کیا تنظیم الدولۃ (داعش) خارجی گروہ ہے ۔۔؟ ھیئۃ الشام الاسلامیہ (شامی جماعتوں) کی فتوی کمیٹی

الدولہ خارجی ہے

کیا تنظیم الدولۃ (داعش) خارجی گروہ ہے ۔۔؟

ھیئۃ الشام الاسلامیہ(شامی جماعتوں) کی علماءکمیٹی کا فتوی 

سوال :

کیا تنظیم (دولۃ) کو خوارج کے ساتھ متصف کرنا درست ہے، جبکہ خوارج تو وہ تھے جو کبائر گناہو پرتکفیر کرتے تھے اور تنظیم (دولۃ) کبائر گناہوں پر تکفیر کرنےکی رائے نہیں رکھتی ہے، اور خوارج تو وہ تھے جنہوں نے مسلمانوں کے امام کے خلاف خروج کیا، اور شام یا عراق میں مسلمانوں کا کوئی امام نہیں ہے، بلکہ یہاں کے حکام تو اہل سنت کے ساتھ مخالفانہ رویہ رکھتے ہیں؟

پھر وہ کس طرح خوارج ہو سکتے ہیں جبکہ انہوں نے شریعت کو تھام رکھاہے، عراق اور شام میں جہاد کر رہے ہیں، اور شریعت کی حاکمیت کا مطالبہ کرتے ہیں؟
〰〰〰

جواب:

الحمد لله، والصلاة والسلام على رسول الله، وبعد: خوارج امتِ اسلامیہ پر ایک خطرناک اور شرانگیزگروہ ہے، اس لیے سنتِ نبویﷺ کے اندران کی مکمل صفات کو واضح طور پر بیان کیا گیا ہے؛ تاکہ یہ لوگوں پر اپنے معاملہ پر تلبیس نہ کر سکیں، اور ان صفات کا اطلاق تنظیم (دولۃ) پرشدید تر اندازسےہوتا ہے۔ شرعی نصوص میں اس کی دلیل نہیں ہے کہ خوارج کا مسلمانوں کے امام کے خلاف خروج کرنا شرط ہے، یا کبائر گناہوں پر تکفیر کرناکوئی لازم امر ہے،یہ اصول اور تعریفات جن کا ذکر اہل علم کی جانب سے خوارج کے لیے کیا گیا ہے یہ فقط ان کے قریب ترین ضوابط کو بیان کرتے ہیں، یہ (فرقہ) خوارج کی صفات کے تناظر میں علمی اعتبار سے بیان ہوئے ہیں، اور اس میں مندرجہ ذیل قابل ذکر ہیں:

اولا:

سب سے پہلا معتبرضابطہ اورقطعی بات خوارج کی تعریف کے حوالے سےجوکسی گروہ کو اس صفت سے متصف کرتی ہے، وہ شرعی نصوص میں ان گمراہ فرقوں میں سے ایک فرقے یا دیگر گروہوں سے متعلق وارد دلائل ہیں، سنتِ نبوی میں خوارج کی صفات کا تذکرہ موجود ہے، اور ایسا تفصیلی تذکرہ کسی دیگر فرقے کے بارے میں نہیں ملتا ہے،اس کی وجہ ان کاعظیم خطرہ اور امت کودھوکے میں جلد مبتلاکرنا ہے، اور ان میں سب سے اہم صفات یہ ہیں: تکفیر (ناحق) کرنا، ناحق خون کو حلال جاننا، قرآن وسنت کی نصوص سے متعلق سوء فہم رکھنا، طیش و افراط کا شکار ہونا، کم عمر اور ساتھ غرور وتکبر میں مبتلا ہونا ہے۔

ثانیا :

کثیر اہل علم نے اس بات کا ذکر کیا ہے کہ مذہبِ خوارج (کبائر کے مرتکب کی تکفیر کرنا) کی یہ صفت تمام ’خوارج‘ کے لیے جامع صفت نہیں ہے، نہ ہی یہ خروج کرنے کی واحد شرط ہے، بلکہ خوارج کے اندر وہ تمام شامل ہیں جو مسلمانوں کی ناحق تکفیر کرتے ہیں اور انکےخون کو حلال کرتے ہیں اگرچہ وہ کبائر کے مرتکب کے کفر کا عقیدہ نہ بھی رکھتے ہوں۔

اس لیے نبی ﷺ نے ان کی صفت کے متعلق آگاہی دی کہ (یہ اہل اسلام کو قتل کرتے ہیں)، اور اہل علم نے اس بات کا تذکرہ کیا ہے کہ ان کے مسلمانوں کو قتل کرنے کا سبب: اپنے مخالفین پر کفر اور ارتداد کا حکم ہے۔

?قرطبیؒ [المفھم] میں کہتے ہیں:

’’پس یہ اس لیے کہ جب یہ ان پر کفر کا حکم لگاتے ہیں جو مسلمانوں میں سے ان کے خلاف خروج کرتا ہے، تو یہ ان کے خون کو حلال جانتے ہیں ‘‘

?ابن تیمیہؒ [الفتاوی] میں کہتے ہیں:

’’خوارج اپنے دین کو واجب التعظیم اور بلندتر سمجھتے ہیں: جماعت المسلمین میں سے نکل جاتےہیں، اور انکے خون اور اموال کا حلال کر لیتے ہیں ‘‘ اور فرمایا:

’’یہ اہل قبلہ کے خون کو حلال اس اعتقاد کے ساتھ کرتےہیں کہ یہ مرتدین ہیں اور یہ (اصلی) کفار( جو مرتدین نہیں ہیں )کے مقابلے میں اِن (اہل قبلہ) کے خون کو زیادہ حلال جانتے ہیں ‘‘ ابن عبدالبر [الاستذکار] میں کہتے ہیں:

’’یہ وہ قوم ہے جوکتاب اللہ سے تاویل کی بنیاد پر چیزوں کو حلال کرتی ہے: مسلمانوں کے خون کو حلال جانتی ہے، ان کی گناہوں پر تکفیر کرتی، اور ان کے خلاف ہتھیار اٹھاتی ہے ‘‘ وہ خوارج جو امیر المومنین سیدنا علیؓ بن ابی طالب اور دیگر صحابہ ؓ کے خلاف نکلے وہ ان لوگوں میں سے نہ تھے ،جو کبائر گناہوں مثلاً زنا، چوری، شراب نوشی پر تکفیر کرنے کا عقیدہ رکھتے تھے، بلکہ انہوں نے صحابہؓ کی تکفیر تحکیم کے مسئلہ پر کی تھی، اور ان (صحابہؓ)کے ساتھ کوئی اصلاً گناہ کی بنیادپرتکفیرنہ تھی، پس انہوں نے سیدنا علیؓ اورسیدنا معاویہؓ اور اس (صلح) میں تحکیم کرنے والوں اور اس تحکیم پر راضی ہونے والوں کی تکفیر کی، ان کے خون کا حلال کیا،پھر اس کے بعد صحابہ ؓ نے ان کے اوپر خوارج ہونے کا حکم لگایا ، جن کے متعلق انہوں نے نبی اکرم ﷺسے ان کے افعال کے متعلق خبر سن رکھی تھی، پھر اس کے بعد صحابہؓ نے ان کے باقی مذہبی عقائد سے متعلق اِن خوارج سے استفسار نہیں کیا کہ آیا وہ (کبائر) گناہوں پر تکفیر کرتے ہیں کہ نہیں!

بلکہ [النجدات]جو بالاتفاق تمام اہل علم کے نزدیک خوارج کےبڑوں میں سے ہیں، وہ کبیرہ گناہوں کے مرتکب کی تکفیر نہیں کرتے تھے،

ابو الحسن الاشعری [مقالات الاسلامیین] میں کہتے ہیں:

خوارج کے عقیدے سے متعلق یہ واضح ہے

’’یہ خوارج (کےدیگر گروہ) سوائے النجدات کےاس بات پر جمع ہوئے کہ تمام کبیرہ گناہوں کا مرتکب کفر پر ہے، جبکہ النجدات یہ رائے نہیں رکھتے تھے ‘‘ خوارج کے عقیدے سے متصف جامع صفت ’’ ناحق مسلمانوں کی تکفیر اور انکے خون کو جائز کرنا ہے‘‘،

اور اس تکفیر (ناحق)کرنے کی بہت ساری صورتیں ہو سکتی ہیں:

جیسا کہ کبائر گناہ کے مرتکب کی تکفیر یا مطلقاً کسی گناہ کی بنیاد پر تکفیر،یاایسے گناہ پر تکفیر جو اصلاً گناہ ہی نہیں ہے، یا ظن اور شبہات پر تکفیر یا امورِ احتمال (امکانات) ہونے کی بنیاد پر تکفیر یا ایسے امور پر تکفیر جن میں اختلافِ رائے اور اجتہاد جائز ہوتا ہے، یا شروط(تکفیر) کی تحقیق کے بغیر تکفیر اور موانع (تکفیر) میں کوتاہی کی بنیاد پر تکفیر قابلِ ذکر ہیں۔ جب علماء اُن پر خوارج ہونے کا حکم لگاتے ہیں جو کہ کبائر گناہوں کے مرتکب کی تکفیر کرتے ہیں،تو پھر اس شخص یا گروہ کا کیا معاملہ ہو گا جو صغائر پر تکفیر کرے اور اجتہادی امور کی بنیاد پر تکفیر کرے یا ان چیزوں پر تکفیر کرے جو جائز ہیں جیسا کہ مثلاً کفار کے ساتھ بیٹھنا یا ان سے پیغام رسانی کرنا۔

ثالثا :

اس لیے شرعی نصوص میں یہ شرط نہیں ہے کہ (مسلم امام کے خلاف خروج) خوارج کی جامع صفت ہے، بلکہ وہ تمام جو یہ عقائد رکھتے ہیں اور انکے منہج پر ہیں وہ سب کے سب خوارج ہیں، چاہے وہ امام کے خلاف خروج کریں یانہ کریں، اور (ائمہ کے خلاف خروج) خوارج کے نزدیک ناحق تکفیر اور مسلمانوں کے خون کو حلال جاننے کے نتیجہ کے طور پر ہوتا ہے، پس اگر خوارج کو امام مل جائے تو وہ اس کے خلاف خروج کرتے ہیں اور انکے خون اور اموال کو حلال جانتےہیں، اور اگر امام میسر نہ ہو تو وہ عامۃ المسلمین اوراولیٰ نیک سیرت مجاہدین اور علماء اور داعیان کے خلاف خروج کرتے ہیں۔

ان کو ’’خوارج‘‘ کی اصطلاح سے اس لیے پکارا جاتا ہے کیونکہ یہ احکامِ دین سے خروج کرتے اور جماعت المسلمین سے علیحدگی اختیار کر تے ہیں جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: [آخری زمانے میں ایک قوم پیدا ہو گی جو کم سِن ہوں گےاور وہ بے وقوف کم عقل ہوں گے، وہ اپنے بیان کے اعتبار سےبہترین کلام پیش کریں گے، وہ قرآن مجید پڑھیں گے لیکن یہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، یہ دین سے ایسے نکلے ہوں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے، اگر تمہارا ان سے سامنا ہو جائے تو ان سے قتال کرو، کیونکہ ان کو قتل کرنے پراللہ کے ہاں قیامت کے دن اجر دیا جائے گا]

اور جب لوگوں نے تاتاریوں کے حکم سے متعلق اختلاف کیا تو ابن تیمیہؒ نے انہیں خوارج کی اقسام میں سے قرار دیا حالانکہ انہوں نے امام کے خلاف خروج نہیں کیا تھا۔

?حافظ ابن کثیر [البداية والنهاية] میں کہتے ہیں:

’’ لوگوں نے تاتاریوں سے متعلق قتال کی نوعیت سے متعلق کلام کیا کہ ان کو کس ضمرے میں رکھا جائے، کیونکہ یہ اسلام کا اظہار کرتے ہیں، اور انہوں نے امام کے خلاف خروج بھی نہیں کیا ہے،کیونکہ یہ تاتاری تواس وقت امام کی اطاعت میں ہی نہ تھے یا پھر اس کے بعدامام کی مخالفت کی ہو!‘‘

? شیخ تقی الدین (ابن تیمیہؒ) کہتے ہیں:

’’ یہ تاتاری خوارج کی اُن اقسام میں سے ہیں ،جنہوں نے سیدنا علی اور سیدنا معاویہؓ کے خلاف خروج کیا تھا، میں دیکھتا ہوں یہ اس حکم(خوارج) کے زیادہ مستحق ہیں، یہ لوگ اس بات کا زعم رکھتے ہیں کہ یہ مسلمانوں میں سے سب سے زیادہ اس بات کے حقدار ہیں کہ وہ اقامتِ حق کریں‘‘ اگر خوارج اپنی ریاست بھی قائم کر لیں، تو بھی یہ ان کی صفتِ خروج(عامۃالمسلمین اور خیار امت کے خلاف خروج) کو ختم نہیں کرتی، خوارج نے تو کئی بار تاریخ کے مختلف ادوار میں ریاستوں اور امارات کو قائم کیا ہے، بلکہ ان میں تو وہ فرقے بھی موجود رہے ہیں جنہوں نے خلافت کی دعوت دی، ان سب (ریاست، خلافت اور امارات کو موجودگی)کے باوجود ان کی صفتِ خروج (ائمہ یا عامۃ الناس یا خیار امت) پر واپس نہ لی گئی اور نہ ہی انہیں اس وقت تک خوارج کے حکم سے رخصت ملی جب تک کہ وہ اہل اسلام کی(ناحق) تکفیر کرتے رہے اور ان کے خون کو حلال جانتے رہے۔

رابعا :

اطاعت میں جاں فشانی کی دعوت اور نفس کی قربانی، شریعت کی تطبیق کی دعوت یا طواغیت سے قتال، اس بات کو لازم نہیں کرتے کہ اس فکری انحراف( مذہب ِخوارج) سے سلامتی مل چکی ہے، بلکہ یہ مذکورہ بالا اقوال تو خوارج کی طویل ترین تاریخ سے ایک معلوم بات ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے خوارج کی عبادات کے اندر جاں فشانی سے متعلق ہمیں خبر دی یہاں تک کہ ہمیں خود دھوکہ ہونے کا شائبہ ہوا، انہوں نے فرمایا:

’’ تم میں سے ہر ایک ان کی نمازوں کے مقابلے میں اپنی نمازوں کو حقیر جانے گا اور انکےروزوں کے مقابلہ میں اپنے روزوں کو حقیر جانے گا ‘‘ (متفق علیہ)

 

? حافظ ابن حجرؒ کہتے ہیں:

’’ ان کو [قراء، پڑھنے والے] اس لیے کہا جاتا تھا کہ وہ اپنی تلاوت اور عبادات میں بہت ریاضت کرتے تھے حالانکہ وہ قرآن مجید(احکاماتِ شریعہ) کی تاویل کر کے وہ باطل بات مراد لیتے تھے، جو اس میں مذکور نہ ہوتی تھی، اپنی مستبدانہ (جابرانہ، متشدد) رائے کو اختیار کرتے تھے، زہدو خشوع میں جزویات کا حد سے زیادہ خیال رکھنے والے تھے اور اسی طرح کے دیگر امورِ شریعہ میں یہ رویہ اپناتے تھے ‘‘

 

? السندی[ حاشيته على سنن النسائي ] میں کہتے ہیں:

’’ہر وہ جو خیارِ امت(امت کے نیک ترین لوگ) کے بعض ظاہری اقوال پر کلام کرتا ہے ، مثلاً إن الحكم إلا لله (حکم تو صرف اللہ ہی کا ہے)، اُن (اقوال کی)کی نقل کرے، اوراُس کو کتاب اللہ کی طرف دعوت سے منسوب کرے‘‘ خوارج کے بڑے عہدِ علیؓ بن ابی طالب کے دور میں جمع ہوئے، اور قرآن کو حکم بنانے کا عہد لیا، حق کو طلب کرنے کی بات کی اور ظلم سے انکار کیا، ظالموں سے جہاد کرنے اور دنیا سے بےرغبتی پر یکجا ہوئے، نیکی کی دعوت اور برائی سےبچنے کی نصیحت کی، پھر اس کے بعد صحابہؓ کے خلاف قتال پر نکل کھڑے ہوئے۔

 

خامسا :

بلاشبہ تنظیم (الدولۃ) سے متعدد(شرعی) خلاف ورزیاں سرزد ہوئی ہیں، یہ ان کے اقوال سے بھی نشر ہو کر ہم تک پہنچی ہیں اور ان کے متواتر افعال بھی اس پر گواہ ہیں، جو ہم سے اس بات کا تقاضہ کرتے ہیں کہ ہم ان کے اوپریہ حکم لگائیں کہ یہ خوارج ہیں اور منہج نبوت سے انحراف پر ہیں، اور وہ وجوہات درجہ ذیل ہیں:

1- مسلمانوں کے ملکوں پر اِن کا یہ حکم لگانا کہ یہ کفر اور ارتداد کے ممالک ہیں، اور مسلمانوں کے اوپراپنی (تنظیم) کے اختیار اور اثرورسوخ والے علاقوں پر ہجرت کو واجب قرار دینا۔

2- جو ان کی مخالفت کرے ان پر کفر اور ارتداد کا حکم لگانا، ان کو صحوات(مرتدین) سے متصف کرنا، ان پر خیانت کرنے اور کفار کے آلہ کار ہونے الزام لگانا، صرف شبہ اور جو چیزاصلاً کفر نہیں ، کی بنیاد پرتکفیر کرنا ، جیسا کہ حکومتوں اورباقی نظم کے ساتھ تعامل کرنا اور ان کے مسوؤلین سے ملاقات کرنا۔

 

3- ان (دولۃ)کے منہج کی مخالفت کرنے والوں سے قتال کو حلال جاننا یا اپنی فرضی دولت (ریاست یا خلافت) کی بنیاد پر (غیر جانبدار شرعی عدالتوں میں)تسلیم ہونے سے انکار کرنا، مسلمانوں کے ساتھ جبر، غدر،قید،قتل، تعذیب والے معاملات کرنا اور مجاہدین کے مراکز پر دھماکہ خیر گاڑیاں بھیجنا، شامی انقلاب کے قائد مجاہدین، داعیان، اعلامی شہسواروں کو قتل کرنا،ان لوگوں کے خلاف جو عراق وشام میں ان کےنظم کے تابع نہ ہوں انکے خلاف عملی طور پر برسرپیکار ہونا، ان مسلمانوں کو قتل کرنا جن کو دشمن بھی قتل نہ کر سکا، ان سب جملۂ معاملات سے ان پر رسولﷺ کا یہ قول صادق آتا ہے: ’’یہ اہل اسلام کو قتل کریں گے اور مشرکین کو چھوڑ دیں گے‘‘ (متفق علیہ)

4- مسلمانوں کے مال کو اس حجت سے حلال کر کے لوٹنا کہ وہ منحرف جماعتوں سے لڑ رہے ہیں، بغیر حق کے ان کی ملکیت کو ضبط کرنا، عوامی وسائل مثلاً تیل کے کنوؤں وغیرہ سے حاصل ہونے والی آمدن سے متعلق اجارہ داری سے کام لینا، اور ان میں متمکن حاکم کی طرز پر اصراف سے کام لینا شامل ہے۔

5- امت مسلمہ  کے خلاف خروج کرنا، اور حق(اسلام) کو اپنے منہج میں محصور کر لینا، ان تمام پر جو اِن کی فکر اور منصوبےسے اختلاف کرے، اس پر دین کے دشمنوں کا حکم لگا دینا، اور آخر میں ان سب کو(نام نہاد خودساختہ) ’خلافت‘ کی دعوت دینا، اور تمام مسلمانوں پر اپنی بیعت کو لازم کرنا ہے۔

6- ان کے پاس کوئی بھی معروف علماء نہیں ہیں جو مسلمانوں کے نزدیک مشہور ہوں،

جس طرح ابن عباس ؓ نے انکے جدِ امجدخوارج سے کہا تھا:

’’ میں تمہارے پاس مہاجرین اور انصار صحابہؓ کی جانب سے آیا ہوں۔۔۔ان کے دور میں قرآن نازل ہوا، تمہاری جماعت میں ان میں سےکوئی بھی نہیں ہے‘‘ ان کی غالب اکثریت ان کم سِن افراد کی ہے جن پربےقراری ، عجلت پسندی،جوش کا غلبہ ہے اور ساتھ یہ قلتِ نظر اور فہم وادراک سے بھی عاری ہیں، تنگ نظر ہیں اور بصیرت سے محروم ہیں، یہ بالکل ایسےہی ہیں جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: (کمِ سن وکم عقل بےوقوف)

7-  یہ سب محرکات انہیں غرور اور مسلمانوں کے معاملہ میں تکبر کی طرف لے گئے ہیں، یہ اپنے بارے میں گمان رکھتے ہیں کہ یہ ہی فقط مجاہدین فی سبیل اللہ ہیں، اور یہی جہاد میں اللہ کی سنت سے متعلق اصل علم والے ہیں،پس اسی سبب یہ اپنے اعمال اور خودکو آگے بڑھانے سے کثرت سے فخر کرنے لگے ہیں۔

یہی وہ غرور ہے جو انہیں اہل علم اور اہل حکمت کے خلاف لے کر گیا ہے، انہوں نے انکےکلام کو چھوڑ دیا ہے، اپنے اوپر علم اور فہم کا تمام دعوی کر دیا ہے، ان تمام بڑے حادثات کا سامنا ان کی ناتجربہ کاری اور عدم غوروفکر کی وجہ سے اہلِ شام کو کرنا پڑا ہے، اپنے اور دیگر جماعتوں کے مابین غیرجانبدار تحکیم کا انکارکیا ہے۔

 اسطرح انہوں نے غاصب نظام(بشار الاسد) کی نصرت مجاہدین کے خلاف قتال اور حصار سے کی، ظالم نظام کے سامنے مجاہدین میں توڑ پھوڑ ڈالنے پر مسرت کا اظہار کیا، ان کے مراکز پر قبضہ کیا، حتی کہ یہ اب بھی بعید از قیاس بات نہ رہی ہے کہ ان کی صفوں میں اسلام دشمن عناصر اور بعض ملکوں کے خفیہ اداروں نے بھی ان کے اندر ڈیرہ جما لیا ہے، اس کے ذریعے یہ مجاہدینِ شام پر ضرب لگاتے ہیں اور ان اعمال(بد) کو سرانجام دیتے ہیں جس پر دشمن براہ راست جنگ کے سبب بھی عاجز آ چکا تھا۔ تنظیم (الدولۃ) میں وہ شر جمع ہوا جو اس سے قبل کسی بھی خوارج کے گروہ میں جمع نہ ہوا تھا، جس میں باطل پر اکٹھا ہونا، حق سے منع کرنا اور غیرجانبدار تحکیم کا انکار رکرنا، جھوٹ، غدر، خیانت، عہدتوڑنا، اسلام دشمنوں کی (اپنے اعمال کی وجہ سے) مدد کرنا، حتی کہ یہ مسلمانوں اور مجاہدین پر نصیری نظام کے مقابلہ میں سب سے بڑھ کر خطرہ بن گئے ہیں اور اولین خوارج سے شر،بدبختی اور انحراف میں سبقت لے گئے ہیں۔

?? ہم تنظیم (الدولۃ) پر یہ حکم لگاتے ہیں کہ یہ خوارج ہیں، یہ بات اس چیز کو لازم نہیں کرتی کہ ہم تمام افراد پر جو اس جماعت میں موجود ہیں ان پر (معین) حکم لگائیں؛ اگران کے اندر ایسےافراد موجود ہیں جو ان کے اقوال و احوال یا ان کے دھوکہ سے لاعلم ہیں، تو بھی یہ حکم(خوارج) کا اطلاق جماعت پر ہے، جس کی ضرورت فقط ان سے ساتھ تعامل کرنے کے مقصد سے بیان ہو رہی ہے، ہمارے اوپر واجب ہے کہ ہم ان کے شر کودور کریں اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ ان کے گمراہوں کو ہدایت دیں، انکے ظالمین کوبکھیر دیں، اور مسلمانوں کے اوپر ان کے شر کے لیے کافی ہو جائیں۔(آمین)

والحمد لله رب العالمين

مصدر: http://islamicsham.org/fatawa/1945