مرکزی صفحہ » مسئلہ تکفیر » طاغوت » عدالتیں اور ان کا شرعی حکم ۔ الشیخ ذکاء اللہ السندھی حفظہ اللہ

عدالتیں اور ان کا شرعی حکم ۔ الشیخ ذکاء اللہ السندھی حفظہ اللہ

image_pdfimage_print

عدالتیں اور ان کا شرعی حکمعدالتیں اور ان کا شرعی حکم 

الشیخ ذکاء اللہ السندھی حفظہ اللہ

عدل وانصاف کسی بھی مہذب معاشرے کےلئے بنیادی حیثیت رکھتا ہے ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ کتاب وسنت کی بناء پر اپنے فیصلے کرنا کوئی ذوقی یا اختیاری مسئلہ نہیں کہ اس میں مسلمانوں کے لئے کوئی دوسری گنجائش  موجود ہو بلکہ یہ اسلام کا اپنے ماننے والوں سے اساسی مطالبہ ہے کہ وہ اپنے فیصلے کتاب وسنت کی بناء پرکریں قرآن مجید کی نصف درجن آیات مسلمانوں کو اس کی تلقین اور ان کی اسلامیت کو اس سے مشروط ٹھہراتی ہے ،خود ساختہ قوانین کی مزان پر فیصلے کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے ظالم ،فاسق اور کافر قرار دیا ہے ۔

غیر شریعت کے مطابق فیصلہ کرنے والے کی شرعی حیثیت ہم آیت تحکیم کے تحت کر آئے ہیں اس جگہ قابل غور بات یہ ہے کہ جبرواستبداد کے اس دور میں جبکہ صحیح اسلامی نظام کا فقدان ہے اور استعماری قوتوں کے غلبہ کی وجہ اسلامی جزئیات کے ساتھ ساتھ بہت سے غیر اسلامی قوانین بھی موجود ہیں تو کیا ایسی صورت میں ایک مسلمان کے لئے ایسی عدالتوں میں جانا اور ان سے اپنے حقوق وغیرہ کا فیصلہ لینا کیا شرعاًجائز ہے ؟

اس کا جواب ہمیں (قرآن مجید سورہ یوسف ) سید نا یوسف علیہ السلام کے قصےمیں مل جاتا ہے ،سیدنا یوسف علیہ السلام جیل سے رہائی پانے کےلئے اپنے مقدمے کا فیصلہ ایک کافروطاغوت بادشاہ سے کرواناچاہ رہے ہیں دیکھیے جب وہ نجات پانے والا شخص یوسف علیہ السلام کے پاس بادشاہ کے خواب کی تعبیر پوچھنے آیا تو یوسف علیہ السلام نے اسے صحیح تعبیر بتلائی تو بادشاہ نے کہا اسے (یوسف علیہ السلام ) کو میرے پاس لے آؤ ،یوسف علیہ السلام نے فرمایا: تو اپنے بادشاہ کے پاس لوٹ جا ،

﴿ فَسْـَٔلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ الّٰتِيْ قَطَّعْنَ اَيْدِيَهُنَّ١ؕ اِنَّ رَبِّيْ بِكَيْدِهِنَّ عَلِيْمٌ ﴾

[یوسف :50]

’’ان سے پوچھ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے تھے ۔‘‘

اس آیت کی تفسیر میں مولنا محمد عبداللہ الفلاح لکھتے ہیں ؛

’’یعنی وہی قصہ یاد دلایا جس سے حضرت یوسف علیہ السلام کا مقصد یہ تھا کہ بادشاہ کو میرے مقدمے کی تحقیق کرنی چاہیے تاکہ سب کے سامنے میرا پاک دامن اور بے قصور ہونا پوری طرح واضح ہو جائے۔‘‘

[اشرف الحواشی ص:290تحت آیت ھذا]

اس آیت کے الفاظ و مفہوم پر غور کیجیے کہ مصر میں قانون طاغٖوت کا ہے جیسا کہ اسی سورت میں ہے :

﴿ ۔۔۔۔۔مَا كَانَ لِيَاْخُذَ اَخَاهُ فِيْ دِيْنِ الْمَلِكِ ۔۔۔۔۔۰۰۷۶ ﴾   

(یوسف :76)

’’ممکن نہیں تھا کہ بادشاہ کے قانون میں وہ اپنے بھائی کو رکھ لیتا ‘‘

اور نبی یوسف علیہ السلام کو اپنی براءت مطلوب تھی جس کا وہ فیصلہ ایک طاغوت سے کروا رہے ہیں ،یہاں سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ بعض کج فکری اور روش پر گامزن لوگ جو یہ پروپیگنڈہ کرتے ہیں،’’کہ فیصلہ کروانا عبادت کے زمرے میں آتا ہے جو صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لئے خاص ہے جو کسی غیر سے فیصلہ کرواتا ہے وہ اس غیر کو اپنا الٰہ (معبود ) سمجھتا ہے اور اس کی عبادت کر رہا ہے ۔‘‘

ایسے لوگ یوسف علیہ السلام نے بارے میں کیا فیصلہ دیں گے ؟کیا معاذاللہ وہ سیدنا یوسف علیہ السلا م کو بھی مشرک اور طاغوت سے کفر نہ کرنے والا کہیں گے ۔(نعوذباللہ من ذلک )

صحابہ کرام اور دربار حبشہ :

اسی طرح اس مسئلہ کی مثال ہمیں عہد نبوی ﷺ سے بھی ملتی ہے :

نبی ﷺ نے صحابہ کرام کو حبشہ کی طرف ہجرت کر جانے کو کہا جبکہ حبشہ کا بادشاہ نجاشی (اصحمہ ) اس وقت طاغوت تھا لوگ اسے سجدہ کیا کرتے تھے وہ لوگوں سے اپنے لئے سجدہ کروایا کرتا تھا ،لیکن نبی ﷺ نے صحابہ کرام کو (ایک طاغوت کے)نجاشی کے زیر سایہ بھیج رہے ہیں رسول اللہ ﷺ کو معلوم ہوا کہ اصحمہ نجاشی شاہ حبشہ عادل بادشاہ ہے وہاں کسی پر ظلم نہیں کیا جاتا اس لئے آپ ﷺ نے صحابہ کرام کو حبشہ کی طرف ہجرت کا حکم دیا۔

[مسند احمد بتحقیق احمد شاکر ،ص: 185،ج:6وقال اسنادہ حسن ]

پھر مشرکین مکہ کا وفد اور مہاجر صحابہ کا فیصلہ نجاشی (طاغوت ) کے دربار میں پہنچتا ہے ۔

[السیر والمغازی لابن اسحٰق،ص:213،السیر النبویۃلابن ہشام،ص:413،ج:1]

اگر طاغوت کے پاس فیصلہ لے جانا علی الاطلاق شرک ہوتا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کبھی بھی نجاشی کی عدالت میں نہ جاتے !

قرآن مجید کی اس آیت اور اس حدیث سے معلوم ہوا معاشرہ میں جب شرعی عدالتیں اور نظام خلافت  وغیرہ کا فقدان ہو تو اپنا جائز حق لینے کے لئے یا ہر مجبوری یا بوقت ضرورت ان عدالتوں سے فیصلہ کروانا جائز ہے یہ ان کی عبادت وبندگی نہیں ۔موجودہ دور میں بسااوقات ایسان کو اپناجائزحق لینے کےلئے ان عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹانا ہی پڑتا ہے ۔

مثلاً: 1857؁ءکی جنگ آزادی میں انگریزوں نے مسلمانوں پر مقدمات قائم کیے جن کی چارہ جوئی کےلئے علماء اہل حدیث اور دیوبند ان عدالتوں میں فیصلہ کروانے کے لئے گئے ۔اسی طرح اگر کسی کی زمین ،مکان پر کوئی ناجائزقابض ہوجائے ،اگر وہ اپنا حق لینے کے لئے ان عدالتوں سے تعاون لیتا ہے تو وہ اس سے شیطان اور طاغوت کا پجاری نہیں بن جاتا ۔

Print Friendly

About alfitan

مزید دیکھئے

آیات تحکیم کی غلط تاویل کے باعث خوارج کی گمراہی اور منہج اسلاف

آیات تحکیم کی غلط تاویل کے باعث خوارج کی گمراہی اور منہج  اسلاف ائمہ عظام …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *