مرکزی صفحہ » کتب و فتاویٰ » آن لائن فتاویٰ » کیا شیخ ابن باز کا اسامہ بن لادن کے متعلق فتوی ان کی جانب جھوٹ منسوب ہے؟​ شیخ صالح بن فوزان الفوزان (حفظہ اللہ)​۔

کیا شیخ ابن باز کا اسامہ بن لادن کے متعلق فتوی ان کی جانب جھوٹ منسوب ہے؟​ شیخ صالح بن فوزان الفوزان (حفظہ اللہ)​۔

image_pdfimage_print

اسامہ کو نصیحٹابن باز کا فتوی

ابن-باز-کا-فتوی

اسامہ بن لادن کے متعلق شیخ ابن باز ؒ کے فتوی کی نسبت  

کیا یہ جھوٹ ہے؟

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان (حفظہ اللہ)​


سوال:

احسن اللہ الیکم فضیلۃ الشیخ، یہ سائل کہتا ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ آپ میرا سوال جس طرح لکھا ہے بالکل اسی طرح شیخ کے سامنے پیش کریں ورنہ میں بروز قیامت اللہ تعالیٰ کے دربار میں آپ سے جھگڑوں گا، سوال یہ ہے کہ کیا مسعری، فقیہ اور اسامہ بن لادن مسلمانوں کی جماعت سے نکلنے والے کہلائیں گے؟ آپ کی کیا رائے ہے ان کے بارے میں جو یہ دعوی کرتے ہیں کہ شیخ ابن باز(رحمۃ اللہ علیہ) نے اسامہ بن لادن کے بارے میں کچھ نہیں فرمایا، اور جو فتوی شیخ(رحمۃ اللہ علیہ) کی جانب منسوب ہے وہ جھوٹا ہے، اور وہ اس مذکورہ مقولہ سے بہت حجت پکڑتے ہیں؟

جواب:

یہ افراد جو ہیں مسعری، فقیہ اور اسامہ بن لادن خود اپنے اقوال وافعال ہی سے جانے پہچانے جاتے ہیں اور لوگ جانتے ہیں کہ ان پر کوئی جھوٹ نہیں بولا گیا۔ اسی طرح شیخ ابن باز(رحمۃ اللہ علیہ) کا فتوی بالکل سچ ہے اور ہم نے خود اپنے کانوں سے سنا ہے اور یہ شیخ(رحمۃ اللہ علیہ) کی حیات ہی میں مجموع الفتاوی کی صورت میں چھپ کر آپ کے سامنے پیش کیا جاتا رہا اور تمام مشائخ بھی اس سے باخبر ہیں، لیکن کسی نے بھی اس کی شیخ کی جانب نسبت کا انکار نہیں فرمایا، لہٰذا یہ فتوی جھوٹا نہیں۔ جو یہ دعوی کرے کہ یہ فتوی جھوٹا ہے تو وہ خود کذاب (سب سے بڑا جھوٹا ) انسان ہے۔

🔴 اسامہ بن لادن کا اس دور کے امام اہل السنہ شیخ ابن باز رحمہ اللہ  پر طعنہ زنی کرنا​

امام ابو حاتم(رحمۃ اللہ علیہ ) فرماتے ہیں:

“من علامۃ أھل البدع الوقیعۃ فی أھل الأثر”

[الکلا لکائی(1/179)]

(اہل بدعت کی علامت میں سے ہے کہ وہ اہل اثر پر طعنہ زنی اور تبرا بازی کرتے ہیں)

اسامہ بن لادن یہ دعوی کرتا ہے کہ امام صاحب کے فتاوی امت کو گمراہی کے ستر گھاٹیاں نیچے لے جائیں گے!​


🔴 اسامہ بن لادن امام عبد االعزیز بن باز رحمۃ اللہ علیہ سے کئے گئے اپنے خطاب بتاریخ ۲۷/۰۷/۱۴۱۵ ھ جو نصیحہ کمیٹی لندن کی جانب سے صادر ہوا میں کہا:

” ونحن سنذ کرکم۔ فضیلۃ الشیخ ببعض ھذہ الفتاوی والمواقف التی قد لاتلقون لھا بالاً، مع أنھا قد تھوی بھا الأمۃ سبعین خریفاً فی الضلال”

(فضیلۃ الشیخ ہم آپ کے سامنے آپ کے بعض ایسے فتاوی اور مواقف بیان کریں گے جن کی شاید آپ کو اتنی پرواہ نہ ہو مگر درحقیقت ان کے سبب امت گمراہی کی ستر گھاٹیوں میں جاگر سکتی ہے)

🔵امام صاحب کے فتاوی خطر ناک ہیں اور شرائط پر پورے نہیں اترتے!​

پھر اپنے ایک دوسرے خطاب بتاریخ ۲۸/۰۸/۱۴۱۵ھ میں امت کو شیخ ابن باز (رحمۃ اللہ علیہ) کے فتاوی سے خبردار کرتے ہوئے کہتا ہے:

” ولذا فانناتبہ الأ مۃ الی خطورۃ مثل ھذہ الفتاوی الباطلۃ وغیر مستوفیۃ الشروط”

(اسی وجہ سے ہم امت کو ان باطل فتاوی جو شروط پر پورے نہیں اترتے کی خطرا انگیزی سے خبردار کرتے ہیں)

🔵 امام صاحب حکومتی علماء میں سے ہیں جو ظالموں کی طر فداری کرتے ہیں!

دوسری جگہ کہا:

” ان علۃ المسلمین الیوم لیست فی الضعف العسکری، ولا فی الفقر المادی وانما علتھم خیانات الحاکم وتخاذل، وتخاذل الأ نظمۃ وضعف أھل الحق واقرار علماء السطلان لھذا الوضع ورکونھم الی الذین ظلموا من حکام السؤوسلاطین الفساد”

(مسلمانوں کی موجودہ بیماری عسکری قوت کی کمی نہیں، اور نہ ہی مادی قسم پر سی ہے ، بلکہ ان کی اصل بیماری حکمرانوں کی خیانتیں، نظاموں کا خذلان اور اہل حق کی کمزوری ہے، اور حکومتی علماء کا اس صورتحال کو تسلیم کرنا اور ان برے حکمرانوں اور فسادی بادشاہوں کی طرفداری کرنا ہے)

🔵 امام صاحب کے مواقف امت اور اسلام پر عمل پیرا ہونے والوں کے لئے عظیم نقصانات کا باعث ہیں!

اور کہا:

” فقد سبق لنا فی(ھیئۃ النصیحۃ والا صلاح (أن وجھنا لکم رساۃ مفتوحۃ فی بیاننا رقم(۱۱) وذکر ناکم فیھا باللہ، وبوا جبکم الشرعی تجاہ الملۃ والأمۃ، ونھینا کم فیھا علی مجموعۃ من الفتاوی والمواقف الصادرۃ منکم والتی ألحقت بالأ مۃ والعاملین للا سلام من العلماء والدعاۃ أضراراً جسیمۃ عظیمۃ”

(کمیٹی برائے نصیحت واصلاح کی طرف سے آپ کو ایک کھلا خط ہمارے بیان رقم(۱۱) کی صورت میں موصول ہوچکا ہے جس میں ہم نے آپ کے لئے اللہ تعالیٰ کی خاطر اس ملت وامت کی جانب سے جو آپ پر واجب ہوتا ہے ذکر کیا، اور اس میں ہم نے آپ کو ان مجموعئہ فتاوی اور مواقف جو آپ سے صادر ہوئے سے روکا جو امت اور اسلام پر عمل پیدا ہونے والے علماء اور داعیان کے لئے بہت عظیم نقصان کا باعث ہیں)

🔵 امام صاحب ظالم طاغوتوں کے دوست ہیں!

اسی طرح کہا :

” فضیلۃ الشیخ لقد تقدمت بکم السن ، وقد کانت لکم أیاد بیضاء فی خدمۃ الاسلام سابقًأ ، فاتقوا اللہ وابتعدو اعن ھؤ لاء الطواغیت والظلمۃ الذین أعلنوا الحرب علی اللہ ورسولہ”

(فضیؒہ الشیخ آپ اتنے عمر رسیدہ ہو چکے ہیں اور آپ کی اس سے پہلے اسلام کے لئے روشن خدمات ہیں، پس آپ اللہ تعالیٰ سے ڈریں اور ان طاغوتوں اور ظالموں سے دور رہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (ﷺ) کے خلاف اعلان جنگ کر رکھا ہے)

🔵 ان کے فتاوی مسلمانوں کے لئے ایک بہت بڑا سانحہ ہے!

یہ بات کچھ یوں کہی کہ :

” ونحن بین یدی فتوا کم الأ خیرۃ بشأن مایسمی بھتانًا بالسلام مع الیھود والتی کانت فاجمعۃ للمسلمین حیث استجبتم للرغبۃ السیاسیۃ للنظام لما قرراظھار ماکان یضمرہ من قبل ، من الدخول ھذہ المھزلۃ الاستسلا میۃ مع الیھود فأصد رتم فتوی تبیح السلام مطلقاً ومقید ًا مع الیھود

(ہمارےسامنے آپ کا آخری فتوی موجود ہے جس کا برمبنی بہتان عنوان ہے” یہود کے ساتھ صلح” جو کہ مسلمانوں کے لئے کسی سانحے سے کم نہیں، کہ آپ نے اس نظام کے لئے سیاسی رغبت کا اظہار فرمایا جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے جو پہلے مخفی تھی، یعنی آپ نے یہود کے ساتھ مطلق اور مقید صلح کو مباح قرار دینے کا فتوی جاری فرمایا)

🔴 اسی طرح الجزیرہ کے ساتھ انٹرویو بتاریخ ۰۸/۰۴/۱۴۲۲ ھ میں اور کیسٹ بعنوان“استعدواللجھاد” (جہاد کے لئے تیار ہو جاؤ) میں کہا اور کیا ہی برا کہا :

” من زعم أن ھناک سلام دائم مع الیھود فھوقد کفر بما أنزل علی محمد صلی اللہ علیہ وسلم”

(جو یہ گمان کرتا ہے کہ کوئی صلح یہود کے ساتھ باقی ہے تو یقیناً اس نے اس چیز کا کفر کیا جو محمد(ﷺ) پر نازل ہوئی)

🔵 امام صاحب کے فتاوی لوگوں پر معاملے کو ملتبس اور مشتبہ کرنے کا سبب ہیں جسے ایک عام مسلمان تک تسلیم کرنے کو تیار نہ ہوگا!

اسامہ بن لادن نے کہا کہ : 

” ان فتوا کم ھذہ کانت تلبیسًا علی الناس لما فیھا من اجمال مخل وتعمیم مضل ، فھی لا تصلح فتوی فی حکم سلام منصف ، فضلاً عن ھذا السلام المذیف مع الیھود الذی ھوخیانۃ عظمی للاسلام والمسلمین، لایقر ھامسلم عادی فضلاً عن عالم مثلکم یفترض فیہ من الغیرۃ علی الملۃ والأمۃ”

(آپ کا یہ فتوی لوگوں پر معاملے کو متلبس کرتا ہے کیونکہ اس میں جو خلل زدہ اجمال اور گمرہ کن عمومیت ہے وہ اس فتوی کو ایک منصافانہ صلح تک کے لئے ناقابل عمل بناتی ہے چہ جائیکہ یہود کے ساتھ اس مضحکہ خیز صلح کے لئے قابل عمل ہو، یہ اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ سب سے بڑی خیانت ہے، ملت اور امت کے لئے غیرت ایک عام مسلمان تک کو اسے قبول کرنے سے روکتی ہے چہ جائیکہ آپ جیسا عالم ایسی بات کرے)

Print Friendly

About alfitan

مزید دیکھئے

حب الوطنی کے ردمیں غلو:

بسم اللہ الرحمان الرحیم الحمدللہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ وبعد! کچھ لوگ تقوی اختیار …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *