ تھا , نبی مکرم صلى اللہ علیہ وسلم کے دور مسعود سے لیکر خلافت , بلکہ پر رحمت ملوکیت تک ساری اسلامی قلمرو میں امن وسکون قائم تھا , ذمیوں کے حقوق متعین تھے , مشرکین اور یہودو نصارى کے لیے بھی امن وراحت کا پیغام تھا ۔ یہ ہوتی ہے اسلامی خلافت, کہ جس میں ہر انسان اپنے لیے راحت وسکون محسوس کرے ۔ جبکہ داعشی تسلط میں تو ہر کوئی خوف ہراس کا شکار , یا وحشت وبربریت کا علم بردار ہی نظر آتا ہے ۔

خراسانی: آپکی باتیں میرے دل کو لگتی ہیں , واقعتا داعش کی خلافت میں یہ خرابیاں تو موجود ہیں ۔ لیکن بہر حال وہ حدود اللہ کا قیام تو کر رہے ہیں ۔

عبد اللہ : حدود اللہ کا قیام تو پاکستان میں بھی ہے , چور کا ہاتھ کاٹنے اور زانی کو سنگسار کرنے وغیرہ کے سوا باقی کام تو ہور ہے ہیں , اور یہاں ہر کسی کو اپنی دعوت دینے اور اسلام پر اپنی مرضی سے عمل پیرا ہونے کی اجازت ہے ۔ جبکہ داعش والے تو لوگوں کو زبردستی اپنی خلافت منوانے کے چکر میں ہیں , اللہ نے تو کسی کو جبرا مسلمان کرنے سے بھی منع کیا ہے کہ “لا إکراہ فی الدین” اسلام میں جبر اور زبردستی نہیں ہے ۔ جبکہ داعش کی چنگیزی خلافت تو لوگوں کو دہشت زدہ کرکے اپنا تسلط منوانا چاہتی ہے !

رہی حدود اللہ کے قیام کی بات تو آج تک انہوں نے وحشیانہ قتل وغارت کے اور کیا کام کیا ہے جسے وہ حدود اللہ تعبیر کر سکیں ؟ ہم تو انکے اس بے دریغ قتل کرنے کے عمل کو بھی حدود اللہ کی پامالی سمجھتے ہیں !

خراسانی : اللہ آپکو جزائے خیر دے , وگرنہ میں تو انکے بہکاوے میں آچکا تھا , اور گھر بار چھوڑ کر جا رہا تھا ۔ آپ نے اچھا کیا جو مجھے انکی حقیقت سے آگاہ کر دیا۔ میں اس پر تہ دل سے آپکا شکر گزار ہوں کہ آپ نے مجھے ان خوارج کا شکار ہونے سے بچا لیا ۔

عبد اللہ: میرا نہیں اللہ کا شکر ا دا کرو کہ جس نے تمہیں سمجھ عطاء فرما دی ہے , وگرنہ جو لوگ پکے خارجی ہو جاتے ہیں پھر وہ کسی کی نہیں سنتے اور نہ ہی واپس دین حنیف کی طرف لوٹتے ہیں ,

آپ تو صرف ان سے تھوڑے سے متأثر ہوئے تھے , اللہ نے آپکو مزید گمراہی سے بچا لیا ۔

خراسانی : ویسے جب میں نے داعش والوں کی باتیں سنیں تو میں بہت جلد ان سے متأثر ہوگیا تھا ۔

عبد اللہ: یہ بہت بڑا فتنہ ہے , انکے نعرے بہت خوشنما , باتیں بہت اچھی , لیکن کردار بہت گندا ہوتا ہے , یہی خوارج کا طرہ امتیاز ہے ۔ اور فتنہ کہتے ہی اسے ہیں جس سے بچنا عام آدمی کے لیے بہت مشکل ہوجائے , جو اسکے قریب جائے اسکا شکار ہوتا چلائے جائے یہی چیز تو فتنہ کہلاتی ہے ۔ دیکھتے نہیں کہ جب دجال آئے گا , حالانکہ وہ خدائی کا دعویدار ہوگا , جو کہ صریحا کفر ہے اور ایساکرنے والا واضح طاغوت ہے , لیکن جب لوگ اسکا دعوى سنیں گے اسکے چند کرتب دیکھیں گے تو وہ اس سے متأثر ہو کر اسے اپنا رب سمجھنے لگیں گے ۔ اسکے فتنہ سے بھی صرف وہی بچے گا جسے اللہ تعالى حقیقت آشنا کر دے گا ۔

خراسانی : دجال کا فتنہ تو واقعتا بہت بڑا فتنہ ہوگا , اللہ ہم سب کو اس سے محفوظ رکھے ۔

عبد اللہ : سارے فتنے ہی اسی طرح کے ہوتے ہیں , کہ جوشیلے , جیالے , اور جلد باز لوگ ان میں بہت تیزی سے مبتلا ہوتے ہیں ۔ دجال کا فتنہ اس امت کا سب سے بڑا فتنہ ہوگا۔ اور یہ خوارج کا فتنہ بھی ا نہیں بڑے بڑے فتنوں میں سے ایک ہے جن سے نبی مکرم صلى اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو ڈریا ہے ۔

خراسانی: آپکا بہت بہت شکریہ , میں نے آپ کا بہت سا وقت لے لیا ۔ اس پر اللہ آپکو جزاء خیر عطاء فرمائے ۔ آمین۔

اب میں اجازت چاہوں گا ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

عبد اللہ : وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ,

اللہ آپکا حامی وناصر ہو , اور آپکو ان فتنوں سے بچا کر رکھے۔ آمین ۔

فی أمان اللہ———————————————

Print Friendly

About alfitan

مزید دیکھئے

whatsapp-image-2016-12-04-at-11-58-09-am

رحمت اور تلوار کو خلط ملط نہیں کیا جا سکتا

رحمت اور تلوار کو خلط ملط نہیں کیا جا سکتا   الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *