مرکزی صفحہ » غیرزمرہ جات » داعش دشمنوں کا مقابلہ کرتی ہے اور فتح یاب ہوتی ہے

داعش دشمنوں کا مقابلہ کرتی ہے اور فتح یاب ہوتی ہے

image_pdfimage_print

داعش دشمنوں کا مقابلہ کرتی ہے اور فتح یاب ہوتی ہے

ایک اعتراض : 

                داعش رافضیوں اور نصیریوں سے لڑتی ہے۔ اس میدان میں اسے اتنی فتوحات ملی ہیں کہ ان کا انکار ممکن نہیں۔ اسی نے نصیریوں کو کمزور کیا اور انہیں شکست سے دوچار کیا۔ سب سے اہم فتح رقہ شہر میں تین ایئرپورٹس کی آزادی ہے۔ تم کیسے کہتے ہو کہ یہ صرف مسلمانوں کو قتل کرتے ہیں اور اس حدیث سے استدلال کرتے ہو کہ ” خوارج مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو کچھ نہیں کہیں گے؟”  حالانکہ انہوں نے رافضیوں اور نصیریوں سے قتال ترک نہیں کیا۔ پھر کیا ان کی فتوحات ان کے سچے مجاہد ہونے کی دلیل نہیں ہیں؟

جواب 

پہلی بات:

اس شبہ کی بنیاد نبی کریمﷺ کے مذکورہ فرمان کو صحیح طور پر نہ سمجھنے پر ہے۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ خوارج غیر مسلموں سے قتال کو آخر پر رکھتے ہیں۔ حالانکہ یہ بات شرعی طور پر درست ہے، نہ واقعاتی طور پر۔

شرعی اعتبار سے  اس طرح  کہ حدیث کا مطلب ہےکہ جب قتال کا رخ کفار کی طرف ہونا چاہیے تو وہ صرف بت پرستوں کی طرف جاتے ہیں۔ کیونکہ مستحق سے رُخ پھیر کر غیر مستحق کی طرف جانا موقع پر ان سے قتال ترک کرنے کے مترادف ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قوم لوط کے بارے میں فرمایا ہے:

‹اَتَاْتُوْنَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعٰلَمِيْنَ ۝۱۶۵ۙ وَتَذَرُوْنَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ۝۰ۭ›

کیا تم اہل عالم میں سے مردوں کے پاس جاتے ہو؟ اور تمہارے پروردگار نے تمہارے لئے جو بیویاں پیدا کی ہیں، انہیں چھوڑ دیتے ہو؟

[الشعراء: 166 – 165]

یہاں یہ بات خودبخود سمجھ میں آتی ہے کہ انہوں نے اپنی بیویوں سے تعلقات بالکل ختم نہیں کیے تھے کیونکہ اگر ایسا کرتے تو ان کی نسل آگے نہ بڑھتی۔ لیکن چونکہ وہ لوگ اپنی شہوت کو پورا کرنے کےلیے اپنی بیویوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس جاتے تھے تو اس اعتبار سے گویا وہ اپنی بیویوں کو چھوڑنے والے تھے۔

یا جس طرح شادی شدہ زانی سے کہا جاتا ہے کہ کیا تم اللہ تعالیٰ کے حلال کردہ ذریعہ کو چھوڑ کر حرام کو اپناتے ہو؟

تو جس وقت وہ  حلال کو چھوڑ کر حرام کام کرتا ہے تو اس وقت اسے حلال کو چھوڑنے والا کہا جاتا ہے حالانکہ وہ حلال کو بالکل ہی ترک نہیں کرچکا ہوتا۔

اسی وجہ سے علماء نے اس حدیث سے یہ مفہوم اخذ نہیں کیا کہ خوارج کفار سے بالکل بھی قتال نہیں کریں گے۔

امام ابن تیمیہ﷫ لکھتے ہیں: 

وَصَارُوا يُقَاتِلُونَ إخْوَانَهُمْ الْمُؤْمِنِينَ بِنَوْعٍ مِمَّا كَانُوا يُقَاتِلُونَ بِهِ الْمُشْرِكِينَ وَرُبَّمَا رَأَوْا قِتَالَ الْمُسْلِمِينَ آكَدُ وَبِهَذَا وَصَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخَوَارِجَ حَيْثُ قَالَ: «يَقْتُلُونَ أَهْلَ الْإِسْلَامِ وَيَدْعُونَ أَهْلَ الْأَوْثَانِ». ([1])

’’جس طرح خوارج کفار سے لڑیں گے، اسی طرح اپنے مؤمن بھائیوں سے بھی لڑیں گے اور بعض اوقات تو ان کے نزدیک مسلمانوں سے لڑائی زیادہ ضروری ہوگی۔ اسی وجہ سے نبی کریمﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا تھا کہ ” مسلمانوں سے لڑیں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے۔ “

المختصر  کہ خوارج مسلمانوں اور کفار دونوں سے لڑتے ہیں۔ جس طرح وہ کفار کو قتل کرنا جائز سمجھتے ہیں، اسی طرح مسلمانوں کو قتل کرنا بھی حلال سمجھتے ہیں۔ اسے بھی وہ جہاد گردانتے ہیں، بلکہ ان کے نزدیک مسلمانوں سے قتال زیادہ ضروری ہے کیونکہ وہ انہیں کافر اور مرتد سمجھتے ہیں۔

                واقعاتی اعتبار سے اس طرح کہ  تاریخ میں ہمیں ملتا ہے کہ خوارج ہمیشہ مسلمانوں اور کفار دونوں سے لڑتے رہے ہیں۔ لیکن مسلمانوں سے ان کی لڑائی زیادہ، سخت، نقصان دہ اور عقیدہ ٔتکفیر کے زیر اثر ہوتی ہے۔

                پھر نبی کریمﷺ کے فرمان: ’’وہ قتل کریں گے‘‘ میں ان کے مسلمانوں سے بغاوت اور ان کے قریب اور گھلا ملا ہونے کی وجہ سے ان پر غالب آنے کی طرف اشارہ ہے۔ بعض اوقات مسلمانوں نے انہیں پُرامن گروہ سمجھا یا ان کی ظاہری حالت سے دھوکا کھا گئے  تو یہ ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔

                تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ہر زمانہ میں خوارج مسلمانوں پر غلبہ پاکر بغیر کسی ہچکچاہٹ کے انہیں قتل کرتے رہے ہیں جیسے انہوں نے عبد اللہ بن خباب بن ارت اور ان کے اہل وعیال کے ساتھ کیا۔ اہل کتاب سے یہ صلح کرتے ہیں اور ان کے بارے میں اللہ کے ذمہ اور رسول اللہﷺ کی وصیت کا خیال رکھتے ہیں۔ ([2])

دوسری بات:

داعش کا انحصار اپنے وجود، اعمال اور  فتوحات کا دائرہ وسیع کرنے اور اپنے پیشہ ورانہ میڈیائی کاموں کے ذریعہ ڈرانے پر ہے۔ جو بہت سی نفسیاتی بنیادوں پر کھڑا ہے۔

داعش اسلامی سلطنت اور خلافت کے خواب کو شرمندہ ٔ تعبیر کرنے کی باتوں کے ذریعہ جذبات سے کھیلتی ہے۔ اس کی توجہ اس طرف ہے کہ اسے جہادی میدان میں سب سے بڑی تنظیم گردانا جائے۔ مخالفین پر حملہ کرنے، انہیں گرانے، ان پر انواع واقسام کے الزامات لگانے اور ان کے حجم اور فتوحات کو چھپانے کے باوجود یہ اکیلی ہی شرعی جہاد کررہی ہے۔تاکہ سامعین کے دلوں میں یہ بات پختہ ہوجائے کہ ان کے علاوہ اور کوئی لڑ ہی نہیں رہا۔ ([3])

                اسی طرح بڑی پختگی کے ساتھ بڑے بڑے الفاظ کا استعمال ، مثلاً: اسلامی سلطنت یا خلافت اور اسی طرح سابقہ عروج کے دور کی اصطلاحات مثلاً: گورنر اور بیت المال وغیرہ کا استعمال۔ اس کے علاوہ اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں قواعد وضوابط  کی ایسی شبہ سے بالاتر مثالی تصویر کھینچنا  کہ جس سے خوشحالی اور دین کی سربلندی نظر آئے۔

 اسی طرح ایسی چیزیں نشر کرنا جن سے طاقت اور سختی کا اظہار ہو اور مخالفین کے دلوں میں رعب بیٹھ جائے، مثلاً: انسانوں کو ذبح کرنے کی ویڈیوز، کٹے ہوئے سر،بمباری کے مناظر جن سے ان کی اصل قوت اور حجم سے بالکل مختلف تاثر ملتا ہے۔ اسی وجہ سے یہ اپنی مصنوعات کے نام ایسے زور دار رکھتے ہیں کہ جن سے دل دہل جاتے ہیں، مثلاً: «فشرد بھم من خلفھم» ’’ ان (پر کاری ضرب) کے ذریعہ ان کے پشت پناہوں کو بھگا دو۔‘‘

                اس کے بالمقابل اسے کتنی شکستوں اور نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے، اس کا نام بھی نہ لو۔ اگر کبھی غلطی سے زبان پھسل بھی جائے تو فوراً یہ کہہ کر کہ ’’جنگ تو ڈول کی طرح ہوتی ہے‘‘ نو دو گیارہ ہوجاؤ۔

                اسی میڈیائی سیاست کے ذریعہ تنظیم سینکڑوں لوگوں خصوصاً نوجوانوں کو اپنی طرف مائل کرنے میں کامیاب ہوچکی ہے۔ اسی چیز کو دیکھتے ہوئے وہ داعش کا دفاع کرتے اور اس کا پیغام عام کرتے ہیں جس سے عام لوگوں میں اس کے حجم، مددگاروں اور پیروکاروں کی تعداد کے بارے میں غیر حقیقی باتیں پھیل رہی ہیں۔ ([4])

تیسری بات:

داعش کا انحصار آسانی سے قابو میں آنے والے اور حکومتی  کنٹرول سے باہر  علاقوں میں چستی دکھانے اور اپنے وجود کو برقرار رکھنے کی پالیسی پر ہے جس سے اس کا وجود مضبوط اور فتوحات آسان ہوجاتی ہیں۔

                عراق میں داعش کا وجود صرف سنی علاقوں میں ہے۔ یہ وہی علاقے ہیں جو داعش کے ظہور سے سالوں پہلے سے عملی طور پر جہادی تحریک اور بڑی سنی مزاحمت کا گڑھ ہیں۔ داعش کو چاہیے تھا کہ اس جہادی تحریک اور مزاحمت کو شیعی علاقوں تک وسعت دیتی، لیکن اس نے ایسا نہیں کیا یا پھر اس کے اندر ایسا کرنے کی استطاعت ہی نہیں۔

یہی حال شام میں ہے کہ جن علاقوں میں داعش کے ظہور کرنے سے پہلے ہی آزادی کی تحریکیں چل رہی تھیں، انہی علاقوں میں داعش نے سر اٹھایا اور مختلف محاذوں پر مجاہدین کو دھوکا دے کر خود قبضہ کرلیا جیسے رقہ اور دیر الزور کے علاقہ میں کیا۔ یہ عمل دوسروں کی قیمت پر توسیع پر مبنی موقع پرستی اور اس عمل میں شریک یا سبقت لے جانے والوں سے جان چھڑانے کی نمائندگی کرتا ہے ۔جبکہ اس کا اعلان یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ عمل زمین کو فسادیوں سے پاک کرنے اور سچے مجاہدین کو اقتدار بخشنے کے وعدۂ الٰہی کا اظہار ہے۔

                دوسری تنظیموں کو شکست دینے کے بعد ان کے کارکنان کو پیش کش کی جاتی ہے کہ ہمارے اندر شامل ہو جاؤ۔ اس طرح شکست خوردہ فرد کو اپنا اعتبار بحال کرنے اور ایک طاقتور تنظیم کا حصہ بننے کا موقع مل جاتا ہےجس سے تنظیموں کے کارکنان کی تعداد بڑھ جاتی ہے  اور اس سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ بندہ تنظیم کو بہت پسند کرتا ہے اور اس کے منہج سے راضی ہے۔

جہاں تک داعش کی فتوحات کی بات ہے تو:

1۔           یہ بات جاننا بہت ضروری ہے کہ عراقی اور شامی فوجوں نے ابھی تک داعش سے حقیقی معنوں میں اس طرح لڑائی کی ہی نہیں جیسے دیگر تنظیموں سے کی ہے۔ یہ بات کئی اعتبار سے ثابت ہے۔

مثلاً: نصیری حکومت یہ چاہتی ہے کہ داعش مخصوص علاقوں پر وقتی طور پر اپنا کنٹرول سنبھالے رہے تاکہ داعش دیگر جہادی تنظیموں کا ، مرتدوں سے لڑائی  کی آڑ میں خاتمہ کردے اور پھرنصیری  حکومت اس کے وجود کو ان علاقوں پر حملہ کا بہانہ بنا لے  اور انہیں دہشت گردی کے خلاف جنگ کا کہہ کر اپنے تحت لے آئے یا دیگر اتحادیوں کے سپرد کردے ۔

2۔           اسی کا نتیجہ ہے کہ ابھی تک شامی حکومت اور داعش کے درمیان کوئی بڑا معرکہ بپا نہیں ہوا۔ بلکہ اس کے برعکس جن علاقوں پر داعش کا قبضہ تھا اور وہ مجاہدین اور حکومت کے زیر سایہ علاقوں کے درمیان تھے، جیسے ہی ان علاقوں سے داعش نکلی اور مجاہدین وہاں داخل ہوئے تو مجاہدین نے انہیں فتح کرلیا۔

3۔           تنظیم الدولہ نے ابھی تک اپنے کھاتے میں جن فتوحات کو ڈالا ہوا ہے، مثلاً: عراق میں چند جیلوں کو توڑنا اور شام کے شہر رقہ کے تین ایئرپورٹس پر قبضہ  تو ان کے حصول کی کیفیت ابھی تک شکوک وشبہات کی لپیٹ میں ہے۔

اب اگر ایک نظر ترکی کا سنی گروہوں کی حمایت کرنا اور واضح طور پر اس جنگ میں آنا دیکھا جائے تو اس کے نتیجے میں داعش کا جو حال ہے وہ آپ کے سامنے ہے ۔۔۔۔ جیش الحر اور دیگر سنی گروہ ترکی اور سعودیہ کے خطیر تعاون سے داعش کے گھیرا مسلسل تنگ کر رہے۔ 

صورتحال یہ ہے کہ تقریبا تمام مشہور اور بڑے بڑے لیڈر ان کے مارے جا چکے ہیں ۔۔۔۔اور اسی کے نتیجے میں داعش نے بوکھلاہٹ کا شکار ہو  کر  مجلہ دابق کا نام صرف اسی وجہ سے تبدیل کر دیا گیا کہ صوبہ حلب میں الراعی سے جرابلس تک داعش سے علاقہ فتح کر لیا گیا اور سنی گروہوں کی مسلسل پیش قدمی جاری ہے جس کا ہدف عنقریب حلب شہر کی صورتحال کو بہتر بنانے پر منتج ہو گا ۔۔۔ اور انہی علاقوں کی بیچ  میں ان کا وہ دابق نامی علاقہ بھی ہے جو داعش کے ہاتھوں سے اب نکلنے والا ہے ۔۔۔ اسی خوف کے پیش نظر انہوں نے دابق نام چھوڑ کر اب الرومیہ نام رکھ لیا ہے جسے فتح کرنا نہ ان کے نصیب میں ہو گا اور نہ ہی یہ بدنامی اٹھانی پڑے گی کہ مجلے کے نام والا علاقہ چھن گیا ۔ 

                خلاصہ کلام یہ ہے کہ داعش کی فتوحات کے بارے میں جو پروپیگنڈا جاری ہے ، وہ دراصل انہی علاقوں پر قبضہ ہے جنہیں مجاہدین نے داعش کے ظہور سے پہلے ہی آزاد کرایا ہوا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ داعش کی زیادہ تر سرگرمیاں دیگر جہادی تنظیموں کے خلاف ہی رہی ہیں۔ جبکہ نصیریوں کے خلاف اس کی لڑائی کی کوششیں ذرا بھی قابل ذکر نہیں۔

                اگر نصیری حکومت سے اس کی لڑائی ثابت ہو بھی جائے اور اس کی فتوحات مان بھی لی جائیں ، تب بھی اس سے اس کے غالی خارجی عقائدکی نفی نہیں ہوتی اور نہ اس کے دامن سے معصوم مسلمانوں کے خون کا داغ ختم ہوتا ہے۔  ([5])

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حاشیہ جات : 

([1])           الفتاویٰ الکبریٰ: 6/360

([2])           اس بارے میں داعش کا تضاد ملاحظہ ہو: انہوں نے ایک ویڈیو جاری کی جس میں اپنی ہم فکر جماعت جبہۃ النصرہ کے ایک کارکن کو قتل کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے کیونکہ ان کے بقول وہ ان کے ہاتھ توبہ کرنے سے پہلے آگیا تھا، اس لیے اس کی توبہ قبول نہیں کی گئی۔ جبکہ ایک اور ویڈیو میں انہوں نے ایک نصیری کو قید کرنے کے بعد اس کی توبہ قبول کرنے کا اعلان کیا۔ اور یہ معاملہ کئی دفعہ سامنے آچکا ہے۔

([3])           اگر شام میں جہاد کے دوران نصیریوں کے ہونے والے نقصان کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ داعش کے ظہور سے پہلے جہادی تنظیمیں 70000 فوجیوں کو مار چکی تھیں جن میں 30000 نصیری تھے۔  3700 ٹینک اور دیگر عسکری ہتھیار تباہ کرچکے تھے۔ 100 طیارے مار گرائے تھے۔ اس کے علاوہ بہت سے اعلیٰ افسران اور جنگی محاذ الٹ چکے تھے۔

                جبکہ داعش نے بمشکل 5000 فوجی مارے ہوں گے۔ اب آپ خود ہی اندازہ لگا لیں کہ زیادہ فتوحات کسے حاصل ہوئی ہیں؟

([4])           اسی طرح کا ایک دھوکا یہ بھی ہے کہ داعش نے اپنے زیر کنٹرول علاقوں کا جو نقشہ دنیا کو دکھایا ہے، اس میں یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے کہ عراق اور شام کا بہت سا علاقہ ان کے زیر اثر ہے اور مکمل عراق اور شام پر کنٹرول کرنے میں تھوڑا سا وقت لگے گا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اپنے زیر کنٹرول علاقوں کا جو نقشہ انہوں نے پیش کیا ہے، اس کا زیادہ تر حصہ بے آباد صحراؤں  پر مشتمل ہے۔جس پر قبضہ برقرار رکھنے کےلیے داعش کے پاس کوئی لائحہ عمل نہیں ہے یا پھر ان علاقوں میں بہت تھوڑے ایسے لوگ ہیں جو ان سے لڑنے والے ہوں۔

([5])           عراقی جیلیں سخت سیکورٹی حصار میں تھیں لیکن اس کے باوجود وہاں سے سینکڑوں کی تعداد میں افراد فرار ہوئے۔ اور ایسا داعش کے ظہور سے پہلے ہوا تھا۔

                اسی طرح رقہ کے تینوں ایئر پورٹس کا معاملہ ہے کہ پہلے ہی دیگر جہادی تنظیمیں اس کا محاصرہ کیے ہوئے تھیں اور اگر داعش ان پر حملہ نہ کرتی تو بعض تنظیمیں تو انہیں فتح کرنے والی تھیں:

①           پھر داعش کے حملہ کرنے کے بعد وہاں موجودنصیری فوجیوں کی اکثریت بغیر کسی نقصان کے بحفاظت نکل گئی۔

②           یہ معرکہ صرف چند روز جاری رہا اور داعش کو فتح مل گئی جبکہ دیگر علاقوں میں جہادی تنظیمیں نصیریوں کے خلاف سال سے بھی زیادہ عرصہ تک لڑتی رہتی ہیں۔

③           نصیری  دیگر جہادی تنظیموں کے خلاف جس طرح اسلحہ کا بے دریغ استعمال کرتی ہے، داعش کے خلاف تو اس کا عشر عشیر بھی استعمال نہیں کیا گیا۔

Print Friendly

About alfitan

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *