مرکزی صفحہ » مسئلہ تکفیر » فتنۂ تکفیراورسعودی علماء کا موقف ۔ امام کعبہ الشیخ اسامہ الخیاط

فتنۂ تکفیراورسعودی علماء کا موقف ۔ امام کعبہ الشیخ اسامہ الخیاط

image_pdfimage_print

سعودی علماءفتنۂ تکفیراورسعودی علماء کا موقف ۔ امام کعبہ الشیخ اسامہ الخیاط حفظہ اللہ

حمد و ثناء کے بعد!

اللہ کے بندو ! اللہ سے اتنا خوف کھاؤ جنتا کہ خوف کھانے کا حق ہے اپنے تمام نیک عمل خالص اسی کی رضاء کیلئے بجا لاؤ اور اس ذات سامنے جوابدہی کیلئے اس دن کھڑنے ھونے کو یاد رکھو جس دن کہ آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی اور تلپٹ ھو جائيں گی جس دن کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا ہے :  (اس دن انسان اپنے اعمال کو یاد کرے گا ) ( النازعات : 35)

اور فرمایا ہے :  جس روز کوئی کسی کا بھلا نہ کر سکے گا اور اس روز حکم صرف اللہ ہی کا ہوگا   (الانفطار:19)

مخالفت احکام رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا نتیجہ:

مسلمانو ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے حکم کی مخالفت کرنا ، آپ کی شریعت و طریقہ سے اعراض و روگرادنی کرنا اور آپ کی سنت کو پس پشت پھینک دینا ، ذلت و رسوائی کا سبب ، نحوست و بے برکتی کا باعث ، فتنوں میں واقع ھو جانے کی سیڑھی اور دردناک عذاب میں مبتلا ھونے کی راہ ہے ۔ اللہ تعالی نے اپنے بندوں کو اس مخالفت کے گرنے سے ڈرایا ہے اور یہ واضح فرما دیا ہے کہ سنت کی پیروی نہ کرنا اور اس سے بے پروا ہو جانا ہی فتنہ میں مبتلا ھو جانا ہے ۔ اور جو سنت کی پیروی نہیں کرتا وہ درناک عذاب میں میں پھنس جاتا ہے ۔ چنانچہ ارشاد الی ہے :

{جو لوگ ان ( نبی صلی اللہ علیہ و سلم ) کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں انھیں ڈرنا چاہیےکہ کہیں ان پر کوئی آفت نہ آن پڑے یا وہ کسی المناک عذاب میں نہ مبتلا کر دی جائیں ۔ }  ( النور : 63 )

بہتیرین نمونہ و اسوہء حسنہ :

اللہ تعالی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے نقش قدم پر چلنے کو واجب قرار دیا ہے اور واضح فرمایا ہے کہ اللہ تعالی اور روز آخرت پر ایمان رکھنے والے ہر شخص کیلئے نبی صلی اللہ علیہ و سلم حقیقی و بہترین نمونہ ہیں۔ آپ کے نقش قدم پر چلنے کی بدولت انسان گمراہی سے بچا رہتا ہے اور اسی کے ثمرہ کے طور پر اللہ کی رضاء و خوشنودی اور جنتوں کے اعلی درجات کو پالیتا ہے ۔

چنانچہ اس سلسلہ میں اللہ تعالی نے فرمایا ہے :

اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ و سلم) کی ذات میں تمھارے لئے بہترین نمونۂ (عمل) ہے ، اس شخص کیلئے جسے اللہ (سے ملنے) اور روز قیامت (کے آنے) کی امید ہو اور وہ اللہ کا کثرت سے ذکر کرے۔

(الاحزاب:21)

ترک اتباع کا نتیجہ : “فتنۂ تکفیر “

اتباع و پیروی کی راہ چھوڑنے اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کےنقش قدم پر چلنے کی روش کو ترک کرنے کے نتیجہ میں جو جو فتنے گھیر سکتے ہیں ان کی کئی اقسام اور کئ رنگ ہیں جن کا حصر و احاطہ کرنا مشکل ہے ۔ البتہ ان میں سے سب سے بڑا ، سب سے زیادہ خطرناک اور مضر ترین فتنہ ، فتنۂ تکفیر ہے ( دوسروں کو کافر قرار دینا ) اس فتنے نے اسلامی زندگی میں بہت بڑا فساد برپا کر دیا ہے جو کہ زندگی کے ہر شعبہ و جانب کو شامل ہے اور اس فتنے کی بدولت مسلم معاشرے میں وہ شر و برائی ، اور وہ مصائب و مشکلات آۓ ہیں کہ شائد ان سے بڑی بلائیں ممکن ہی نہیں ۔

تکفیر پر مترتب احکام :

اللہ والو ! تکفیر یعنی دوسروں کو کافر قرار دینا انتہائی خطرناک امر ہے اور اس کی خطرناکی اور شدید نقصان کا پتہ تب چلتا ہے جب اس تکفیر کے نتیجہ میں مترتب ھونے والے احکام کا علم حاصل ھو ، مثلا جسے کافر قرار دیا گیا ہے اس کے مال و جان کا حلال ھونا اس کے اور اس کی بیوی درمیان تفریق کروانا اوراس کے تمام مسلمانوں سے تعلقات ختم کروانا ،اور اس کے درمیان کوئی ورثہ ترکہ کا لین دین نہیں ، نہ اس سے ولاء و دلی تعلق روا ہے اور اگر وہ مر جاۓ تو اسے غسل نہیں دیا جاۓ گا اور نہ اس کی نماز جنازہ پرھی جاتی ہے اور نہ ہی اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جا سکتا ہے ۔

تکفیر و تفسیق کی مذمت:

یہی وجہ ہے کہ صحیح احادیث میں ایسے شخص کے لۓ سخت وعید اور ڈانٹ ڈپٹ آئی ہے جس نے اس محفوظ چراگاہ کی حرمت کو پامال کیا اور کسی کو کافر قرار دینے کے بحر ناپید کنار میں اسی حالت میں غوطہ زن ھوا جبکہ اس کے پاس نہ راہ ھدایت ہے نہ علم نہ روشن کتاب اور نہ ہی کوئی واضح مبنی پر تقوی اور صاف ستھری دلیل ہے کہ جسکی بدولت وہ اللہ اور روز آخرت کا خوف کھاۓ ۔ایسے شخص کے بارے میں صحیح بخاری و مسلم مین حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ہے جس میں وہ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ھوئے سنا : اور اس قدر طویل کو بیان جس میں ہی یہ ارشاد نبوی بھی ہے۔

“کوئی آدمی جب کسی شخص کو فسق کی تہمت لگاتا یا اسے کافر قرار دیتا ہے تو سامنے والا اگر حقیقتا ایسا نہ ہوا تو وہ تہمت الزام لگانے والے پر لوٹ ( صادق آتا ہے۔”( یہ صحیح بخاری کے الفاظ ہیں و صحیح مسلم)

نتائج تحقیق علماء :

ان اھل سنت و الجماعت علماء نے اس سلسلہ میں حق بیان کرنے اور تفصیل واضح کرنے کا حق ادا کر دیا ہے جوکہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی شکل میں پائی جانے والی دونوں وحیوں کے انوار سے استفادہ کرتے کوئی وضاحت کرتے اور فیصلہ فرماتے ہیں اور صحیح دلیل کے مقابلے میں دوسری کسی چیز کو خاطر میں نہیں لاتے اور اسے وہ اس پر مقدم رکھتے ہیں اور نہ ہی ان کے بدلے میں وہ کسی دوسری چیز کو پسند کرتے ہیں ۔ چنانچہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے :

“اس مسئلہ تکفیر میں تحقیقی بات یہ ہے کہ کسی معین کے بارے میں ، جس کا ایمان دار ہونا ثابت ہوچکا ہو ، اس کے کافر ہونے کا فیصلہ اس وقت تک صادر نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ کوئی دلیل و حجت قائم نہ ہو جاۓ جس کی مخالفت کی وجہ سے اسے کافر قرار دیا جائے۔ اگر چہ اس کا وہ قول فی نفسہ کفر ہی کیوں نہ ہو ، مثلا سلف صالحین امت میں سے بعض لوگوں نے قرآن کریم کے بعض حروف کے قرآن ہونے کا انکار کیا کیونکہ انہیں ان حروف کے قرآن ہونے کا علم نہ ہو سکا تھا ۔ لہذا انھیں کافر قرار نہیں دیا گیا ۔”

اور اسی قاعدہ و مفہوم پر اہل علم محققین نے اس حدیث کو محمول کیا ہے جس میں کہ ( نبی اسرائیل کے ) ایک شخص نے اپنے گھر والوں کو وصیت کرتے ھوئے کہا تھا :

[جب میں مر جاؤں تو میری لاش کو جلا دینا ۔ ] وہ شخص اللہ کی قررتوں کو نہیں جانتا تھا لہذا اس نے ایسا کرنے کی وصیت کر دی ۔ اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے جن جن امور و احکام شریعت کی خبر دی ہے ان میں سے اگر کوئی شخص بعض امور سے لا علم رہا تو انحصار اس بات پر موقوف ہے کہ اس میں کافر قرار دیۓ جانے کی ساری شرطیں پوری ھوں اور اس کی تکفیر میں کوئی امر مانع بھی موجود نہ ہو ۔

( از افادات شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ )

فتوائے تکفیر کے اہل علماء :

برادران گرامی : یہ بات معلوم و معروف ہے کہ شرائط کے پورنے ہونے اور کسی امر مانع کے بھی نہ ہونے کا علم ہر کسی کیلۓ حاصل ہو جانا ممکن نہیں ہے اور یہ بھی صحیح نہیں کہ اس اھم مسئلہ کو لوگوں کو آراء اور اجتہادات کا نشانہ و شکار بنایا دیا جاۓ بلکہ یہ مسئلہ اھل علم سے تعلق رکھتا ہے جو شرعی کورس کے قاضی اور معبتر مفتی حضرات ہیں ۔ اسی طرح بڑے بڑئےعلمی و تحقیقی اداروں کے ممبرز اور ثقہ و معتمد شرعی و دینی جمعیات متعلق علماء ہیں ۔

تکفیر کے سلسلہ میں سعودی علماء کا موقف :

غرض یہی قوی قول جو کہ شیخ الاسلام ابن تمیہ رحمة الله عليه نے ذکر کیا ہے ۔ اسے ہی آج تک اس مبارک ملک ( سعودی عرب ) کے علماء بیان کرتے چلے آ رہے ہیں اور یہ سلسلہ دو عظیم مجدد و مصلح اماموں امام محمد بن سعود اور امام محمد بن عبد الوھاب رحمتہ اللہ رحمۃ واسعۃ ۔ کے عہد سے شروع ہے اور ہمارے آج کے دور تک جاری و ساری ہے ۔۔ یہی قول و رائےمعلوم و معروف ، مشہور اور ان کے رسائل میں ان کے اقلام سے مکتوب و مرقوم ہے اور ان کی کتابوں میں بڑے ثقہ انداز سے شا‏ئع ہو چکی ہے اور ان کے دروس و فتاوی میں موجود ہے جو کہ اس وقت چار دانگ عالم میں پھیل چکے ہیں اور اسی فتوی و رائےکو بکثرت مسلمان ممالک کے غیر جانبدار مزاج اہل عقل و دانش نے قبول بھی کیا ہے اور اسے ہی ان دلوں نے اپنے اندر جگہ دی ہے جو کہ محبت کرنے والے ، خود غرض کے دعووں کے شائبوں سے پاک صاف ، ظالمانہ تہمتیں لگانے سے بری اور دلائل و براہیں کے محتاج دعووں کے وزن سے سبکدوش و پاک ہیں ۔ کیونکہ اس منہج نبوی اور مسلک سلفی میں ہی یہ خصوصیت ہے پائی جاتی ہےکہ یہ مسلمانوں کو اس دین اسلام کی صفائی و ستھرائی کی طرف لے جانے والا ہے جس پر کہ قرون مفضلہ میں یہ دین تھا اور خصوصا اس دور سے قبل جبکہ اس دین کی صفائی کو بدعات و محدثات ، آڑے ٹیڑے قیل و قال ، آراء و افکار اور فرقوں نے مکدر و گدلا کر کے رکھ دیا تھا ، اور پوری اسلامی زندگی کی تمام جوانب کو تاریک کر دیا ہے اور یہی چیز مسلمانوں کی پستی و زوال کے واضح ترین اسباب میں سے ایک ہے ۔ حتی کہ یہی مسلمان جو کبھی قائد انسانیت تھے ، اب یہ بھی افراد کارواں اور عام اجزاء قافلہ بن کر رہ گئے ۔

آج بھی :

اللہ کے بندو ! یہی مبارک منہاج نبوی اس مبارک مملکت میں رائج اور اسی کا بول بالا اور اسی کا علم بلند ہے اور آج بھی اسی طرح قاصدین کیلئے منارئےنور ، حیران و سرگرداں ان لوگوں کیلئے صفیاء روشنی ہے، اہل توحید کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے ، اور تمام جہانوں کے لوگوں کیلئے دلوں کی شفاء و ہدایت ہے مخالفت کرنے والوں کی مخالفت اس کا کچھ نہ بگاڑ سکی نہ بگاڑ سکتی ہے اور کسی دشمن کی دشمنی اس کی راہ میں روڑا اٹکا سکتی ہے ۔ یہ ملک اللہ کے فضل سے اسی کی مدد و نصرت اور تائید اور حفاظت پا رہا ہے اور اللہ ہی حفاظت و نگرانی میں روز افزوں ترقی پذیر ہے ۔ ایسے ہی ہم بھی دیکھ رہیں اور ساری دنیا دیکھتی ہے اور ہر صاحب عقل و شعور دیکھ رہا ہے کہ یہ ملک اس ملک کے احکام و آمراء کے تعاون اور تائيد و امداد کو بھی پائے ہوئے ہے اور انکی پشت پر اہل علم و فضل ، اہل خیر و ثروت اور اہل اصلاح ہیں جن میں مرد ،عورتیں ، نوجوان ، بوڑھے اور بچے سب شامل ہیں اور ان سب کا اپنے حکام و آمراء اور اولیاء امور کے ساتھ گہرا گٹھ جوڑ ہے ۔ اور یہ سب ایک ایسے عجیب اتحاد و اتفاق سے شانہ بشانہ کام کر رہے ہیں جو اللہ چاہے تو اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو راضی کرنے کا باعث ہے ۔ یہی منظر ہر مومن صادق کے لۓ بھی دل خوش کن ہے ، حقد و بغض کے مارے ہوئے کینہ پرور لوگوں ، انہی کے گروہ میں ملے ہوئے اور انہی کی راہ پر چلنے والے لوگوں ، اہل فساد بگاڑ اور تخریب کاروں کو غیض و غضب کی آتشی اور حسد کی آگ میں جلانے والا ہے ، جس سے ہر وہ شخص اللہ کے نزدیک بری الذمہ ہونے کا دعوی کرتا ہے جو کہ مومن صادق ہے ، اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کا مخلص ہے ، آخرت سے ڈرتا ہے اور اپنے رب کی رحمت کا امیدوار ہے وہ ساری دنیا کے کسی بھی ملک میں کیوں نہ ھو اور تمام ممالک کے کسی بھی شہر میں کیوں نہ ہو ۔

حیات آفرین کام اور سرتسلیم خم :

مومن صادق کا صرف کام یہی ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ و سلم اسے کسی کام کیلئے بلائيں جو کہ حیات آفرین ہے تو وہ ان کی تابع فرمانی کرے ، اور اپنے کانوں کی قوت شنوائی کو قرآن کی نداء اور رحمن کے اس کلام پر لگا دے جو کہ اسے نجات و ساحل مراد کی طرف بلا رہا ہے چنانچہ ارشاد الہی ہے :

” اور یہ کہ میرا سیدھا راستہ یہی ہے تو تم اسی پر چلنا اور دوسرے راستوں پر نہ چلنا کہ ( ان پر چل کر ) اللہ کے راستے سے الگ ھو جاؤ گے ، ان باتوں کا اللہ تمھیں حکم دیتا ہے تا کہ تم متقی و پرہیزگار بنو ۔

( الانعام : 153)

صحیح عقیدہ کا اہتمام اور اس کی برکات :

اللہ کے بندو ! صحیح عقیدہ پر توجہ دینا اور اس کا پورا اہتمام کرنا کہ اس کے اصول کی تعلیم حاصل کی جا‌‌‌‌‌‌ئے ، اس کے قواعد کو سیکھا جائے، اس کے دلائل کی معرفت حاصل کی جاۓ ، اس کے تقاضوں پر عمل کیا جاۓ ، ایسی توجہ دینا اور ایسا اہتمام کرنا ہر اس فکر سے محفوظ کرنے کا واضح سبب ہے جو ہمیں برا لگتا اور اس عقیدہ سے جو اللہ تعالی کی کتاب اور سنت رسول صلی اللہ علیہ و سلم اور سلف صالحین امت کے فہم و مہنج کے دلائل کو رد کر کے اپنایا گیا ہوتا ہے ، اور اسی اہتمام و توجہ کی بدولت ہی ہر فتنہ پرور ، بدعت ساز ، تفرقہ پسند اور مومنوں کی شاہراہ کو چھوڑ کر دوسری پگـڈنڈیوں پر چلنے والے لوگوں کا سدباب کیا جا سکتا ہے ۔ اور اگر ھم نے ایسا کر لیا تو اس کا انجام و نتیجہ بہت ہی اچھا سامنے آۓ گا اور اس کے اثرات کی عکاسی کرنے والی چیزیں ، خیر و بھلائی کے کاموں ، اتحاد و اتفاق ، حق پر ایک دوسرے کا دست و بازو بننے ، بر و تقوی کے کاموں پر ایک دوسرے کا تعاون کرنے اور ایمان و زبان کی وحدت ہونگی ۔

اے اللہ کے بندو ! اللہ کا تقوی اختیار کرو اور ہر وہ عمل کہ جس کے ذریعے اللہ کی رضاء و خوشنودی پانے میں کامیابی حاصل کر سکو اور ان میں سے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی اتباع و پیروی ، آپ کی لائی ہوئی شریعت و طریقہ سے تمسک و تعلق اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے اوامر کی مخالفت کرنے سے بچنا ہے ۔ اگر آپ نے ایسا کر لیا تو فوز و فلاح پانے والوں میں سے ھو جاؤ گے ۔

و صلی اللہ و سلم علی نبینا محمد و علی آلہ و صحبہ اجمعن
22 / 3 / 1424 ھ 23 / 5 / 2003 ء

Print Friendly

About alfitan

مزید دیکھئے

مسلمانوں پر ہتھیار اٹھانے کی مذمت

مسلمان پر ہتھیار اٹھانے کا حکم الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *