مرکزی صفحہ » کتب و فتاویٰ » آن لائن فتاویٰ » داعش کی حقیقت عالم عرب کے معروف عالم دین محدث مدینہ شیخ عبد المحسن العباد حفظہ اللہ کا فتوی

داعش کی حقیقت عالم عرب کے معروف عالم دین محدث مدینہ شیخ عبد المحسن العباد حفظہ اللہ کا فتوی

image_pdfimage_print

داعش کی حقیقتداعش کی خلافتداعش کی حقیقت

عالم عرب کے معروف عالم دین محدث مدینہ

شیخ عبد المحسن العباد حفظہ اللہ کا فتوی

کچھ سالوں قبل عراق میں ایک فرقہ نے جنم لیا جس نے شام وعراق میں اپنے آپ کو اسلامی حکومت سے متعارف کرایا.اور اس فرقے کی شہرت چار حروف والے کلمہ”داعش”سے ہوئی.اور یہ چاروں حروف چار ممالک کی طرف نشاندہی کرتے ہیں.جس کی زعامت اور سرداری کے پیچہے یہ لوگ لگے ہوئے ہیں.ان عاشقان ملک وخلافت میں سے کوئی ابو فلان الفلانی ہے تو کوئی ابو فلان ابن فلان ،کوئی اپنے شہر تو کوئی اپنے قبیلہ کی طرف منسوب ہے جیسا کہ بد باطن اور مجہولین عام طور سے کیا کرتے ہیں.

سوریا کی موجودہ جنگ کے ایک مدت گزرنے کے بعد اس فرقہ کے بہت سارے لوگ حکومت سے عدم جنگ کے نام پر شام میں داخل ہوئے.مگر ان لوگوں نے حکومت کے برسر پیکار سنیوں کا کہلم کہلا خون بہایا.ان کی ایسی خونریزی کی،اور چاکو سے ایسے ذبح کیا جس سے سن کر روح کانپ جاتی ہے.ابھی شروع رمضان میں اس باطل فرقے نے اپنا نام تبدیل کرکے”الخلافہ الاسلامیہ”رکہہ لیا.اور اس فرقہ کے خلیفہ جس کو ابوبکر البغدادی کہا جاتا ہے “موصل” کی ایک مسجد میں خطبہ دیتے ہوئے کہا:

“میں تمہارا والی متعین کیا گیا ہوں،حالانکہ میں تم سے بہتر نہیں ہوں”.

سچ ہے وہ محکوم سے بہتر نہیں ہے.اس لیے کہ اگر اس کے حکم اور اس کے ایما پر یہ قتل وخون اور انسانوں کو بیل بکریوں کی طرح ذبح کیا ہے جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی.تو یقینا یہ اس کا بد ترین فعل ہے.

اور پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

“جو کسی کو راہ راست کی طرف بلاتا ہے تو اس کو اتنا ہی ثواب ملتا ہے جتنا اس پر چلنے والے کو اور ان میں سے کسی کے ثواب میں کمی بہی نہیں ہوتی.اسی طرح جو کسی کو راہ بد کی طرف بلاتا ہے تو اس کو اس پر چلنے والے کے برابر گناہ ملتا ہے.اور کسی کے گناہ میں کوئی کمی بہی نہیں ہوتی” (مسلم)

اور مذکورہ جملہ جس کو بغدادی نے اپنے خطبہ کے دوران دہرایا ہے یہ وہ تاریخی جملہ ہے جس کو سب سے قبل حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ جو کہ اس امت کے سب سے پہلے خلیفہ تہے انہوں نے اپنی خاکساری اور تواضع کی بنیاد پر کہا تہا.جب کہ صحابہ کرام کو دلیل وبرہان اور وہ عینی شہادت کی بنیاد پر معلوم تہا کہ اس امت کا سب سے بہتر اور برتر انسان حضرت ابوبکر(رضی اللہ عنہ)ہیں.اور اس فرقہ اور اس کے مزعوم خلیفہ کی بہتری اسی میں ہے کہ وہ اپنا اور اپنے اعمال کا جائزہ لے.راہ راست کی طرف پلٹے قبل اس کے کہ وہ دیگر جماعتوں اور فرقوں کی طرح راکہہ کی طرح ہوا کے دوش پر منتشر ہوجائے اور اس کا نام ونشان مٹادیا جائے.

افسوس کی بات ہے کہ اس مزعوم خلافت کے فتنے نے بلاد حرمین کے بعض نونہانوں کو بھی متاثر کیا ہے.ان کی خوشی ایسے ہی ہے جیسے کہ کوئی پیاسا ریتیلی زمین کو دیکھ کر پانی کے دھوکہ میں پڑجاتا ہے.اور بعض نے تو اس مجہول خلیفہ کی بیعت کی بہی بات کی ہے،بہلا بتلائیے جس نے عام مسلمانوں کی تکفیر،ان کے بدترین قتل کا ارتکاب کیا،کیا اس سے کسی خیر کی امید کی جاسکتی ہے؟

ایسے تمام نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ ہر مداری اور گہڑیال کے آنسو بہانے والے کے پیچھے بھاگنے سے بچیں.اور اپنے ہر معاملات میں کتاب وسنت اور سلف صالحین کی طرف رجوع کریں.جو ہر خیر کا چشمہ اور کامیابی کا ضامن ہے.

عربی میں اصل متن ملاحظہ کرنے کے لیےیہاں تشریف لائیں :
http://www.al-abbaad.com/index.php/articles/125-1435-09-28

Print Friendly

About alfitan

مزید دیکھئے

داعش سے دعوتِ محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ کا اعلان براءت

​  داعش سے  منہج نبویﷺ کا اعلان براءت الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *