مرکزی صفحہ » گمراہ فرقے » خوارج » قدیم تکفیری فکر ۔ الشیخ عبد الرحمن العمری حفظہ اللہ

قدیم تکفیری فکر ۔ الشیخ عبد الرحمن العمری حفظہ اللہ

image_pdfimage_print

قدیم تکفیری فکر ۔ الشیخ عبد الرحمن العمری حفظہ اللہ

اسلامی تاریخ نے اپنے مختلف ادوار میں بہت زیادہ اضطراب و بے چینی اور فتنے مشاہدہ کیے ہیں اور یہ بے چینی ان لوگوں کی طرف سے تھی جو اسلام سے نسبت رکھتے تھے جنہو ں نے اسلام کا صحیح مفہو م نہیں سمجھا مسلمانوں پر مشاکل و فتنے اٹھانے میں سب سے نمایاں ’’خوارج ‘‘ہیں یہ وہ  لوگ ہیں جنہوں نے خلیفۃالمسلمین عثمانؓ پرخروج کیا اور اس کے نتیجے میں عثمان ؓ کی شہادت کامظلو مانہ حادثہ پیش آیا ۔

پھر حضرت علی ؓ کے زمانے میں ان کا شربڑھ گیا، انہوں نے ان پر اختلاف کیا ان کی تکفیر کی ،اور صحابہ کی بھی تکفیر کی، کیونکہ انہوں نے ان کے مذہب پر انکی موافقت نہیں کی تھی اوریہ ہر اس شخص کی تکفیر کرتے ہیں جو ان کے مذہب میں ان کی مخالفت کرتا ہے پس انہوں نے بہترین لوگوں (صحابہ کرام﷢)کو کافر قرار دیا ،کیونکہ انہو ں نے ان کی گمراہی پر ان کی موافقت نہیں کی تھی ۔

مذہب خوارج :

یہ لوگ سنت وجماعت کا التزام نہیں کرتے ،ولی الامر (حاکم ِوقت )کی اطاعت نہیں کرتے ،  اللہ تعالی ٰ کے حکم وفرمان کے برعکس ، دین میں اس پر خروج کو جائز سمجھتے ہیں اللہ تعالی ٰ کاحکم ہے : ’’اے ایمان والو!اللہ کی اطاعت کرو  اور اس کے رسو ل کی اطاعت کرو اور اپنے میں سے ’’امر ‘‘والو ں کی بھی اطاعت کرو‘‘(النساء:۵۹)یعنی تم میں سے جو حکم دینے والے ہیں ۔

پس حکمران کی اطا عت دین سے ہے جبکہ خوارج اس کو جائز  نہیں سمجھتے ،جیساکہ آج کی بعض بغاوتوں کا حال ہے، خوارج مسلمانوں کی جماعت کی تفریق کو جائز اور حلال سمجھتے ہیں۔ان کی طاقت وقوت و شوکت کو کمزور کرتے ہیں اور مرتکب ِکبیرہ کوکافر جانتے ہیں ،زانی ،چور،شرابی اورسود خور سب مرتکبین ِ کبیرہ ہیں لہٰذا یہ انہیں کافر سمجھتے ہیں، جبکہ اہل السنہ والجماعۃ انہیں ناقص الایمان سمجھتے ہیں، خوارج کو تکفیر میں جس چیز نے پھنسایا ہے وہ ان کی  دینی بے بصیرتی و عدم تفقہ ہے،کیونکہ انہوں نے نماز ، روزہ اور تلاوت ِ قرآن وغیرہ عبادات میں شدت اختیار کی ،ان کے ہاں شدید(دینی)غیرت پائی جاتی ہے لیکن ان کو دین کی فقہ (سمجھ)نہیں ہے۔

اور یہ ایک مصیبت ہے ،عبادات وپرہیزگاری میں اجتہاد کے لئے ضروری ہے کہ دین وعلم کی سمجھ بھی ہو،اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کے لئے ان( خوارج )کا یہ وصف بیان فرمایاکہ:’’تم انکی نمازوں کے مقابلے میں اپنی نمازوں کو حقیر جانو گے، ان کی عبادت کے مقابلے میں اپنی عبادت کو کمتر سمجھو گے ،پھر آپ ﷺ نے فرمایا:وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طر ح تیر(تیزی سے)شکا ر کے آر پار ہو جاتا ہے ‘‘

(متفق علیہ)

یعنی ان کی نماز ،ان کی پر ہیز گاری ،ان کی تہجد اور ان کے قیام اللیل کے مقابلے میں ۔تم اپنی عبادت کو حقیر جانو گے لیکن جب ان کی یہ ساری محنت کی بنیاد درست نہیں اور علم صحیح پراستوار نہیں ،تو یہ سب کچھ گمراہی قرار پائی جوان پر اور امت پر شر بن گئی۔

خوارج کی ایک پہچان یہ بھی ہے کہ وہ ہمیشہ مسلمانوں سے قتال کرتے ہیں ،انہوں نے عثمان ، علی ، زبیر بن عوام اور بہترین صحابہ ﷢کو شہید کیا اور ہمیشہ مسلمانو ں کو ہی قتل کریں گے ۔

شیخ علامہ صالح الفوزان حفظہ اللہ فرماتے ہیں :ہر دور میں تمام مسلمانو ں پر واجب ہے کہ جب انہیں اس خبیث مذہب کے بارے میں تحقیق ہو جائےکہ یہ یہاں موجود ہیں تو پہلے دعوت إلی اللہ کے ذریعے ان کا علاج کریں اور لوگوں کو اس کے متعلق آگاہ کریں ، اگر وہ بات نہ مانیں اور اپنی حرکتوں سے باز نہ آئیں، تو ان کے  دفع شر کے لئے ان سے قتال کریں ۔

Print Friendly

About alfitan

مزید دیکھئے

خوارج کبار صحابہ کے قاتل

خوارج،کبار صحابہ کے قاتل۔ سیدناعلی رضی اللہ عنہ کی شہادت

خوارج،کبار صحابہ کے قاتل سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی شہادت حافظ عمر خطاب …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *