مرکزی صفحہ » مسئلہ تکفیر » الولاءوالبراء » کفر سے تعاون کی تین اقسام اور خوارج کی اس متعلق کج فہمی ۔مفتی اسرار احمد سہارنپوری

کفر سے تعاون کی تین اقسام اور خوارج کی اس متعلق کج فہمی ۔مفتی اسرار احمد سہارنپوری

image_pdfimage_print

کفر سے تعاون کی تین اقسام اور خوارج کی اس متعلق کج فہمی

مفتی اسرار احمد سہارنپوری 

کافر سے تعلق ولایت تین قسم پر ہے:

پہلی قسم تو یہ ہے کہ کوئی مسلمان اس کے کفر پر راضی ہو اور اس کے کفر کی تصویب (درست سمجھنا) کرتا ہو اور اسی وجہ سے اس سے قلبی تعلق رکھتا ہو تو ایسا شخص بھی کافر ہے کیونکہ یہ کفر پر راضی بھی ہے اور کفر کی تصدیق بھی کرتا ہے۔

دوسری قسم اس تعلق کی یہ ہے کہ جس میں کسی کافر سے ظاہری طور پر اچھے طریقے سے معاشرت اختیار کرنا مقصود ہواور ایسا تعلق ممنوع نہیں ہے۔

تیسری قسم اس تعلق کی ہے کہ جس میں کافروں پر اعتماد ‘ ان کی اعانت اور نصرت ہواور اس کا سبب یا تو قرابت داری ہو یا پھران کی محبت ہو لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ عقیدہ بھی ہو کہ ان کا دین باطل ہے تو ایسا تعلق اگرچہ ممنوع ہے لیکن موجب کفر نہیں ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ یہ امر بالکل واضح ہے یہود و نصاری سے دوستی لگانے والے مسلمانوں کی اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جن کو یا تو ان کی ٹیکنالوجی کا ڈر ہے یا وہ عیش پرست ہیں یا پھر کاہلی و سستی ہے اور موت کا خوف مال اور عہدے کی محبت وغیرہ ۔

یہ تمام چیزیں ایسے امور ہیں جن کی وجہ سے ایسے مسلمان فاسق فاجر اور عملی منافق تو قرار پائیں گے لیکن ایسے کافر نہیں کہ جس کی وجہ سے وہ ملت اسلامیہ سے خارج ہوں اللہ سبحانہ و تعالٰی نے مسلمانوں کو کفار سے اپنے بچاؤ کی تدبیر کے طور پر ان سے ظاہری دوستی کی اجازت دی ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔

لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِيْنَ اَوْلِيَاۗءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ ۚ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللّٰهِ فِيْ شَيْءٍ اِلَّآ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْھُمْ تُقٰىةً ۭ وَيُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ ۭ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ 28 ؀

‘‘ پس اہل ایمان، اہل ایمان کو چھوڑتے ہوئے کافروں کو دوست نہ بنائیں اور جو کوئی بھی ایسا کرے گا تو اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں ہے سوائے اس کے کہ تم ( یعنی اہل ایمان) ان کافر وں ( کی اذیت ) سے بچنا چا ہو کچھ بچنا ’’ ْ۔

( آل عمران : 28)

اس آیت مبارکہ کا یہ استثنا ء بہر حال یہودونصاری سے دوستی کی بنیاد پر ایسے مسلمانوں کی تکفیر میں صریح مانع ہے ۔ اس آیت مبارکہ میں تقاۃ سے مراد سلف صالحین نے تقیہ اور خوف دونوں کیلئے ہیں :

امام شنقیطی المالکی فرماتے ہیں کہ اگر دشمن کے خوف کے سبب سے کوئی مسلمان ان سے تعلق ولایت کا اظہار کرے تو یہ جائز ہے۔

وہ ‘یأیھا الذین آمنوا لا تتخذوا الیھود والنصاری أولیاء ‘ کے تحت لکھتے ہیں:

” وبین فی مو ضع آخر : أن محل ذلک،فیماا ذا لم تکن الموالاة بسبب خوف وتقیة ون کانت بسبب ذلک فصاحبھا معذور وھو قولہ تعالی : لاَ یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْکٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآئَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ فَلَیْسَ مِنَ اللّٰہِ فِیْ شَیْئٍ اِلاَّ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْھُمْ تُقَاة.”

(أضواء البیان : المائدة)

” ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ نے اس بات کو واضح کیا ہے کہ یہود و نصاری سے یہ تعلق ولایت کسی خوف یا بچاؤ کے سبب سے نہ ہو’ اور اگر یہود و نصاری سے تعلق ولایت اس سبب( یعنی خوف یا ان کی اذیت سے بچاؤ) کے تحت ہو تو ایسا شخص معذور ہے اور اللہ سبحانہ و تعالی کا قول ہے:”پس اہل ایمان’ اہل ایمان کو چھوڑتے ہوئے کافروں کودوست نہ بنائیں اور جو کوئی بھی ایسا کرے گا تو اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں ہے سوائے اس کے کہ تم (یعنی اہل ایمان) ان کافروں (کی اذیت )سے بچنا چاہو کچھ بچنا”۔

امام نسفی الحنفی نے بھی یہی معنی بیان فرمایا ہے۔وہ لکھتے ہیں:

(اِلاَّ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْھُمْ تُقَاة) الا أن تخافوا من جھتھم أمرا یجب اتقاؤہ أی إلا أن یکون للکافر علیک سلطان فتخافہ علی نفسک ومالک فحینئذ یجوز لک ا ظھار الموالاة وابطان المعاداة.”

(تفسیر نسفی : آل عمران : ٢٨(

‘الا أن تتقوا منھم تقاة’ کا معنی یہ ہے کہ تمہیں ان کی طرف سے کسی ایسے امر کا اندیشہ ہو کہ جس سے بچنا لازم ہویعنی یہ کہ کسی کافر کو تم پر غلبہ حاصل ہو اور تمہیں اس کافر سے اپنے جان اور مال کا خوف لاحق ہو تو اس وقت تمہارے لیے یہ جائز ہے کہ تم کافر سے دوستی کا اظہار کرو اور اس سے دشمنی کو چھپا لو۔”

امام بیضاویؒ اور شافعیؒ نے بھی یہی معنی بیان کیا ہے کہ خوف کے وقت دشمن کافر سے تعلق ولایت کا اظہار جائز ہے۔وہ لکھتے ہیں:

” منع عن موالاتھم ظاھرا وباطنا فی الأوقات کلھا إلا وقت المخافة فإن اظھار الموالاة حینئذ جائز.”

(تفسیر بیضاوی : آل عمران : ٢٨(

‘اللہ تعالیٰ نے جمیع حالات میں کفار سے ظاہری یا باطنی تعلق ولایت قائم کرنے سے منع فرمایا ہے سوائے خوف کی حالت کے ‘ کیونکہ اس حالت میں کافر سے تعلق ولایت کا اظہار جائز ہے۔”

یہی وجہ ہے کہ اگر کسی موقع پر کسی صحابی سے یہ کام سرزد ہو گیا کہ اس نے مسلمانوں کے خلاف کفر کا تعاون یاحمایت کردی تو آپ ﷺ نے اس کو کافر و مرتد قرار نہیں دیا ۔ مثلا

سیدنا حاطب بن ابی بلتعہ  کے بارے میں صحیح بخاری میں مروی ہے کہ نبی ﷺ نے سیدنا علی زبیر اور مقداد کوبھیجا کہ جاؤ روضہ خاخ نامی مقام پر ایک عورت سانڈھ پر سوار تمھیں ملے گی اس کے پاس ایک خط ہے وہ لے کر آؤ جب یہ صحابہ کرام وہاں پہنچے تو اس عورت سے کہا تیرے پاس جو خط ہے وہ ہمیں دیدے پہلے پہل اس نے انکار کر دیا اورکہا کہ میرے پاس کوئی خط نہیں تب سیدنا علی نے فرمایا : یا تو ہمیں خط دیدے تو بہتر ہے وگرنہ ہمیں ننگاہ کر کے بھی خط برامد کرنا پڑا تو ہم یہ بھی کر گزریں گے ۔ تو اس عورت نے بالوں کی چوٹی سے خط نکال کر دیدیا صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین جب یہ خط لے کر بارگاہ نبوی میں پہنچے ، خط کھولا گیا تو وہ خط سیدنا حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے رؤس قریش کے نام لکھا گیا تھا جس میں نبی ﷺ کے بعض معاملات کے بارے میں اطلاع دی گئی تھی ۔

آپ ﷺ نے فرمایا حاطب یہ کیا ہے؟ اس نے کہا یارسول اللہ ﷺ آپ کو معلوم ہے میں قریش کے ساتھ رہتا تھا حالانکہ میں قریشی نہیں ہوں بلکہ ان کا حلیف ہوں آپ کے پاس جتنے مہاجرین ہیں ان کے وہاں رشتہ دار موجود ہیں جو ان کے گھر بار اور اموال کی حفاظت کرتے ہیں تومیں نے سوچا قریشیوں کے ساتھ میری رشتہ داری تو نہیں ہے چلو ان پر کوئی احسان کردو جس کی بناء پر وہ میرے قرابت داروں کی حفاظت کر یں ۔ اور سیدنا حاطب نے کہا ، لم افعلہ ارتدادا عن دینی ولا رضا بالکفر بعد الاسلام ۔ اے اللہ کے رسول ﷺ میں نے یہ کام مسلمان ہونے کے بعد نہ ہی کفر کو پسند کرتے ہوئے کیا اور نہ ہی دین سے ارتداد اختیار کرتے ہوئے کیا ہے تورسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس نے سچ کہا ہے سیدنا عمر نے فرمایا مجھے چھوڑ دیجئے میں اس منافق کو قتل کر دوں آپ ﷺ نے فرمایا یقینایہ بدری ہے ۔ امید ہے کہ اللہ تعالی نے بدریوں کو معاف کر دیا ہے اور فرمایا: جومرضی عمل کرو میں نے تمھیں معاف کر دیا ہے تب اللہ نے سورۃ ممتحنہ میں یہ آیات نازل کر دیں ۔

( صحیح بخاری کتاب المغازی باب غزوہ الفتح و مابعث حاطب بن ابی بلتعہ الی اہل مکتہ یخبرھم بخیر و النبی ﷺ ، ص: 612 ، ج: 2 درسی نسخۃ )

Print Friendly

About alfitan

مزید دیکھئے

photo721249554916289004

لا علمی میں کفر نہیں” ۔ صحابہ اور صحابیات کی زندگیوں سے مسئلہ تکفیر کی وضاحت”الشیخ ابو جمیل السوری

“لا علمی میں کفر نہیں”  صحابہ اور صحابیات کی زندگیوں سے مسئلہ تکفیر کی وضاحت …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *