مرکزی صفحہ » اسلام اور حکمران » فاسق و فاجر حکمرانوں کے ساتھ مل کر جہاد کرنے کی شرعی حیثییت ۔ الشیخ عبد اللہ بروہی حفظہ اللہ

فاسق و فاجر حکمرانوں کے ساتھ مل کر جہاد کرنے کی شرعی حیثییت ۔ الشیخ عبد اللہ بروہی حفظہ اللہ

image_pdfimage_print

فاسق و فاجر حکمرانوں کے ساتھ مل کر جہاد کرنے کی شرعی حیثیت

الشیخ عبد اللہ بروہی حفظہ اللہ

سوال:

اکثر لوگ سوال کرتے ہیں بعض مقامات پر ہم نے دیکھا ہے کہ جہاد اور جہاد کی تیاری ایسے امراء کرواتے ہیں جن میں کچھ عیوب ونقائص ہوتے ہیں یا فسق وبدعت ہوتی ہے کیا ان امراء کی معیت میں جہاد ہوسکتا ہے ؟

یا بہتر یہ ہے کہ ان کے ساتھ جہاد نہ کیا جائے بلکہ کسی اور متقی اور باکردار شخص کے ساتھ مل کر جہاد کیا جائے ؟

جب مجاہد کو ان فاسقوں کے علاوہ کوئی نہیں ملتا اور ان کے ساتھ جہاد نہیں کیا جاتا تو جہاد کا سلسلہ کلیۃً ترک ہوجاتا ہے تو کیا ایسے میں ان امراء کے ساتھ مل کر جہاد کیا جاسکتا ہے ؟

کیا ایسے امیر کی اطاعت بھی اسی طرح واجب ہے جس طرح متقی عادل امیر کی ہے؟

جواب

اس سوال کے جواب سے قبل ہم فاجر کی تعریف کرنا چاہتے ہیں فاجر کہتے ہیں جو عادل نہ ہو ۔عادل کا مطلب ہے آدمی اپنے دین میں صحیح ہو۔ماوردی رحمہ اللہ کہتے ہیں :عدل ہر اس عہدے کے لیے معتبر وضروری ہے عدل کا معنی سچ بولنا ۔دیانتداری۔محرمات سے اجتناب ۔برائیوں سے بچنا۔مشکوک کاموں سے اجتناب کرنا غصہ وخوشی میں خود پر قابو رکھنے والا دین ودنیا میں اعتدال کی راہ اپنانے والا اجمالی طور پر دوباتیں اس میں اہم ہیں: 

۱۔دین کے لحاظ سے اصلاح یعنی فرائض کی ادائیگی محرمات سے اجتناب کہ گناہ کبیرہ نہ کرے اور صغیرہ پر مداومت نہ کرے ۔

۲۔سنجیدگی ومتانت ۔یعنی ایسے کام کرنا کہ جو انسان کی خوبصورتی وخوبی کاباعث ہوں اور غلط اور معیوب کاموں سے اجتناب کرے ۔

(منارالسبیل:۲/۴۸۷-۴۸۸)

فاسق وفاجر وہ ہے جو ظاہری طور پر گناہ کا ارتکاب کرتا ہوکبائر پر مصر رہتاہو ان سے توبہ نہیں کرتا رکتا نہیں ہے وعظ ونصیحت اس پر اثر نہیں کرتا ۔اب آتے ہیں سوال کے جواب کی طرف اس کی تین شقیں ہیں یا تین طرح کا زاویہ نگاہ ہوسکتا ہے ۔

یہ جاننا لازم ہے کہ علماء نے اس بات پر اجماع کیا ہے کہ فاسق فاجر کو عہدہ نہیں دیا جاسکتا اور جس آدمی کے اختیار میں عہدہ دینا ہے اس پر لازم ہے کہ کسی عہدے پرعادل اور صالح آدمی کا تقررکرے اس لیے کہ اللہ کا فرمان ہے :

قَالَ لاَ یَنَالُ عَہْدِی الظّٰلِمِیْنَ (بقرہ:۱۲۴)

میرا عہد ظالموں تک نہیں پہنچتا۔

ارشاد ہے:

اِنَّ خَیْرَ مَنِ اسْتَاْجَرْتَ الْقَوِیُّ الْاَمِیْنُ (قصص:۲۶)

آپ جو مزدور رکھنا چاہتے ہیں تو بہتر ہے کہ قوی اور دیانتدار ہو۔

اسی لیے علماء نے کہا ہے جس آدمی نے فسق ،فجور اور بدعت کا اظہار کیا اسے مسلمانوں کا امام نہیں بنایاجاسکتا امامت کس فاسق فاجر کو نہیں دی جاسکتی یہ لوگ تو تعزیر کے لائق ہیں جب تک توبہ نہ کرلیں اس وقت تک ان سے قطع تعلق کرنا بہتر ہے۔ اس کے لیے اللہ کا یہ فرمان بنیاد ہے :

وَ اِذِ ابْتَلٰٓی اِبْرَاہِیْمَ رَبُّہٗ بِکَلِمٰتٍ فَاَتَمَّہُنَّ قَالَ اِنِّیْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا قَالَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ قَالَ لاَ یَنَالُ عَہْدِی الظّٰلِمِیْنَ

(بقرہ:۱۲۴)

اور جب ابراہیم علیہ السلام کو اس کے رب نے چند کلمات سے آزمایا اور ابراہیم uنے وہ کلمات پورے کیے تو اللہ نے فرمایامیں تمہیں لوگوں کا امام بناتا ہوں ابراہیم علیہ السلام نے کہا میری اولاد میں سے بھی بنادے اللہ نے فرمایا میرا عہد ظالموں تک نہیں پہنچتا ۔

لہٰذا ظالم وفاجر شخص کو امام نہیں بنایا جاسکتا مسلمان پر لازم ہے کہ ایسے امیر کے بارے میں بہتر ذمہ داری کا مظاہرہ کرے جب تک اس کو تبدیل کرکے صالح عادل امیر نہ آجائے ۔

۲۔اگر اس طرح نہ ہوسکے اورامیر فاسق وفاجر یا بدعتی ہو تو پھر مسلم مجاہد کو اگر موقع ملتاہے کہ اس کو چھوڑ کر کسی بہتر امیر کے ساتھ مل جائے تو ملناچاہیے او رفاجر کے ساتھ کام نہ کرے اس سے دوفائدے ہوں گے ایک توجہاد کسی صالح امیر کے تحت ہوگا دوسرا یہ کہ اس فاجر امیر کی اصلاح ہوجائے گی کہ جب اس کو چھوڑدیاجائے گا اس سے دوری اختیار کرلی جائے گی تو اسے احساس ہوجائے گا ۔

جیسا کہ مسجد کا امام ہوتا ہے کہ جب کچھ لوگ اس کے پیچھے نماز پڑھنا چھوڑ کر کسی اورکے پیچھے پڑھنا شروع کردیں تو اس کا اثر اس منکر پر پڑے گا جو اس کے اندر پائی گئی ہے پھر وہ اس سے توبہ کرلے گا اس طرح اس کے پیچھے نماز پڑھنے سے انکار کرنا شرعی مصلحت ہوتی ہے بشرطیکہ مقتدیوں کا جمعہ اور جماعت فوت نہ ہو اسی طرح جہاد میں بھی کرنا چاہیے ۔

(شرح العقیدۃ الطحاویہ :۴۲۳)

اگر کسی مسلمان کو فاجر فاسق امام کے علاوہ کوئی دوسرا نہ ملے کسی بھی وجہ سے اور ا سکی معیت میں جہاد ترک کرنے سے مکمل طور پر جہاد رہ جاتا ہے تو پھر یہاں جواب کی دوشقیں بنیں گی ۔

۱۔اگر امام کے فجور اس ذات تک محدود ہوں مثلاً شراب پیتاہو مال غنیمت میں غبن کرتا ہویا اس کا فسق وبدعت ایسی نہ ہو کہ اس کی بنیاد پر جہاد کو باطل کردیا جائے توایسے امام کے ساتھ مل کر جہاد کیا جاسکتا ہے اس کے حکم کی نافرمانی نہیں کی جائے گی بشرطیکہ اس کی اطاعت اللہ رسول کی معصیت نہ ہواور جب تک یہ فجور جہاد کی مصلحت میں مخل نہ ہویہ بھی تب ہے کہ جب امام کی اصلاح کی کوشش ہر وقت جاری رہے اور اس کے لیے اصلاح کی دعا بھی کی جاتی رہے اس بنیادی مسئلہ پرپہلے دلائل دیئے جاچکے ہیں ۔یہ حکم جو میں نے ذکر کیا ہے یہ اہل سنت والجماعۃ کے ہاں تسلیم شدہ ہے خرقی کا قول ہے کہ ہرنیک وفاجر کی معیت میں جہاد ہوسکتا ہے اس قول پر ابن قدامہ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے مراد یہ ہے کہ ہر امام کے ساتھ مل کر جہاد کیا جاسکتا ہے ۔امام اہل السنۃ ابوعبداللہ احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے ایک آدمی کے بارے میں سوال ہوا جو کہتا ہے کہ میں جہاد نہیں کروں گا اور اسے عباس کے بیٹے نے پکڑلیا ہے کیاان (عباسیوں)کو مال فیٔ پورا دیا جائے گا ؟امام احمد نے کہا یہ توبرے لوگ ہیں جاہل ہیں خود بیٹھے ہوئے ہیں ان سے کہا جائے گا تم خود تو بیٹھے ہو اور دوسروں کو جہاد کا کہہ رہے ہو تو کون جائے گا ؟کیا اسلام ختم نہیں ہوا روم کیا کرے گا ؟ابن قدامہ نے کہا کہ ابوداؤد نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :تم پر جہاد واجب ہے ہر نیک وفاجر امیر کے ساتھ

(ابوداؤد۔ابویعلیٰ)۔

ابن حجر کہتے ہیں :کہ لابأس بہ باسنادہ الا یہ کہ مکحول جو ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں تو مکحول نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا)انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

تین باتیں ایمان کی بنیاد ہیں:

 لاالٰہ الااللہ کہنے والے کو کسی گناہ کی وجہ سے کافر نہ کہیں کسی عمل کی وجہ سے کسی اسلام سے خارج نہ کریں ۔

جہاد اس وقت تک جاری ہے جب سے مجھے اللہ نے مبعوث فرمایا ہے اور اس وقت تک جاری رہے گا جب میرا آخری امتی دجال سے جنگ کرے گا

اور تقدیر پر ایما ن لانا۔

(ابوداؤد۔سند میں یزید بن ابی نشبہ مجہول ہے)

فاجر امام کی معیت میں جہاد نہ کرنے سے جہاد ختم ہوسکتا ہے اور کفار مسلمانوں پرغالب آجائیں گے اس میں بڑا فساد ہے ۔اللہ کا فرمان ہے۔

وَ لَوْ لاَ دَفْعُ اﷲِ النَّاسَ بَعْضَہُمْ بِبَعْضٍ لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ(بقرہ:۲۵۱)

اگر اللہ بعض لوگوں کو بعض کے ذریعے نہ دباتا تو زمین میں فساد ہوجاتا۔

(المغنی والشرح الکبیر)

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ۔لوگوں میں قوت کا جمع ہونا اور دیانتداری کم ہے اسی لیے عمررضی اللہ عنہ کہتے تھے اے اللہ میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں فاجر کی طاقت اور بھروسہ کی کمی سے ۔لہٰذا ہر عہدے کے لیے نسبتاً صالح آدمی کا انتخاب کرنا چاہیے ۔حرب وجنگ میں طاقتور اور دلیر آدمی کا چناؤ کرنا چاہیے اگرچہ اس میں کچھ فجور ہوں بجائے کمزورآدمی کے اگرچہ وہ دیانتدار ہو۔

جیسا کہ امام احمد رحمہ اللہ سے دوآدمیوں کے بارے میں سوال ہوا دونوں غزوہ کے امیر ہیں ایک طاقتور فاجر ہے دوسرا صالح کمزور ہے دونوں میں سے کس کے ساتھ مل کر غزوہ میں شریک ہواجائے ؟جواب دیا جو فاجر قوی ہے اس کی قوت مسلمانوں کی قوت ہے جبکہ اس کے گناہ اس کے لیے ہیں جبکہ نیک اورصالح کمزور آدمی جو ہے اس کی نیکی اس کے لیے ہے اورکمزوری مسلمانوں کے لیے (مصیبت بنے گی)لہٰذا طاقتور فاجر کے ساتھ غزوہ میں شریک ہونا چاہیے ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ اس دین کو فاجر آدمی کے ذریعے سے قوت دے گا ۔یہ بھی روایت ہے ایسے لوگوں کے ذریعے جن کا (دین میں )کوئی حصہ نہ ہو گا۔

(بخاری۔نسائی ۔ابن حبان)

اگر ایک آدمی فاجر نہیں ہے (اور طاقتور ہے)تو یہ زیادہ مستحق ہے کہ اسے جنگ کے لیے امیر بنالیا جائے اگرچہ اس سے زیادہ صالح لوگ موجود ہوں مگر اس کی طرح جنگ کے لیے کارآمد نہ ہوں۔

(مجموع الفتاویٰ لابن تیمیہ :۲۸/۲۵۴-۲۵۵)

اس مسئلہ سے متعلق ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے تاتاریوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے فرمایا ہے اگر ان تاتاریوں کے مقابلے کے لیے صحیح اور مکمل طریقے سے لوگ متفق ہوجائیں تو یہ اللہ کی رضامندی ،دین کے قیام ،کلمۃ اللہ کی بلندی اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے لیے بہتر ہے بلکہ مقصود ہے اور اگر ان میں سے ایسا بھی ہو جس میں فجور وفساد نیت ہومثلاً بعض امور میں ریاست کی خلاف ورزی کرتا ہوتو پھر بھی اس کے ساتھ مل کرتاتاریوں کے خلاف قتال کرنا چاہیے اس لیے کہ تاتاریوں سے قتال نہ کرنے کی صورت میں بہت بڑا فساد ہوگا لہٰذا ان کے ساتھ قتال کرنا زیادہ بہتر ہے اس لیے کہ چھوٹے فساد کے بجائے بڑے فساد کو روکنا ضروری ہے یہ اسلام کا اصول ہے اس کی پابندی ضروری ہے اسی لیے اہل سنت والجماعت کے اصول میں ہے کہ ہر نیک وبد کے ساتھ مل کر غزوہ کیا جائے ۔بلکہ خلفاء راشدین کے بعد اکثر غزوات اسی طرح کے ہوئے ہیں ۔نبی eسے منقول ہے فرمایا:قیامت تک گھوڑوں کی پیشانی میں خیر لکھاگیا ہے اجر اور غنیمت ۔

(بخاری۔مسلم۔احمد۔نسائی۔ترمذی۔ابوداؤد)

یہی مطلب اس حدیث میں بھی بیان ہوا ہے جسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

جہاد اس وقت تک جاری رہے گا جب تک میری امت کا آخری آدمی دجال کے ساتھ قتال نہ کرے کسی ظالم کا ظلم یا عادل کا عدل اسے باطل نہیں کرسکتا۔

مشہور حدیث ہے :

میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر رہے گا اور قیامت تک کوئی انہیں نقصان نہیں پہنچاسکے گا ۔

(بخاری مسلم)

ان کے علاوہ بھی نصوص ودلائل ہیں جن کی بنیاد پر اہل سنت والجماعت نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ جو بھی امیر مستحق جہاد ہے اس کے ساتھ مل کر جہاد کیا جاسکتا ہے چاہے فاجر ہو یا صالح البتہ روافض اور خوارج نے اس سے اختلاف کیا ہے ۔

ایک حدیث میں مذکور ہے :

عنقریب فاجر ،ظالم اور بددیانت امیر ہوں گے جس نے ان کے جھوٹے ہونے کے باوجود ان کی تصدیق کی ان کے ساتھ تعاون کیا وہ مجھ سے نہیں نہ میں اس سے ہوں(میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں )نہ ہی وہ حوض کوثر پر آئے گا اور جو ان کی تصدیق نہیں کرے گاان کے ظلم میں ان کے ساتھ تعاون نہیں کرے گا وہ مجھ سے ہے میں اس سے ہوں او روہ حوض کوثر پر عنقریب آئے گا۔

(ابن ماجہ۔طبرانی۔حاکم)

جب آدمی کو یہ معلوم ہو جائے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد کا حکم دیا ہے اور یہ امراء کے تحت ہوگا ،قیامت تک جاری رہے گا اوریہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظالموں کے ساتھ تعاون کرنے سے منع کیا ہے تو آدمی سمجھ جائے گا کہ درمیانہ راستہ جو خالص دین اسلام کا راستہ ہے وہ یہ ہے کہ جہاد کرنا ہے او ران لوگوں کی معیت میں بھی کرنا ہے جن کے بارے میں بات ہورہی ہے کہ ہر امیر کے ساتھ مل کر جہاد ہو اس لیے کہ اسلام کے لیے جہاد ضروری ہے اور جب ان کے بغیر نہیں ہوتا تو اسی طرح کرنا ہوگا

البتہ ان کے ان احکام کی اطاعت کی جائے گی جو اللہ کی اطاعت کے ہوں اور جو اللہ کے معصیت کے ہوں ان میں اطاعت نہیں کی جائے گی اس لیے کہ خالق کی معصیت میں مخلوق کی اطاعت نہیں ہوتی ۔یہ ہے اس امت کا بہترین طریقہ ہرمکلف پر یہ طریقہ لازم ہے یہ درمیانہ راستہ اورمسلک ہے بخلاف حروریہ کے ومرجئہ کے ۔حروریہ نے پرہیزگاری کا جو غلط اور خودساختہ راستہ اپنایا ہے وہ ان کے علم کی کمی کی وجہ سے ۔مرجئہ نے ہر قسم کے امراء کی مطلق اطاعت کا راستہ اپنایاہے ۔اگرچہ وہ نیک اورصالح نہ ہوں (یہ دونوں مسلک غلط ہیں)۔

(مجموع الفتاویٰ :۲۸/۵۰۶-۵۰۸، شرح عقیدۃ الطحاویہ :۴۲۲-۴۲۳)

عقیدہ طحاویہ کے شارح کہتے ہیں۔: 

(مصنف کا یہ قول کہ )حج اور جہاد مسلمان امراء نیک وبد کی معیت میں قیامت تک جاری رہیں گے کوئی چیز ان کو ختم یا باطل نہیں کرسکتی ۔

شارح کہتے ہیں :

شیخ کا مقصد روافض کا ردّ ہے جو کہتے ہیں کہ جہاد صرف اس صورت میں ہوگا جب آل محمدمیں سے ایک راضی نہ ہو اور آسمان سے آواز نہ آئے کہ اس کی اتباع کرو۔یہ قول واضح طور پر باطل ہے ان کی شرط ہے کہ امام معصوم ہو اس شرط کی کوئی دلیل نہیں ہے بلکہ صحیح مسلم میں عوف بن مالک الاشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے

رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تمہارے بہترین امام وہ ہیں جنہیں تم پسند کرو اور وہ تمہیں پسند کرتے ہوں وہ تمہارے لیے اور تم ان کے لیے دعائیں کرو اور تمہارے برے امام وہ ہیں جن سے تم نفرت کرو اور وہ تم سے نفرت کرتے ہوں تم ان پر اور وہ تم پر لعنت بھیجتے ہوں۔ میں نے کہا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم ایسے میں ان کو چھوڑ نہ دیں ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :نہیں جب تک وہ نماز پڑھتے رہیں یاد رکھو جس نے اپنے امیر وحکمران میں اللہ کی معصیت کا کوئی کام دیکھ لیا تو اس کام وعمل سے نفرت کرے مگر امیر کی اطاعت سے نہ نکلے ۔

اس حدیث میں جن امراء کا ذکر ہے امت میں اس کی مثالیں گزرچکی ہیں ۔امام کا معصوم ہونا یہ کسی نے نہیں کہا ۔

(شرح عقیدہ طحاویہ :۴۳۷)

امام بخاری رحمہ اللہ نے اس مسئلہ کے لیے باب باندھا ہے : 

باب الجہاد ماض مع البر والفاجر لقول النبی رسول صلی اللہ علیہ وسلم الخیل معقود فی نواصیھا الخیر الی یوم القیامۃ۔

باب ہے اس بارے میں کہ جہاد جاری ہے ہر نیک اور فاجر کی معیت میں اس لیے کہ رسول رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے گھوڑوں کی پیشانی میں قیامت تک خیر ہے۔

دوسری روایت میں الفاظ ہیں :گھوڑوں کی پیشانی میں قیامت تک کے لیے خیر ہے اجر یاغنیمت)

ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ کہتے ہیں ۔اس حدیث سے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے استدلال کیا ہے کہ قیامت تک گھوڑوں کی پیشانی میں خیر ہے اس سے مراد جہاد کے گھوڑے ہیں اور خیر سے مراد ہے غنیمت واجر ۔اس کے لیے یہ شرط نہیں ہے کہ یہ اس وقت ہوگاجب امام عادل کی امارت میں جہاد ہوگا اس فضیلت کے حصول میں اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ جہاد ظالم امام کی معیت میں ہویا عادل کی ،ترغیب جہاد کی ہے گھوڑوں کی نہیں ہے۔

(فتح الباری:۶/۵۶)

فاجر امام کی معیت میں جب جہاد کیا جاسکتا ہے تو اس کے پیچھے نماز بھی پڑھی جاسکتی ہے جب اس کے علاوہ کسی اور کے پیچھے نماز پڑھنے میں فساد زیادہ ہویا اگر اس کے پیچھے نہ پڑھیں تونماز نہیں ہورہی ہو ۔یہ بھی اہل سنت کے اصولوں میں سے ایک اصول ہے اس کے بارے میں ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ۔اس بارے میں صحیح بات یہ ہے کہ جو حکمران عدل سے فیصلہ کرتا ہے اور عدل سے تقسیم کرتاہے تو ان معاملات میں اس کے ساتھ تعاون کیا جائے گا اسی طرح اگر امر بالمعروف ونہی عن المنکر کرتا ہو پھر بھی تعاون کیا جائے گا اگر اس میں بہت زیادہ فساد نہ ہوایسے لوگوں کو جمعہ وجماعت کے امام بھی بنایاجاسکتا ہے البتہ اگر صالح ونیکوکار امام دستیاب ہو تو فاجر و گناہ گار اور ظاہری بدعات کرنے والے کو امام نہیں بنانا چاہیے بلکہ حسب استطاعت ایسے لوگوں کی امامت پر اعتراض کرنا چاہیے اور اگر ایسا ہو کہ دو آدمیوں میں سے کسی کو عہدہ دینا ہوگا اور دونوں بدعتی ہیں تو دونوں میں سے نسبتاً صالح کو امام بنانا واجب ہے جب غزوہ میں ایسی صورتحال ہو کہ دوافراد میں سے کسی ایک کو منتخب کرنا ضروری ہوگیا ہو اور ان میں سے ایک دیندار ہے مگر جہاد کے لیے کمزورہے اور دوسرا گناہ گار ہے مگر جہاد کے لیے مفید ہے تواس گناہ گارکو امیر بنایاجائے گا جس آدمی کی حکمرانی سے مسلمانوں کو فائدہ پہنچتا ہو اسے ہی امیر بنانا چاہیے ۔

(منہاج السنۃ النبویۃ :۴/۵۲۶)

العقیدہ الطحاویہ کے شارح کہتے ہیں ۔:

اگر کسی آدمی کی بدعت یا گناہوں کے بارے میں علم نہ ہو تو اس کے پیچھے نماز پڑھی جاسکتی ہے اس ائمہ کا اتفاق ہے یہ شرط نہیں ہے کہ مقتدی امام کا عقیدہ جانتا ہو اورنہ یہ شرط ہے کہ اس سے عقید معلوم کرے بلکہ مستورالحال کے پیچھے نماز پڑھتا رہے اگرچہ کسی ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھ لی جو بدعتی ہے اور اپنی بدعت کی طرف دعوت دے رہاہے یا کھلا فسق کررہا ہے مثلاً تنخواہ دار امام جو جمعہ و عیدین وغیرہ کے لیے رکھے جاتے ہیں یا عرفہ کے دن کا امام ۔مقتدی اس کے پیچھے نماز پڑھے گایہ سلف وخلف کا مذہب ہے اگر کسی نے بدعتی اور گناہ گار امام کے پیچھے نماز وجمعہ چھوڑ دیا تو وہ اکثر علماء کے نزدیک بدعتی ہے صحیح مسئلہ یہ ہے کہ اس کے پیچھے نماز پڑھے گا اس نماز کو دہرائے گا نہیں

جیسے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما حجاج بن یوسف کی امامت میں نماز پڑھتے تھے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم فاجر ائمہ کے پیچھے نماز پڑھتے تھے اسے دوبارہ نہیں لوٹاتے تھے ۔اسی طرح عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ وغیرہ ولید بن عقبہ بن ابی معید کے پیچھے نماز پڑھتے تھے حالانکہ وہ شراب پیتا تھا یہاں تک کہ ایک مرتبہ اس نے فجر کی چار رکعت پڑھائی اور پھر کہا اور پڑھادوں ؟ جب عثمان رضی اللہ عنہ کامحاصرہ کیا گیا توکسی نے عثمان رضی اللہ عنہ سے پوچھا آپ عوام کے امام ہیں اور یہ جو نماز پڑھا رہا ہے یہ امام فتنہ ہے ۔عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا نماز لوگوں کا بہترین عمل ہے جب لوگ یہ عمل کریں تو تم بھی ان کے ساتھ یہ عمل کرو اور جب وہ کوئی برا کام کریں تو اس سے اجتناب کرو ۔

شارح عقیدہ کہتے ہیں: 

اگر ایسے امام کے پیچھے نماز نہ پڑھنے سے مقتدی کی جماعت سے نمازاور جمعہ ضائع ہوتا ہو تو وہ اس کے پیچھے نماز پڑھنا ترک نہ کرے ایسا کرنے والا بدعتی اور صحابہ رضی اللہ عنہم کا مخالف ہے اسی طرح اس نے معاملات نمٹانے کے لیے کسی کومقرر کیا ہواور اس کے پیچھے نماز ترک کرنے میں کوئی شرعی مصلحت نہ ہو تو ا س کے پیچھے نمازنہ چھوڑے بلکہ پڑھنا افضل ہے اگر انسان کے لیے ممکن ہو کہ کسی ظاہری منکر کے مرتکب کو امام نہ بنائے تو اس پر واجب ہے کہ ایسانہ کرے ۔اور اگر امام کسی اور نے مقرر کیا ہواور ا س کو امامت سے ہٹانا ممکن نہ ہو یااس کو امامت سے ہٹانا کسی اور بڑے شر کا سبب بنتا ہو تو چھوٹے فساد کے بدلے میں بڑا فساد نہیں اپنانا چاہیے اس لیے کہ شریعت کا مقصد شر وفساد کو ختم کرنا یا کم کرنا ہے جماعت سے نماز اور جمعہ کا ترک بڑا فساد ہے بنسبت فاجر امام کی اقتداء میں نمازپڑھنے سے خاص کر اس صورت میں کہ نماز چھوڑدینے کے باوجود امام گناہوں کو نہ چھوڑتا ہوتو ایسے میں مفسدہ ختم ہونے کے بجائے شرعی مصلحت معطل ہوجائے گی ۔

(شرح عقیدۃ الطحاویۃ :۴۲۲-۴۲۳)

 

Print Friendly

About alfitan

مزید دیکھئے

حکمران کی خیر خواہی آخر کیسے؟؟

حکمران سے خیر خواہی آخر کیسے ؟

حکمران کی  خیر خواہی آخر کیسے ؟  الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد …