مرکزی صفحہ » گمراہ فرقے » خوارج » داعش توکفار سے بھی لڑتی ہے، پھر خارجی کیسے؟ ۔ ایک شبہ کا ازالہ

داعش توکفار سے بھی لڑتی ہے، پھر خارجی کیسے؟ ۔ ایک شبہ کا ازالہ

image_pdfimage_print
photo721249554916288884

 ایک شبہ کا ازالہ :

داعش اور دیگر خوارج توکفار سے بھی  لڑتے ہیں، پھر خارجی کیسے؟

 فضیلۃ الشیخ عبدالعزیز نعیم حفظہ اللہ

          اکثر  خوارج کے حامی لوگ یہ کہتےہیں :  کہ یہ داعش ، القاعدہ اور دیگر خوارج تو کفار سے بھی لڑتے ہیں تو ان پہ یہ حدیث کیسے فٹ ہو سکتی ہے کہ “خوارج بت پرستوں کو چھوڑیں گے اور مسلمانوں کو قتل کریں گے” اور انہوں نے کفار سے کئی علاقے فتح کرکے اپنی حکومت قائم کی ہے تو پھر یہ خوارج کیسےہیں؟

اس شبہ کا ازالہ:

اس شبہ کی بنیاد نبی کریمﷺ کے مذکورہ فرمان کو صحیح طور پر نہ سمجھنے پر ہے۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ خوارج غیر مسلموں سے قتال کو آخر پر رکھتے ہیں۔ حالانکہ یہ بات شرعی طور پر درست ہے، نہ واقعاتی طور پر۔

شرعی اعتبار سے  اس طرح  کہ حدیث کا مطلب یہ ہےکہ جب قتال کا رخ کفار کی طرف ہونا چاہیے تو وہ اپنا رخ صرف مسلمانوں کی طرف کیے رکھتے ہیں۔ کیونکہ مستحق سے رُخ پھیر کر غیر مستحق کی طرف جانا اس موقع پر ان سے قتال ترک کرنے کے مترادف ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قوم لوط کے بارے میں فرمایا ہے:

‹اَتَاْتُوْنَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعٰلَمِيْنَ ۝ وَتَذَرُوْنَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ۝۰ۭ›

کیا تم اہل عالم میں سے مردوں کے پاس جاتے ہو؟ اور تمہارے پروردگار نے تمہارے لئے جو بیویاں پیدا کی ہیں، انہیں چھوڑ دیتے ہو؟ [الشعراء: 166 – 165]

یہاں یہ بات خودبخود سمجھ میں آتی ہے کہ انہوں نے اپنی بیویوں سے تعلقات بالکل ختم نہیں کیے تھے کیونکہ اگر ایسا کرتے تو ان کی نسل آگے نہ بڑھتی۔ لیکن چونکہ وہ لوگ اپنی شہوت کو پورا کرنے کےلیے اپنی بیویوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس جاتے تھے تو اس اعتبار سے گویا وہ اپنی بیویوں کو چھوڑنے والے تھے۔

یا جس طرح شادی شدہ زانی سے کہا جاتا ہے کہ کیا تم اللہ تعالیٰ کے حلال کردہ ذریعہ کو چھوڑ کر حرام کو اپناتے ہو؟

تو جس وقت وہ  حلال کو چھوڑ کر حرام کام کرتا ہے تو اس وقت اسے حلال کو چھوڑنے والا کہا جاتا ہے حالانکہ وہ حلال کو بالکل ہی ترک نہیں کرچکا ہوتا۔ اسی وجہ سے علماء نے اس حدیث سے یہ مفہوم اخذ نہیں کیا کہ خوارج کفار سے بالکل بھی قتال نہیں کریں گے۔ فتدبر

امام ابن تیمیہ﷫ لکھتے ہیں: ’’جس طرح خوارج کفار سے لڑیں گے، اسی طرح اپنے مؤمن بھائیوں سے بھی لڑیں گے اور بعض اوقات تو ان کے نزدیک مسلمانوں سے لڑائی زیادہ ضروری ہوگی۔ اسی وجہ سے نبی کریمﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا تھا کہ مسلمانوں سے لڑیں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے۔

(  الفتاویٰ الکبریٰ: 6/360)

ساری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ خوارج مسلمانوں اور کفار دونوں سے لڑتے ہیں۔ جس طرح وہ کفار کو قتل کرنا جائز سمجھتے ہیں، اسی طرح مسلمانوں کو قتل کرنا بھی حلال سمجھتے ہیں۔ اسے بھی وہ جہاد گردانتے ہیں، بلکہ ان کے نزدیک مسلمانوں سے قتال زیادہ ضروری ہے کیونکہ وہ انہیں کافر اور مرتد سمجھتے ہیں۔ اور یہ باتیں آپ کو ان خوارج کی زبانوں پر عام ملیں گی کہ پہلے اپنے گھر سے صفائی کرو، کفار کو بعد میں دیکھ لیں گے۔

          واقعاتی اعتبار سے اس طرح کہ  تاریخ میں ہمیں ملتا ہے کہ خوارج ہمیشہ مسلمانوں اور کفار دونوں سے لڑتے رہے ہیں۔ لیکن مسلمانوں سے ان کی لڑائی زیادہ، سخت، نقصان دہ اور عقیدہ ٔتکفیر کے زیر اثر ہوتی ہے۔

          پھر نبی کریمﷺ کے فرمان: ’’وہ قتل کریں گے‘‘ میں ان کے مسلمانوں سے بغاوت اور ان کے قریب اور گھلا ملا ہونے کی وجہ سے ان پر غالب آنے کی طرف اشارہ ہے۔ بعض اوقات مسلمانوں نے انہیں پُرامن گروہ سمجھا یا ان کی ظاہری حالت سے دھوکا کھا گئے  تو یہ ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔

          تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ہر زمانہ میں خوارج مسلمانوں پر غلبہ پاکر بغیر کسی ہچکچاہٹ کے انہیں قتل کرتے رہے ہیں جیسے انہوں نے عبد اللہ بن خباب بن ارت اور ان کے اہل وعیال کے ساتھ کیا۔ اہل کتاب سے یہ صلح کرتے ہیں اور ان کے بارے میں اللہ کے ذمہ اور رسول اللہﷺ کی وصیت کا خیال رکھتے ہیں۔ 

          اس بارے میں داعش کا تضاد ملاحظہ ہو: انہوں نے ایک ویڈیو جاری کی جس میں اپنی ہی ہم فکر جماعت جبہۃ النصرہ کے ایک کارکن کو قتل کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے کیونکہ ان کے بقول وہ ان کے ہاتھ توبہ کرنے سے پہلے آگیا تھا، اس لیے اس کی توبہ قبول نہیں کی گئی۔ جبکہ ایک اور ویڈیو میں انہوں نے ایک نصیری کو قید کرنے کے بعد اس کی توبہ قبول کرنے کا اعلان کیا۔ اور یہ معاملہ کئی دفعہ سامنے آچکا ہے۔  

اور رہی بات داعش کی علاقوں کو فتح کرنے کی تو یہ کوئی نئی چیز نہیں۔ اس سے پہلے بھی تاریخ میں کئی بار ایسا ہو چکا ہے کہ خوارج کی اپنی ریاستیں قائم رہی ہیں۔ خوارج نے علاقوں کو فتح کیا ہے اور یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہےکہ داعش کی فتوحات کے بارے میں جو پروپیگنڈا جاری ہے کہ یہ علاقے انہوں نے کفار سےلئے ہیں تو یہ بات درست نہیں  ، وہ دراصل انہی علاقوں پر قبضہ ہے جنہیں  جہادی تنظیموں نے داعش کے ظہور سے پہلے ہی آزاد کرایا ہوا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ داعش کی زیادہ تر سرگرمیاں دیگر جہادی تنظیموں کے خلاف ہی رہی ہیں۔ جبکہ کفار کے خلاف اس کی لڑائی کی کوششیں ذرا بھی قابل ذکر نہیں۔

          اگرکفار سے اس کی لڑائی ثابت ہو بھی جائے اور اس کی فتوحات مان بھی لی جائیں ، تب بھی اس سے اس کے غالی خارجی عقائدکی نفی نہیں ہوتی اور نہ اس کے دامن سے معصوم مسلمانوں کے خون کا داغ ختم ہوتا ہے۔  اللہ تعالی سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین 

Print Friendly

About alfitan

مزید دیکھئے

فرقہ معتزلہ کا مختصر تعارف

فرقہ معتزلہ کا مختصر تعارف

فرقہ معتزلہ کا مختصر تعارف  فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ  الحمد للہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *