مرکزی صفحہ » مسئلہ تکفیر » طاغوت » کیا موجودہ عدالتوں کی طرف رجوع تحاکم الی الطاغوت ہے ؟ ۔ الشیخ ذکاء اللہ السندھی حفظہ اللہ

کیا موجودہ عدالتوں کی طرف رجوع تحاکم الی الطاغوت ہے ؟ ۔ الشیخ ذکاء اللہ السندھی حفظہ اللہ

image_pdfimage_print

عدالتیں اور ان کا شرعی حکمتحاکم الی الطاغوتکیا موجودہ عدالتوں کی طرف رجوع تحاکم الی الطاغوت ہے ؟ 

الشیخ ذکاء اللہ السندھی حفظہ اللہ

بعض لوگ سادہ لوح عوام کو یہ تأثر دیتے ہیں کہ جو شخص ان عدالتوں کی طرف رجوع کرتا ہے وہ طاغوت کا پجاری اور شریعت اسلامیہ سے خارج ہے (کیونکہ فیصلہ کروانا عبادت ہے جب اس نے غیر شرعی عدالت سے فیصلہ کروایا گویا اس نے اس کی عبادت کی )حالانکہ ہم اوپر واضح کر آئے ہیں کہ جب سلطہ والی (خود مختار ،اختیارات والی)شرعی عدالتیں موجود نہ ہوں تو اپنے جائز حقوق کے لئے غیر اسلامی عدالتوں سے فیصلہ کروانا نہ صرف جائز ودرست ہے بلکہ انبیاء و صالحین کا طریقہ بھی ہے (جیسا کہ سیدنا یوسف علیہ السلام اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا دربارنجاشی میں پیش ہونا ) ہاں اگر معاشرہ میں بااختیار اسلامی شرعی عدالتیں موجود ہوں اور ان کے مدمقابل غیر شرعی اور غیر اسلامی عدالتیں قائم ہوں تومحض لوٹ کھسوٹ یا اپنے حق میں ناجائز فیصلہ لینے کے لئے اسلامی بااختیار عدالت کو چھوڑ کر ایسی عدالت میں جانا حرام ہے ۔جس کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ النساءمیں کیا ہے :

﴿ أَلَمۡ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ يَزۡعُمُونَ أَنَّهُمۡ ءَامَنُواْ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيۡكَ وَمَآ أُنزِلَ مِن قَبۡلِكَ يُرِيدُونَ أَن يَتَحَاكَمُوٓاْ إِلَى ٱلطَّـٰغُوتِ وَقَدۡ أُمِرُوٓاْ أَن يَكۡفُرُواْ بِهِۦ وَيُرِيدُ ٱلشَّيۡطَـٰنُ أَن يُضِلَّهُمۡ ضَلَـٰلاَۢ بَعِيدً۬ا ﴾ 

(النساء:60)

’’ کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھاجو گمان کرتے ہیں کہ وہ اس پر ایمان لے آئے ہیں جو تیری طرف نازل کیا گیا اور جو تجھ سے پہلے نازل کیا گیا ہے چاہتے یہ ہیں کہ آپس کے فیصلے غیر اللہ کی طرف لے جائیں حالانکہ انہیں حکم دیا گیا کہ اس کا انکار کریں اور شیطان چاہتا ہے انہیں گمراہ کر دے بہت دور کا گمراہ کرنا۔‘‘

آیت کا پس منظر و شان نزول :

اس آیت میں طاغوت سے مراد کاہن یا کعب بن اشرف یہودی ہے جن سے کافر لوگ اپنے فیصلے  کرواتے تھے جیساکہ مشہور تابعی امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں ایک اسلام کے دعویدار آدمی (مسلمان ) اور یہودی کا آپس میں جھگڑاہو گیا ،یہودی نے کہا کہ میں تیرا فیصلہ تیرے دین والوں سے کرواتا ہوں یا کہا کہ تیرے نبی (محمد ﷺ) سےکرواتا ہوں کیونکہ وہ یہودی جانتا تھا کہ نبی ﷺفیصلہ وغیرہ رشوت نہیں لیتے اور برحق فیصلہ کرتےہیں اور فیصلہ کروانے میں ان دونوں کا تنازع ہوگیا پھر وہ دونوں جھینہ قبیلے کے ایک کاہن سے فیصلہ کروانے پر متفق ہو گئے تو تب یہ آیت نازل ہوئی ۔

[تفسیر طبری ،ص:926،ج:3،رقم:9918]

طاغوت سے مراد کعب بن اشرف یہودی:

مفسر قرآن سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ارشادامام مجاہد قرآن مجید کی اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں :

’’ایک منافق اور ایک یہودی میں جھگڑا ہوگیا تومنافق آدمی نے کہا توہمارے ساتھ کعب بن اشرف کے پاس چل اور یہودی نے کہا :نہیں ،تو ہمارے ساتھ نبی ﷺ کے پاس چل ، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔‘‘

[تفسیر طبری ،ص:927-928،ج:3،رقم:9923]

اس آیت کے ترجمہ و پس منظر سے یہ بات معلوم ہوئی :

  • مدینہ میں دو عدالتیں موجود تھیں ،نبی ﷺ کی اور کعب بن اشرف یہودی اور کافر کاہن کی ۔
  • منافق آدمی نے اپنے مفادات کےلئے عدالت نبوی کا انکار کر کے کافروطاغوت کاہن یا یہودی سردار سے فیصلہ کروانا چاہا اسی بناء پر اللہ تعالیٰ ان کی مذمت فرمائی۔

 اور ہر صاحب شعور دین دارآدمی جانتا ہے کہ جو شخص نبوی عدالت کاانکار کر کے کفار کے فیصلہ پر راضی و خوش ہو اس کے کفر میں کیا شک ہو سکتا ہے ۔

  • اگر معاشرے میں بااختیار اسلامی شرعی عدالت نہ ہو اور بندہ کو اپنا جائز حق لینا مطلوب
  • اور اس کے لئے وہ کسی ایسی عدالت میں جاتا ہے تو وہ قطعا آیت بالاکا مصداق نہیں ۔

اور اسی طرح بعض لوگوں کی یہ سوچ ہے :

﴿ أَفَحُكۡمَ ٱلۡجَـٰهِلِيَّةِ يَبۡغُونَ﴾ ‌ (المائدۃ:50)

اس کے تحت قانون یاسہ سے موجودہ عدالتوں کی طرف رجوع کرنے والوں کو طاغوت کے پجاری قرار دیدیتے ہیں اس لئے ضروری ہے کہ اس آیت کی تفسیر بھی سلف صالحین اور معتبر مفسرین سے بیان کردی جائے تاکہ آیت کا مدعاو منشاء کما حقہ واضح ہوجائے جہاں تک قانون یاسہ یا الیاسق کا تعلق ہے اس پر تفصیلی بحث ہم سابقہ صفحات میں کر آئے ہیں اور جہاں تک اس آیت کے منشاءومفہوم کا تعلق ہے تواس کے بارے میں امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری رحمۃاللہ (المتوفی :310ھ)رقمطراز ہیں :

’’یہ یہود جنہوں نے اپنے مقدمے میں آپ ﷺ کو حاکم بنایا اور آپ ﷺنے انکے درمیان فیصلہ کردیا پھر یہ آپ ﷺ کے فیصلے سے راضی نہیں ہوئے توکیا یہ جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں یعنی بت پرستوں اور مشرکوں کا فیصلہ چاہتے ہیں حالانکہ انکے پاس اللہ کی کتاب موجود ہے اور اس میں وہی فیصلہ مذکور ہے جو آپ ﷺ نے انکے درمیان کیا تھا اور یہی حق ہے اور اس کے خلاف کوئی اور فیصلہ کرنا جائز نہیں ہے ۔

پھر اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کو جنہوں نے اپنے اور اپنے دیگر یہودیوں کے خلاف نبیﷺ کے فیصلے کو قبول کرنے سے انکار کردیا تھا ان کو ڈانٹتے ہوئے اور جہالت عملی طالب قرار دیتے ہوئے ایسے یہودیوں سے فرمایا جوشخص اللہ کی وحدانیت کا اقرار کرتا ہو اور اس کی ربوبیت پر یقین رکھتا ہواس کے نزدیک اللہ کے حکم اور فیصلے سے بہتر اور کس کا فیصلہ ہو سکتا ہے اور (مفسرقرآن )امام مجاہد نے بھی ہماری اس تفسیر کے مطابق ہی فرمایا ہے۔‘

[تفسیر طبری ،ص:577،ج:4،تحت ھذاالآیۃ مطبوعہ دار الحدیث القاھرۃ]

امام مجاہد اور امام ابن جریر طبری رحمہما اللہ کی تفسیر سے واضح ہوگیا ہےکہ یہودنے  نبیﷺ سے فیصلہ کروایا جب وہ فیصلہ انکے مفادات کے خلاف آیا توانہوں نے انکار کر دیا جن پر اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کو ڈانٹتے ہوئے فرمایا :

﴿ أَفَحُكۡمَ ٱلۡجَـٰهِلِيَّةِ يَبۡغُونَ‌ ﴾  (المائدۃ:50)

’’کیا وہ جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں ‘‘

معلوم ہوا کہ جو آدمی کسی بااختیار شرعی عدالت سے فیصلہ لینےکے بعد اپنے اپنے مفادات کی خاطر اس شرعی فیصلہ کی خواہش رکھتا ہے ایسا آدمی یقینا جاہلیت کا دلدادہ ہے اور شریعت اسلامیہ کا باغی ہے ۔

مفادات کےلئے کرتا ہے تو ایسا شخص کافر و مرتد نہیں بلکہ فاسق ہے اور اس کے فسق کے درجات فیصلہ اور  اسباب فیصلہ کے پیش نظر مختلف ہوں گے !!

Print Friendly

About alfitan

مزید دیکھئے

آیات تحکیم کی غلط تاویل کے باعث خوارج کی گمراہی اور منہج اسلاف

آیات تحکیم کی غلط تاویل کے باعث خوارج کی گمراہی اور منہج  اسلاف ائمہ عظام …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *