مرکزی صفحہ » عصرِحاضر کی تحریکیں » داعش » داعش کی عراق میں ہزیمت، محرکات اور نتائج

داعش کی عراق میں ہزیمت، محرکات اور نتائج

image_pdfimage_print
photo721249554916289085

داعش کی عراق میں ہزیمت، محرکات اور نتائج

[[[ خصوصی تجزیہ ]]]

داعش جس رفتار اور شدت کیساتھ عراق میں سنیوں کے علاقوں میں آئی تھی، آج کل اسکی واپسی کی رفتار اگر اس آمد جیسی نہیں تو کم بھی نہیں۔

? ترکی افواج نے جب سے شام ترکی بارڈر پر جرابلس سے معرکہ درع الفرات کا آغاز کیا تب سے آپ ان کی ہزیمت اور سنی لوگوں کی فتوحات کو دیکھ سکتے ہیں کہ تقریباً روزانہ کوئی نہ کوئی بستی ان داعشی درندوں سے آزاد کروا لی جاتی ہے اور وہاں کے باسیوں کو آزادی سے جینے کا حق دیا جاتا ہے جرابلس سے لیکر اعزاز تک ایک سو کلومیڑ سے زیادہ بارڈر کا علاقہ داعش سے آزاد کروا لیا گیا اور پھر رفتہ رفتہ یہاں سے مارع تک پہنچ گئے ۔ 

? اسی میں داعش کا ایک بہت مضبوط گڑھ دابق کو بھی داعش  سے صاف کروا لیا گیا جس کا داعشی خوارج کا ایک شدید جھٹکا لگا اس پر مستزاد کہ اس معرکہ درع الفرات میں شامل سنی عسکری جماعتوں نے ایک بیان جاری کیا کہ ہم یہاں تک بس نہیں کرنے والے بلکہ ہم الباب سے ہوتے ہوئے حلب تک پہنچیں گے ان شاء اللہ یعنی ایک طرح سے شام میں صفائی تقریبا مکمل ہونے والی ہے ۔۔۔

? اس کے ساتھ ہی لیبا میں دیکھا جائے تو وہاں بھی داعش کے پاس تقریبا صرف 800 میڑ کا علاقہ باقی بچا ہے اپنی مزعومہ خلافت چلانے کے لئے ۔ 

? نائجیریا میں ان کی بیعت کردہ جماعت بوکو حرام کے دو دھڑے بن گئے جو بیچارے خلافت کے حصول کے لئے آپس میں ہی لڑ رہے ہیں ، وجہ صرف یہ ہے کہ یہ ٹھیک طرح اور بھیمانہ انداز سے مسلمانوں کی تکفیر کرنے میں متشدد نہیں لہذا اس کو امیر بننے کا کوئی حق نہیں لہذا اسے ابھی ہم سے مزید کچھ خارجیت کے عقائد سیکھنے ہوں گے ۔۔۔

? افغانستان میں یہ بیچارے ویسے ہی جگہ ڈھونڈ رہے ہیں کہ سر کہاں چھپائیں ۔۔۔

? ان کے لیڈران کو دیکھا جائے تو  ابو محمد عدنانی ، ابو عمر شیشانی ، احمد خطاب عمر ، ملا عبد الرؤف ، حافظ سعید خان وغیرہ ،   یعنی الغرض ، شامی ، عراقی ، خراسانی ، بنگلہ دیشی سب لیڈر مارے جاچکے ہیں اور ایک طرح سے ان کی کمر تو پہلے ہی ٹوٹ چکی ہے ۔

? رہتی سہتی کسر اب عراق میں موصل شہر کا فیصلہ کن آپریشن نکال دے گا ۔۔۔ جہاں تقریبا  ایک لاکھ آرمی ان کا گھیراؤ کیے ہوئے ہے جن میں ایک طرف سے عراقی فورسز ، اور دو اطرف سے کرد فورسز حصہ لے رہی ہیں اور اندر بمشکل 7000 داعشی دیکھیں اب کیسے اپنا سر چھپاتے ہیں ۔ 

? عراق ہی وہ علاقہ تھا ، جہاں داعش نے موصل میں اپنی خلافت کا بگل بجایا تھا اور اسی عراق میں چند سو عراقی فوجیوں کے علاوہ ہزاروں نہتے افراد کو مرتد و کافر قرار دے کر اجتماعی قتل عام کیا تھا، اور عراقی افواج کا جدید سے جدید اسلحہ بھی سمیٹا تھا۔

? داعش اپنی کئی ویڈیوز میں عراقی فوج سے چھینے گئے میزائل، بکتر بند گاڑیاں اور میزائل کی نمائش کرتے تھکتی نہیں تھی۔ لیکن آج جب انکے استعمال کا وقت آیا ہے تو راہ فرار اختیار کر گئی اور صوبہ نینوی اور اسکے صدر مقام موصل کے علاوہ باقی تمام علاقوں سے نہ صرف انکا صفایا ہو چکا ہے بلکہ اب نینوی کے قبضے کے دن بھی تھوڑے ہی نظر آرہے ہیں۔

?? سوچنے والی بات یہ ہے کہ آخر ہوا کیا ہے؟؟؟

اس میں درج ذیل نکات قابل غور ہے:

? دو سال قبل عراقی سنی علاقوں میں عراقی شیعہ اکثریتی حکومت کے خلاف حقوق کے غصب اور دیوار کے ساتھ لگائے جانے پر شدید بے چینی اور بغاوت کے جذبات موجود تھے، اور عراقی فورسز کا ان علاقوں پر کنٹرول برائے نام تھا۔ ان علاقوں کو سنی قبائل کے سردار ہی چلا رہے تھے اور یہی عراقی حکومتی رٹ کو ان علاقوں میں قائم کرنے کا سبب تھے۔

لیکن مرکزی حکومت کے مسلسل نظر انداز کئے جانے پر شدید غصہ کا شکار تھے۔ اسی صورتحال کا فائدہ ان علاقوں میں پہلے ہی موجود القاعدہ سے منحرف گروہ دولۃ الاسلامیہ فی العراق نے اٹھایا اور مقامی قبائلیوں کو ساتھ ملا کر عراقی حکومت کے خلاف بغاوت کر دی۔ اور دیکھتے ہیں دیکھتے عراقی حکومتی فورسز ان علاقوں میں دریا میں تنکے کی مانند نظرآنے لگی۔ جس کے سبب ، ٹیکٹیکل وڈرال کو ہی مناسب عسکری اقدام سمجھا گیا۔

?جبکہ مقامی سنی قبائل کی عراقی حکومت کے خلاف تعاون کو دیکھ کر دولۃ الاسلامیہ فی العراق نامی تنظیم آپے سے باہر ہوگئی اور اپنی مزموم خلافت کی بنیاد رکھ دی۔

? داعش کے وجود میں آنے کے بعد ، عراق سنی قبائل میں سے جنہوں نے حکومت مخالف اس لڑائی میں عراقی حکومت کا ساتھ دیا تھا یا پھر وہ بالکل غیر جانبدار رہے تھے، ان دونوں قسم کے لوگوں کو داعش کی بربریت کا سامنا کرنا پڑا۔ ہزاروں کی تعداد میں سنی نوجوانوں کو انکے علاقوں اور دیہاتوں سے اغواء کر کے اجتماعی قتل عام کیا گیا۔ اور انہیں کافر مرتد اور رافضی یا سرکاری ملازم قرار دیے کر اپنی خواہشات کو پورا کیا گیا۔

? سنی قبائل ، جو عراقی شیعہ اکثریتی حکومت کے جور جبر سے تنگ تھے، جلد ہی انکو احساس ہوا کہ ایک شر سے تو انہوں نے اپنے آپکو کامیابی سے نکال لیا مگر اس سے بڑے شر کا دروازہ خود پر کھول بیٹھے ہیں۔

☹ لیکن اب پچھتاوت کیا ہوت ، جب چڑیاں چگ جائیں کھیت!

? سنی قبائل کی عراقی حکومت سے آزادی کی تحریک کو داعش نے نہ صرف یرغمال بنایا بلکہ تمام سنی قبائل کو بھی یرغمال بنا لیا۔ قبائلی سرداروں کا قتل، بے وقعتی اور رسوائی کا ارتکاب شروع کر دیا۔

? جس طرح عراقی سنی عوام کا لاوا پہلے عراقی حکومت کے خلاف ابلا تھا، اس مرتبہ اس سے بھی بھیانک لاوا داعش کے خلاف جوش کھانے لگا تھا۔ بس یہی وہ مناسب وقت تھا، جس کا عراقی حکومت اور فورسز کو انتظار تھا۔
عراقی حکومت نے سنی عوام کی محرومیوں کو دور کرنے اور عراقی حکومت میں باقاعدہ نمائندگی دینے کے وعدے کر کے ، مقامی قبائل کو ایک مرتبہ پھر اپنا حلیف اور اتحادی بنا لیا۔ اور نتیجہ وہی نکلا، جو آپ آج پڑھ اور دیکھ رہے ہیں۔

داعش نے قبائلی طرز زندگی سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی بجائے، اپنے دشمنوں عراقی حکومت اور افواج کو اسکا موقع دیا، جو انہوں ضائع نہیں ہونے دیا۔

?آخر میں ، ایک اہم بات، کہ وہ داعش کے قبضے میں موجود عراقی اسلحے کا کیا بنا، وہ کہاں گیا، چلا کیوں نہیں ؟؟؟

اس کا جواب بھی نہایت سادہ ہے!

? چند فوجی گاڑیاں یا ٹینک یا میزائل قبضے میں لینا اور پھر ان سے ایک ریاست سے لڑنا احمقانہ سوچ ہے۔

دوسرا کہ ان سب کو حاصل  کر لینا الگ بات ہے مگر ان کو  چلانے کی صلاحیت اور اہلیت رکھنا ایک علیحدہ امر ہے۔

? الغرض، اس وقت عراق ، داعش کی نجاست سے جہاں ایک جانب آزادی حاصل کر رہا ہے، وہی عراقی حکومت بھی اس مرتبہ کچھ بالغ نظر آرہی ہے۔

? یہی وجہ تھی کہ گزشتہ دنوں شیعہ انتہاء پسند رہنما، مقتدی الصدر نے عراقی حکومت کے خلاف باغیانہ تحریک چلائی۔

کیونکہ عراقی حکومت نے سعودی سفارتکاری اور امریکی اثررسوخ کی وجہ سے سنیوں کا عراقی حکومت میں کردار نہ صرف تسلیم کر لیا ہے بلکہ عراق اور اسکی فورسز پر موجود انتہاء پسند شیعہ گروہوں اور ایران کے اثرات کی روک تھام کے لئے اقدامات بھی شروع کر دئیے ہیں۔

? اسکی ایک سادہ سی اور بڑی عمدہ مثال، عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی کا اپنے پرسنل سیکیورٹی کے لئے عراقی فوج کے ایک کرد جنرل 350 کرد سپیشل فورسز اہلکار کو تعینات کرنا ہے۔

امید کی جاسکتی ہے کہ سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک کاعراق میں سفارتخاے کھولنا، ایرانی اثرات کو توازن بخشے گا اور عراق کی صورتحال کچھ بہتر اور مستحکم ہوگی۔

? کیا خوب اللہ تعالی نے سورہ یوسف میں بیان فرمایا ہے :
قال الله عز وجل :  وَاللَّهُ غَالِبٌ عَلَى أَمْرِهِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ  (يوسف / 21)
ترجمہ : اور اللہ اپنے کام پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ۔

  [[[[ الفتن مانیٹرنگ سیکشن، ادارہ رد فتن ]]]]

Print Friendly

About alfitan

مزید دیکھئے

photo721249554916289142

داعش تو ایک گناہ کا نام رہ گیا ہے۔

داعش تو ایک گناہ کا نام رہ گیا ہے ! مشاری الذايدی ۔     …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *