مرکزی صفحہ » گمراہ فرقے » خوارج » خوارج کا شرعی علوم سے جاہل اور ناواقف ہونا

خوارج کا شرعی علوم سے جاہل اور ناواقف ہونا

image_pdfimage_print
WhatsApp Image 2017-02-23 at 6.17.40 PM

خوارج کی جدید گمراہ کن راہیں

       الحمد للہ رب العالمین والعاقبۃ للمتقین والصلوۃ والسلام علی رسولہ الکریم اما بعد !

          جن وجوہات اور اسباب کی بنا پرخوارج تکبر ، غرور ، علماء کی تحقیر ، دوسروں پر الزام درازی ، صرف اپنے آپ کو ہی دنیا و ما فیھا میں بہتر سمجھنا ، صبر وتحمل اور حکمت و دانائی سے سے یکسر دوری جیسے کئی تباہ کن اور گمراہ کن خصائل کے عادی ہو جاتے ہیں ۔ ذیل میں ہم ان اسباب کو یکے بعد دیگرے ذکر کریں گے ان شاء اللہ۔پہلا سبب ملاحظہ کیجیے ۔ 

 1⃣ شرعی علوم کے بارے میں جہالت :

          ان گمراہ کن نظریات میں جکڑے لوگوں کا جب بھی کوئی ذی شعور وعقل بغور جائزہ لے گا تو اسے فوراً معلوم ہوگا کہ ان لوگوں کی خاص پہچان شریعت مطہرہ سے جہالت ہے۔ دین حنیف کے فہم میں یہ لوگ نہایت کمزور ثابت ہوتے ہیں ، یعنی ان کی شرعی علوم سے وابستگی ، چندرٹی رٹائی باتیں،  تالاب میں باقی رہ جانے والے کیچڑ نما تھوڑ ے سے پانی کی مانند ہوتا ہے ، چنانچہ جب  وہ دین کے بڑے بڑے معاملات اور بڑی مصلحتوں کے لیے کسی مجلس میں سینہ تان کر بیٹھتے ہیں تو ان سے اکثر دیوانہ پن ، بیوقوفوں جیسا انداز ، انتہائی تیزی سے صادر ہو نے والے ان کے احکام ، فیصلے اور تنگ نظری والے موقف ظاہر ہوتے ہیں اور یہ ان میں فہم و فراست کی کمی بلکہ ایسی صلاحیت پر   عدمِ قدرت ، وعدمِ ضبط کی وجہ سے ہوتا ہے۔

         اسی طرح ان سے ان حرکات کا سرزد ہونا مصالح ومفاسد کی سمجھ بوجھ کے مراتب کا علم نہ ہونے کی وجہ سے بھی ہوتا ہے اور ان ساری باتوں سے پہلے یہ لوگ ان چیدہ چیدہ دلائل سے بھی جاہل پائے جاتے ہیں جن خاص معاملات پر قرآن و سنت میں فیصلہ کن دلائل ذکر کر دے گئے ہیں۔  یعنی قرآن وسنت کے بڑے مشہور احکام و اوامر کے واضح دلائل سے تقریبا کلی طور پر ناواقف نظر آتے ہیں  جب کہ شرعی سیاست سے متعلقہ عام منکرات کہ جو اکثر فتنوں کا سبب بنتی ہیں ، اور طہارت ، نماز ، حج اور شخصی کیفیتوں والے مسائل میں بڑا فرق ہے ۔ اور خوارج کو صرف یہی سوچ لاحق ہوتی ہے کہ حکومت حاصل ہو گی تو سب ممکن ہو گا ۔ 

        بلکہ اس ضمن میں درج ذیل پہلوؤں سے باخبر رہنا ضروری ہوتا ہے:

1⃣ عام شرعی دلائل اور اصول وقواعد کہ جن کے تحت بہت سارے امور داخل ہو جاتے ہیں۔

2⃣ شریعت مطہرہ کے مقاصد۔

3⃣ مصالح اور مفاسد کے درمیان موازنہ کرنا۔

4⃣ اور تفصیلی دلائل

        عوام الناس اور چھوٹے علماء کے لیے عمومی و کلی قضایا کا فہم حاصل کرنا ممکن نہیں ہوتا ۔ اگرچہ ان کے لیے جزوی نصوص کا فہم ممکن ہوتا ہے۔  اسی طرح شریعت مطہرہ کے مقاصد کا فہم نصوص کے خلاصہ کی مکمل چھان بین اور شارع علیہ السلام کے اسوء حسنہ کو لئے بغیر بالکل ہی نا ممکن ہوتا ہے۔ اس لیے مقاصد کی سمجھ بوجھ اور فقاہت ایک نہاہت قابل قدر  اور اہم چیز ہے کہ جسے ہر شخص حاصل نہیں کر سکتا۔ بلکہ اس تک وہی شخص پہنچ سکتا ہے کہ جس نے علم کے مختلف درجات کو طے کر لیا ہو اور وہ واقع صورت حال پر پوری طرح عبور رکھنے کے ساتھ باخبر ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ان احتمالات پر گہری نظر رکھے کہ جن کے واقع ہونے کا اسے یقین ہو پھر یہ کہ وہ ان مصالح ومفاسد کے موازنہ کا مکمل علم رکھتا ہو کہ جو شریعت مطہرہ کے فہم اور اس کے مقاصد کے محتاج ہوں اور یہ کہ واقع کے فہم اور مفاسد و مصالح کی درجہ بندیوں کا فہم بھی رکھتا ہو۔ یہ سب کی سب شرائط صرف اور صرف علماء عظام کو حاصل ہو سکتی ہیں۔

        اگر عوام الناس کے وہ لوگ یا ان میں سے سطحی قسم کا علم رکھنے والے لوگ کہ جو کتاب اللہ العزیز اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پورا پورا علم و فہم نہ رکھتے ہوں لوگوں سے آگے بڑھتے ہوئے سب کے بڑے بننے کی کوشش کریں تو وہ مسلمانوں کو بکھیر کررکھ دیتے ہیں اور ان کی وحدت کو پارہ پارہ کردیتے ہیں۔

        اس لیے کہ اگر عوام کے لیے قوم کے ایسے شرفاء نہ ہوں کہ جو اُنھیں ان کی رائے سے روک سکیں تو عوام الناس کا کسی بھی معاملہ پر اتفاق کا تصور بھی  نہیں کیا جا سکتا۔ اسی لیے تمام دینی اُمور مقاصد شریعت اور مصالح و مفاسد کے درمیان موازنہ کا معاملہ اہل حل و عقد کی طرف پلٹا کرتا ہے۔

(جاری)

ماخوذ از “فکر الخوارج والشیعۃ فی میزان اھل السنۃ والجماعۃ”  

تالیف : دکتور علی محمد محمد الصلابی حفظہ اللہ  

Print Friendly

About alfitan

مزید دیکھئے

index

بغیر استاد کے کتابوں کا مطالعہ کرنا(حصہ سوم)۔

خوارج کی جدید گمراہ کن راہیں دوسرا سبب بغیر استاد کے کتابوں کا مطالعہ (قسط …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *