مرکزی صفحہ » گمراہ فرقے » خوارج » بغیر استاد کے کتابوں کا مطالعہ کرنا(حصہ سوم)۔

بغیر استاد کے کتابوں کا مطالعہ کرنا(حصہ سوم)۔

image_pdfimage_print
index

خوارج کی جدید گمراہ کن راہیں

دوسرا سبب

بغیر استاد کے کتابوں کا مطالعہ

(قسط سوم )

3⃣ سچائی کے کلمات کی انتہائی غلط تطبیق:

نہایت واضح اور سچے نظریہ و اُصولِ شریعت کو غلط معانی پہنانا اور اُن کو غلط   تطبیق دینا وہ خطر ناک آفت اور مصیبت ہے کہ جو شخص اس سے بچ گیا وہ تو جانیے کہ نجات پاگیا اور جو اس دلدل میں پھنس گیا وہ تباہ و بر باد ہو گیا ۔ اس ضمن میں سب سے بڑی مشکل اور مصیبت یہ ہے کہ ؛

جو مسلمان جدید اور قدیم خوارج کی طرح غلو و تکفیر میں پھنس گیا کہ جس غلو  کا معنی و مفہوم اور معاملہ وہ نہیں ہے کہ جس کے ساتھ استدلال کرتے ہیں بلکہ اس کا مفہوم و معنی نبی مکرم ﷺ اور صحابہ کرام وتابعین عظام کے نزدیک کچھ الگ تھا بس وہ جانیے کہ گمراہ ہو گیا۔ 

چنانچہ خارجی جب امیر المومنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر پلٹ گئے اور انھوں نے آپ رضی اللہ عنہ پر کفر کا فتویٰ لگا دیا تو کہنے لگے :

لا حکم الا للہ 

“اللہ کے سوا کسی کو حکومت ( فیصلے کا اختیار ) نہیں ہے ۔”

یہ سن کرامیر المومنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرما یا : یہ جملہ بالکل بر حق ہے مگر اس کا معنی و مفہوم خارجیوں نے غلط سمجھ لیا ہے اور ان کا معنی باطل ہے ۔

(تاریخ الطبری جلد 5 ، صفحہ 677) 

عصر حاضر کے ہمارے نو جوان بھی اسی دلدل میں جا پھنسے ہیں جس دلدل میں خارجی لوگ پھنس گئے تھے ۔ انھوں نے بھی صدق و عدل جیسے الفاظ کے معانی بری تطبیق کررکھی ہے اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انھوں نے شرعی احکام پر بھی جراءت سے کام لینا شروع کردیا اور اعتدال کی راہ سے  یکسر بہکی ہوئی اپنی آراء کے ساتھ خروج کر گئے ہیں۔ ان کلمات میں سے وہ الفاظ کہ جن کا وہ اصطلاحاً استعمال کرتے ہیں مثال کے طور پر ان کا یہ کہنا ہے “تقلید مطلق طور پر قابل مذمت ہے۔” یہ جملہ بالکل حق ہے ۔ اس پر قرآن و سنت کے دلائل موجود ہیں اور بڑے بڑے علما  ء اُمت اور آئمہ کرام رحمہم اللہ جمیعا نے تقلید محض سے منع فرما یا ہے ۔ مگر اس ضمن میں کچھ نہایت ہی اہم معاملات ہیں کہ جن پر خبرداری ضروری ہے تا کہ ہم اس کے جملہ کے صحیح معنی مراد لے سکیں اور اس کا صحیح مفہوم سمجھ سکیں؛

1⃣ بلاشبہ تقلید باطل کہ جو قابل مذمت ہے وہ یہ ہے کہ : بغیر کسی قرآن و سنت کی دلیل کے دوسرے کی بات اور فتویٰ کو آنکھیں بند کرکے قبول کر لینا۔

2⃣ بلاشبہ تقلید اس شخص کے حق میں قابل مذمت ہے کہ جو اجتہاد پر مکمل قادر ہو۔ (اس ضمن میں وہ اصول و قواعد اور شروطِ اجتہاد کا مکمل عالم اور قرآن وسنت کے علوم پر عبور رکھنے والا ہو ۔) جب کہ اجتہاد سے عاجز شخص کے حق میں جائز ہے۔

(الفتاوی جلد 15، صفحہ: 20 اور جلد 20 صفحہ :203، 204)

3⃣ علماء سابقین اور سلف صالحین رحمہم اللہ اجمعین کی کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہیے اور بلا تعصب ان کی آراء و اجتہاد سے مکمل استفاد وہ قابل مذمت تقلید نہیں ہے ۔ بلکہ ہر طالب علم کے لیے ضروری ہے کہ وہ کسی بھی زیر بحث مسئلہ پر حکم لگانے سے پہلے اس بات کا علم و معرفت ضاصل کرے کہ اس میں علماء سابقین و سلف صالحین نے کیا کہا ہے؟تا کہ وہ ان کی اس بارے میں آراء اور اُن کے فہم سے رہنمائی حاصل کر سکے۔

(ظاھرۃ الغلو فی الدین صفحہ318) 

مشہور تابعی عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں : جب تک پورے طرح سے عالم نہ ہو کسی کے لیے ضروری ہے کہ وہ لوگوں کے اختلاف کی بناپر ان کو فتویٰ دے ۔ اگر آدمی پورا عالم نہ ہو تو وہ دریا فت  کیے گئے مسئلہ میں اس کا علم پیش کرے جو اس زیادہ ثقہ ہو ۔

(جامع بیان العلم وفضلہ جلد2 ، صفحہ: 46، 47) 

امام قتادہ رحمہ اللہ  فرما تے ہیں : جو آدمی مسئلہ مستفتی میں علما عظام و آئمہ کرام کی ختلاف آرا کو نہ جانتا ہو وہ اپنی (علمی ) ناک سے فقہ کی خوشبو کو سونگھ  بھی نہیں سکتا ۔ امام یحی بن سلام رحمہ اللہ فرما تے ہیں : جو آدمی مسئلہ مستفتی کے بارے میں علما کے اختلاف کی معرفت نہ رکھتا ہوا اس کے لیے ضروری نہیں ہے کہ وہ فتویٰ دے اور نہ ہی اُس شخص کے لیے جائز ہے کہ جو آئمہ و علما عظام کے اقوال کے بارے میں علم رکھتا ہو ، یوں کہے کہ : میرے نزدیک یہ بات زیادہ پسند یدہ ہے۔

(پچھلا حوالہ )

ادھر صورت حال یہ ہے کہ عصر حاضر کے بعض نوجوان تقلید کے ودم جواز والے اصول و قاعدہ کی تطبیق کرنے میں زبر دست غلطی کا شکار  ہیں۔ چنا نچہ انھوں نے اس قاعدہ کو عامۃ الناس اور علما سب پر محمول  کررکھا ہے۔ بلکہ انھوں نے علم قرآن و سنت اور علم اجتہاد پر قدرت رکھنے والے اور اس نعمت عظمیٰ سے محروم شخص کے درمیان فرق رکھا ہی نہیں۔ نہ ہی انھوں نے اصول دین اور فروع اسلام کے درمیان کوئی فرق چھورا ہے اس سے بڑھ کر اُن سے اس ضمن میں کیا توقع کی جاسکتی ہے ؟ علماء عظام و آئمہ سلف صالحین کے اقوال و آراء سے اعراض ان کا شیوہ ہے بلکہ ان میں بعض کے نزدیک یہ معاملہ اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ وہ عظام علماء اُمت کی آراء و    اجتہاد اقوال کو بیوقوفی پر محمول کر تے ہیں اور ان کے مناہج پر تنقید کرتے ہیں اور یہ اُن کے نزدیک اس لیے ہے کہ تقلید تو صرف “قابل مذمت” مذمت ہی ہوتی ہےاور کوئی صورت ہی نہیں۔ پھر جراءت یہ ہے کہ جاہل مفتی بن کر فتوے بھی صادر کیے پھر تے ہیں اور بغیر علم و فن اُصول کی معرفت کے براہ راست قرآن و سنت سے مسائل و احکام کا استنباط بھی کرتے پھر ہیں ۔

(ظاھرۃ الغلو فی الدین: صفحہ 319) 

غلو و تکفیر کے نظریہ کا شکار نوجوانوں اور کم علم باغیوں کا دوسرا نعرہ یہ ہے کہ : “وہ بھی مرد تھے ، ہم بھی مرد میدان ہیں ۔” یہ ایک خوش جملہ ہے کہ جس نے عصر حاضر کے خارجی ذہنیت کے مالک لوگوں کو خوش کر کے رکھ دیا ہے ۔ اس لیے کہ اس جملہ سے آدمی کے نفس کو خود بخود بڑی اہمیت مل جاتی ہے ۔ (وہ سمجھنے لگتا ہے کہ میں بھی ایک چیز ہوں ۔) اور اس جملے سے کسی بڑے چھوٹے کی  ماتحتی اور تسلیم و رضا کے مقابلے میں خود داری و بڑائی پیدا ہو جاتی ہے ۔ (اور یہی شیطان کا ایک بڑا  حربہ ہے کہ جس سے وہ انسان کو تکبر و غرور کی راہ پر ڈال دیتا ہے ۔) یہ ہے وہ باطل نظریہ کہ جس آج کتنے ہی لوگ کار بند نظرآتے ہیں اور لوگوں کے دل اس جملہ کی طرف مائل ہو چکے ہیں۔

آئیے! اب ذرا اس جملہ کی حقیقت و معانی اصلیہ کی طرف رجوع کرتے ہیں : سب سے پہلے یہ جملہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے کہا تھا ۔ ( یعنی : ھم رجال و نحن رجال ؛) لیکن یہ ہے کہ لوگ زمانے کے گزرنے کے ساتھ  اولا؛ اس جملہ کے کہنے والے کو بھی بھول گئے ۔ ثانیا: اس جملہ کے خصائص اور اس کی مناسبت کو بھی انھوں نے بھلا دیا اور پھر اس ڈگر پر چل کھڑ ے ہو ئے کہ : صرف کسی ایک آدھ آیت یا کسی ایک آدھ حدیث کو صرف پڑھ کر ہی انھوں نے احکام و مسائل کو جھپٹنا شروع کر دیا ۔ اس آیت  یا  اُس حدیث کی شرح اور اس بارے میں آئمہ کرام اور علماء عظام کے فہم کا مطالعہ بالکل سطحی سا کر لیا اور بس مفتی صاحب بن گئے ۔ اس آیت کریمہ یا حدیث شریف سے کسی چیز  یا عمل کو باطل قرار  دینے میں ان ائمہ کرام و علماء عظام نے جو استنباط و استخراج کیا ہوتا اس پر اُن کی نظر ہی نہیں ہوتی اور جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے : ارے اللہ کے بندو!  تم لوگ یہ کیا کرر ہے ہو ؟ کوئی حکم  لگاتے اور مسئلہ بتلاتے وقت صبر سے کام لے لیا کرو اور توقف کیا کرو ۔ علماء و آئمہ اُمت کے مستنبط و مستخرج احکام و مسائل کے بارے میں مطالعہ اور غوروفکر کر لیا کرو ۔ اپنے علماء کرام کے فہم و علم کی طرف پہلے دیکھ لیا کرو تو وہ فورا کہیں گے :

ھم رجال و نحن رجال

وہ بھی علمِ قرآن و سنت اور تفقہ فی الدین کے مرد میدان تھے اور ہم بھی انہی جیسے مرد ہیں ۔‘‘

جی ہاں  اس میں کوئی شک نہیں کہ تم لوگ جسمانی بناوٹ ، بشری طبیعتوں اور ڈیل ڈول کے اعتبار سے اُن کے برابر ضروری ہو۔ مگر کیا تم جانتے ہو کہ : اس جملے کا کہنے والا کون تھا؟ اور اس جملہ کی اُس کے ہاں مناسبت کیا تھی ؟

تو سنیے! وہ شخص اپنے زمانے کا فقیہ عالم اور امام تھا ۔ اللہ عز و جل نے نہایت روشن فہم و تفقہ کے ساتھ اس پر احسان فرمایا تھا۔ اس شخص کو گہرا علم اور دل کا تقویٰ بھی اللہ کریم کی طرف سے عطا ہوا تھا ۔ اُس شخص (امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ ) نے اپنے اُصول کے لیے بیانیہ کلمہ کہا تھا ۔ اب مکمل عبارت سنیے اور پھر اپنی حالت کا جائزہ بھی لے لیجیے ۔ امام صاحب نے کہا تھا :

اذا کان القرآن أو السنة فأقدمهما ، وإذا كان قول الصحابي فلا أخرج عنه و اذا كان قول تابعي فهم رجال ونحن رجال

اگر قرآن حکیم یا سنت و حدیث رسول اللہ ﷺ ہمارے سامنے آجائے تو میں ان دونوں کو ہر علم ورائے پر مقدم کروں گا اور اگر  کسی صحابی کا قول (فہم قرآن و سنت اور تفقہ فی الدین ) ہمارے علم میں آگیا تو میں اس کے قول و فرمان اور فہم و فقہ سے یکسر باہر نہیں نکلوں گا ۔ اور اگر کسی تابعی کا قول ہمارے سامنے کسی مسئلہ میں آیا تو پھر میں کہتا ہوں کہ : وہ بھی میدان علمومعرفت فی الدین کے شاہسوار ہیں اور ہم بھی وہی مرد میدان ہیں ۔‘‘

اس لیے ضروری ہے کہ اس جملہ کے موقع محل اور اس کی مناسبت کے بارے میں جان لیا جائے تاکہ ہم کسی حکم و مسئلہ کی تطبیق میں افراط تفریط کا شکار نہ ہو جائیں ۔ ہاں تو محترم بھائی ! ہمارے اسلاف علماء عظام و آئمہ  کرام میدانِ اجتہاد و معرفت اور علم قرآن و حدیث کے شاہسوار تھے اور کبار علماء تھے ۔ ذرا دل میں جھا نک کر اور اپنی علمی گہرائی کا جائزہ لے کر فیصلہ کرو ۔ 

(ظاھرۃ الغلو فی الدین: صفحہ 319)

 کیا تم بھی انہی کی طرح اس پائے کے ہو ؟

اپنی حیثیت تو جانو ! 

Print Friendly

About alfitan

مزید دیکھئے

خوارج کے فرقے

خوارج کے فرقے،القاب اور نام

  خوارج کے فرقے،القاب اور نام الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *