مرکزی صفحہ » عصرِحاضر کی تحریکیں » داعش » داعشی کمانڈر حافظ سعید خان کون تھا ؟

داعشی کمانڈر حافظ سعید خان کون تھا ؟

image_pdfimage_print

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسولہ الکریم اما بعد !

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:‏‎ ‎

سَيَخْرُجُ أُنَاسٌ مِنْ أُمَّتِي مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ يَقْرَءُوْنَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، کُلَّمَا خَرَجَ مِنْهُمْ قَرْنٌ ‏قُطِعَ کُلَّمَا خَرَجَ مِنْهُمْ قَرْنٌ قُطِعَ حَتَّی عَدَّهَا زِيَادَةً عَلَی عَشْرَةِ مَرَّاتٍ، کُلَّمَا خَرَجَ مِنْهُمْ قَرْنٌ قُطِعَ حَتَّی ‏يَخْرُجَ الدَّجَّالُ فِي بَقِيَّتِهِمْ

[مسند أحمد بن حنبل، 2 : 198، رقم : 6871،8‏]

‎’’‎میری امت میں مشرق کی جانب سے کچھ ایسے لوگ نکلیں گے جو قرآن پڑھتے ہوں گے لیکن وہ ‏ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا اور ان میں سے جو بھی شیطانی گروہ جوں ہی نکلے گا وہ (حکام کی ‏جانب سے) ختم کر دیا جائے گا۔ ان میں سے جو بھی شیطانی گروہ جوں ہی نکلے گا (حکام) ان کا خاتمہ کر ‏دیں گے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں ہی دس دفعہ سے بھی زیادہ بار دہرایا اور ‏فرمایا:‏

” ‎ان میں سے جو بھی شیطانی گروہ جب بھی نکلے گا اسے کاٹ دیا جائے گا یہاں تک کہ ان ہی کی باقی ‏ماندہ نسل میں دجال نکلے گا۔‎‘‘‎

اسی سے جڑی ایک کڑی حافظ سعید خان ہے جو کہ خارجی تنظیم داعش کی جانب سے خراسان کا گورنر مقرر کیا ہوا تھا امریکی وزارت دفاع ’’پینٹاگان‘‘ نے پاکستان اور افغانستان میں سرگرم دولت اسلامی ’’داعش‘‘ کے سربراہ سعید خان کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے۔ محکمہ دفاع کا کہنا ہے کہ ’ولایت خراسان‘ کے سربراہ سعید خان کو فضائی حملے میں ہلاک کیا گیا ہے۔

پینٹا گان کے ڈپٹی ڈائریکٹر اطلاعات گورڈن ٹروبریڈگ کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں العربیہ ڈاٹ نے بتایا کہ سعید خان کو جنوبی افغانستان کے صوبہ ننگر ہار میں امریکا اور افغان فوج کی مشترکہ کارروائی کے دوران ہلاک کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ولایت خراسان کےسربراہ کو 26 جولائی کو ننگر ہار کے علاقے اشین میں حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے مقتول داعشی کمانڈرکے حالات زندگی اور اس کی عسکری کارروائیوں سے متعلق ایک رپورٹ میں روشنی ڈالی ہے۔

ابتدائی زندگی

حافظ سعید خان سن 1972ء کو پاکستان کے زیر انتظام قبائلی علاقے ’’اورکزئی ایجنسی‘‘ میں پیدا ہوا۔ ابتدائی تعلیم ایک مقامی مذہبی رہنما کے مدرسے ’’مکتب خانہ‘‘ سے حاصل کی۔ بعد ازاں مزید دینی تعلیم کی تکمیل نے شمال مغربی پاکستان کے قبائلی علاقے ہنگو میں دارالعلوم الاسلامیہ میں داخلہ لیا۔

مدرسہ دارالعلوم الاسلامیہ تحریک طالبان پاکستان کے موجودہ ترجمان شاہد اللہ شاہد  کی وجہ سے بھی شہرت حاصل کرچکا ہے۔ تعلیم کی تکمیل کے بعد سعید خان نے شادی کی۔ اس وقت اس کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔

تحریک طالبان پاکستان کا قیام

سنہ 2001ء میں نائن الیون حملوں کے بعد جب امریکا افغانستان میں طالبان حکومت پر ٹوٹ پڑا  تو طالبان عناصر بھی منتشر ہوگئے۔ اس وقت سعید خان تحریک طالبان افغانستان میں شامل تھا ۔ امریکی یلغار کے بعد اس نے افغانستان میں امریکی قبضے کے خلاف مسلح تحریک شروع کردی۔

وہ دو سال تک افغانستان میں مقیم رہا تاہم بعد ازاں اپنے کچھ دیگر ساتھیوں کے ہمراہ دو بار پاکستان آگیا  اور تحریک طالبان پاکستان [ٹی ٹی پی] کی بنیاد رکھی۔

سعید خان کو تحریک طالبان پاکستان کے اہم ترین بانی اراکین میں شمار کیاجاتا تھا۔ انہوں نے تنظیم کے قیام کے بعد اپنے آبائی علاقے اورکزئی ایجنسی میں تحریک کی ذمہ داری بھی سنبھالی ۔ بیت اللہ محسود کو طالبان تحریک کا سربراہ مقرر کرنے میں بھی حافظ سعید اور اس کے ساتھیوں کا اہم کردار رہا۔ بیت اللہ محسود نے سعید خان کو تحریک طالبان کی شوریٰ کا رکن اور بعدازاں اورکزئی ایجنسی کا کمانڈر تعینات کیا۔

طالبان میں اختلافات

بیت اللہ محسود کی امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد طالبان کی قیادت کے معاملے پر طالبان کمانڈروں میں اختلافات پیدا ہوئے جس کے نتیجے میں تنظیم دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔ ایک گروپ نے فقیر محمد حکیم محسود کی قیادت میں تنظیم قائم کی اور دوسرے نے ولی الرحمان گروپ کی حمایت شروع کردی۔ دونوں کمانڈر محسود قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ حافظ سعید خان بھی ولی الرحمان گروپ میں شامل ہو گیا۔ نومبر 2013ء کو حکیم اللہ محسود بھی امریکا کے ایک ڈرون حملے میں مارا گیا۔

حکیم اللہ کے قتل کے بعد تحریک طالبان کی قیادت کے حوالے سے کمانڈروں میں ایک نئی دوڑ اور مقابلہ شروع ہوگیا ایک گروپ نے حافظ سعید خان کو طالبان تحریک کا قاید منتخب کرنے کی کوشش کی تاہم آخر کار قرعہ فال ملا فضل اللہ کے نام نکلا۔

اعتماد کا فقدان اور داعش کی بیعت

طالبان تحریک میں ہونےوالی ٹوٹ پھوٹ اور کمانڈروں کے باہمی مفادات نے حافظ سعید خان کے راستے جدا کردیے۔ حافظ سعید خان کی تحریک طالبان سے علیحدگی کا ایک بڑا سبب اس کا پاکستان اور افغان حکومتوں کے ساتھ بات چیت کی سخت مخالفت بھی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ افغان اور پاکستان طالبان تحریکوں کو دونوں ملکوں کی حکومتوں سے کسی قسم کی بات چیت نہیں کرنی چاہیے۔

یہی وجہ ہے کہ حافظ سعید خان کا تحریک طالبان پاکستان سے اعتماد اٹھ گیا اور اس نے 15 اکتوبر سنہ 2014ء کو پانچ دیگر طالبان کمانڈروں کے ہمراہ طالبان تحریک سے علیحدگی  اختیار کر لی  اور جنوری سنہ 2015ء کو داعشی خلیفہ ابو بکر البغدادی کے ہاتھ پر بیعت کا اعلان کردیا اور ساتھ ہی ’’ولایت خراسان‘‘ کے نام پاکستان، بھارت، افغانستان اور بنگلہ دیش کے علاقوں پر مشتمل داعش کی تشکیل کا اعلان کیا۔

جنوری 2015ء کو داعش کے ترجمان ابو محمد العدنانی کی طرف سے ایک ویڈیو فوٹیج جاری کی گئی جس میں کہا گیا کہ ’’ولایت خراسان‘‘ اب داعش کا حصہ ہے۔

ترجمان نے کہا کہ ولایت خراسان تنظیم کے تمام جہادیوں نے ان شرائط اور ضوابط کو تسلیم کرلیا ہے جو داعش پیش کرتی ہے۔ انہوں نے ’’امیر المؤمنین [داعشی خلفیہ] ابو بکر البغدادی کے ہاتھ پر بیعت کی ہے۔ البغدادی نے ان کی بیعت قبول کرلی ہے۔ وہاں سے پاکستان اور افغانستان میں داعش کی سرگرمیوں کا آغاز ہوا۔

داعش کی جانب سے حافظ سعید خان کو والی خراسان[گورنر خراسان] مقرر کیا اور عبدالرؤف خادم المعروف ابو طلحہ کو ان کا نائب مقرر کیا گیا۔

حافظ سعیدخان  کا انجام

جمعہ 12 اگست 2016ء کو پاکستان میں افغان سفیر عمر زخیل وال نے اعلان کیا کہ داعش کے سربراہ حافظ سعید خان کو ایک کارروائی میں ہلاک کردیا گیا ہے۔

انہوں نے تصدیق کی کہ ولایت خراسان کے نام سے مشہور ہونے والی داعش کی ذیلی تنظیم کے سربراہ حافظ سعید خان کو اس کے متعدد ساتھیوں سمیت افغان صوبے ننگر ہار میں 26 جولائی کو امریکا کے ایک بغیر پائلٹ ڈرون طیارے کے ذریعے نشانہ بنایا گیا جس میں وہ ہلاک ہو گئے ہیں۔

افغان سفیر کے بیان پرایک روز تک امریکا اور افغان حکومت خاموش رہی تاہم گزشتہ روز امریکی محکمہ دفاع نے بھی افغان سفیر کے دعوے کی تصدیق کردی ہے۔

بشکریہ العربیہ 

Print Friendly

About alfitan

مزید دیکھئے

whatsapp-image-2016-12-04-at-11-58-09-am

رحمت اور تلوار کو خلط ملط نہیں کیا جا سکتا

رحمت اور تلوار کو خلط ملط نہیں کیا جا سکتا   الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام …

3 رائے

  1. حذیفہ شاہین

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیا ہمیں خوارج کے حوالے سے کتابوں کے لنک مل سکتے ہیں جس سے خوارج کے عقائد ان کی تاریخ سمجھنے میں آسانی ہو

  2. Khuwarij PR Jo jasbati bayan he YouTube PR is molana ka name kya he

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *