مرکزی صفحہ » گمراہ فرقے » خوارج » بغیر استاد کے کتابوں کا مطالعہ کرنا(حصہ اول)۔

بغیر استاد کے کتابوں کا مطالعہ کرنا(حصہ اول)۔

image_pdfimage_print
WhatsApp Image 2017-02-23 at 6.17.35 PM

خوارج کی جدید گمراہ کن راہیں 

دوسرا سبب

بغیر استاد کے کتابوں کا مطالعہ

(قسط اول)

        الحمد للہ رب العالمین والعاقبۃ للمتقین والصلوۃ والسلام علی رسولہ الکریم اما بعد !

           جن وجوہات اور اسباب کی بنا پرخوارج تکبر ، غرور ، علماء کی تحقیر ، دوسروں پر الزام درازی ، صرف اپنے آپ کو ہی دنیا و ما فیھا میں بہتر سمجھنا ، صبر وتحمل اور حکمت و دانائی سے سے یکسر دوری جیسے کئی تباہ کن اور گمراہ کن خصائل کے عادی ہو جاتے ہیں۔آپ ان اسباب میں سے پہلا سبب ملاحظہ کر چکے ہیں۔ذیل میں دوسرا سبب ملاحظہ فرمائیں۔

2⃣بغیر استاد کے کتابوں کا مطالعہ:

          غلو و تکفیر کے مظاہر میں سے دوسرا سبب ان لوگوں کی گمراہی کا بغیر کسی استاذ کے اصول وقواعد، شریعت،تفسیر و حدیث اور فقہ کی کتب کا خود بخو د پڑھنا اور پھر خود سے ہی کوئی رائے بھی قائم کر لینا ، جس سے غلو وتکفیر کی فکر ان میں پروان چڑھی ، اس سبب میں اُن کا علمی کتابوں کی طرف بغیر استاذ کے متوجہ ہونا ہے کہ جو استاذ صحیح قرآن و سنت کے منہج کو متعین کر سکے اور جو ان کی صحیح راہنمائی کر سکے۔

        عصر حاضر میں طلبہ نے انتہائی دشوار مسائل کے احکام کو علمی پختگی کے بغیر ہی شرعی مسائل سے استنباط و استخراج شروع کردیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے قدم اکھڑجاتے ہیں اور وہ لوگوں پر تکفیر و نفاق کے فتوے لگانا شروع کر دیتے ہیں۔ آج کل کے نوجوانوں کی طرف سے یہ معاملہ دوطرح سے آرہا ہے۔

         ایک وہ نو جوان ہیں کہ جن کی زندگی کا کچھ حصہ جیلوں میں گزرا ہو اور انھوں نے سزا اور مشقت کا سامنا کیا ہو۔

        دوسرے وہ نو جوان ہیں کہ جو نہ ہی کبھی جیل جانے کی آزمائش سے دو چار ہو ئے ہوں اور نہ ہی کبھی انھوں نے مشقتیں کاٹی ہوں ۔ چنا نچہ بے چین ومضطرب  قسم کی سوچ اور حدود کو پھلانگنے کی وجہ سے انتہائی بھیانک نتیجہ اس صورت میں سامنے آتا ہے کہ یہ مسلمانوں کی اجتماعیت کو پارہ پارہ کرنے اور ان کوفرقوں اور گروہوں میں تقسیم کا سبب بنتے ہیں ۔ 

        یہ معاملہ درج ذیل چندا سباب کی وجہ پیش آیا ہے :

1⃣علماء سے منہ موڑ لینا :

        تکفیر اور شدت پسندی کا شکار آج کل کے یہ نو جوان بعض بھول بھلیوں میں واقع ہونے کے سبب اس غلط منہج و طریق پر چل نکلے ہیں جس میں سے ایک یہ ہے کہ وہ نفسانی خواہشات پر عمل پیرا لوگوں کو اہل علم پر فوقیت اور ترجیح دیتے ہیں۔ چنانچہ انھوں نے نفسانی خواہشات والوں کے پیچھے چل کر صحیح ثقہ اہل علم سے استفادہ کرنا چھوڑ دیا ہے  اور وہ قرآن و سنت والے صحیح منہج کے حامل علماء کی باتوں سے منہ موڑ بیٹھے ہیں اگر چہ علماء  کی باتیں حق ہی کیوں نہ ہوں ۔

        اس طرح سے ایسے نو جوان پر بد گمانی کا غلبہ ہو جاتا ہے اور وہ علماء سے منہ موڑ لینے کے دائرہ کو وسیع کر لیتے ہیں ۔اس اعراض والے عمل میں وہ عین قرآن وسنت پر عمل پیرا علماء کرام کو شامل کرتے ہوئے ان سے بھی اپنا اعتماد واپس لے لیتے ہیں ، جب کبھی بھی کوئی ثقہ عالم آدمی ان کی کسی رائے سے اختلاف کرے کہ جس کی طرف وہ مائل ہوئے ہیں اور  ان کی رائے قرآن و سنت کے خلاف ہو تو وہ اس سے بھی اعتماد واپس لیتے ہوئے اُس سے منہ موڑ نے لگتے ہیں یہی وہ موڑ ہے کہ جس پر خطرہ ممکن ہوتا ہے اور حد سے تجاوز پایا جاتا ہے

        علماء کرام میں سے ایک بزرگ عالم بیان کرتے ہیں کہ جن کا  اس طرح کے ایک نوجوان سے اپنی ایک ملاقات میں مباحثہ ہو گیا تھا : نو جوانو! تمھارے بارے میں جس بات  سے مجھے ڈر ہے وہ یہ کہ تمہارا علماء حق سے اعتماد اٹھ جانا یہ کام تمھیں دو معاملات پر ابھار ے گا یا پھر دونوں میں سے ایک معاملے پر ضرور تیار کرے گا؛ 

(1) نا کافی علمی استعداد کے ساتھ دینی و عالمی مسائل میں اجتہاد کرنا اور اپنے آپ کو اس بارے میں اہل اور قابل سمجھنا  (2) بغیر کسی ثقہ عالم استاذ سے مدد لیے خود بخو و علمی واصولی دینی کتب کی طرف رجوع کر کے ان سے مسائل کا اخذکرنا۔

یہ دونوں باتیں نہایت خطر ناک ہیں یہ بات سن کر ایک نو جوان کہنے لگا ہم اس وقت دونوں باتوں کا شکار ہو چکے ہیں۔

(جاری)

ماخوذ از “فکر الخوارج والشیعۃ فی میزان اھل السنۃ والجماعۃ”  

تالیف : دکتور علی محمد محمد الصلابی حفظہ اللہ  

Print Friendly

About alfitan

مزید دیکھئے

index

بغیر استاد کے کتابوں کا مطالعہ کرنا(حصہ سوم)۔

خوارج کی جدید گمراہ کن راہیں دوسرا سبب بغیر استاد کے کتابوں کا مطالعہ (قسط …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *