مرکزی صفحہ » گمراہ فرقے » خوارج » ہاں! خوارج کے نزدیک مسلمان عورتوں کا قتل جائز ہے۔ !!!

ہاں! خوارج کے نزدیک مسلمان عورتوں کا قتل جائز ہے۔ !!!

image_pdfimage_print

عورتوں کا قتل کسی عورت کا قتل

جنگ میں تو کسی  کافرہ  عورت کا دانستہ قتل بھی حرام ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کام سے سختی کے ساتھ منع فرمایا تھا۔

تو پھر کس شرعی قاعدہ کی بنیاد پر ، کس منہج کے تحت ٹی ٹی پی نے اپنی نام نہاد جنگ میں ایک مسلمان بچی کو دانستہ طور پر قتل کرنے جیسا قبیح عمل کیا؟؟؟

آپ بھی سوچ رہیں ہوں گے کہ کس چیز نے ان کو اس مذموم عمل پر ابھارا؟؟؟

جی ہاں!! اسکی دلیل ہے ان کے پاس۔۔ مسلمان عورتوں کو قتل کیا جا سکتا ہے۔۔اور ان کے آباو اجداد بھی اسی شرعی کلئیے کے تحت یہ کام کرتے آئے ہیں۔۔ اور وہ ہے:

اختلاف رائے!!​

حضرت عبد اﷲ بن خباب رضی اللہ عنہ اور ان کی زوجہ کا سفاکانہ قتل

امام طبری، امام ابن الاثیر اور حافظ ابن کثیر روایت کرتے ہیں :

ابن الأثير، الکامل فی التاريخ، 3 : 219۔۔۔طبری، تاريخ الأمم والملوک، 3 : 119۔۔۔ابن کثير، البداية والنهاية، 7 : 288​

’’پس خوارج نے حضرت عبد اﷲ بن خباب رضی اللہ عنہ کو چت لٹا کر ذبح کر دیا۔ آپ کا خون پانی میں بہ گیا تو وہ آپ کی زوجہ کی طرف بڑھے۔

انہوں نے خوارج سے کہا :

اُنہوں نے ان کا پیٹ چاک کر ڈالا اور (ہمدردی جتانے پر) قبیلہ طے کی تین خواتین کو بھی قتل کر ڈالا۔‘‘

اس واقعے کے بعد:

(ابن الأثير، الکامل فی التاريخ، 3 :219)​

لہذا ، یہ کوئی انہونی اور نئی حرکت ہر گز نہیں کہ جس پر حیرت کا اظہار کیا جائے۔

Print Friendly

About alfitan

مزید دیکھئے

کیا خوارج آج بھی موجود ہیں؟؟.

کیا خوارج آج بھی موجود ہیں؟

کیا خوارج آج بھی موجود ہیں؟ الحمدللہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ ! وبعد: آج …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *