مرکزی صفحہ » گمراہ فرقے » خوارج » اپنی ذات پر دین حنیف کے معاملے میں تشدد اور دوسروں کو تنگی میں ڈالنا

اپنی ذات پر دین حنیف کے معاملے میں تشدد اور دوسروں کو تنگی میں ڈالنا

image_pdfimage_print
index132

تکفیری سوچ کو جنم دینے والے چند اہم محرکات 

اپنی ذات پر دین حنیف کے معاملے میں

تشدد اور دوسروں کو تنگی میں ڈالنا  

الحمد للہ رب العالمین والعاقبۃ للمتقین والصلوۃ والسلام علی اشرف الانبیاء والمرسلین امابعد !

عصر حاضر میں غلو وتکفیر کے مظاہر میں سے دین حنیف کے معاملے میں اعتدال کی راہ سے نکل جانا بھی ہے .یعنی وہ اعتدال کا منہج وطریق کہ جس پر خود نبیﷺ کار بند تھے اور آپﷺنے اپنی درج ذیل حدیث مبارک میں کہ جوسیدنا ابو ہریرہ  رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ،تشدد کی راہ اپنانے سے منع کیا ہے :

“ان الدین یسر،ولن یشاد الدین الا غلبہ ،فسددو ،وقاربو ا وابشرو ا واستعینو ا با لغدوۃ والروحۃ وشیء من الدلجۃ”

بے شک دین حنیف ،اسلام نہایت آسان ہے اور جو شخص دین میں سختی اختیار کرے گا تو دین اس پر غالب آجائیگا (اس کی سختی نہ چل سکے گی )۔ اس لیے اپنے عمل میں  پختگی پیدا کرو اور جہاں تک ممکن ہو میانہ روی اختیار کرو اور خوش ہو جاؤ (کہ ا س طرز  عمل سے تم لوگوں کو  دین ودنیا  کے سب فوائد حاصل ہوں گے۔)صبح،دوپہر ، شام اور رات کے کچھ حصے میں (عبادت سے ) مدد حاصل کرو ۔

(صحیح البخاری ، کتاب الایمان ، باب الدین یسر حدیث:39) 

زیادہ تر دین میں تشدد کا سبب یہ بنتا ہے کہ ایسے لوگوں کو اسلام ،قرآن وسنت کی سمجھ بوجھ نہیں ہوتی اور یہ دونوں چیزیں یعنی تشدد اور عدم تفقہ فی الدین (یعنی مسائل دینیہ میں فقاہت نہ ہونا) ؛ خوارج کی سب سے بڑی علامتیں ہیں۔آج بھی خوارج کی ڈگر پر چلنے والوں کی یہی دو بڑی علامتیں ہیں۔

? غلو وتکفیر کے مظاہر میں سے دین میں پائی جانے والی آسانی کو ترک کر کے تنگی والی راہ کو اختیار  کرنا  ہے۔ 

چنانچہ اس غلو کا شکار لوگ دوسرے لوگوں سے ایسے اعمال کا مطالبہ کرتے ہیں کہ جن کی وہ استطاعت ہی  نہیں رکھتے ۔انہیں ایسی ایسی باتوں کا پابند بنانے کی کوشش کرتے ہیں کہ جس کا آسان  شریعت نے انہیں قطعاً پابند نہیں کیا اور نہ ہی وہ ان اعمال کی استطاعت رکھتے ہیں اور نہ ہی عام لوگ ان معانی ومفاہیم کو جان رہے ہوتے ہیں کہ جن الفاظ ومتون  کے ساتھ وہ ان کو مخاطب کرتے ہیں ۔

? ان تنگی والے ذرائع واسباب میں سے کچھ یوں ہیں؛

1⃣   احکام ومسائل کے مراتب سے لا علمی 

2⃣   لوگوں کے مراتب سے لا علمی 

? جہاں تک اس تنگی اور تشدد والے طریق کی مجالات اور اس کے اشکال کا تعلق ہے تو وہ یہ ہیں:

?نظر کا ایجاب

?سب لوگوں  پر کسی بات کا استدلال 

?لوگوں سے ایسی باتیں کرنا کہ جن کہ بارے میں وہ بالکل نہ جانتے ہوں 

?دین میں دی گئی رخصتوں کو بالکل ترک کر دینا اور ایسی باتوں کا التزام کرنا جن کا شریعت نے  یکسر پابند نہ کیا ہو

? دین اسلام تو ہر موڑ پر ہمیں آسانی کی تلقین کرتا ہے ، نبوی دور میں صحابہ کرام کی کئی ایک ایسی مثالیں ملتی ہیں جیسا کہ نمازوں کی امامت کرتے ہوئے عوام الناس کو لمبی لمبی نمازیں پڑھانا اور اس طرح انہیں تنگی میں ڈال دینے سے روکا گیا ہے ،  رسول اللہ ﷺ کو یہ بات پہنچی کہ مسجد میں ایک شخص نماز بہت زیادہ لمبی پڑھاتا ہے ، تو آنحضرت ﷺ اس کے پاس آئے اسے کندھے سے پکڑا ور فرمایا :  

ان اللہ رضی لھٰذہ الامۃ الیسر وکرہ لھم العسر قالھا ثلاث مرات وان ھٰذہ الامۃ اخذ بالعسر وترك الیسر

(الصحیحۃ:1635)

” اللہ تعالی نے اس امت کے لئے آسانی کو پسند اور تنگی کو ناپسند کیا ہے ، تین مرتبہ یہی فرمایا ،جبکہ اس امت نے آسانی کو چھوڑ کر تنگی کو پکڑ لیا ہے ۔” 

اسی طرح ایسے شخص  پررسول اللہ ﷺ نے سخت ناراضگئ کا اظہار کیاجیسا کہ ابو مسعود ﷜ سے مروی ہے کہ ایک صحابی نے نبیﷺ سے شکایت کی :

قال رجل يا رسول الله إني لأتأخر عن الصلاة في الفجر مما يطيل بنا فلان فيها فغضب رسول الله صلى الله عليه وسلم ما رأيته غضب في موضع كان أشد غضبا منه يومئذ ثم قال : يا أيها الناس إن منكم منفرين فمن أم الناس فليتجوز فإن خلفه الضعيف والكبير وذا الحاجة

(صحیح البخاری : 672)

“میں نماز فجر میں فلاں امام کے لمبی نماز پڑھانے کی وجہ سے پیچھے رہ جاتا ہوں تو نبیﷺ نے شدید غصے کا اظہار کیا ، میں نے آپ ﷺ کو اس سے پہلے اتنے غصے میں کبھی نہیں دیکھا تھا جتنا سخت آپ نے یہاں غصے کا اظہار کیا ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا : اے لوگو! یقینا تم میں (دین سے ) متنفر کرنے والے بھی موجود ہیں ، تم میں سے جو بھی نماز کی امامت کروائے وہ نماز کو مختصر کرے ، کیونکہ لوگوں میں بوڑھے،کمزوراور حاجت مند بھی ہوتے ہیں۔

یعنی وہ ان سب کا خیال رکھنا از حد ضروری ہے ۔ اپنا ذاتی شوق ایک الگ معاملہ ہے لیکن اسے دوسروں پر مسلط کرنا ، شریعت میں ہمیں اس کی کسی صورت بھی اجازت نہیں ملتی ۔

 معاشرے میں ہمیں اس کی کئی مثالیں دیکھنے کو ملتی ہیں ، ایسے رویے کا نقصان بعض اوقات ہمیں اس صورت میں بھی ملتا ہے کہ لوگ دور رہنے لگتے ہیں اور اکتاہت محسوس کرنے لگتے ہیں اسی طرح کئی ملحدین کو بھی پروپیگنڈا کرنے کا موقع مل جاتا ہے جبکہ ہمیں تو ان سب سازشیوں کو موقع دیے بغیر لوگوں کو قریب کرنا ہے اور محبت سے دین پر کاربند رہنے کی تلقین کرنی ہے۔ 

اللہ رب العزت ہمیں دوسروں کو تنگی میں ڈالنے اور مشکلات کھڑے کرنے والے بننے کی بجائے ، سب کے لئے آسانیاں پیدا کرنے والے، اور ایک دوسرے کی خوشی غمی میں کام آنے والے بنا دے آمین ۔۔۔۔ 

Print Friendly

About alfitan

مزید دیکھئے

WhatsApp Image 2017-03-22 at 9.14.00 PM

بغیر استاد کے کتابوں کا مطالعہ کرنا(حصہ دوم)۔

خوارج کی جدید گمراہ کن راہیں دوسرا سبب بغیر استاد کے کتابوں کا مطالعہ (قسط …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *