مرکزی صفحہ » گمراہ فرقے » خوارج » فخروغرور اور ایسے کام کرنا جن سے اپنی حیثیت نمایاں کرنا مقصود ہو

فخروغرور اور ایسے کام کرنا جن سے اپنی حیثیت نمایاں کرنا مقصود ہو

image_pdfimage_print
فخروغرور اور ایسے کام جن سے

تکفیری سوچ کو جنم دینے والے چند اہم محرکات 

فخرو غرور اور ایسے کام کرنا جن سے اپنی حیثیت نمایاں کرنا مقصود ہو

الحمد للہ رب العالمین والعاقبۃ للمتقین والصلوۃ والسلام علی رسولہ الکریم امابعد!

              عصر حاضر میں غلو وتکفیر کے ظاہر وباطن نشانات میں سے فخر وتکبر اور اپنے آپ کو امت کے کبار علماء سے بلند سمجھنا اور گہرے علم کا دعویٰ کرنا ہے ۔اور یہ اس شکل میں ہے کہ :آپ ایسے لوگوں میں  سے کسی شخص کو یوں دیکھو گے کہ :

              وہ علم شرعی کی شروعات کو بھی نہیں جانتاہوتا اور نہ ہی دین کے احکام وقواعد کو۔ ہاں!کبھی کسی کے پاس سطحی علم ہوتا ہے لیکن اس کے فہم کی بیماری وکمزوری کے ساتھ کہ جس میں اسے نہ تو اصول وضوابط کا  علم ہوتا ہے اور نہ ہی درست رائے ۔فقہ اور مضبوط علم کا۔مگر وہ گمان کرتا ہے کہ کہ اس نے اپنے تھوڑے علم اور اپنے کمزور ،بیمار فہم کے باوجود تمام علماء کے علم کو عبور کر لیا ہے اور سب سے آگے نکل گیا ہے۔

چنانچہ اپنے اس فخروغرور اور گھمنڈ کی بناء پر وہ تمام علماء کے علم کو حقیر جاننے لگتا ہے اور علم کی طلب والے سلسلے کو جاری رکھنے سے رک جاتا ہے۔جس سے وہ اپنے تکبر کی وجہ سے خود بھی ہلاک ہوتا ہے اور دوسروں کو بھی ہلاکت میں ڈالتا ہے۔ اولین اور پرانے خوارج بھی بالکل اسی طرح تھے۔ وہ بھی اسی طرح کے صحابہ کرام اور جید تابعین کی موجودگی میں علم و اجتہاد کا دعویٰ کرتے تھے۔ وہ بھی صحابہ کرام وتابعین جیسے اجل اور بڑے بڑے جید علماء پر اپنے علم کا تکبر کرتے تھے حالانکہ وہ سب سے زیادہ  جاہل لوگ تھے۔

              اس بات کا تذکرہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما خوارج سے ہونے والے اپنے مناظرے میں بھی کرتے ہیں کہ : میں ان لوگوں کی طرف سے جن کی موجودگی میں قرآن نازل ہوتا تھا اور تم (خوارج) میں ان (صحابہ کرام ) میں سے کوئی ایک بھی نہیں ہے لہذا اپنی حیثیت کو پہچانو! 

اس تکبر نے بالکل ہی کم عمر ، بے وقوف قسم کے نوجوانوں کو  بغیر علم اور تفقہ فی الدین کے صدر نشینی والے دعویٰ تک پہنچادیا ہے ۔بعض لوگوں نے ان کو جاہلوں کے سردار تسلیم کر رکھا ہے اوروہ بھی بغیر کسی علم ومعرفت کے فتاویٰ دیے جا رہے ہیں۔ شرعی امور میں بغیر تفقہ فی الدین کے فیصلے دیتے چلے جا رہے ہیں ۔بغیر کسی تجربہ اور پختہ رائے کے دنیا کے بڑےبڑے حوادث کا سامنا کرنے میں بڑی جراءت کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور پھر اس ضمن میں وہ اس میدان میں ماہر اہل علم کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کرتے ۔

              بلکہ ان میں سے اکثر علماءکے نقائص اور عیب نکالنے لگتے ہیں کیونکہ وہ ان کی قدرو منزلت پہچانتے ہی نہیں۔ اور اگر کوئی بڑا شیخ محترم ان لوگوں کی خواہشات نفسانیہ کے خلاف کوئی فتویٰ دے دے تو یہ لوگ فوراً ان پر غلطی وتقصیر کا الزام لگا دیں گے  یا کہیں گے کہ  انہوں نے کمزوری اور مداہنت سے کام لیا ہے۔ یا کہیں گے کہ یہ بزرگ سطحی علم ،صحیح فہم کی قلت اور شعور وادراک کی قلت کا شکار ہیں ۔ٖ

غرضیکہ اس طرح کی باتیں اور بہتان درازی کرتے نظر آئیں گے کہ جس کے نتیجے میں  فرقہ بندی اور فساد عظیم کو ہوا ملتی ہے ۔اس سے وہ علماء پر نعوذ باللہ  علمی ودینی خیانت کا بہتان لگا کر ان کی قدر ومنزلت کولوگوں  کی نظر میں کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔جیسا کہ اللہ رب العالمین کافرمان ہے :

“حسداً من عند انفسھم من بعد ما تبین لھم الحق”

(البقرۃ:109)

وہ اپنے ہاں حسد کی بنیاد پر ایسا کرتے ہیں باوجود اس بات کہ ان پر حق واضح ہو چکا ہے ۔

علاوہ ازیں بھی وہ ایسی حرکتیں کرتےرہتے  ہیں کہ جو مسلمانوں کو ان کے دین ودنیا میں نقصان پہنچانے کا سبب بنتی ہیں۔ظاہر سی بات ہے جب ایک چیز کی وہ جگہ ہی نہیں جہاں آپ اسے رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں تو وہ وہاں کیسے فٹ آ سکتی ہے۔

دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہمارے نوجوانوں کو دین کے معاملے میں میانہ روی اور اعتدال پسندانہ نبوی سنت کے مطابق اپنے مزاج ڈھالنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین ! تآنکہ انہی نوجوانوں نے امت کا مستقبل سنبھالنا ہوتا ہے ۔ 

Print Friendly

About alfitan

مزید دیکھئے

index

بغیر استاد کے کتابوں کا مطالعہ کرنا(حصہ سوم)۔

خوارج کی جدید گمراہ کن راہیں دوسرا سبب بغیر استاد کے کتابوں کا مطالعہ (قسط …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *