whatsapp-image-2016-12-04-at-11-58-09-am

رحمت اور تلوار کو خلط ملط نہیں کیا جا سکتا

رحمت اور تلوار کو خلط ملط نہیں کیا جا سکتا

whatsapp-image-2016-12-04-at-11-58-09-am

 


الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

نصوص شرعیہ (قرآنی آیات واحادیث مبارکہ) کو آپس میں ٹکرانا جائز نہیں ہے۔ اس طریقہ سے قرآن وحدیث کو خلط ملط کرنا، عوام الناس کے اذہان میں پچیدہ مسائل کو لیکر سوالات کھٹرے کرنا ، عام اور خاص نص کو ملانا اور مطلق اور مقید نص کو ایک دوسرے سے جوڑنا، ناجائز ہے۔

اللہ جل جلالہ نے اپنے آپ پر رحمت کو لازم کیا ہوا ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے:  ‹كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰي نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ۝۰ۙ›

تمہارے رب نے اپنے اوپر رحمت کو لازم کر لیا ہے۔ [الأنعام: 54]

نیز فرمایا: ‹قُلْ لِّمَنْ مَّا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۝۰ۭ قُلْ لِّلہِ كَتَبَ عَلٰي نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ۝۰ۭ›

آپ ان سے پوچھئے کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، وہ کس کاہے؟ آپ کہہ دیجئے کہ سب کچھ اللہ ہی کا ہے۔ اس نے اپنے آپ پر رحمت کو لازم کر لیا ہے۔ [الأنعام: 12]

نیز فرمایا: ‹وَرَحْمَتِيْ وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ۝۰ۭ›

میری رحمت ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے۔ [الأعراف: 156]

نبی کریمﷺ کا فرمان گرامی ہے: «إِنَّ اللہَ لَمَّا قَضَى الخَلْقَ، كَتَبَ عِنْدَهُ فَوْقَ عَرْشِهِ: إِنَّ رَحْمَتِي سَبَقَتْ غَضَبِي».

جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کرنے کا ارادہ کیا تو اپنے پاس عرش پر لکھا کہ میری رحمت میرے غصہ پر حاوی ہے۔ [صحیح البخاري: 7422، صحیح مسلم: 2751، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ]

لہٰذا اصل یعنی رحمت اور اس سے مستثنیٰ چیزوں یعنی تلوار، غصہ اور شدت والے امور کو برابر قرار دے دینا جائز نہیں۔

بلکہ اس سے بڑھ کر ہم کہتے ہیں کہ عقل ونقل کے اعتبار سے رحمت کو تلوار دے کر بھیجے جانے سے منسلک کرکے بولنا ناجائز ہے کیونکہ اس سے سننے والا یہ سمجھتا ہے کہ شاید رحمت تلوار سے جڑی ہوئی ہے۔حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔

یہ نقطہ اعتراض ہم نے صرف بحث مباحثہ کےلیے نہیں اٹھایا، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں بہت سی خطرناک باتیں پوشیدہ ہیں ، جیسا کہ مزید تفصیل آگے آرہی ہے۔ مثلاً: اس انداز بیان سے تلوار اور رحمت ِالٰہی ایک ہی سطح پر آجاتی ہے۔ اور یہ بالکل غلط بات ہے اور کبھی تو عقیدہ کی خرابی کا باعث بن جاتا ہے۔

یہیں سے آپ پر داعش کے سرکاری ترجمان ابو محمد عدنانی  کے مراد لیے ہوئے غلط مفہوم کا انکشاف ہوجاتا ہے۔ وہ اپنے اسی خطاب میں کہتا ہے:  إن نيل الكرامة والتحرر من الظلم وكسر قيود الذل لا يكون إلا بصليل الصوارم, وسكب الدماء, وبذل النفوس والمهج, ولن يكون أبداً بالدعوات السلمية أو. . . . ! ” 

’’تلوار اٹھائے، خون بہائے اور جانیں لٹائے بغیر نہ عزت مل سکتی ہے، نہ ظلم سے آزادی اور نہ ذلت کے گہرے کھڈ سے نجات۔ امن وسلامتی کی دعوت سے ایسا کبھی نہیں ہوسکتا۔‘‘

مزید اپنی ایک تقریر میں کہتا ہے جو کہ انٹرنیٹ پر آسانی سے مل جاتی ہے : “فاعلموا إن لنا جيوشا في العراق وجيشاً في الشام من الأسود الجياع، شرابهم الدماء وأنيسهم الاشلاء.. فوالله لنسحبنهم ألفاً ثم ألفاً ثم والله لن نبقي منكم ولا نذر” 
’’یہ بات نوٹ کرلو کہ شام وعراق میں بھوکے حبشیوں کے لشکر ہمارے پاس موجود ہیں جن کی پیاس خون سے بجھتی ہے، جنہیں کٹے ہوئے اعضاء سے پیار ہے اور جنہیں مخالفین کے خون سے زیادہ مزید پیاس بھڑکانے والی کوئی چیز نہیں ملتی۔ اللہ کی قسم! ہم ہزاروں لاکھوں  لوگوں کو گھسیٹیں گے اور پھر تم میں سے کسی ایک کو بھی نہیں چھوڑیں گے۔  

اقتباس :

داعش العراق والشام فی میزان السنۃ والاسلام

الشیخ علی بن حسن الحلبی حفظہ اللہ تعالی