مرکزی صفحہ » گمراہ فرقے » خوارج » خوارج کی جدید گمراہ کن راہیں

خوارج کی جدید گمراہ کن راہیں

image_pdfimage_print
Alfitan 1

 خوارج کی جدید گمراہ کن راہیں  

        الحمد للہ رب العالمین والعاقبۃ للمتقین والصلوۃ والسلام علی رسولہ الکریم اما بعد !

            ہمارے اس موجودہ زمانے میں خارجیوں کے زہر آلودہ تیروں کا  چلنا اور ان کے جھگڑے پھر سے ایک نئے انداز میں، مختلف شکلوں کی صورت میں شروع ہو گئے ہیں ۔ جو مسلمان نوجوانوں کی جماعتوں میں بڑی تیزی سے ظاہر ہو رہے ہیں۔

خارجیوں کے لمحہ بہ لمحہ بدلتے اندازِ تبلیغ 

           خوارج کا یہ کام کبھی جماعتوں  گروہوں کی صورت میں ، کبھی انفرادی دعوت کی شکل میں ، کبھی کھانے کی دعوتوں کی صورت میں ، کبھی تحریکوں کے انداز میں اور خصوصی قسم کے خیالات ، مخصوص علامتوں اور الفاظ (اصطلاحات اور مونو گرامز) مخصوص اندازِ فکر والے مناہج اور اسلوبوں کی صورت میں ، خاص قسم کے نظریات (جیسے کہ ان کے اکثر لوگوں کی عادت ہے : عموماً کہتے ہیں “ہمارا یہ موقف ہے۔” ) اسی طرح مبالغہ آرائیاں ، انفرادی جھگڑ ے اور کبھی جماعتی جھگڑوں کی صورت میں اور اس طرح کے دیگر ہتھکنڈے استعمال کر کے ایسے اُمور کو متعارف کرواتے ہیں کہ جن کے خطرات سے ایک مسلمان نوجوان کو چوکنا رہنا چاہیے۔

           خوارج کے یہ سارے ہتھکنڈے اس بات کے حق دار ہیں کہ کسی بھی جگہ ان کے پختہ ہونے اور پروان چڑھنے سے پہلے ہی انہیں سمجھتے ہوئے خوارج سے نفرت کی جائے ۔

خوارج کے جدید گمراہ کُن راستوں اور پہلوؤں میں سے چند پہلو 


1⃣  دین اسلام کے بارے میں اپنے آپ پر تشدد کونا فذ کیے رکھنا اور دوسروں پر اس معاملے کو تنگ کردینا۔

2⃣  فخر و غرور کو اختیار کرتے ہوئے اپنی معلومات کو بہت بڑاعلم شمار کرنا (یہ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ جس بات کا ہمیں علم نہیں وہ علم کوئی علم نہیں ۔ ۔ ۔ !)

3⃣  خلافِ سنت دین میں نئی باتوں کا اصرار کرنا۔

4⃣   صبروتحمل کی قلت اور حکمت و دانائی میں کمزوری ان کی زندگی کا حصہ ہوتی ہیں۔

5⃣  دوسروں کو جاہل قرار دینا  اور رائے کے ذریعے اپنے آپ کو ترجیح دینا۔

6⃣  علماء کرام کے بارے میں بدگمانی رکھنا اور سوءِ ظن پھیلانا اُنھیں حقیر جاننا اور اُن سے لوگوں کو متنفر کرنا۔

7⃣  دوسروں کے ساتھ باہمی معاملہ کرنے میں جارحانہ انداز اختیار کرنا۔

8⃣  دوسروں کے ساتھ باہمی مفاہمت اختیار کرنے کے موقعہ پر لمبی لمبی بحثوں میں ڈال کر ایک نئی مشکل کھڑی کر دینا۔

9⃣  انتہائی شاطر چالاک اور تفرقے والی قابلیت کا پایا جانا۔

?   دوسروں پر الزام دھرنے اور بہتان درازی کو نہایت آسان سمجھنا۔

1⃣1⃣ بکھری ہوئی ملت حقہ کو قرآن وسنت پرجمع کر کے ایک کردینے کو نہایت مشکل بنا دینا اور دوسروں پر فوراً کفر کا فتویٰ لگا دینا۔

            یہ تمام صفات کسی بھی معاشرے یا گروہ کی تباہی کے لئے کافی ہیں۔ دین اسلام کی تعلیمات میں ہمیشہ ہر موڑ پر ایسی برائیوں سے ڈرایا گیا ہے ، ان تمام گمراہ کن راہوں اور چالوں کے رونما ہونے کی کئی وجوہات ہیں ۔ اس منہج کو اپنانے والے ہر شخص میں آپ بلا تردد یہ صفات بآسانی ملاحظہ کر سکتے ہیں ، گویا ان کی تربیت میں یہ عادتیں شامل ہوتی ہیں۔

          انشاءاللہ ہم الگ پوسٹ  میں ان تمام اسباب اور وجوہات کو قرآن و سنت کی روشنی میں مزید تفصیل کے ساتھ بیان کریں گے ۔ اللہ سے دعا ہےکہ وہ ہمیں خوارج کی سازشوں اور چالوں کو سمجھ کر ان سے بچنے اور دوسروں کو بچانے  کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

ماخوذ از “فکر الخوارج والشیعۃ فی میزان اھل السنۃ والجماعۃ”  

تالیف : دکتور علی محمد محمد الصلابی حفظہ اللہ 

Print Friendly

About alfitan

مزید دیکھئے

photo_2017-09-21_21-26-18

عقیدہ خوارج کا رد گناہگار مسلمان “کافر” نہیں ہوتا

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم عقیدہ خوارج  کا رد گناہگار مسلمان  “کافر” نہیں ہوتا! الحمد للہ والصلوٰۃ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *