مرکزی صفحہ » مسئلہ تکفیر » ’’میں کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کروں؟ ۔ ابو حسین نورستانی حفظہ اللہ تعالی

’’میں کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کروں؟ ۔ ابو حسین نورستانی حفظہ اللہ تعالی

image_pdfimage_print

photo721249554916288582 ’’میں کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کروں؟  

ابو حسین نورستانی حفظہ اللہ تعالی

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ان الحمدللہ نحمدہ و نستعینہ و نستغفرہ و نعوذ باللہ من شرور انفسنا ومن سیئات اعمالنا من یھدہ اللہ فلا مضل لہ ومن یضلل فلا ھادی لہ و اشھدأن لا إلٰہ إلا اللہ و أشھد أن محمد اًعبدہ و رسولہ۔ اما بعد !

دین اسلام افراط و تفریط کے درمیان معتدل ہے۔ اسکی رات بھی دن کی طرح روشن اور واضح ہے۔ قرآن کریم میں ہر چیز کا بیان موجود ہے اور اسکی تفصیل، تفسیر و تشریح احادیث نبویﷺ میں وارد ہے

جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

 [لَقَدۡ كَانَ فِى قَصَصِہِمۡ عِبۡرَةٌ۬ لِّأُوْلِى ٱلۡأَلۡبَـٰبِ‌ۗ مَا كَانَ حَدِيثً۬ا يُفۡتَرَىٰ وَلَـٰڪِن تَصۡدِيقَ ٱلَّذِى بَيۡنَ يَدَيۡهِ وَتَفۡصِيلَ ڪُلِّ شَىۡءٍ۬ وَهُدً۬ى وَرَحۡمَةً۬ لِّقَوۡمٍ۬ يُؤۡمِنُونَ]

(یوسف:111)

’’یہ قرآن گھڑی ہوئی بات نہیں بلکہ اپنے سے پہلے کتابوں کی تصدیق اور ہر چیز کی تفصیل ہے اور ایمان لانے والوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے‘‘۔

آج امت جس مشکل میں گھری اور پھنسی ہوئی ہے، خاص طور پر پاکستان جن پریشانیوں میں گھرا ہوا ہے، جتنی قتل و غارت گری یہاں ہو رہی ہے باوجودیکہ پاکستان دارلحرب نہیں ہے۔ اس سب کچھ کے پیچھے گولی کافر کی اور کندھا مسلمان کا استعمال ہو رہا ہے۔ اور اس میں خطا کاروں اور مجرموں سے کہیں زیادہ معصوم لوگوں کا خون بہایا جا رہا ہے۔ کتنی مساجد ان بے گناہ نمازیوں کے خون سے رنگیں ہوئی ہیں کہ جن کا اس جنگ و جدل سے کوئی تعلق نہیں،  انکا خون ان بے بصیرت و عجلت پسند مفتیان کے سر ہے جو کم علم بھی ہیں اور کم فہم بھی! جبکہ،

[مَن قَتَلَ نَفۡسَۢا بِغَيۡرِ نَفۡسٍ أَوۡ فَسَادٍ۬ فِى ٱلۡأَرۡضِ فَڪَأَنَّمَا قَتَلَ ٱلنَّاسَ جَمِيعً۬ا ]

(المائدہ:32)

’’جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا‘‘

اور اگر جان بوجھ کر قتل کرے تو اسکی سزا اسلام میں وارد ہے۔

اللہ تعالی فرماتے ہیں:

[وَمَن يَقۡتُلۡ مُؤۡمِنً۬ا مُّتَعَمِّدً۬ا فَجَزَآؤُهُ ۥ جَهَنَّمُ خَـٰلِدً۬ا فِيہَا وَغَضِبَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِ وَلَعَنَهُ ۥ وَأَعَدَّ لَهُ ۥ عَذَابًا عَظِيمً۬ا ]

(النساء:93)

’’اور اگر جان بوجھ کر قتل کرے تو اسکی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، اس پر اللہ کا غضب ہے، اسے اللہ نے لعنت کی اور اس کے لئے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے‘‘ ۔

اسلام میں اگر کو ئی کسی کو غلطی سے بھی قتل کردےیا مار ڈالے تو اس کو بھی خلاصی کے لئے دنیا میں اس قتل کے بدلے بھاری قیمت چکانا ہوتی ہے۔ جیسا کی قرآن کی مندرجہ ذیل آیت میں مزکور ہے۔

[وَمَا كَانَ لِمُؤۡمِنٍ أَن يَقۡتُلَ مُؤۡمِنًا إِلَّا خَطَـًٔ۬ا‌ۚ وَمَن قَتَلَ مُؤۡمِنًا خَطَـًٔ۬ا فَتَحۡرِيرُ رَقَبَةٍ۬ مُّؤۡمِنَةٍ۬ وَدِيَةٌ۬ مُّسَلَّمَةٌ إِلَىٰٓ أَهۡلِهِ ]

(النساء : 92)

’’اور اگر غلطی (قتل خطا)سے کسی بے گناہ مسلمان کو قتل کرے تو اس کا کفّارہ ادا کرنا فرض ہے۔ ایک مسلمان غلام کی گردن آزاد کرے اور مقتول کے ورثاء کو خون بہا ادا کرے‘‘

یعنی دونوں صورتوں(عمداً یا خطاً)  میں قاتل قابل مواخذہ ہے![1]

رسو ل اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع  10ہجری ،9ذی الحجۃ کومیدان عرفات میں ایک لاکھ چو بیس ہزار کے قریب مسلمانوں کو مخاطب فرماکر نصیحت فرمائی ۔

’’لوگو! میری بات سن لو ! کیونکہ میں نہیں جانتا،شاید اس سال کے بعد تمہیں اس مقام پر کبھی نہ مل سکوں۔‘‘

(ابن ہشام )

’’تمہارا خون اور تمہارا مال ایک دوسرے پر اسی طر ح حرام ہے جس طر ح تمہارے آج کے دن کی،رواں مہینے کی اور موجودہ شہر کی حرمت ہے ‘‘ْ

(صحیح مسلم)

یوم النحرـ10ذوالحجۃ کو بھی رسو ل اللہ ﷺ نے ایک خطبہ ارشاد فرمایا اس میں بھی آپ نے کل کی (پچھلی ) باتیں دہرائیں ۔یہ پوچھنے کے بعد کہ یہ کو نسا مہینہ ،کونسا شہر اور کونسا دن ہے ؟فرمایا:

’’اچھا تو سنو کہ تمہارا خون ،تمہارامال اور تمہاری آبرو ایک دوسرے پر ایسے ہی حرام ہے جیسے اس شہر،اس مہینے اور اس دن کی حرمت ہے۔‘‘

(صحیح بخاری ،صحیح مسلم)

ایک حدیث میں یہ الفاظ ہیں :

’’مسلمان کا خون ،مال اور آبرو دوسرے مسلمان پر حرام ہے‘‘ 

(صحیح مسلم)

اور ایک حدیث کے یہ الفاظ ہیں :

’’کسی کافر کا(بلاوجہ) قتل بھی جائز نہیں ،جس نے کسی ذمی (اسلامی ریاست میں معاہدے کے تحت رہنے والا کافر)کو قتل کیاوہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پا سکے گا ‘‘

(صحیح بخاری)

 یہ شہید نمازی بے چارے زبان ِخاموشی سے کہتے ہوں گے او مسلمانو!تم ہم سے کس بات کا انتقام اور بدلہ لے رہے ہو ؟صرف اس جرم میں ہمیں ٹکرے ٹکرے کر ڈالا کہ ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس پر بھی جو ہماری طرف اتارا گیااور جو اس سے پہلے اتارا گیا؟

مساجد بھی نوحہ کناں ہیں کہ ہمیں کیو ں بارود کی نذر کیا گیا؟ ہمارے اندر بتوں کی پوجاتو نہیں ہو رہی ،ہم ہندوستا ن کی سر زمین پر تعمیر نہیں کی گئیں کہ بابری مسجد کی طرح ہمیں تباہ کیا گیا ؟

افسوس !تو یہ ہے کہ بابری مسجد ہندوؤں کے ناپاک ہاتھوں تباہ ہو ئی ،ہماری مساجد اپنوں کے ہاتھوں ظلم کاشکار ہیں ۔

’’اے اہل کتاب !اپنے دین میں ناحق حد سے نہ بڑھو اور اس قوم کی خواہشات کے پیچھے مت چلو جو اس سے پہلے گمراہ ہو چکے اور انہوں نے بہت سوں کو گمراہ کیا اور وہ سیدھے راستے سے بھٹک گئے ۔‘‘

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

[1[ مسلم ممالک میں دہشت گردی میں ملوث گروہ،  اپنی عملیات میں مارے جانے والے بے گناہوں بارے یہ تلبیس کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم تو اپنے ہدف کو نشانہ بناتے ہیں اور اگر اس میں کوئی بے گناہ  شخص بھی مارا جائے تو دنیا میں  ہم پر اس کو کوئی  بوجھ نہیں ، کوئی الزام نہیں، کوئی قصاص نہیں۔ وہ  لوگ بس اپنی نیتوں پر اٹھائے جائیں گے اور ہم سے انکے قتل کے بارے یوم جزا و سزا کے دن استسفار نہیں کیا جائے گا۔ یہ ایک  انتہائی بے تکی اور جہالت پر مبنی موقف ہے۔ اور اس بارے ہم اوپر قرآن و حدیث کی واضح نصوص سے بیان کر چکے ہیں کہ چاہے کوئی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے یا غلطی سے اسلام میں دونوں صورتوں میں مجرم اور قابل مواخذہ ہے

(یاد رہے یہاں ہماری مراد مسلم ممالک اور مسلم معاشرے میں ہونے والی کاروائیاں مراد ہیں نہ کہ کسی حربی کافر ملک میں ہونے والی کاروائیاں ۔ کیوں کہ وہاں کے ضابطے مختلف ہیں)۔

اللھم أرنا الحق حقا ً وارزقنا اتباعہ وأرناالباطل باطلاً وارزقنااجتنابہ

 

Print Friendly

About alfitan

مزید دیکھئے

index132

اپنی ذات پر دین حنیف کے معاملے میں تشدد اور دوسروں کو تنگی میں ڈالنا

تکفیری سوچ کو جنم دینے والے چند اہم محرکات  اپنی ذات پر دین حنیف کے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *