مرکزی صفحہ » گمراہ فرقے » خوارج » بغیر استاد کے کتابوں کا مطالعہ کرنا(حصہ دوم)۔

بغیر استاد کے کتابوں کا مطالعہ کرنا(حصہ دوم)۔

image_pdfimage_print
WhatsApp Image 2017-03-22 at 9.14.00 PM

خوارج کی جدید گمراہ کن راہیں

دوسرا سبب

بغیر استاد کے کتابوں کا مطالعہ

(قسط دوم)

2⃣  تقلید کی مذمت میں حد سے زیادہ غلو :

بلا شبہ قرآن کریم نے تقلید اور مقلدین کی مذمت کی ہے اور سلف صالحین تقلیدی مسلک سے اُمت کو پوری طرح خبردار بھی کرتے رہے ہیں اللہ عز و جل کا ارشاد گرامی ہے :

وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنزَلَ اللَّهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا أَلْفَيْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا ۗ أَوَلَوْ كَانَ آبَاؤُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا وَلَا يَهْتَدُونَ (البقرۃ: 170) 

اور جب ان سے کہا جاتا ہے اس کی پیروی کرو جو اللہ نے نازل کیا ہے تو کہتے ہیں بلکہ ہم تو اس کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ، اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ سمجھتے ہوں اور نہ ہدایت یافتہ ہوں۔

آئیے اس ضمن میں آئمہ کرام رحمہم اللہ اجمعین کے اقوال کا بالاختصار جائزہ بھی لے لیتے ہیں؛

? امام محمد بن ادریس الشافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : وہ شخص کہ جو قرآن وسنت کی دلیل کے بغیر علم حاصل کرتا ہے اُس کی مثال رات کے وقت جنگل سے سوکھی لکڑیاں جمع کرنے والے کی مانند ہے۔ وہ اپنی لکڑیاں کا گٹھا جب اٹھاتا ہے تو اس میں بسا اوقات کوئی سانپ بھی لپٹا ہوا آ جاتا ہے جو اُس کو ڈس لیتا ہے اور اُس شخص کو اس سانپ کا علم ہی نہیں ہوتا۔ (یہی حالت تقلید کی ہے )

? امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرما تے ہیں : میرے طالب علمو!  میری تقلید نہ کرو ، نہ ہی امام مالک بن انس کی ، نہ ہی امام سفیان ثوری کی اور نہ امام اوزاعی کی تقلید کرو بلکہ علم کو وہاں سے سیکھو جہاں سے انھوں نے لیا (یعنی قرآن وسنت سے)

? امام ابو یوسف شاگرد رشید امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرما تے ہیں : تم میں سے کسی کے لیے بھی جائز نہیں ہے کہ وہ ہماری کہی ہوئی بات رائے کو آگے بیان کرے حتیٰ کہ اسے خوب علم ہو جائے کہ ہم نے اپنی بات کہاں سے لی ہے (یعنی کیا اس پر قرآن و سنت میں سے کوئی دلیل موجود ہے ۔ ۔ ۔ )

آج کل کے نوجوانوں نے یہ سب باتیں پڑھ رکھی ہیں اور انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ : کسی عالم کی تقلید کرنے والا اپنی ماں کی گود میں دودھ پیتے بچے کی طرح ہے اور اسی طرح مقلد اور ایک چوپائے میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔  

( اعلام الموقعین جلد2، ص 200، 201 ، جامع العلم وفضلہ جلد2، ص: 114) 

چنانچہ انھوں نے اپنے آپ کے علاوہ علماء کرام کی تقلید سے نفرت کا اظہار کرتے ہوئے پھر تقلید سے نفرت  اور اس کی مذمت میں انتہائی مبالغے آرائی شروع کر دی۔ ان جوشیلے نوجوانوں نے یہ سمجھ لیا  کہ امت کے اسلاف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین و تبع تابعین الصادقین جمیعا جیسے سلف  صالحین کی آراء سے راہ نمائی  حاصل کرنا  ان کے مناہج سے استفادہ کرنا اور ان کے قرآن و سنت کے دلائل سے مضبوط و مستحکم فتاویٰ سے راہ نمائی  حاصل کرنا بھی “قابل مذمت تقلید” میں شامل ہے

چنانچہ اسی بنیاد پر  انھوں نے سلف صالحین کے فہم قرآن و سنت اور صحیح منہج سے استفادہ کیے بغیر خود بخود اپنی ذاتی رائے اور اپنے اجتہاد سے فتوے جاری کرنا جائز  بلکہ اپنا حق سمجھ لیا ہے حالانکہ وہ بے چارے علمی طور پر اس کے اہل اور لائق ہی نہیں ہوتے اور پھر  انھوں نے کتابوں پر اندھے منہ گر کر ان سے احکام کا استخراج شروع کردیا اور نہایت ہی حیران کن قسم کی آراء کا استنباط کرنے لگے ہیں وہ اس میدان میں پھر ہمہ تن مشغول ہوگئے حالانکہ وہ اس میدان کے شاہسوار تھے  ہی نہیں چنانچہ وہ اس میدان میں بہت دور نکل گئے اور انھوں نے حدوں کو پار کر لیا ۔

اس طرح کے جذباتی نوجوان دین کے تمام  اصولی و عالمی امور میں نہ ہی اچھی طرح تمیز کر سکے ہیں اور نہ ہی ان کی انھوں نے چھان پھٹک کی۔ نہ ہی صحیح اور ضعیف و نادرست اقوال کی وہ معرفت حاصل کر سکے ہیں پھر  یوں ہوا کہ انھوں نے بعض مسائل و احکام کو عام کردیا حالانکہ وہ پھیلائے جانے اور عام کرنے کے لائق نہ تھے اور ان مسائل و احکام اور اُمور سےکو بالکل بھی اہمیت نہیں دی  کہ جن پر بہت زیادہ توجہ کی ضرورت تھی ۔ ان ناپختہ نوجوانوں نے بعض  امور میں فوری اقدام کر ڈالا حالانکہ ان سے باز رہنا واجب تھا۔ سو ! وہ نصوص کہ جو تقلید کی مذمت کرتے ہیں وہ عام نہیں ہیں بلکہ ان کے لیے تو خاص حالات ہوتے ہیں کہ جن پر ان نصوص کا اطلاق ہوا کرتا ہے۔

(ظاھرۃ الغلو فی الدین : 316) 

? علامہ ابن عبد البر  رحمہ اللہ تقلید کی مذمت میں مروی آثار و احادیث  کا ذکر کرنے کے بعد اسی باب کے ختتام پر لکھتے ہیں :

یہ سار ے کا ساراحکم  خاص لوگوں (علماء) کے لیے ہے۔ اس لیے کہ بلاشبہ عوام الناس کے لیے اپنے علماء حق کی تقلید (اور تعلیم) ضروری ہے بالخصوص سخت مصیبت کے وقت کہ جوآن پڑے ۔ اس لیے کہ سخت مصیبت دلیل کے موقع کو واضح نہیں کرتی اور نہ ہی عدم فہم کو اس کے علم سے قبول کرتی ہے اس لیے کہ علم کے درجات ہوتے ہیں جس کے اعلیٰ درجات تک پہنچنے کے لیے نیچے والے مراتب کو حاصل کیے بغیر کوئی چارہ کار نہیں یہی وہ پردہ ہے کہ جو عوام الناس اور دلیل کے عالم و طالب کے درمیان حائل ہوتا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب

علم اور علماء کی درجہ بندی کی بات تو قرآن مجید نے بھی بیان کی ہے۔ فرمایا : نَرْفَعُ دَرَجَاتٍ مَّن نَّشَاءُ ۗ وَفَوْقَ كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ (یوسف:76) 

“ہم جسے چاہتے ہیں درجوں میں بلند کر دیتے ہیں اور ہر علم والے سے اوپر ایک سب کچھ جاننے والا ہے۔ “ 

? علماء کرام کی اس بات میں ایک دوسرے سے اختلاف نہیں ہے کہ :عوام الناس پر اپنے علماء حق سے راہنمائی لینا اور ان کی اطاعت کرنا لازم ہے اور درج ذیل فرمان رب العالمین سے یہی مراد ہے ۔ فرما یا : وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِمْ ۚ فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ (یوسف: 43) 

اور ہم نے تجھ سے پہلے نہیں  بھیجے مگر کچھ مرد جن کی طرف ہم وحی کرتے تھے، پس ذکر والوں سے پوچھ لو ! اگر تم نہیں جانتے ہو۔ 

اسی طرح ہر وہ مسلمان کہ جس کے پاس نہ علم ہو اور نہ ہی اتنی علمی بصیرت کہ جس کے ساتھ وہ دینی مسائل واحکام کا صحیح تعین کر سکے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ قرآن و سنت کے صحیح علم  و فہم والے اپنے عالم کی تقلید و اتباع کرے۔ (یہاں ہر مقام پر تقلید سے مراد علما کی غیر معلوم مسائل میں اتباع ہے ، اندھی تقلید نہیں ۔)

? اسی طرح علماء عظام کے مابین اس مسئلہ میں بھی اختلاف نہیں ہے کہ : عوام الناس کے لیے فتویٰ صادر کرنا بھی جائز نہیں ہے ۔ یہ اس لیے کہ وہ قرآن و احادیث صحیحہ کے معانی کو خوب اچھی طرح نہیں جانتے ہوتے کہ جن کے ذریعے حلال اور حرام کا علم حاصل ہو سکے اور پختہ  علم کی بنیاد پر کوئی قول صادر کر سکے۔

( جامع بیان العلم وفضلہ جلد 2، ص:144، 115) 

المختصر اس طرح کے نو جوان کہ جن کااوپر ذکر ہورہاتھا اُن کا تعلق بھی عوام الناس سے ہے۔ بالخصوص شریعت مطہرہ کے علوم ومعارف اور اس کے لوازم کے متعلق صورت حال یہ ہے کہ اس طرح کے نو جوان (اپنے نفسانی کبر کی وجہ سے ) علماء کرام سے دینی مسائل کے لئے استفسار اور قرآن   وسنت کا علم حاصل کرنے میں نفرت سے کام لیتے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ وہ بے اصول و غیر منظم سوچ اور فکر  کا نہایت کڑواپھل (جو فصل کے پکنے پر حاصل ہو )بن کررہ گئے ہیں۔

(جاری)

ماخوذ از “فکر الخوارج والشیعۃ فی میزان اھل السنۃ والجماعۃ”  

تالیف : دکتور علی محمد محمد الصلابی حفظہ اللہ  

Print Friendly

About alfitan

مزید دیکھئے

photo_2017-08-25_20-55-16

قعدیہ بدترین فرقہ خوارج

    “قعدیہ” بد ترین فرقہ خوارج  الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *