photo721249554916289081

غیرت کے نام پر قتل کا شرعی حکم - الشیخ صالح المنجد حفظہ اللہ تعالی

غيرت كى بنا پر قتل كا شرعی حكم

الشیخ صالح المنجد حفظہ اللہ تعالی 

سوال : ميں غيرت كى بنا پر كسى كو قتل كرنے كا حكم معلوم كرنا چاہتا ہوں، اور شرعى احكام كے مطابق اس سزا كو دینا   كس طرح ممكن ہے ؟

الجواب 

الحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی رسولہ الکریم اما بعد :

كسى مسلمان شخص كو ناحق قتل كرنا بہت عظيم اور بڑا جرم ہے.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِناً مُتَعَمِّداً فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِداً فِيهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَاباً عَظِيماً}

{ اور جو كوئى كسى مومن كو قصدا قتل كر ڈالے اس كى سزا جہنم ہے، جس ميں وہ ہميشہ رہےگا، اس پر اللہ كا غضب ہے، اور اللہ تعالى نے اس پر لعنت كى ہے، اور اس كے ليے بڑا عذاب تيار كر ركھا ہے }

[النساء : 93 ]

اور امام بخارى رحمہ اللہ نے ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما سے بيان كيا ہے كہ رسول كريم ﷺ  نے فرمايا:

( لن يزال المؤمن في فسحة من دينه ما لم يصب دما حراما ) .

” مومن اس وقت اپنے دين كى وسعت ميں ہے جب تك وہ كسى كا حرام اور ناحق خون نہيں بہاتا “

[البخارى: 6355 ]

اور پھر نبى كريم ﷺ نے بيان فرمايا ہے كہ وہ كونسے اسباب ہيں جن كى بنا پر كسى كا خون مباح ہوتا ہے، اسے بيان كرتے ہوئے فرمايا:

( لا يحل دم امرئ مسلم يشهد أن لا إله إلا الله وأني رسول الله إلا بإحدى ثلاث : النفس بالنفس ، والثيب الزاني ، والمفارق لدينه التارك للجماعة )

” جو شخص بھى گواہى دے كہ اللہ كے علاوہ كوئى معبود نہيں، اور ميں اللہ كا رسول ہوں اس مسلمان شخص كا خون بہانا حلال نہيں، ليكن تين اشياء كى بنا پر: يا تو وہ شادى شدہ زانى ہو، اور قتل كے بدلے قتل كرنا، اور دين كو ترك كرنے اور جماعت سے عليحدہ ہونے والے شخص كو “

[البخارى : 6370 ،المسلم : 3175 ]

شادى شدہ شخص كا زنا كرنا ايك ايسا سبب ہے جس كى بنا پر اس كا قتل مباح ہو جاتا ہے، ليكن زانى كو اس وقت تك قتل نہيں كيا جا سكتا جب تك دو شرطيں نہ پائى جائيں:

پہلى شرط:

وہ شخص شادى شدہ ہو ” محصن ” ( اوپر كى حديث ميں اس كا بيان ہوا ہے ) اور علماء كرام نے الاحصان كا معنى بيان كيا ہے:

زكريا انصارى رحمہ اللہ اس كا معنى بيان كرتے ہوئے كہتے ہيں:

المحصن: ہر وہ مرد يا عورت جو مكلف اور آزاد ہو جس نے صحيح نكاح كے بعد وطئى اور ہم بسترى كى ہو ” انتہى مختصرا.

[ديكھيں: اسنى المطالب : 4 / 128]

اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

” احصان كى پانچ شروط ہيں:

1 – جماع.

2 – صحيح نكاح ميں ہو.

3 – بالغ ہو.

4 – عاقل ہو.

5 – آزاد ہو. انتہى.

[ديكھيں: الشرح الزاد ، طبعہ مصريہ : 6 / 120]

دوسرى شرط:

اس پر چار گواہوں كى گواہى سے حد ثابت ہو جائے اور وہ گواہى شرمگاہ كو شرمگاہ ميں ديكھنے كى گواہى ديں، يا پھر وہ خود اپنے اختيار سے بغير كسى جبر كے اعتراف كر لے.

اور جب اس پر حد ثابت ہو جائے تو پھر لوگوں ميں سے كسى بھى شخص كے ليے جائز نہيں كہ خود بخود ہى اس پر حد لاگو كر دے، بلكہ اس كے ليے حكمران يا اس كے نائب سے رجوع كرنا واجب ہے، چاہے وہ نائب معاملات پورے كرنے يا حد كى تنفيذ ميں نائب ہو، كيونكہ رعايا ميں سے كسى ايك شخص كا خود ہى حد لاگو كرنا بد نظمى اور فساد كا باعث ہو اور ہر كوئى اٹھ كر دوسرے كو قتل كرتا پھرےگا.

 

ابن مفلح حنبلى كہتے ہيں:

“تحرم إقامة حد إلا لإمام أو نائبه”

” امام يا نائب كے علاوہ كسى اور كے ليے حد لاگو كرنا حرام ہے “

[ الفروع : 6 / 63 ]

اور فقھاء اسلام ميں اس پر اتفاق پايا جاتا ہے، جيسا كہ الموسوعۃ الفقھيۃ ميں درج ہے:

“يتفق الفقهاء على أن الذي يقيم الحد هو الإمام أو نائبه ، سواء كان الحد حقا لله تعالى كحد الزنى ، أو لآدمي كحد القذف” انتهى .

” فقھاء اس پر متفق ہيں كہ امام يا اس كا نائب ہى حد لاگو كريگا، چاہے وہ حد اللہ كے حق مثلا زنا ميں ہو، يا پھر آدمى كے حق ميں حد ہو مثلا حد قذف “ انتہى.

[الموسوعۃ الفقھيۃ : 5 / 280]

اور ايسا جرام كے مرتكب پر پردہ ڈالنا تا كہ وہ موت سے قبل توبہ كر لے اسے ذليل كرنے اور اس كے عيب كو ظاہر كرنے سے بہتر ہے، كيونكہ رسول كريم ﷺ كے سامنے جب ماعز اسلمى رضى اللہ تعالى عنہ نے زنا كا اعتراف كيا تو آپ ﷺ نے اس سے اعراض كر ليا، اور اسے چھوڑ ديا، حتى كہ ماعز نے كئى بار سامنے آ كر ايسا كيا تو رسول كريم ﷺ نے اس پر حد لاگو كى.

اس بنا پر؛ جسے لوگ غيرت كى بنا پر قتل كا نام ديتے ہيں يہ زيادتى اور ظلم ہے، كيونكہ اس ميں اسے بھى قتل كيا جا رہا ہے جو قتل كا مستحق نہ تھا، جب كنوارى لڑكى زنا كرتى ہے تو غيرت سے اسے بھى قتل كر ديا جاتا ہے حالانكہ اس كى شرعى سزا تو ايك سو كوڑے اور ايك سال جلاوطنى ہے، نہ كہ اس كى سزا قتل تھى.

كيونكہ نبى كريم ﷺ  كا فرمان ہے:

( البكر بالبكر جلد مائة وتغريب عام )

” جب كنوارہ كنوارى لڑكى سے زنا كرے تو ايك سو كوڑے اور ايك برس جلاوطنى ہے “ 

[المسلم]

چنانچہ جس نے اسے قتل كيا تو اس نے ايك مومن نفس اور جان كو قتل كيا جس كا قتل اللہ نے حرام كيا تھا.اور اس سلسلہ ميں شديد قسم كى وعيد بھى آئى ہے كيونكہ سورۃ الفرقان ميں اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ ۚ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ يَلْقَ أَثَامًا (68) يُضَاعَفْ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَخْلُدْ فِيهِ مُهَانًا (69) 

{ اور وہ لوگ اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو نہین پکارتے اور نہ اس جان کو قتل کرتے ہیں جسے اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ اور نہ زنا کرتے ہیں اور جو یہ کرے گا وہ سخت گناہ کو ملے گا }.

{ اسے قيامت كے روز دوہرا عذاب ديا جائيگا، اور وہ ذلت و خوارى كے ساتھ ہميشہ اسى ميں رہيگا }

[الفرقان 68 – 69]

آخری بات : 

اور اگر يہ فرض كر ليا جائے كہ يہ قتل كى مستحق تھى ( اگر شادى شدہ عورت زنا كرے تو ) تو پھر بھى اس حد كو صرف حكمران ہى جارى كر سكتا ہے ـ جيسا كہ اوپر بيان ہوا ہے ـ پھر بہت سارے حالات ميں يہ قتل صرف شبہ اور گمان كى بنا پر ہى كيا جاتا ہے، اور كسى بھى قسم كى تحقيق نہيں كى جاتى كہ آيا زنا ہوا بھى ہے يا نہيں۔  واللہ اعلم بالصواب