مرکزی صفحہ » کتب و فتاویٰ » اُردو کتب » امام الدعوۃ محمد بن عبد الوھاب رحمہ اللہ پر انگریز کیساتھ مل کر خلافت عثمانیہ کیخلاف خروج کرنے کے الزام کا جواب – فضیلۃ الشیخ صالح المنجد حفظہ اللہ

امام الدعوۃ محمد بن عبد الوھاب رحمہ اللہ پر انگریز کیساتھ مل کر خلافت عثمانیہ کیخلاف خروج کرنے کے الزام کا جواب – فضیلۃ الشیخ صالح المنجد حفظہ اللہ

image_pdfimage_print

امام الدعوۃ محمد بن عبد الوھاب رحمہ اللہ پر

 انگریز کیساتھ مل کر خلافت عثمانیہ کیخلاف

خروج کرنے کے الزام کا جواب

شیخ صالح المنجد حفظہ اللہ سے پوچھا گیا:

کیا شيخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ نے  انگریز کیساتھ ساز باز کر کے خلافت عثمانیہ کے خلاف خروج کیا اور سقوطِ خلافت
عثمانیہ  کا سبب بھی انہی کا خروج کرنا بنا ۔۔۔ ؟

جواب     :

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

دنیامیں جوشخص بھی خیرو بھلائی کےکام کرے گا اس کے دشمن ضرور ہوں گے اور کئی ہو نگے ، جنوں میں بھی ہو سکتے ہیں اور انسانوں میں بھی حتی کہ اللہ تعالی کے انبیاء بھی اس سے محفوظ نہيں رہ سکے ۔

زمانہ قدیم سے علماء کرام کے بھی دشمن اورمخالف پائے جاتے رہے ہیں اورخاص طور پر حق کی دعوت دینے والے لوگوں کو بہت ہی سخت قسم کی دشمنی کا سامنا کرنا پڑ‌ا اس کی مثال شيخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی ہیں جنہوں نے بعض حاسدین سے بہت تکالیف اٹھائی جنہوں نے ان کوقتل کرنا بھی حلال کردیا تھا اور کچھ نے ان پر گمراہ اور مرتد ہونے کی تہمت لگائی۔

اسی طرح شيخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ تعالی بھی ان مظلوم علماء کرام میں سے ایک شخص تھے جن کےبارے میں لوگوں نے فتنہ پھیلانے کےلیے بغیر علم کے بہت کچھ کہا اوراس کام پر انہیں صرف حسد و بغض اوراپنے اندر بدعات کے رچ بس جانے کے علاوہ کسی اورچیز نے نہیں ابھارا یاپھر اس کا سبب جھالت اورنفسانی خواہشات والوں کی تقلید ہے ۔

اگلی سطور میں آپ کے سامنے شیخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ تعالی کےبارہ میں کچھ شبہات اوران کا رد پیش کرتے ہیں :

سعودی عرب کے سابقہ مفتی شیخ عبد الطیف آل شیخ  رحمہ اللہ کا تبصرہ

شيخ عبدالعزیز العبداللطیف رحمہ اللہ تعالی رقمطراز ہیں :

ادعى بعض خصوم الدعوة السلفية أن الشيخ الإمام محمد بن عبد الوهاب قد خرج على دولة الخلافة العثمانية ففارق بذلك الجماعة وشق عصا السمع والطاعة.

[دعاوی المناوئین لدعوۃ الشيخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ ص ( 233 )]

”سلفی دعوت کے کچھ مخالفین کا دعوی ہے کہ شيخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ تعالی نے خلافت عثمانیہ کے خلاف خروج کیااورجماعت میں افتراق کا باعث بنے اور (حاکم کی) سمع و اطاعت کوختم کرکے رکھ دیا ۔“

مزید ایک دوسری کتاب میں شیخ عبد العزیز العبد اللطیف کچھ اس طرح رقمطراز ہیں :

ويدَّعي ” عبد القديم زلُّوم ” أن الوهابيين بظهور دعوتهم قد كانوا سببا في سقوط دولة الخلافة ، يقول : ” وكان قد وجد الوهابيون كياناً داخل الدولة الإسلامية بزعامة محمد بن سعود ثم ابنه عبد العزيز فأمدتهم الإنجليز بالسلاح والمال واندفعوا على أساس مذهبي للاستيلاء على البلاد الإسلامية الخاضعة لسلطان الخلافة أي رفعوا السيف في وجه الخليفة وقاتلوا الجيش الإسلامي جيش أمير المؤمنين بتحريض من الإنجليز وإمداد منهم.” 

[کیف ھدمت الخلافۃ (خلافت کا خاتمہ کیسے ہوا)  ص10]

” عبدالقدیم زلوم ” کا دعوی ہے کہ محمد بن عبد الوھاب رحمہ اللہ  کی دعوت کا ظاہر ہونا ہی خلافت عثمانیہ کے سقوط کا سبب تھا ۔ اس کا یہ کہنا ہے  کہ : اسلامی حکومت میں محمد بن عبد الوھاب رحمہ اللہ کے پیروکاروں نے محمد بن سعود اورپھر اس کے بیٹے عبدالعزيز کی زير قیادت شورش بپا کی تو برطانیہ نے انہیں مال واسلحہ مہیا کیا اوران کی یہ شورش سلطان و خلیفہ کے تابع بلاد اسلامیہ پرقبضہ کرنے کے لیے مذہبی بنیاد پرکی ۔یعنی انہوں نے انگریز کے تعاون اوراس کے ابھارنے کی بناء پر خلیفہ کے مقابلہ میں تلوار اٹھائی اوراسلامی لشکر سے لڑائی کی جو کہ امیر المومنین کا لشکر تھا”

خلافت و دولۃ ‏عثمانیہ کےخلاف محمد بن عبدالوھاب کے خروج کے بارہ میں پائے جانے والے شبہ کا جواب ذکر کرنے سے قبل مناسب ہے کہ ہم شیخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ تعالی کا خلیفۃ اور مسلمان حکمرانوں  کی سمع واطاعت کے بارہ میں عقیدہ ذکر کردیں ۔

شیخ محمد بن عبد الوھاب رحمہ اللہ کا  حکام کی اطاعت کے بارےعقیدہ 

ان کا عقیدہ یہ تھا کہ وہ خلیفہ اور حاکم چاہے نیک و صالح ہو یا پھر فاسق و فاجر ہو جب تک وہ اللہ کی نافرمانی کا حکم نہ دے اس کی سمع واطاعت واجب ہے اس لیے کہ اطاعت صرف اورصرف نیکی کے کام میں ہوتی ہے ۔

شیخ الامام محمد بن عبد الوہابؒ  اپنے ایک خط میں (جوکہ اہل قصیم کولکھا تھا )لکھتے ہیں :

وأرى وجوب السمع والطاعة لأئمة المسلمين برّهم وفاجرهم ما لم يأمروا بمعصية الله ومن ولي الخلافة واجتمع عليه الناس ورضوا به وغلبهم بسيفه حتى صار خليفة وجبت طاعته وحرم الخروج عليه.

[مجموعۃ مؤلفات الشیخ (5/11 )]

”میرا عقیدہ ہے کہ امام المسلمین کی سمع واطاعت کرنی چاہیے چاہے وہ امام نیک و صالح ہو یا پھر فاسق و فاجر جب تک وہ نیکی کا حکم دیتا رہے اس کی اطاعت واجب ہے اورجب اللہ تعالی کی نافرمانی کاحکم دے اس میں اس کی اطاعت نہیں کی جاسکتی ۔ اورجوخلیفہ بنا دیاجائے  اورلوگ اس پر راضی ہوں اور لوگ اس کے پاس جمع ہو جائيں اور یا پھر وہ تلوار کے زور سے ان پر غالب ہوحتی کہ وہ خلیفہ بن جائے تو اس کی اطاعت واجب ہے اوراس کے خلاف خروج کرنا حرام ہے۔ “

اورایک دوسری جگہ پر شيخ یہ فرماتے ہیں :

الأصل الثالث : أن من تمام الاجتماع السمع والطاعة لمن تأمّر علينا ولو كان عبداً حبشيّاً 

[مجموع مؤ‎لفات الشیخ(1 /394) بحوالہ دعاوی المناوئین (233 – 234)]

”اجتماعیت کی تکمیل میں یہ بھی شامل ہے کہ جو بھی ہم پرامیر بنادیا جائے ہم اس کی سمع واطاعت کریں اگرچہ وہ حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو ۔“

اورشیخ عبدالعزيز العبداللطیفؒ  کہتے ہیں :

وبعد هذا التقرير الموجز الذي أبان ما كان عليه الشيخ من وجوب السمع والطاعة لأئمة المسلمين برّهم وفاجرهم ما لم يأمروا بمعصية الله

“اس  مختصر سے وضاحت کے بعد کہ جس میں شیخ رحمہ اللہ تعالی کا مسلمان حکمرانوں کی اس وقت تک سمع وطاعت کے وجوب کا عقیدہ سامنے رکھا گیا ہے ، جب تک وہ اللہ تعالی کی معصیت کا حکم نہ دے ، چاہے وہ حکمران نیک ہویا فاجر ۔”

تواب اس اہم مسئلہ کی طرف آتے ہیں، یہاں ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا ” نجد ” اس دعوت کا منبع اور اصل مرکز (جہاں پریہ پروان چڑھی تھی )دولۃ عثمانیہ کے زیر سلطنت تھا ؟

شیخ محمد بن عبد الوہاب ؒپر الزام کا جواب

مدینہ یونیورسٹی کے سابقہ ڈائریکٹر ڈاکٹر صالح العبود کا تبصرہ:

ڈاکٹر صالح عبود اس کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں :

ومهما يكن فإن ” نجداً ” لم تشهد نفوذاً مباشراً للعثمانيين عليها قبل ظهور دعوة الشيخ محمد بن عبد الوهاب كما أنها لم تشهد نفوذاً قويّاً يفرض وجوده على سير الحوادث داخلها لأية جهة كانت فلا نفوذ بني جبر أو بني خالد في بعض جهاتها ولا نفوذ الأشراف في بعض جهاتها الأخرى أحدث نوعاً من الاستقرار السياسي فالحروب بين البلدان النجدية ظلت قائمة والصراع بين قبائلها المختلفة استمر حادّاً عنيفاً . 

[عقیدہ الشيخ محمد بن عبدالوھاب واثرھا فی العالم الاسلامی (1 /27)]

”نجدتک عمومی طور پر خلافت عثمانیہ کا نفاذ ہی نہیں ہوا اور نہ ہی اس کی حکومت وہاں تک آئی اور نہ ہی وہاں پر کوئی خلافت عثمانیہ کی طرف سے گورنر ہی مقرر ہوا اورجب شیخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ کی دعوت کا ظہورہوا تواس وقت ترکی حکومت کی کوئی فوج بھی وہاں نہیں تھی۔

اس تاریخی حقیقت کی دلیل “دولہ عثمانیہ کی اداری تقسیمات کا استقرار “بھی ہيں جن میں سے ایک ترکی لیٹر جس کا مضمون ” آل عثمان کے دیوانی رجسٹرمیں قوانین کے مضامین ” ہے یعنی دیوانی رجسٹر میں آل عثمان کے قوانین، جسے یمین افندی نے تالیف کیا ہے جو کہ خاقانی دفتر کا 1018ھ الموافق 1609عیسوی میں خزانچی تھا ۔تو اس بیان سے یہ ظاہرہوتا ہے کہ 11ھ کے شروع میں دولت عثمانیہ بتیس 32 حکومتوں میں تقسیم ہو چکی تھی جن میں چودہ عرب حکومتیں تھیں جن میں نجد شامل نہیں تھا سوائے احساء کا علاقہ کے لیکن وہ بھی اگر ہم احساء کو  نجد میں شامل سمجھیں تو(کیونکہ اس میں بھی اختلاف ہے کہ احساء اس وقت نجد کا حصہ تھا  یا نہیں ) ۔   “

شیخ صالح العثیمین کے فرزند ڈاکٹر عبداللہ عثیمین حفظہ اللہ کا تبصرہ

ڈاکٹر عبداللہ عثیمین کا کہنا ہے :

ومهما يكن فإن ” نجداً ” لم تشهد نفوذاً مباشراً للعثمانيين عليها قبل ظهور دعوة الشيخ محمد بن عبد الوهاب كما أنها لم تشهد نفوذاً قويّاً يفرض وجوده على سير الحوادث داخلها لأية جهة كانت فلا نفوذ بني جبر أو بني خالد في بعض جهاتها ولا نفوذ الأشراف في بعض جهاتها الأخرى أحدث نوعاً من الاستقرار السياسي فالحروب بين البلدان النجدية ظلت قائمة والصراع بين قبائلها المختلفة استمر حادّاً عنيفاً .  

[محمد بن عبدالوھاب حیاتہ وفکرہ ص (11) بحوالہ دعاوی المناوئین (234 – 235)]

”اورجو کچھ بھی ہو پھر بھی شیخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ تعالی کی دعوت کے ظہور سےقبل نجد نے عثمانیوں کی حکومت کا نفاذ نہیں دیکھا ، اوراسی طرح نجد نے کسی طرف سے بھی کوئی قوی نفاذ نہيں دیکھا جو وہاں ہونے والے واقعات کو قابو میں کرے، اور اس کے اطراف میں نہ تو بنوجبر کی حکومت کا نفاذ تھا یا پھر بنی خالد اورنہ ہی اس کے کسی کونے میں پنچائیت طرز عمل کا نفاذ ہوا، تونجدی علاقوں کی جنگیں اورلڑائياں قائم رہیں اوران کے مختلف قبائل کے درمیان جنگ وجدال بہت تیزي سے چلتا رہا۔  “

سعودی عرب کے سابقہ مفتی شیخ ابن بازؒ کا تبصرہ

اوراس مضمون اوربحث کومکمل کرنے کے لیے ہم فضیلۃ الشیخ علامہ عبدالعزيز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ تعالی کابیان کردہ  اس شبہ کے جواب میں قول ذکر کرتے ہيں :

لم يخرج الشيخ محمد بن عبد الوهاب على دولة الخلافة العثمانية فيما أعلم وأعتقد فلم يكن في نجد رئاسة ولا إمارة للأتراك بل كانت نجد إمارات صغيرة وقرى متناثرة وعلى كل بلدة أو قرية – مهما صغرت – أمير مستقل… وهي إمارات بينها قتال وحروب ومشاجرات والشيخ محمد بن عبد الوهاب لم يخرج على دولة الخلافة وإنما خرج على أوضاع فاسدة في بلده فجاهد في الله حق جهاده وصابر وثابر حتى امتد نور هذه الدعوة إلى البلاد الأخرى 

[کیسٹوں پر ایک ریکارڈ مذاکرہ بحوالہ : دعاوی المناوئین ص237]

”میرے علم اوراعتقاد کے مطابق شیخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ تعالی نے دولۃ خلافت عثمانیہ کے خلاف خروج نہيں کیا ، اورپھر نجد میں ترکیوں کی تو حکومت و سلطہ ہی نہیں تھا بلکہ نجد کے علاقے میں چھوٹی چھوٹی امارتیں اوربہت سی بستیاں پھیلی ہوئی تھیں ۔ اوران میں سے ہر ایک شہر یا علاقے اور بستی پر چاہے وہ جتنی بھی چھوٹی تھی امارت قائم تھی اورایک مستقل امیر تھا ۔۔۔ اوران امارتوں کے درمیان جنگ جدال اوراختلافات رہتے تھے ، اورشيخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ تعالی نے خلافت عثمانیہ کے خلاف خروج نہیں کیا  بلکہ ان کا خروج تواپنے علاقے میں ان غلط اورفاسد نظریات  کے متعلق تھا جو پیدا ہوچکے تھے انہوں نے اللہ تعالی کے لیےجہاد کیا اوراس کا حق بھی ادا کیا اوراس میں صبر کیا حتی کہ اس دعوت کا نور اورروشنی دوسرے شہروں اورعلاقوں تک جا پہنچی ۔ “

جامعہ الازہر سے فارغ التحصیل ڈاکٹر عجیل النشمی الکویتی کا تبصرہ

ڈاکٹر عجیل النشمی کہتے ہیں:

….. لم تحرك دولة الخلافة ساكنا ولم تبدر منها أية مبادرة امتعاض أو خلاف يذكر رغم توالي أربعة من سلاطين آل عثمان في حياة الشيخ 

[دیکھیں میگزین: مجلۃ المجتمع عدد نمبر:510]

”شیخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ تعالی عنہ کی زندگی میں خلاف عثمانیہ کی جانب سے نہ تو قابل ذکر اختلاف تھا اورنہ ہی دشواری پیش آئی اور نہ ہی عوام میں سےکسی کوبھی (خلافت عثمانیہ کیخلاف) متحرک کیا حالانکہ ان کے زندگی میں خلافت عثمانیہ کے تین سلطان بدلے ۔۔۔ اوپر جو کچھ بیان کیا گیا ہے وہ خلافت عثمانیہ کے بارے شیخ رحمہ اللہ کے تصورات کی عکاسی تھا اور دوسری طرف خلافت عثمانیہ کے ہاں شیخ رحمہ اللہ کی دعوت کی تصویر کیسی ہو گی ؟ ( اگلی سطور میں ملاحظہ کیجیے ) “

ڈاکٹر عجیل النشمی اس سوال کے جواب میں کہتے ہیں :

لقد كانت صورة حركة الشيخ محمد بن عبد الوهاب لدى دولة الخلافة صورة قد بلغت من التشويه والتشويش مداه فلم تطلع دولة الخلافة إلا على الوجه المعادي لحركة الشيخ محمد بن عبد الوهاب سواء عن طريق التقارير التي يرسلها ولاتها في الحجاز أو بغداد أو غيرهما ..أو عن طريق بعض الأفراد الذين يصلون إلى الأستانة يحملون الأخبار. 

[دیکھیں میگزین : المجتمع عدد نمبر ( 504 ) بحوالہ دعاوی المناوئين ص ( 238 – 239 )]

”شیخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ تعالی کی دعوتی تحریک کی تصویر کوخلافت عثمانیہ کے ہاں غلط رنگ دیا گيا تو حکومت نے اس دعوتی تحریک کے خلاف دشمنی کا رویہ اختیار کرلیا جس کا سبب حجاز یا پھر بغداد کے گورنروں کے خلیفہ کو ارسال کردہ رسائل تھے یا پھر ان افراد کی بنا پر جوکچھ خبریں لے کر آستانہ پہنچتے تھے ۔“

اورزلوم کا یہ دعوی کہ شیخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ تعالی کی دعوت ہی خلافت عثمانیہ کے سقوط کا سبب بنی ، اورانگریزنے خلافت عثمانیہ کے سقوط میں محمد بن عبد الوھاب رحمہ اللہ اور ان کے ساتھیوں کا تعاون کیا۔ تواس لمبے چوڑے دعوی کے جواب میں صاحب تحفۃ العروس، شیخ البانی رحمہ اللہ کے شاگرد محمود مھدی استنبولی کہتے ہیں:

قد كان من واجب هذا الكاتب أن يدعم رأيه بأدلة وإثباتات وقديما قال الشاعر:

وإذا الدعاوى لم تقم بدليلها

                                بالنص فهي على السفاه دليل

مع العلم أن التاريخ يذكر أن هؤلاء الإنجليز وقفوا ضد هذه الدعوة منذ قيامها خشية يقظة العالم الإسلامي .

[دیکھیں کتاب : الشيخ محمد بن عبدالوھاب فی مرآۃ الشرق والغرب ص ( 240 ) ( شیخ محمد بن عبدالوھاب مشرق و مغرب کے آئینہ میں )]

”اس دعوی کے لکھنے والے پرضروری تھا کہ وہ اپنی اس رائے کے ثبوت میں دلائل بھی پیش کرتا ، زمانہ قدیم میں شاعر نے کہا تھا :

“اورجب دعوی کرنے والا اپنے دعوی پر کوئی بالنص دلیل قائم نہ کرسکے تووہ اس کے بے وقوفی کی دلیل ہے ۔ “

اوریہ بھی علم ہونا چاہیے کہ تاریخ اس بات کوذکر کرتی ہے کہ ان انگریزوں نے تواس دعوت کی ابتدا ہی سے عالم اسلام کی بیداری کے خوف سے مخالف کی تھی۔“

شیخ محمد بن عبد الوہابؒ پر خلافت عثمانیہ کیخلاف انگریز وں سے ملی بھگت کرنے کے الزام کی حقیقت

اسی طرح الشیخ محمود مھدی استنبولی کہتے ہیں :

والغريب المضحك المبكي أن يتهم هذا الأستاذ حركة الشيخ محمد بن عبد الوهاب بأنها من عوامل هدم الخلافة العثمانية مع العلم أن هذه الحركة قامت حوالي عام 1811 م وأن الخلافة هدمت حوالي 1922 م .

[حوالہ سابقہ ص ( 64 )]

”اوریہ ایک عجیب و غریب اوررولانے والی مضحکہ خيز بات ہے کہ یہ پروفیسر صاحب شیخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ تعالی کی تحریک پر تہمت لگاتے ہیں کہ خلافت عثمانیہ کے سقوط کی وجوہات میں سے ایک ہے لیکن یہ علم ہونا چاہیے کہ یہ تحریک 1811 عیسوی میں شروع ہوئی اورخلافت عثمانیہ کا سقوط 1922 عیسوی میں ہوا ۔  “

انگریز تو خود شیخ محمد بن عبد الوہابؒ کی تحریک کیخلاف تھا:

انگریز کا محمد بن عبد الوھاب رحمہ اللہ کی  تحریک کے خلاف ہونے کی دلیل یہ بھی ہے کہ انہوں نے مصر کے والی ابراھیم پاشا کو محمد بن عبد الوھاب رحمہ اللہ اور ان کے ساتھیوں  کے خلاف درعیہ کی لڑائی میں کامیابی حاصل کرنے پر مبارکباد دی اور یہ مبارکباد دینے کے لیے کیپٹن فورسٹر سیڈلر کوبھیجا تھا ۔

اس پرمزید یہ کہ ان کا اس برطانوی تحریک (جو کہ انہوں نے خلیج میں اس تحریک کی دعوت کوکم کرنے لیے قائم کررکھی تھی )کے ساتھ تعاون کا میلان بھی پایا جاتا تھا ۔ بلکہ اس خط میں توحکومت برطانیہ اورابراھیم پاشا کے درمیان محمد بن عبد الوھاب رحمہ اللہ اور ان کے ساتھیوں  کے نفوذ کی مکمل سرکوبی کرنے پر اتفاق کی رغبت کا اظہار کیا گيا ہے ۔

حنفی عالم دین مولانا منظور کی گواہی :

مشہور  دیوبندی  عالم مولانا محمد منظورنعمانی صاحب کہتے ہیں :

لقد استغل الإنجليز الوضع المعاكس في الهند للشيح محمد بن عبد الوهاب ورموا كل من عارضهم ووقف في طريقهم ورأوه خطرا على كيانهم بالوهابية ودعوهم وهابيين … وكذلك دعا الإنجليز علماء ديوبند – في الهند – بالوهابيين من أجل معارضتهم السافرة للإنجليز وتضييقهم الخناق عليهم 

[دیکھیں کتاب : دعایات مکثفۃ ضد الشيخ محمد بن عبدالوھاب ص ( 105 – 106 ) ( شيخ محمد بن عبدالوھاب کے خلاف بڑے بڑے الزامات )]

”ہندوستان میں انگریز نے شیخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ تعالی کے مخالف حالات کوایک فرصت اورسنہری موقع سمجھتےہوئے اپنے مخالفین کو وھابی کہنا شروع کردیا اور اپنے خلاف اٹھنے والی تحریک کو وھابیت کا نام دیا اوراسی طرح انگريز نے علماء دیوبند کوبھی انگريز کی مخالفت کرنے کی بنا پر وھابی کہنا شروع کیا اوران پر تنگی شروع کردی ۔“

مزید لکھتے ہیں کہ :

وبهذه النقول المتنوعة ينكشف زيف هذه الشبهة وتهافتها أمام البراهين العلمية الواضحة من رسائل الشيخ الإمام ومؤلفاته كما يظهر زيف الشبهة أمام الحقائق التاريخية التي كتبها المنصفون.

[دیکھیے: دعاوی المناوئين ( 239 – 240 )]

”توان مختلف بیانات اور شیخ محمد بن عبدالوھاب کی کتب رسائل سے واضح علمی دلائل سے اس شبہ کا کھوٹا پن اور جھوٹے ہونے کا انکشاف ہوتا ہے ، اوراسی طرح انصاف پسند تاریخ دانوں کے تاریخ حقائق سے بھی اس کا باطل پن واضح ہورہا ہے۔ “

آخری بات

آخرمیں ہم شیخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ تعالی کے بارہ میں زبان درازی کرنے والے ہر شخص کو نصیحت کرتے ہیں کہ وہ اس سے باز آ جائے  اورسب معاملات میں اللہ سبحانہ وتعالی کا تقوی اورڈر اختیار کرے۔

ہوسکتا ہے اللہ تعالی اس کی توبہ قبول کرلے اوراسے سیدھے راہ کی ھدایت نصیب فرمائے۔ واللہ اعلم

Print Friendly

About alfitan

مزید دیکھئے

photo727360090787655056

موجودہ حکام اور انکے باطل نظام / ایک خارجی کی عجیب وغریب بوکھلاہٹ

موجودہ حکام اور انکے باطل نظام   ایک خارجی کی عجیب وغریب بوکھلاہٹ الشیخ ابو حذیفہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *