مرکزی صفحہ » عصرِحاضر کی تحریکیں » داعش » داعش کا جہاد فساد کیوں ہے ۔۔۔ ؟؟؟

داعش کا جہاد فساد کیوں ہے ۔۔۔ ؟؟؟

image_pdfimage_print

مرتدوں سے قتال کفار سے قتال سے زیادہ ضروری ہے۔

ایک اعتراض : 

                مرتدوں سے قتال کفار سے قتال سے زیادہ ضروری ہے۔کیونکہ فرمان باری تعالیٰ ہے: ‹ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قَاتِلُوا الَّذِيْنَ يَلُوْنَكُمْ مِّنَ الْكُفَّارِ وَلْيَجِدُوْا فِيْكُمْ غِلْظَۃً۝۰ۭ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللہَ مَعَ الْمُتَّقِيْنَ۝۱۲۳›

                اے ایمان والو ! ان کافروں سے جنگ کرو جن کا علاقہ تمہارے ساتھ ملتا ہے۔ اور ان کے ساتھ تمہیں سختی سے پیش آنا چاہئے اور یہ جان لو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔ [التوبۃ: 123]

                اسی لیے اصلی کفار سے پہلے مرتد جہادی تنظیموں اور اسلامی حکومتوں خصوصاً عربی حکومتوں سے قتال زیادہ ضروری ہے۔

جواب 

پہلی بات: 

                کسی بھی مخصوص شخص یا جماعت پر مرتد کا حکم لگانے سے پہلے ضروری ہے کہ تکفیر کی شرائط پوری کی جائیں اور موانع کو ختم کیا جائے۔

                داعش اپنے مخالفین کو غیر کفریہ کاموں کی وجہ سے بھی کافر ومرتد قرار دے دیتی ہے۔ تکفیر میں غلو  اور اس مسئلہ میں اہل سنت کے منہج سے روگردانی کرنا اور اصل جہاد کے چہرے کو مسخ کرتے ہوئے فساد برپا کرنا داعش کا وطیرہ بن چکا ہے اور کوئی بندہ بھی اس سےناواقف نہیں ہے ۔  

                یہ شبہ خوارج کی ذہنی اپج اور غلو کی پیداوار ہے۔ کیونکہ یہ لوگ مسلمانوں کو ان کے مرتد ہونے کا دعویٰ کرکے قتل کرتے ہیں۔ یہ ویسے ہی ہیں جیسے ان کے بارے میں رسول اللہﷺ نے فرمایا تھا کہ ’’مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو کچھ نہیں کہیں گے۔‘‘ اس مسئلہ میں ان کی غلط فہمی نے انہیں غلو میں مبتلا کردیا ہے۔

یہ ان کا پرانا منہج ہے۔ امام ابن تیمیہ﷫ فرماتے ہیں:  فانھم یستحلون دماء اھل القبلۃ لاعتقادھم انھم مرتدون اکثر مما یستحلون من دماء الکفار الذین لیسوا مرتدین  ([1])

’’خوارج مسلمانوں کو مرتد سمجھ کر غیر مرتد کفار سے زیادہ قتل وغارت کا نشانہ بناتے ہیں۔ ‘‘

  • تکفیر کی چار شرائط ہیں:

①          کتاب وسنت کے دلائل کی بناء پر کسی قول وفعل، عقیدہ  کو اختیار کرنے یا ترک کرنے کے کفر ہونے کا ثبوت۔

②          جس کی تکفیر کی جارہی ہے، اس کے وہ کام کرنے کا ثبوت۔

③          اس پر حجت قائم کردی گئی ہو۔

④          اس میں کوئی موانع تکفیر نہ پایا جاتا ہو۔

  • موانع تکفیر درج ذیل ہیں:

       جہالت:   جس قول وفعل یا عقیدہ کی بناء پر اس کی تکفیر کی جارہی ہے، اسے معلوم ہی نہ ہو کہ یہ کفر ہے اور شریعت کے خلاف ہے۔

سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ شام سے واپس آئے تو انہوں نے نبی کریم ﷺ کو سجدہ کرنے کی اجازت طلب کی تو نبی کریم ﷺ نے ان کی تکفیر نہ کی بلکہ ان کو سمجھایا کہ سجدہ صرف اور صرف اللہ کے لئے ہے ، غیر اللہ کے لئے سجدہ جائز نہیں ہے ۔ ([2])

       خطاء:       کفریہ قول وفعل کا ارتکاب غلطی سے ہوجائے۔اس قاعدے کی اصل اللہ عزوجل کا فرمان ہے :  ‹ رَبَّنَا لاَ تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا۝›

            ” اے ہمارے رب اگر ہم بھول جائیں یا خطا کر جائیں تو ہم سے مؤاخذہ نہ کر “ [البقرۃ: 286]

اور ایک حدیث میں آتا ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا ہے «إن اللہ تجاوز عن امتي الخطأ والنسیان» میری امت سے خطا اور نسیان کو اللہ تعالى نے معاف فرمایا ہے۔ یعنی بھول کر، جہالت کے ساتھ کوئی بندہ اگر کفریہ کام کرلیتا ہے تو اس کا مؤاخذہ نہیں کیا جائے گا۔

       زبردستی: کوئی اس سے زبردستی کفریہ قول یا فعل کا ارتکاب کروائے اور اس کے پاس اسے کیے بغیر کوئی چارہ نہ ہو۔ یہ قاعدہ قرآن کی اس آیت سے لیا گیا ہے۔

اللہ سبحانہ وتعالی کا ارشاد گرامی ہے : ‹ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ  ۝›

” سوائے اس کے جسے (کفرپہ) مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو  “ [النحل: 106]

       تاویل:    وہ شخص کسی شبہ کی بنیاد پر کفریہ کام کو حق اور درست سمجھ کر سرانجام دے رہا ہو۔جیسا کہ ایک صحابی قدامہ بن مظعون نے قرآن پاک کی آیت کریمہ ‹ لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ  فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوْا وَآمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَآمَنُوا ثُمَّ اتَّقَوْا وَأَحْسَنُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ ۝› “ان لوگوں پر جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے اس چیز میں کوئی گناہ نہیں جو وہ کھا چکے ، جب کہ وہ متقی بنے اور ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے ، پھر متقی بنے اور انہوں نے نیکی کی اور اللہ نیکی کرنے والوں سےمحبت کرتا ہے ۔ ” کو دلیل بناتے ہوئے شراب کو حلال سمجھ کر پی لیا ۔

لیکن جب ان کا معاملہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ تک پہنچا اور صحابہ کرام سے مشورہ ہوا تو عمر فاروق اور علی مرتضی رضی اللہ عنھما اور دیگر علماء صحابہ نے متفقہ فیصلہ یہ جاری کیا کہ انہیں بتایا جائے کہ ان کا یہ استدلال درست نہیں اور پھر انہیں پوچھا جائے اگر یہ شراب کی حرمت کا اقرار کرتے ہیں تو ان پر حد نافذ کی جائے گی یعنی (80) کوڑے اور اگر یہ شراب کے حلال ہونے پر ہی مصر رہے تب انہیں مرتد ہونے کی وجہ سے قتل کیا جائے گا ۔

                آپ ملاحظہ کیجیے کہ صحابہ کرام تکفیر تو دور کی بات کبیرہ گناہ کی سزاؤں میں بھی تاویل کو مدنظر رکھتے تھے ۔

                داعش نے جو  تکفیر  کی ،وہ ان اوپر بیان کی گئی شرائط  اور موانع سے خالی ہے۔ زیادہ تر ان کے کفر وارتداد اور کفار کی ایجنٹی کے فتوے شبہ اور غلو پر مبنی ہوتے ہیں۔ یا کسی کے قول وفعل سے لازم آنے والی چیز سے جڑے ہوتے ہیں۔ جبکہ یہ ساری وجوہات غلط اور باطل ہیں۔

                داعش کی شرعی کمیٹی کا الجبھۃ الإسلامیۃ اور اس کے رہنماؤں کے بارے میں فرمان اسی سوچ کا آئینہ دار ہے۔ کمیٹی کا بیان ہے: ’’الجبھۃ الإسلامیۃ کے امراء نے اپنی جماعت کے قیام سے پہلے بھی اور بعد میں بھی کفریہ کاموں کا ارتکاب کیا ہے۔ ان میں سب سے خطرناک کام مذہب ِ کفار کو صحیح کہنا اور اسے برقرار رکھنا ہے۔ اس کے علاوہ کفریہ کمیٹی کی سربراہی مرتدوں کو سونپ رکھی ہے اور یہ کمیٹی قومی اتحاد کے زیر کنٹرول ہے۔‘‘

                علم رکھنے والے ہر شخص کے نزدیک یہ گفتگو درج ذیل وجوہات کی بناء پر بالکل باطل ہے:

1۔           جہادی تنظیموں کی تکفیر کی بنیاد قومی اتحاد اور جنرل اسمبلی کی تکفیر پر ہے اور یہ بنیاد ہی ثابت نہیں۔ بلکہ اس میں عام مسلمانوں کا بھی اختلاف ہے۔ اگر کسی نے یہ بات کہی بھی ہے تو زیادہ سے زیادہ یہ اجتہاد کے قابل ظنی چیز ہے۔اور جو چیز خود ایسی ہو، اس پر کسی دوسرے کی تکفیر کی بنیاد نہیں رکھی جاسکتی۔

                کیونکہ یہ قاعدہ کہ ’’جو کسی کافر کی تکفیر نہ کرے، یا اس کے کفر میں شک کرے یا اس کے مذہب کو صحیح مانے تو وہ خود کافر ہے۔‘‘ قطعی کفر کے بارے میں ہے۔ ایسا شخص یا تو اصلی کافر ہوتا ہے یا شرائط کی موجودگی اور موانع کی عدم موجودگی کی بناءپر اتفاقی طور پر مرتد قرار دیا گیا شخص ہوتا ہے۔

                قاضی عیاض﷫ لکھتے ہیں: ’’جو شخص غیر مسلموں کی تکفیر نہیں کرتا یا اس میں توقف کرتا ہے یا شک کرتا ہے یا ان کے مذہب کو صحیح قرار دیتا ہے تو ایسے شخص کی ہم تکفیر کرتے ہیں اگرچہ وہ اسلام کا اظہار کرے اور دیگر مذاہب کے باطل ہونے کا عقیدہ رکھے کیونکہ جو شخص غیر مسلموں کی تکفیر نہیں کرتا، وہ خود کافر ہے۔‘‘

                پھر انہوں نے اس کا سبب بیان کرتے ہوئے کہا: ’’کیونکہ ان غیر مسلموں کے کفر پر نص اور اجماع موجود ہے۔ جو اس بارے میں توقف کرتا ہے وہ نص کو جھٹلاتا ہے۔‘‘ ([3])

                لیکن اتفاقی طور پر مرتد قرار دیے جانے والے معین شخص کی تکفیر نہ کرنے والے کی تکفیر  پر یہ قاعدہ فٹ نہیں بیٹھتا۔ کیونکہ کسی معین شخص پرارتداد کا حکم قطعی نہیں ہوتا اور نہ اس پر اجماع ہوتا ہے اور نہ اس میں کتاب وسنت کی تکذیب ہوتی ہے۔ بلکہ یہ صرف اجتہاد ہوتا ہے جو درست بھی ہوسکتا ہے اور غلط بھی۔

                لہٰذا’’جو کسی کافر کی تکفیر نہ کرے، یا اس کے کفر میں شک کرے یا اس کے مذہب کو صحیح مانے تو وہ خود کافر ہے۔‘‘ والے قاعدہ کا تعلق نصوص شرعیہ کو رد کرنے اور ان کی تکذیب کرنے سے ہے، نہ کہ بعض مسلمانوں کے کفر میں مبتلا ہونے سے ہے۔ دونوں مسئلوں میں فرق واضح ہے۔([4])

۲۔              جہادی تنظیموں کی تکفیر کی بنیاد قومی اتحاد اور جنرل اسمبلی کی تکفیر پر ہے ۔ پھر تنظیموں کی تکفیر مرتد اراکین کو عہدے دینے کی وجہ سے بھی ہے۔ بلکہ اس کے بعد انہوں نے یہ بھی کہا ہے: ’’جب جبہہ اسلامیہ کے امراء مثلاً: صدر مجلس شوریٰ ابو عیسیٰ الشیخ، عسکری قائد زہران علوش اور  سیاسی کمیٹی کے صدر حسان عبود کا ارتداد ثابت ہوچکا ہے کیونکہ انہوں نے کفریہ کاموں کا ارتکاب کیا ہے، یعنی کفار ومرتدین کو عہدے دینا اور ان کے مذہب کو صحیح کہنا وغیرہ۔ 

تو یہ بات جاننا بھی ضروری ہے کہ جو بھی ان مرتدوں کے ساتھ ان کی حالت کو جاننے کے بعد ملے  گا اور ان کے پرچم تلے قتال کرے گا، تو اس کا بھی وہی حکم ہوگا جو ان کا ہے۔ امتِ توحید میں مرتدوں اور دشمنان ِ دین کے ساتھ ملنے والوں پر اس حکم کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ ان کا وہی حکم ہے جو اُن کا ہے۔‘‘

                اس عبارت کا مقصود یہ ہے کہ جو ان کی تکفیر نہیں کرتا، وہ بھی کافر ہے۔

                یہ تکفیر کا تسلسل ہے جو تاریخ میں بدعتیوں کی طرف سے مشہور ہے۔

                ابو الحسن ملطی﷫ فرماتے ہیں: ’’پھر بغدادی معتزلہ نے بصری معتزلہ کے عقیدہ پر اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ شک کرنے والے کے بارے میں شک کرنے والا اور اس شک کرنے والے کے بارے میں شک کرنے والا اور اس شک کرنے والے کے بارے میں شک کرنے والا، لا محدود  چلتے جائیں، سبھی کافر ہیں  اور ان کا وہی حکم ہے جو اولین شک کرنے والےکا ہے۔‘‘ ([5])

                عبد القاہر بغدادی ﷫ نے کسی معتزلی کا قول نقل کیا ہے کہ: ’’کسی شک کرنے والے کے کفر میں شک کرنے والا خود کافر ہے۔ اسی طرح اس شک کرنے والے کے کفر میں شک کرنے والا بھی کافر ہے  اور یہ سلسلہ اسی طرح لامحدود چلتا جائے گا۔‘‘ ([6])

                پھر کسی قدری مرجئی کا قول نقل کیا ہے کہ: ’’فلاں مسئلہ میں شک کرنے والا کافر ہے اور اس شک کرنے والے میں شک کرنے والا کافر ہے اور اسی طرح ابد تک یہ معاملہ چلتا جائے گا۔‘‘ ([7])

۲۔           اس مسئلہ میں داعش نے جن نصوص سے استدلال کیا ہے، وہ اصلی کافروں کے بارے میں ہیں، نہ کہ کسی کافر کی تکفیر نہ کرنے والے بارے میں۔

                داعش نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے: ’’جب قومی اتحاد اور جنرل اسمبلی کا حکم معلوم ہوگیا  تو ہمارے نزدیک وہ پہلا تضاد بھی واضح ہوگیا جسے جبہہ اسلامیہ کے امراء نے خلط ملط کردیا تھا یعنی جبہہ کے امراء کا مرتدوں کو عہدوں سے نوازنا اور ان کے کفریہ کاموں کی موافقت کرنا کیونکہ وہ ان کی جنرل اسمبلی کے رکن تھے ، چاہے وہ براہ ِ راست بذات خود کام کررہے تھے مثلاً: ابو عیسیٰ الشیخ، زہران علوش یا بالواسطہ جیسے حسان عبود، جس کا کردار  ابو زبیر عبد الفتاح عروب ادا کرتا تھا۔ یہ چیز حسان کے علم میں تھی اور اس کی موافقت کے ساتھ ہورہا تھا، لہٰذا اس کا بھی وہی حکم ہے جو براہ ِ راست کام کرنے والوں کا ہے۔

                اور ہر وہ شخص جو رکن بنتا ہے یا ان کی مدد کرتا ہے یا ان کے جھنڈے تلے لڑتا ہے  تو اس کا اور ان کا حکم ایک برابر ہے۔ فرمان الٰہی ہے: ‹وَمَنْ يَّتَوَلَّہُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّہٗ مِنْہُمْ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ لَا يَہْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِــمِيْنَ۝۵۱›

                اگر تم میں سے کسی نے ان کو دوست بنایا تو وہ بھی انہیں سے ہے۔ یقیناً اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔ [المائدۃ: 51]

                یہ ساری گفتگو بالکل باطل ہے کیونکہ یہ آیت ایسے کفار سے دوستی لگانے کے بارے میں نازل ہوئی ہے جن کا کفر قطعی طور پر ثابت ہو۔ لیکن جس پر ارتداد کی تہمت ہو، اس سے دوستی کفر نہیں ہے!

                چہ جائیکہ ان تنظیموں کی تکفیر درست ہو یا صرف دوستی کی بنیاد پر تکفیر  درست ہو۔([8])

۳۔           قومی اتحاد یا جنرل اسمبلی سے تعلق کو دوستی سمجھنا سخت ترین جہالت  ہے کیونکہ ثابت شدہ مرتد سے تعلق اس کے ارتداد سے موافقت یا رضامندی کی دلیل نہیں ہوتا۔ بلکہ اہل علم نے مرتد سے تعلق، خرید وفروخت اور دیگر معاملات کے بارے میں گفتگو کی ہے۔

                زیادہ سے زیادہ جہادی تنظیموں کا یہی قصور بن سکتا ہے کہ وہ قومی اتحاد اور جنرل اسمبلی سے تعلق رکھے ہوئے ہیں جبکہ وہ کئی واضح طور پر کہہ چکی ہے کہ ہمیں ان کا خلافِ اسلام کوئی بھی حکم منظور نہیں ہے۔ بلکہ آخر میں تو یہ ہوا کہ  اسمبلی کے اراکین کی طرف سے خروج ہوا اور اتحاد کے اعتراف سے ہاتھ اٹھا لیا گیا! ([9])

دوسری بات:

                یہ خیال کہ مرتدوں سے قتال اصلی کفار سے قتال سے زیادہ ضروری ہے اور اس پر سورت توبہ کی آیت سے استدلال غلط ہے۔ اس آیت میں ان کےلیے کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔ اس سے ان کا استدلال غلط فہمی پر مبنی ہے۔

                آیت سے مراد ملک فتح کرنے اور اسلام کی نشر واشاعت کےلیے کفار ومشرکین سے جہاد کا حکم ہے۔ اس میں تو سارے ملک برابر تھے۔ اس لیے حکم دیا کہ پہلے قریب والوں سے نمٹ لو۔ گویا یہ مسلمانوں کو حکم ہے کہ ان میں سے ہر قوم اپنے قریب  والے کفار سے جہاد کرے۔

                امام ابن کثیر﷫ لکھتے ہیں: ’’اللہ تعالیٰ نے مؤمنین کو حکم دیا ہے کہ کافروں سے لڑو تو پہلے ان لوگوں سے لڑو جو مرکز اسلام سے قریب تر ہیں۔ اسی لیے نبی کریمﷺ نے مشرکین سے جنگ شروع کی تو جزیرۃ العرب سے ابتداء کی۔ مکہ، مدینہ، طائف، یمن، یمامہ، خیبر، حضر موت غرضیکہ جزیرۃ العرب کے اور دوسرے ممالک کو پہلے فتح کرلیا اور مسلمان بنا لیا اور عرب کے قبائل دین اسلام میں جوق در جوق شامل ہونے لگے۔ تو اب اہل کتاب سے جنگیں شروع ہونے لگیں اور روم سے جنگ کا ارادہ بن گیا۔ یہ لوگ جزیرہ عرب سے قریب رہنے والے تھے اور اس بات کی ضرورت تھی کہ دعوت اسلام کی سب سے پہلے انہی سے ابتداء ہو اور اس لیے بھی کہ وہ اہل کتاب تھے۔‘‘ ([10])

                امام قرطبی﷫ لکھتے ہیں: ’’اس کی وجہ یہ ہے کہ سب سے پہلے مقصود اہل مکہ تھے، اس لیے ان سے ابتداء کرنا متعین ہوگیا۔ پھر جب مکہ فتح ہوگیا  تو قتال ان سے قریب تر لوگوں سے ہوا جو تکلیف دیتے تھے۔ یہاں تک کہ دعوت عام ہوگئی اور کلمہ حق ہر طرف پھیل گیا اور کوئی کافر باقی نہ بچا۔‘‘ ([11])

                سارے مفسرین اور اہل علم نے یہی بات کی ہے۔ اگر طوالت کا ڈر نہ ہوتا تو ہم سب کی گفتگو یہاں نقل کردیتے۔ صاحب ِ ذوق اس آیت کی تفسیر مختلف تفاسیر میں دیکھ لیں۔

                لہٰذا اس آیت میں:

1۔           مرتدوں سے قتال کی بات نہیں ہورہی، بلکہ یہ کفار سے قتال کی نص ہے۔

2۔           اس میں ایسا کوئی اشارہ نہیں ہے کہ دوسروں سے پہلے دشمنوں سے قتال کی ابتداء کی جائے۔

                خلاصہ کلام یہ ہے کہ داعش نے احکام تکفیر میں بہت ٹھوکریں کھائی ہیں۔ اس نے جہالت وغلو کی بناء پر مسلمانوں کی تکفیر کی اور انہیں مرتد ٹھہرایا اور پھر اسی کی بناء پر ان کی جان ومال کو لوٹنا حلال سمجھ لیا۔ حالانکہ اصل غلطی ان کی اپنی تھی کہ انہوں نے اپنے غالی عقائد کی بناء پر اصلی کافر جیسے دشمن سے قتال کی نصوص کو اپنے بنائے ہوئے مرتدوں پر فٹ کردیا۔

ماخوذ از : شبھات تنظیم الدولۃ وانصارہ والرد علیھا 

حاشیہ : 

([1])           الفتاویٰ: 28/497

([2])           سنن ابن ماجہ : 1853

([3])           الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ: 2/610

([4])           یہ بہت اہم مسئلہ ہے جس میں بہت سے غالیوں نے ٹھوکر کھائی ہے۔ مزید تفصیل کےلیے دیکھیے فتویٰ بعنوان: «ھل مقولۃ (من لم یکفر الکافر فھو کافر) صحیحۃ؟»

([5])           التنبیہ والرد علی أھل الأھواء والبدع: 1/40

([6])           الفرق بین الفِرق: 1/152

([7])           الفرق بین الفِرق: 1/193

([8])           مزید تفصیل کےلیے ملاحظہ کیجیے فتویٰ بعنوان: «ھل موالاۃ الکفار کفر بإطلاق؟» http://islamicsham.org/fatawa/1592

([9])           داعش کا خیال ہے کہ جبھۃ  الاسلامیہ کا جنرل اسمبلی سے خروج کافی نہیں ہے جب تک وہ یہ نہ مانیں کہ اسمبلی مرتد ہوچکی ہے اور ہم اس فعل سے توبہ کرچکے ہیں۔ داعش کا کہنا ہے: ’’اگر جبھۃ  الاسلامیہ کے امراء نے جنرل اسمبلی میں کام کرنا چھوڑ دیا ہے تو صرف کام چھوڑنا دائرہ اسلام میں داخلہ کےلیے کافی نہیں ہے جب تک وہ آئندہ آنے والی شرائط کو پورا نہ کریں۔ اور یہ اعلان کریں کہ  ہم نے جنرل اسمبلی میں کام کرنا صرف اس لیے چھوڑا ہے کیونکہ وہ مرتد ہوچکی ہے، کسی اور وجہ سے نہیں چھوڑا۔‘‘ یہ بات باطل ومردود ہونے میں کسی اور اشارہ کی محتاج نہیں ہے۔

([10])          تفسیر ابن کثیر: 4/237

([11])          تفسیر القرطبي: 2/350

Print Friendly

About alfitan

مزید دیکھئے

whatsapp-image-2016-12-04-at-11-58-09-am

رحمت اور تلوار کو خلط ملط نہیں کیا جا سکتا

رحمت اور تلوار کو خلط ملط نہیں کیا جا سکتا   الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *