مرکزی صفحہ » گمراہ فرقے » خوارج » داعش والےنہ کبیرہ گناہوں پر تکفیر کرتے ہیں اور نہ سر منڈواتے ہیں تو خارجی کیسے ؟ایک شبہ کا ازالہ

داعش والےنہ کبیرہ گناہوں پر تکفیر کرتے ہیں اور نہ سر منڈواتے ہیں تو خارجی کیسے ؟ایک شبہ کا ازالہ

image_pdfimage_print
photo721249554916288887

ایک شبہ کا ازالہ

داعش والےنہ کبیرہ گناہوں پر تکفیر کرتے ہیں اور نہ سر منڈواتے ہیں تو خارجی کیسے ؟ 

فضیلۃالشیخ مفتی عبدالعزیز نعیم حفظہ اللہ

شبہ کی تفصیل:

          آپ داعش کو خوارج کیسے قرار دے سکتے ہیں ؟ جبکہ خوارج تو وہ ہوتے ہیں جو مسلمان حکمران کے خلاف بغاوت کرتے ہیں اور کبیرہ گناہ کےمرتکب کو کافر قرار دیتے ہیں،

        حالانکہ داعش والے نہ تو سرمنڈواتے ہیں اور  نہ تو کسی مسلمان حکمران کے خلاف بغاوت کی ہے اور نہ اس کے کارکنان مرتکب ِ کبیرہ گناہ کو کافر کہتے ہیں۔

        اور بعض نشانیاں جو احادیث میں آئی یہاںمثلا لمبی اور گھنی داڑھی ، شلوار کے اونچے پائنچےرکھنا تو دیگر جماعتوں اور مسلمانوں میں بھی پائی جاتی ہیں پھر وہ خارجی کیوں نہیں؟

جواب :

            خوارج امتِ اسلامیہ پر ایک خطرناک اور شرانگیزگروہ ہے، اس لیے سنتِ نبویﷺ میں ان کی مکمل نشانیاں بیان کی گئی ہیں  تاکہ یہ لوگوں پر اپنے معاملہ پر لوگوں کو دھوکا نہ دے  سکیں، اور ان نشانیوں کا تنظیم (دولۃ) پرشدید تر اندازسے لاگو ہوتی ہیں ۔

شرعی دلائل میں اس کا ذکر نہیں  ملتا کہ خوارج کا مسلمانوں کے امام کے خلاف مسلح  بغاوت یا خروج کرنا لازمی شرط ہے، یا خوارج کا کبیرہ گناہوں پر تکفیر کرناکوئی لازمی چیز ہے،

یہ اصول اور تعریفات جن کا ذکر اہل علم کی جانب سے خوارج کے لیے کیا گیا ہے یہ صرف  خوارج کے قریب ترین ہونے کی نشانیوں کے طور پر  بیان کیا جاتا ہے، یہ (فرقہ) خوارج کی صفات کے تناظر میں علمی اعتبار سے بیان ہوئے ہیں، اور اس میں مندرجہ ذیل سمجھنے کے قابل ہیں:

پہلی بات: خوارج کی تعریف اور کسی گروہ یا فرقہ کو خارجی قرار دینے کےلیے معتبر قاعدہ اور فیصلہ کن بات وہی ہے جو کتاب وسنت میں مذکور ہے۔ سنت نبوی نے خوارج کی صفات اتنی وضاحت سے بتائی ہیں کہ کسی دوسرے گروہ کی صفات اتنی تفصیل سے نہیں بتائیں کیونکہ یہ لوگ بہت خطرناک ہیں اور عام لوگ ان کے بارے میں دھوکا کھا جاتے ہیں۔ 

ان کی سب سے بڑی اور اہم نشانیاں:  تکفیر کرنا، مخالفین کا قتل جائز سمجھنا، قرآن وسنت کی عبارات کو صحیح طور نہ سمجھنا، جلدی غصہ کرجانا، بےوقوف ہونا، کمسن ہونا لیکن گھمنڈ اور فخر وغرور سے بھرپور ہونا۔

دوسری بات: بہت سے علماء نے یہ لکھا ہے کہ ’’  کبیرہ گناہ کے مرتکب کی تکفیر‘‘  تمام خوارج کی صفت نہیں ہے اور نہ ہی خارجی ہونے کےلیے شرط ہے کہ وہ کبیرہ گناہ کرنے والے  کی تکفیر کرتا ہو، بلکہ جو بھی ناحق مسلمانوں کی تکفیر کرے اور انہیں قتل کرنا جائز سمجھے، تو چاہے  مرتکب کبیرہ گناہ کے کافر ہونے کا اعتقاد نہ بھی رکھتا ہو، وہ خوارج میں شامل ہے۔

          حدیث ِ نبوی میں ان کی ایک صفت یہ بیان ہوئی ہے کہ یہ مسلمانوں کو قتل کریں گے۔ علماء کا کہنا ہے کہ اس قتل کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے مخالفین پر ناحق کفر وارتداد کا حکم لگاتے ہیں۔

امام قرطبی﷫ فرماتے ہیں: ’’اس کی وجہ یہ ہے کہ جب انہوں نے اپنی جماعت سے نکلنے والے مسلمانوں کو کافر قرار دے دیا تو ان کے قتل کو جائز سمجھ لیا۔‘‘ 

[المفھم لما أشکل من تلخیص کتاب مسلم: 9/84]

امام ابن تیمیہ﷫ فرماتے ہیں: ’’خوارج کے دین کا بڑا حصہ اس بات پر مشتمل ہے کہ مسلمانوں کی جماعت سے دور رہا جائے اور ان کے مال وجان کو لوٹنا جائز سمجھا جائے۔‘‘ 

[الفتاویٰ: 13/209]

          دوسری جگہ فرماتے ہیں: ’’یہ لوگ اپنے اس عقیدہ کی بناء پر کہ اہل قبلہ مرتد ہوچکے ہیں، ان کے قتل کو اس سے زیادہ جائز سمجھتے ہیں جتنا ان کفار کے قتل کو جائز سمجھتے ہیں جو مرتد نہیں ہیں۔‘‘ 

 [الفتاویٰ: 28/497]

          علامہ ابن عبد البر﷫ فرماتے ہیں: ’’ان لوگوں نے کتاب اللہ کی اپنی من مانی تاویل کی بناء پر مسلمانوں کا خون بہانا جائز سمجھ لیا، گناہوں کی وجہ سے انہیں کافر ٹھہرایا اور تلواریں لے کر ان پر چڑھ دوڑے۔‘‘ 

[الاستذکار: 2/499]

          امیر المؤمنین سیدنا علی بن ابی طالب﷜ اور صحابہ﷢ کے خلاف خروج کرنے والے خوارج  زنا، چوری اور شراب نوشی جیسے گناہوں کی وجہ سے تکفیر نہیں کرتے تھے۔ انہوں نے تو انسانوں کو اپنا جج بنانے اور ان کا فیصلہ قبول کرنے کی بناءپر تکفیر کی تھی ، اگرچہ حقیقی طور پر یہ کوئی گناہ نہیں ہے۔ انہوں نے علی، معاویہ، دونوں فیصلہ کرنے والے صحابہ  اور اس عمل  پر راضی سب صحابہ﷢ اور دیگر لوگوں کی کھلم کھلا تکفیر کی  اور ان کے قتل کو جائز قرار دیا۔

          ان کی اس حرکت کی وجہ سے صحابہ کرام﷢ نے  انہیں خوارج کا لقب دیا  جن کے بارے میں نبی کریمﷺ نے پیش گوئی کی تھی۔ صحابہ کرام﷢ نے ان سے یہ نہیں پوچھا تھا کہ بقیہ گناہوں کے بارے میں تمہارا کیا نظریہ ہے؟ ان کی وجہ سے تکفیر کرتے ہو یا نہیں؟

          بلکہ ’’نجدات‘‘ جو اہل علم کے اتفاق کے مطابق خوارج کے سرغنہ تھے، وہ بھی ِ کبیرہ گناہ کے مرتکب کو کافر قرار نہیں دیتے تھے۔

          امام ابو الحسن اشعری﷫ خوارج کا عقیدہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’خوارج کا اجماع ہے کہ مرتکب ِ کبیرہ گناہ کافر ہے۔ لیکن نجدات کا یہ موقف نہیں ہے۔‘‘

[مقالات الإسلامیین: 1/86] 

تیسری بات: یہاں ایک اہم شبہ کی وضاحت کرنا بہت ضروری ہے کہ سر منڈوانا تما م خوارج کی صفت نہیں ۔ تاریخ میں کئی ایسے خارجی گروہ گزرے ہیں جو سر نہیں منڈواتے تھے لیکن پھربھی  اہل علم نے انکے عقائد کو دیکھتے ہوئے انہیں خارجی کہا ہے۔ سرمنڈوانا  تو صرف اس ذو الثدیہ خارجی کے حلیے سے منسلک ہے جسے سیدنا علی بن ابی طالب﷜ کے دور میں قتل کیا گیا تھا ۔

جیسا کہ ابن تیمیہ ؒ نے کہا:

” وَهَذِهِ السِّيمَا سِيمَا أَوَّلِهِمْ كَمَا كَانَ ذُو الثُديَّة ؛ لا أَنَّ هَذَا وَصْفٌ لَازِمٌ لَهُمْ”.

[مجموع الفتاوى (28/ 497)]

“یہ نشانی صرف اسی ذو الثدیہ کی نشانی تھی نہ کہ یہ وصف سارے خوارج کے لیے لازم ہے ۔ “

 اسی طرح لمبی داڑھیاں اور شلوار کے پائنچے اونچے رکھنا خوارج کی قطعی نشانی نہیں بلکہ یہ ذوالخویصرہ کے حلیے کو بیان کرنے کے لیے ذکر کی گئی تھیں اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ ” اس کی نسل میں سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے ۔۔۔۔”  اور پھرآنحضرت ﷺ نے خوارج کی دیگر صفات کا تذکرہ کیاتھا  ۔

  کچھ لوگ محض  کسی لمبی داڑھی یا اونچے پائنچے والے شخص کو دیکھ کر اسے خارجی کہہ دیتے ہیں، جبکہ یہ کسی کے خارجی ہونے کی حتمی نشانی نہیں۔ اگر صرف چند ظاہری نشانیاں مثلا  لمبی گھنی داڑھی یا اونچے  پائنچے دیکھ کر خارجی ہونے کا حکم لگایا جائے تو معاذ اللہ ان صحابہ کرام کی عظیم ہستیوں کے بارے کیا حکم ہو گا  جو داڑھیاں لمبی بھی ہوتی تھیں  اور شلواریں بھی ٹخنوں سے اوپر رکھتے تھے؟

خبردار رہیے ۔۔۔۔!!!  

اصل چیز خوارج کے عقائد ہیں جن سے ہر کسی کو باخبر رہنا ضروری ہے ۔ خوارج کی اصل نشانی مسلمانوں کی تکفیر، انکاخون اور مال حلال جاننا ہے۔  جس کے اندر یہ صفت پائی جائے کہ وہ اصولِ تکفیر کو بالائےطاق رکھتے ہوئے مسلمانوں کی تکفیر کرے اور انکا قتل حلال جانے تو وہ خارجی ہے، چاہے وہ کبیرہ گناہوں پر تکفیر نہ بھی کرتا  ہویا چاہے وہ سر نہ منڈواتا ہو۔

لہٰذا خوارج کی عمومی صفت جو سب میں پائی جاتی ہے، وہ ناحق مسلمانوں کی تکفیر اور اس وجہ سے ان کے قتل کو جائز سمجھنا ہے۔

          اس تکفیر کی کئی صورتیں ہیں۔ مثلاً: ِ کبیرہ یا صغیرہ گناہ کرنے کی وجہ سے تکفیر، یا ایسے کام کی وجہ سے تکفیر جو بالکل بھی گناہ نہیں ہے، یا گمان اور اندازے لگا کر ، شبہات اور محتمل امور کی وجہ سے تکفیر، یا ایسے معاملات کی وجہ سے تکفیر جن میں اختلاف اور اجتہاد ہوسکتا ہو، یا تکفیر کی شروط کو پورا کیے اور رکاوٹوں کو دور کیے بغیر تکفیر۔([7])

          جب علماء نے کبیرہ گناہ کے مرتکب کی تکفیر کرنے والوں کو خوارج قرار دیا ہے تو صغیرہ گناہوں، اجتہادی امور میں غلطی کرنے والوں  یا مباح کام کرنے والوں، مثلاً: کفار کے ساتھ بیٹھنے اور ان سے خط وکتابت وغیرہ جیسے کام کرنے والوں  کی تکفیر کرنے والوں کو کیا نام دیا گیا ہوگا؟

چوتھی بات: شرعی نصوص (قرآن وسنت کی عبارات) میں خوارج کی ایسی کوئی شرط نہیں ہے کہ وہ مسلم حکمران کے خلاف بغاوت کریں گے۔ بلکہ جو شخص بھی خوارج سے متفق ہوگا، چاہے وہ مسلمان حکمران کے خلاف بغاوت کرے یا نہ کرے، خوارج میں ہی شمار ہوگا۔

          دراصل حکمرانوں کے خلاف بغاوت ناحق تکفیر اور مسلمانوں کے قتل کو جائز سمجھنے کی وجہ ہوتی ہے۔ اگر خوارج کے سامنے کوئی حکمران ہوتا ہے تو اس کے خلاف بغاوت کردیتے ہیں  اور جان ومال کو لوٹنا شروع کردیتے ہیں۔ اگر حکمران نہیں ہوتا تو مسلمان عوام، مجاہدین، علماء اور داعی حضرات کو قتل کرنے لگتے ہیں۔

          چنانچہ ان کا نام ’’خوارج‘‘ احکام ِ دین سے باہر نکلنے اور مسلمانوں کی جماعت کو توڑنے کی وجہ سے رکھا گیا ہے۔ جیسا کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا تھا:

          «سَيَخْرُجُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ أَحْدَاثُ الْأَسْنَانِ، سُفَهَاءُ الْأَحْلَامِ، يَقُولُونَ مِنْ خَيْرِ قَوْلِ الْبَرِيَّةِ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ، فَإِنَّ فِي قَتْلِهِمْ أَجْرًا، لِمَنْ قَتَلَهُمْ عِنْدَ اللهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»

          اخیر زمانہ قریب ہے جب ایسے لوگ مسلمانوں میں نکلیں گے جو نوعمر بیوقوف ہوں گے (ان کی عقل میں فتور ہو گا) ساری خلق کے کلاموں میں جو بہتر ہے، وہ بات کہیں گے۔ قرآن پڑھیں گے مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا ، وہ دین سے اس طرح باہر ہو جائیں گے جیسے تیر شکار کے جانور سے پار نکل جاتا ہے ۔ (اس میں کچھ لگا نہیں رہتا) تم ان لوگوں کو جہاں پانا، بے تامل قتل کرنا ، کیونکہ ان کو قتل کرنے کا اللہ کی طرف سے قیامت کے دن ثواب ملے گا ۔

[صحیح البخاري: 6930، صحیح مسلم: 1066]

          حافظ ابن حجر﷫ فرماتے ہیں: ’’دین سے خارج ہونے اور بہترین مسلمانوں کے خلاف بغاوت کی وجہ سے انہیں خوارج کا لقب دیا گیا ہے۔‘‘

[فتح الباري: 12/283]

          امام نووی﷫ فرماتے ہیں: ’’ان لوگوں کو جماعت سے خروج کی وجہ سے خوارج کا نام دیا گیا ہے۔

ایک قول یہ ہے کہ جماعت کے راستہ سے ہٹنے کی وجہ سے یہ نام دیا گیا ہے۔

اور ایک قول یہ ہے کہ نبی کریمﷺ کے درج ذیل فرمان کی وجہ سے یہ نام دیا گیا ہے کہ:

«یخرج من ضئضئ ھذا»

’’اس (ذو الخویصرہ) کی نسل سے کچھ لوگ نکلیں گے۔‘‘  

[شرح النووي: 7/164]

          تاتاریوں کے بارے میں جب لوگوں میں اختلاف پیدا ہوا کہ انہیں کیا کہا جائے تو امام ابن تیمیہ﷫ نے انہیں خوارج کا لقب دیا، حالانکہ انہوں نے کسی حکمران کے خلاف بغاوت نہیں کی تھی۔

 حافظ ابن کثیر﷫ لکھتے ہیں: ’’تاتاریوں سے قتال کس ذیل میں آتا ہے؟ اس بارے میں لوگوں کے ہاں گفتگو ہورہی ہے کیونکہ یہ اسلام کا اظہار کرتے ہیں اور حکمران کے خلاف باغی بھی نہیں۔ کیونکہ انہوں نے کبھی خلیفہ کی اطاعت قبول ہی نہیں کی کہ پھر اس سے ہاتھ اٹھا لیا ہو۔

          اس بارے میں شیخ الاسلام  ابن تیمیہ﷫ کا قول ہے: ’’ان کا تعلق انہی خوارج سے ہے جنہوں نے علی﷜ اور معاویہ﷜ کے خلاف خروج کیا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ وہ ان دونوں سے خلافت کے زیادہ حق دار ہیں۔ اور اِن لوگوں کا بھی یہی خیال ہے کہ یہ لوگ قیامِ حق کے مسلمانوں سے زیادہ حق دار ہیں۔‘‘ 

[البدایۃ والنھایۃ: 14/28]

          بات تو یہاں تک پہنچی ہوئی ہے کہ اگر خوارج کوئی ریاست بھی قائم کرلیں تو پھر بھی خوارج ہونے سے بری نہیں ہوسکتے۔ اگر تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ خوارج ہمیشہ مملکتوں اور ریاستوں کا قیام عمل میں لاتے رہے ہیں۔ بلکہ ان میں سے بعض تو خلافت کے بھی مُدَّعِی رہے ہیں۔ لیکن جب تک یہ لوگ مسلمانوں کی تکفیر کرتے رہیں گے اور ان کے قتل کو جائز سمجھتے رہیں گے،صرف حکومت پر قابض ہوجانے کی وجہ سے انہیں خوارج نہ ہونے کی سند نہیں دی جاسکتی۔

پانچویں بات: داعش سے بہت سے ایسے اقوال وافعال سرزد ہوچکے ہیں جن کا لازمی تقاضا ہے کہ انہیں خوارج اور نبوی منہج سے منحرف قرار دیا جائے۔ مثلاً:

①      تمام مسلمان ممالک پر کفر وارتداد کا فتویٰ اور تمام مسلمانوں کو اپنے زیر اثر خطوں کی طرف ہجرت کرنے کا حکم۔

②      اپنے مخالفین پر کفر وارتداد کا فتویٰ، انہیں بدمعاش، خیانت کار،  شبہ اور غیر کفریہ کاموں، مثلاً: حکومتی اور غیر سرکاری تنظیموں سے معاملات کرنے اور ان کے ذمہ داروں سے ملاقات کی بناء پر انہیں کفار کے ایجنٹ کہنا۔

③      اپنے منہج کے مخالفین  اور اپنی موہوم سلطنت کے سامنے نہ جھکنے والوں سے لڑائی کو جائز قرار دینا ۔ انہوں نے مسلمانوں کو پکڑا، انہیں جیلوں میں ڈالا، قتل کیا، سزائیں دیں، مجاہدین کے کیمپوں میں اپنے جاسوس بھیجے جنہوں نےباغیوں، مجاہدین، داعیوں، صحافیوں اور محنتی لوگوں میں سے سرکردہ کو قتل کیا ۔ انہوں نے مسلمانوں سے اتنی جنگ کی، جتنی دشمنوں سے بھی نہیں کی۔

          دراصل یہ سب کچھ نبی کریمﷺ کے اس فرمان کے عین مطابق تھا کہ  خوارج:

       «يَقْتُلُونَ أَهْلَ الإِسْلاَمِ وَيَدَعُونَ أَهْلَ الأَوْثَانِ».

          “مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو کچھ نہیں کہیں گے۔ “

[صحیح البخاري: 3344، صحیح مسلم: 1064]

 ④      ’’منحرف جماعتوں سے قتال جائز ہے‘‘ کی آڑ میں مسلمانوں کا مال ناحق لوٹنے اور اسے بحق سرکار ضبط کرنے کو جائز سمجھنا۔ عمومی ذرائع آمدنی یعنی تیل کے کنوؤں اور غلہ کے ذخائر پر قبضہ  کرنا اور ان پر برسر اقتدار حکمران کی طرح تصرف کرنا۔

⑤      مسلمانوں کی جماعت سے علیحدگی اختیار کرنا اور صرف اپنے منہج کو حق پر سمجھنا۔ نظریاتی یا عملی پہلوؤں میں اپنے مخالفین پر دین کے دشمن ہونے کا فتویٰ لگانا۔

اس کے ساتھ ساتھ ان کے دعویٰ خلافت اور تمام مسلمانوں پر اپنی بیعت کے وجوب کا فتویٰ بھی ذہن میں رکھیے۔

⑥      ان میں معروف علماء موجود نہیں ہیں جو مسلمانوں کے ہاں قابل اعتماد ہوں۔ یہ وہی صورتحال ہے جس میں ان کے خارجی اسلاف مبتلا تھے۔ ان سے سیدنا عبد اللہ بن عباس﷜ نے فرمایا تھا: ’’میں تمہارے پاس نبی کریمﷺ کے مہاجرین وانصار صحابہ ﷢ کی طرف سے آیا ہوں۔ ۔۔ انہی لوگوں کے سامنے قرآن نازل ہوا۔ وہ تم سے زیادہ وحی کو جانتے ہیں۔ انہی کے بارے میں قرآن نازل ہوا۔ ان میں سے ایک بھی تمہارے اندر موجود نہیں ہے۔‘‘  

[المستدرك للحاکم: 2656] 

          ان میں اکثریت نوعمر لڑکوں کی ہے جن پر عجلت اورجوش وجذبہ طاری ہے۔ غور وفکر اور علم کی کمی ہے۔ ذہنی سطح بہت پست اور بصیرت کا فقدان ہے۔ یہ ویسے ہی ہیں جیسے نبی کریمﷺ نے فرمایا تھا: «حُدَثَاءُ الأَسْنَانِ، سُفَهَاءُ الأَحْلاَمِ»

          “کمسن بے وقوف لوگ ہوں گے۔ “ 

[صحیح البخاري: 3611، صحیح مسلم: 1066]

          اہل علم وحکمت کی عدم موجودگی کا ان کے معاملات پر گہرا اثر نظر آتا ہے۔ یہ لوگ بےوقوفی اور طیش کا نمونہ نظر آتے ہیں۔ معاملات کے انجام سے بےخبر اور بےپروا ہیں۔ اسی وجہ سے یہ لوگ کلمہ حق کو بلند کرنے اور اللہ پر بھروسہ کے گمان میں مسلمانوں کو تباہ وبرباد کیے چلے جارہے ہیں۔

⑦      مذکورہ بالا سب باتوں کی وجہ سے اب یہ لوگ اس فخر وغرور اور گھمنڈ میں مبتلا ہوچکے ہیں کہ صرف وہی مسلمان ہیں۔ وہی اکیلے فی سبیل اللہ جہاد کررہے ہیں۔ وہی جہاد کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے طریقوں کو جانتے ہیں۔ اسی وجہ سے یہ لوگ اپنے اقوال وافعال پر بہت فخر وتکبر کرتے ہیں۔ نبی کریمﷺ نے خوارج کے بارے میں فرمایا تھا:

«إِنَّ فِيكُمْ قَوْمًا يَعْبُدُونَ وَيَدْأَبُونَ – يَعْنِي – يُعْجِبُونَ النَّاسَ، وَتُعْجِبُهُمْ أَنْفُسُهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ».

          تم میں ایک قوم ایسی آئے گی جو عبادت کرے گی اور دیندار ہوگی، حتیٰ کہ لوگ ان کی کثرت عبادت پر تعجب کیا کریں گے اور وہ خود بھی خود پسندی میں مبتلا ہوں گے۔ وہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔

[مسند أحمد: 12972] 

          اسی غرور نے انہیں اہل علم وحکمت پر دست درازی کرنے اور ان کی باتیں نہ ماننے پر مجبور کیا ہے۔ یہ لوگ علم وفہم کا دعویٰ کرتے ہیں اور ناتجربہ کاری سے معاملات کا سامنا کرتے ہیں اور اسی زعم میں اپنے اور دیگر تنظیموں کے درمیان جاری جھگڑوں پر کسی کو ثالث بنانے کےلیے تیار نہیں ہوتے۔

⑧      داعش مجاہدین کے خلاف قتال ومحاصرہ میں ظالم بشار کی مددگار ہے۔ بشارکے سامنے مجاہدین کی پسپائی اور مجاہدین کے کیمپوں پر  قبضہ پر انہوں نے خوشی کا اظہار کیا۔ یہ بھی کوئی بعید از گمان بات نہیں ہے کہ ان میں بہت سے دشمنانِ اسلام گھسے ہوئے ہیں  اور ان کے ذریعہ مجاہدین کو اس طرح نقصان پہنچا رہے ہیں کہ براہ ِ راست خود نہیں پہنچا سکتے تھے۔

          یوں داعش کی صورت میں ایک مجسمِ شر ہمارے سامنے موجود ہے جو پچھلے خوارج میں بھی نہیں تھا۔ یہ لوگ باطل کے حمایتی ہیں۔ حق اور شرعی عدالتوں کے سامنے جھکنے سے انکار ی ہیں۔ جھوٹ، دھوکا، خیانت، وعدوں کی خلاف ورزی اور دشمنان ِ اسلام کی طرف جھکاؤ ان کا شعار ہے۔ یہ نصیریوں سے بھی زیادہ مسلمانوں کےلیے خطرناک ہیں۔ پچھلے خوارج سے شر، برائی  اور انحراف میں یہ کئی گنا آگے نکل چکے ہیں۔  

خوارج سے قتال کی اہمیت :

اقدامی جہاد  میں کفار ومشرکین پر خوارج سے جہاد کو مقدم کرنے کی بات کئی ایک سلف سے ثابت ہے۔ مثلاً:

عاصم بن شُمَیْخ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابو سعید خدری﷜ نے فرمایا جبکہ ان کے ہاتھ بڑھاپے کی وجہ سے کانپ رہے تھے کہ خوارج سے قتال مجھے مشرکین سے قتال سے زیادہ محبوب ہے۔

[مصنف ابن أبي شیبۃ: 37886]

حافظ ابن حجر﷫ نے ابن ہبیرہ﷫ کا قول نقل کیا ہے: ’’ایک حدیث میں ہے کہ خوارج سے قتال مشرکین سے قتال سے اہم ہے۔ اس میں حکمت یہ ہے کہ خوارج سے قتال کرنا گویا اسلام کے اصل سرمایہ کو محفوظ کرنا ہے جبکہ مشرکین سے قتال نفع حاصل کرنے کے مترادف ہے۔ اور یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ اصل سرمایہ کی حفاظت نفع حاصل کرنے سے اہم ہے۔ ‘‘

[فتح الباري: 12/301]

          لیکن یہ بات ذہن نشین رہے کہ داعش کو خوارج کہنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے اس میں شامل ہر فرد خارجی ہے۔ کیونکہ ان میں بہت سے ایسے لوگ بھی ہوں گے جو ان کی حقیقت اور اصلیت سے ناواقف ہوں گے۔ بہت سے دھوکے میں مبتلا ہوں گے۔ لیکن من حیث الجماعت ان سے ہمارا معاملہ ایک جیسا ہی ہوگا۔ ان کے شر کو ختم کرنا ہماری ذمہ داری ہے اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔

          خلاصہ کلام یہ ہے کہ داعش کا خارجی جماعت ہونا بالکل واضح ہے کیونکہ یہ صحیح عقیدہ سے دور اور مسلمانوں کی جماعت سے خارج  ہیں اور مسلمانوں کے ناحق قتل کو حلال سمجھتے ہیں۔ ([2])

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حاشیہ 

([1])  بلکہ خوارج میں ایک فرقہ قعدہ یا قعدیہ کے نام سے مشہور ہے۔ ان کا یہ نام قتال سے رکنے کی وجہ سے ہے۔ حافظ ابن حجر﷫ فتح الباری میں لکھتے ہیں: ’’قعدیہ خوارج کا ایک گروہ ہے جن کی رائے تو وہی ہے جو دیگر خوارج کی ہے، لیکن وہ بغاوت نہیں کرتے، البتہ اسے مزین کرکے پیش کرتے ہیں۔ ‘‘

            حافظ صاحب اپنی دوسری کتاب “تہذیب التہذیب” میں لکھتے ہیں:

             ’’قعدہ خوارج کا ایک گروہ ہے جو خود تو جنگ نہیں کرتا، لیکن ظالم حکمرانوں کی حسب ِ استطاعت مذمت کرتا ہے۔یہ  لوگوں کو اپنی دعوت دیتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ بغاوت کو شہ بھی دیتے ہیں اور خوبصورت بنا کر بھی پیش کرتے ہیں۔‘‘

            اہل علم نے انہیں خوارج کا ہی نام دیا ہے اور انہیں خوارج کا ایک گروہ قرار دیا ہے اگرچہ یہ براہ ِ راست لڑائی نہیں کرتے اور نہ حکمران کے خلاف بغاوت کرتے ہیں۔ اسی طرح خوارج کے جدامجد ذوالخویصرہ نے کسی کے خلاف تلوار نہیں اٹھائی تھی لیکن نبیﷺ نے اس کوخوارج کے عقائدوخصائل  پر ہونے کیوجہ سے خارجی کہا تھا۔

            بلکہ بہت سے اہل علم نے تو انہیں خبیث ترین خوارج کا نام دیا ہے کیونکہ یہ عام لوگوں کو فتنہ میں مبتلا کرتے ہیں اور معاملہ کو ان پر خلط ملط کرتے ہیں۔

          امام ابو داؤد رحمہ اللہ نے اپنی کتاب «مسائل الإمام أحمد» میں عبد اللہ بن محمد ابو محمد الضعیف کا قول نقل کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں: ’’خوارج کا قعدہ نامی گروہ خبیث ترین خوارج ہیں۔ ‘‘ (1/362)

([2])   تفصیل کےلیے یہ فتویٰ ملاحظہ کیجیے: «هل تنظيم (الدولة الإسلامية) من الخوارج؟» http://islamicsham.org/fatawa/1945

Print Friendly

About alfitan

مزید دیکھئے

خوارج کے فرقے

خوارج کے فرقے،القاب اور نام

  خوارج کے فرقے،القاب اور نام الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *