مرکزی صفحہ » مسئلہ تکفیر » گناہ گار مسلم کی اصلاح یا تکفیر؟؟۔ الشیخ ابو حسین الشامی حفظہ اللہ

گناہ گار مسلم کی اصلاح یا تکفیر؟؟۔ الشیخ ابو حسین الشامی حفظہ اللہ

image_pdfimage_print

اصلاح یا تکفیر گناہ گار مسلم کی اصلاح یا تکفیر؟؟
(اسوہ رسولﷺ کی روشنی میں)

 الشیخ ابو حسین الشامی حفظہ اللہ

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ان الحمدللہ نحمدہ و نستعینہ و نستغفرہ و نعوذ باللہ من شرور انفسنا ومن سیئات اعمالنا من یھدہ اللہ فلا مضل لہ ومن یضلل فلا ھادی لہ و اشھدأن لا إلٰہ إلا اللہ و أشھد أن محمد اًعبدہ و رسولہ۔ اما بعد !

ہمارے معاشرے میں اس وقت جو بڑے بڑے فتنے ہمارے معاشروں کو نگلتے جا رہے ہیں وہ ہے کہ کسی کلمہ گو کو اس کی بدکاریوں ، گناہوں اور نافرمانیوں کی وجہ سے دائرہ اسلام سے خارج کر دینا۔یہ ایک بہت ہی خطرناک کام ہے مگر ہمارے اردگرد یہ اس طرح جاری ہے جیسے پہاڑوں سے کوئی چشمہ جاری ہو اور رکنے کا نام نہ لے رہا ہو!

کسی مسلمان کو کافر قرار دینا اتنا سنگین مسئلہ ہے کہ خود نبیﷺ نے اس سے متنبہ فرمایا ہے۔کسی شخص کو کافر قرار دینا اتنا سنگین جرم ہے کہ جس پر تنبیہ کرتے ہوئے نبی کریم ﷺ نے فرمایا :

’’ ایما امرئ قال لاخیہ کافرا فقد باء بھا احدھما ‘‘

(صحیح بخاری ، صحیح مسلم )

’’جس نے اپنے کسی مسلمان بھائی کو کافر کہا تو ان دونوں میں سے ایک کافر ہو جائے گا  یعنی اگر تو وہ واقعتا کافر کہلانے کامستحق ہوا تو فبھا ،وگرنہ ناحق فتویٰ لگانے والا شخص کافر ہو جائے گا ۔‘‘

 

تکفیر یا تطہیر و اصلاح؟

بڑے افسوس سے کہنا پڑنا ہے کہ آج ہمارے معاشرے میں کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو کتاب و سنت کے علوم میں بصیرت سے محروم اور نبوی منہج سے نا آشنا ہیں لیکن ان کی زبان پر ہمہ وقت کفر کی گردان جاری و ساری ہے کسی مسلمان میں کوئی غیر شرعی عمل دیکھا یا کسی ایسی جماعت یا ادارہ ،جس کے ذمہ داران کو وہ کافر قرار دے چکے ہیں ان سے کسی کا میل جول دیکھا تو فورا اس کو کافر یا کفار کا معاون یا انصارالطاغوت وغیرہ کے القابات دے کر اس کو دائرہ اسلام سے خارج کر دیتے ہیں یا اگر ان کے مزعومہ کفار کوکسی نے کافر قرار نہیں دیا تو اسے بھی کافر یا پھر مرجیہ وغٖیر ہ کے طعنوں سے نوازاجاتا ہے ۔

 لیکن سوچنے کی بات یہ ہے ایک شخص نے کلمہ پڑھا ہے نماز،روزہ ،کا اقرار کرتا ہے بد عملی اس کے اندر پیدا ہو گئی کبائر کا مرتکب ہو گیا ہے اس شخص کے بارے ہمارے سامنے دو پہلو ہیں:

1-               ایک یہ کہ اس کو کافر قرار دےکر ہمیشہ کیلے مسلمانوں کی صف سے نکال دیں ۔

2-               دوسرا یہ کہ اس کی اصلاح کریں ،گناہوں اورغلط روش پر اس کو احسن انداز میں تنبیہ کریں تاکہ اس کی آخرت سنور جائے۔

تو اب ہمیں کون سا پہلو اختیار کرنا چاہئے؟ اس کی تربیت و اصلاح والا یا اس کو کافر قرار دینےوالا ؟جب ہم نبوی منہج کو دیکھیں تو ہمارے سامنےتربیت و اصلاح والا پہلو ہی نمایاں نظر آتا ہے حتی کہ کسی مسلمان سے کوئی کفریہ بات یا عمل سرزد ہو گیا تب بھی آپ ﷺ نے اس کی اصلاح کی ہے اس پر فتویٰ کفر لگا کر اس کو کفار کی صف میں شامل نہیں کیا ۔بطور مثال مندرجہ ذیل واقعات پر غور کریں :

نبی کریم ﷺ غزوہ حنین سے واپس آرہے تھے راستے میں مشرکین کی ایک بیری ( کے درخت ) جسے وہ ذات انواط کہتے تھے ( اور اس کو متبر ک سمجھتے تھے ) کے پاس سے گزرے تو بعض نئے نئے(یعنی دین کے مسئلے میں لا علم) مسلمان ہونے والے صحابہ کرام نے نبی کریم ﷺ سے عرض کی :

یا رسول اللہ ﷺ اجعل لنا ذات انواط کمالھم ذات انواط

’’ ہمارے لئے بھی ایک ذات انواط ( بیری کا درخت ) مقرر کر دیجئے جس طرح ان کے پاس ایک ذات انواط ہے۔‘‘

 آپ ﷺ نے یہ بات سن کر فرمایا: تم نے مجھ سے وہی مطالبہ کیا ہے جو قوم موسی نے سیدنا موسی علیہ السلام سے کہا تھا :

 اجعل لنا الھا کما لھم الھۃ

 ’’ہمارے لیے بھی ایک معبود مقرر کر دیجئے جس طرح ان کے پاس ایک معبود ہے۔‘‘

تو موسی نے فرمایا:

 انکم قوم تجھلون

’’ تم ایک جاہل قوم ہو ۔‘‘

 (جامع الترمذی  , مسند احمد)

غور کیجئے ! اللہ رب العالمین کے مقابلہ میں نئے الہ کا مطالبہ بغاوت و شرک ہے یا نہیں ؟ لیکن نبی ﷺ نےان کی اصلاح فرمائی یا ان پر فتوی کفر داغ کر دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا؟

اسی طرح ایک مثال ملاحظ ہے اسلام میں نہ صرف زنا بلکہ زنا کے قریب جانا بھی حرام لیکن ایک نوجوان صحابی نبی ﷺ کے پاس آیا ۔ اور آکر عرض کی  مجھے زنا کی اجازت دیجئے ،

آپ ﷺنے فرمایا :

’’  کیا تو پسند کرتا ہے کہ تیری بہن کے ساتھ کو ئی بد کاری کرے ‘‘؟

اس نے کہا: نہیں !

پھر آپ ﷺ نے فرمایا:

 کیا تو پسند کرتا ہے کہ تیری بیٹی کے ساتھ کوئی منہ کالا کر ے ؟

اس نے کہا :نہیں !

پھر آپ ﷺ نے فرمایا :

کیا تو پسند کرتا ہے کہ ماں کے ساتھ کوئی حرام کاری کرے ؟

اس نے کہا :نہیں !

پھر آپ ﷺ نے فرمایا :

کیا تو پسند کرتا ہے کہ تیری خالہ کے ساتھ کوئی زنا کرے ؟

اس نے کہا :نہیں!

 آپ ﷺ نے فرمایا:

 کیا تو پسند کرتا ہے کہ تیری پھوپھی کے ساتھ کوئی بدکاری کرے ؟

اس نے کہا: نہیں !

پھر آپ ﷺ نے اس کو قریب کیا اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر یہ دعا کی:

اللھم اغفر ذنبہ و طھر قلبہ و حصن فرجہ

’’ اے اللہ اس بندے کے گناہ معاف کر دے اور اس کے دل کو پاک و صاف کر دے اور اس کی شرم گاہ کی حفاظت فرما ۔ ‘‘

صحابہ کرام بیان فرماتے ہیں اس کے بعد اس کو گلی کو چوں میں کبھی نظر اونچی کرکے چلتا ہوا نہیں دیکھا گیا۔

 (مسند احمد طبرانی ، سلسلۃ الصحیحۃ)

ان دونوں واقعات پر غور کریں ۔پہلے واقعہ میں ایک شرکیہ بات کا صدور بعض لوگوں سے ہوا لیکن نبی ﷺ نے اس کی اصلاح فرمائی، دوسری میں ایک حرام عمل کی اجازت طلب کرنے پر آپ ﷺ نے فطری انداز سے اصلاح تو فرمائی لیکن تکفیر وتفسیق کا پہلو اختیا ر نہیں کیا ۔

اللہ ان لوگوں کی اصلاح فرمائے جو اس خطرناک عمل کو ناک پر بیٹھی مکھی کو اڑا دینے سے بھی ہلکا جانتے ہیں اور مسلمانوں کی  تطہیر کی بجائےتکفیر کو سب سے اہم فریضہ گردانتے ہیں۔

وما علینا الا بلاغ المبین

 

Print Friendly

About alfitan

مزید دیکھئے

مسلمانوں پر ہتھیار اٹھانے کی مذمت

مسلمان پر ہتھیار اٹھانے کا حکم الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *