مرکزی صفحہ » اسلام اور حکمران » پاکستان کا آئین غیراسلامی ہے یا پھر خود خوارج کا اپنا ایجنڈا؟

پاکستان کا آئین غیراسلامی ہے یا پھر خود خوارج کا اپنا ایجنڈا؟

image_pdfimage_print
pakstan ka AUin

پاکستان کا آئین غیراسلامی ہے یا پھر خود خوارج کا اپنا ایجنڈا؟

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کہتی ہے کہ  طالبان مذاکرات کے خواہشمند ہیں لیکن پاکستان کے آئین کے تحت ہم کبھی مذاکرات نہیں کرینگے کیونکہ پاکستانی آئین سیکولر ہے۔

یاد رہے!

طالبان پاکستان دشمن ایجنڈے کی تکمیل میں مگن ہیں حکومت نے صدقِ دل سے انہیں مذاکرات کی پیشکش کی تھی لیکن وہ اب حیل و حجت سے مذاکرات سے فرار کا راستہ تلاش کر رہے ہیں۔

سب پر یہ بات واضح ہونی چاہیئے کہ اسلامی مملکت پاکستان کا آئین، عین اسلامی ہے۔

قرارداد مقاصد کی شکل میں موجود آئین کی دفعہ 2 الف کے مطابق پاکستان میں کوئی بھی قانون قرآن و سُنت کے منافی نہیں بن سکتا ۔

آئینِ پاکستان کے آرٹیکل۲کی رُو سے اسلام، اسلامی جمہوریہ پاکستان کا ریاستی مذہب ہے۔

آرٹیکل ۲۲۷ کے مطابق پاکستان میں کوئی ایسا قانون نہیں بنایا جاسکتا جو قرآن و سنت سے مطابقت نہ رکھتا ہو۔ یہ آرٹیکل یہ بھی کہتا ہے کہ اگر موجودہ قوانین قرآن و سنت سے مطابقت نہیں رکھتے تو اُنہیں قرآن و سنت کے مطابق ڈھالا جائے گا اور مطابقت پیدا کی جائے گی۔

آرٹیکل۴۱ کے مطابق صدر کے لیے مسلمان ہونے کی شرط ہے، پھر قراردادِ مقاصد جسے اب آئین کے قابلِ تنفیذ آرٹیکل (۲؍اے) کا درجہ حاصل ہے،بے حد وضاحت سے اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کا اعلان کرتی ہے۔

یہ سب باتیں معروف ہیں، البتہ آئین میں صدرِ پاکستان کے عہدے کے لیے جو حلف کی عبارت دی گئی ہے، اُس کا تذکرہ کم کم ہوتا ہے۔ اس عبارت میں جہاں حلف لینے والے صدر کو توحید ِباری تعالیٰ اور قرآنِ مجید کو آخری الہامی کتاب اور حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی ختمِ نبوت اور یومِ آخرت پر ایمان کا اقرار کرنا پڑتا ہے، وہاں قرآنِ مجید کے ’تمام تقاضوں اور تعلیمات‘ پر عمل پیرا ہونے کا بھی حلف اٹھانا پڑتا ہے۔ ’تمام تقاضے اور تعلیمات‘ کے اندر سب کچھ آجاتا ہے۔ مختصراً یہ ہے کہ آئینِ پاکستان کی رُو سے بھی قرآن و سنت کو  بالادستی حاصل ہے۔۔۔

اسکے برعکس اگر ہم  منصفانہ جائزہ لیں تو طالبان کا اپنا آئین و ایجنڈا صریحا قرآن و سُنت سے متصادم ہے۔ فرمان رسول اور احکامات الہیہ کے مطابق عام مسلمان شہریوں کی جان و مال کے ساتھ ساتھ اقلیتوں کا تحفظ ضروری ہے لیکن شاہد اللہ شاہد (جو کہ بعد میں داعش میں شامل ہو گیا تھا ) نے اپنے ایک  بیان میں کہا ہے کہ پشاور چرچ پر حملہ درست تھا۔ کیا اقلیتوں پر حملوں کی حمایت کرنیوالے کا طالبان کا ایجنڈا قرآن و سُنت سے مطابقت رکھتا ہے؟

جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : 

عن عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال من قتل معاہدا لم یرح رائحۃ الجنۃ وان ریحہا توجد من مسیرۃ اربعین عاما۔

حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا: جوشخص معاہدہ والے کسی غیر مسلم کو قتل کرے تو وہ جنت کی خوشبو نہیں سونگھے گا، حالانکہ اسکی خوشبوچالیس سال کی مسافت سے سونگھی جاتی ہے۔

﴿صحیح بخاری شریف، کتاب الجزیۃ،باب اثم من قتل معاہدا بغیر جرم، حدیث نمبر2930﴾

تحریک طالبان پوری دنیا کے سامنے اسلام کے چہرے کو مسخ کر کے پیش کرنے پر گامزن ہے۔ لہٰذا  ان خوارج صفت لوگوں سے  نرمی  محض وقت اور مال و جان کے ضیاع کے لئے ان کو مزید مہلت دینے کے مترادف ہے۔ اللہ ہمیں ان کے شر سے بچائے امین ۔ 

 

Print Friendly

About alfitan

مزید دیکھئے

حب الوطنی کے ردمیں غلو:

بسم اللہ الرحمان الرحیم الحمدللہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ وبعد! کچھ لوگ تقوی اختیار …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *