مرکزی صفحہ » کتب و فتاویٰ » آن لائن فتاویٰ » داعش کے متعلق سعودی عالم دین شیخ سلیمان الرحیلی حفظہ اللہ کا فتوی

داعش کے متعلق سعودی عالم دین شیخ سلیمان الرحیلی حفظہ اللہ کا فتوی

image_pdfimage_print

سعودی شیخ کا فتویداعش کے متعلق سعودی عالم دین شیخ سلیمان الرحیلی حفظہ اللہ کا فتوی

سعودی عرب کے مشہور سلفی عالم دین شیخ سلیمان الرحیلی حفظہ اللہ سے داعش کے متعلق سوال ہوا جس کا اردو ترجمہ پیش کیا جا رہا ہے ۔ عربی متن اور آڈیو اس لنک پر دیکھی جا سکتی ہے۔
http://ar.alnahj.net/audio/1402

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ:

شیخ بارک اللہ فیکم ! آپ تنظیم داعش کے بارے کیا کہتے ہیں جو مختلف نیوز چینلز اور دوسرے ذرائع ابلاغ پر پھیلے ہوئی ہے ؟

جواب:

الحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی اتمان الاکملان مبعوث رب العالمین وعلی آلہ وصحبہ اجمعین اما بعد !

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ دنیا و آخرت کی بھلائی صرف اور صرف اسی چیز میں ہے کہ حضرت محمد ﷺ کی پیروی کرنے میں اور جس پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے عمل کیا ہے ۔ اللہ عزوجل نے حضرت محمد ﷺ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر مبعوث فرمایا ، اور ان پر دین کو مکمل کر دیا ،

پھر صحابہ کرام ﷢ نے اللہ کےدین کو سمجھنے کا حق ادا کیا ، پھر ٹھیک ٹھیک اس پر عمل کیا اور انہوں نے اس سرزمین کو خیر و برکات سے بھر دیا ، لوگ فوج در فوج مشرف باسلام ہونے لگے ، دریں اثناء ایک ایسی لوگ ظاہر ہوئے جنہوں یہ باور کروایا کہ ہم اس دین کے لئے صحابہ کرام ﷢ سے زیادہ مخلص اور زیادہ غیرت مند ہیں ، خبردار !!! یہی لوگ خوارج ہیں ۔

یہ لوگ ہر زمانے میں ظاہر ہوتے رہے ہیں ، اور جب بھی یہ اپنا سر نکالنے کو شش کرتے ہیں تو کاٹ دیا جاتا ہے ان کے پہلے اور آخری کی وہی صفات ہیں جو رسول اللہﷺ نے بیان فرمائی ہیں ۔ یہ کم عمر ہوں گے ، کم عقل ہوں گے ، ساری دنیا کی بہترین باتیں کریں گے ، قرآن کی تلاوت کریں گے اور سمجھیں گے کہ یہ ہمارے حق میں ہے حالانکہ یہ قرآن ان کے خلاف ہو گا ، ان کا ایمان ان کے حلق سے تجاوز نہیں کرے گا ، مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے ۔ جو بھی ان کی مخالفت کرے گا تو وہ کافر ہو جائے گا ، اور اسے یہ ختم کر دیں گے ، اس کا خون حلال سمجھ لیں گے ، اس کا مال غنیمت اور اس کی عورتیں لونڈیاں بنا لیا جائیں گی ۔

ایک دن انہی کے ایک ساتھی نے مجھے حج کے موقع پر کہا کہ : تمہارا ان حجاج کے بارے میں کیا خیال ہے جو تقریبا تین لاکھ ہیں ان میں سے ایک بھی اللہ کو نہیں پہچانتا ۔

میرے بھائیوں یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ان کے اوائل کو یعنی علی ﷜ کی بھی تکفیر کی کیونکہ انہوں نے لڑائی کرنے کے بعد مال غنیمت اور قیدی نہیں بنائے تھے ، تو یہ ان لوگوں کی گمراہ سوچ ہے ۔

یہی لوگ داعش میں بھی موجود ہیں ، خوارج کی ان تمام صفات ان میں پائی جاتی ہیں ، یہ سارے سنت رسول ﷺ کے مخالف ہیں ، امت مسلمہ کے لئے شدید نقصان دہ ہیں ، شرعی جہاد کو امت مسلمہ سے اوجھل کیا جارہا ہے ، اپنے ہتھیاروں کو اہل السنۃ پر سونتے ہوئے ہوتے ہیں صرف اس دلیل کی بنا پر کہ وہ مرتد ہو چکے ہیں منافق ہو گئے ہیں ، اور ان کا قتل یہود و نصاری کےقتل سے زیادہ اہم ہے ۔

گزشتہ رمضان المبارک میں یہودیوں نے غزہ پر حملہ کیا ، مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا ، حالانکہ یہ داعش تنظیم عراق اور شام میں ہونے کے باوجود فلسطینی مسلمانوں کی حمایت کے لئے کھڑی ہوئی ؟؟؟ بالکل بھی توجہ نہیں کی بلکہ یہ تو سعودیہ دولۃ التوحید والسنۃ کی حدود پر چڑھ دوڑے ۔

رمضان المبارک کے پہلے پہلے جمعۃ کے دن عین نماز جمعہ کے موقع پر ان لوگوں نے حملہ کیا ، کیونکہ یہ لوگ جانتے ہیں کہ تمام سعودی افواج جمعۃ المبارک کی نماز ادا کرتے ہیں ، انہوں نے کار بم دھماکا کیا اور شہر میں داخل ہو گئے ، فساد پھیلانے کی کوشش کی لیکن اللہ عزوجل نے انہیں ذلیل و رسوا کیا ۔

ادھر یمن میں اہل السنہ کو حوثی روافض شہید کر رہے ہیں اور القاعدہ یمن میں اپنی تمام ہتھیاروں سمیت موجود ہے ، ایک مرتبہ بھی اہل السنہ کی حمایت کے لئے کھڑے نہیں ہوئے بلکہ ان پر ہنستے ہیں اور خوش ہوتے ہیں ۔ میں ان جیسے لوگوں سے خیر کو کیسے تلاش کروں جو علماء کے مخالف ہیں ، اعتدال پسندی سے بالکل خالی ہیں ۔

میرے بھائیوں ان کی دلفریب باتوں کی مٹھاس سے بالکل بھی دھوکا نہیں کھانا چاہیے تحقیق رسول اللہ ﷺ نے انہی کے بارے فرمایا : یہ باتیں تو بڑی خوبصورت کریں گے لیکن کام بہت برے کریں گے ۔ اب وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم خلافت کا قیام چاہتے ہیں ، ہم اللہ کی شریعت کو مسلمانوں پر نافذ کرنا چاہتے ہیں ، اللہ کی قسم جو وحدہ لاشریک ہے ، اللہ کی قسم جو وحدہ لا شریک ہے ، اللہ کی قسم جو وحدہ لا شریک ہے ، کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ وہ ان سے محبت کرے ، اور نہ ہی ان کے لئے دعاکی جائے البتہ ہدایت کی دعا کی جاسکتی ہے ۔ اور نہ ہی کسی مسلمان کے لئے کسی بھی علاقے میں ان کی بیعت کرنا جائز ہے ،

اور باقی یہ کہ میں اللہ کی تعریف بیان کرتا ہوں ، تم اپنے اپنے علاقوں میں ہی رہواور اللہ کی نافرمانی علاوہ اپنے حکام کی اطاعت کرو ، نیز ان کی خیر خواہی اور ان کو نصیحت بھی کی جائے اور ان کو توحید و سنت کے قریب کیا جائے ، انہی سے آپ خیر میں رہیں گے ان شاء اللہ۔

Print Friendly

About alfitan

مزید دیکھئے

داعش: ابتداء اور نظریاتی بنیادیں

داعش:ابتداء اور نظریاتی بنیادیں شام اور عراق میں داعش ایک عسکریت پسند نام نہاد جہادی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *