مرکزی صفحہ » گمراہ فرقے » خوارج » دوسروں کو جاہل سمجھنا اور اپنی رائے کو منفرد جاننا

دوسروں کو جاہل سمجھنا اور اپنی رائے کو منفرد جاننا

image_pdfimage_print
دوسروں کو جاھل سمجھنا

تکفیری سوچ کو جنم دینے والے چند اہم محرکات 

دوسروں کو جاہل سمجھنا اور اپنی رائے کو منفرد جاننا

الحمد للہ رب العالمین والعاقبۃ للمتقین والصلوۃ والسلام علی رسولہ الکریم امابعد!

عصر حاضر میں غلو وتکفیر کی سب سے واضح نشانیوں میں سے اپنی رائے پر بے جا تعصب ،دوسروں کی رائے کا عدم اعتراف اور دوسروں کے ہاں حق سچ ہونے کے باوجود اگر اپنی رائے کے مخالف ہیں تو ان کے صحیح ترین مؤقف ومسلک کا کھلاانکار کرنا ہے ۔

🔵 اپنی رائے اور اپنی طرف داری کے لیے تعصب کو جنم دینے والے اسباب درج ذیل ہیں:

📌 علم کی کمی

📌 بالکل خالی ذہن کو اچانک یا اتفاقاً ایک رائے کا مل جانا

📌 کسی رائے کا بہت اچھا لگنا

📌 نفسانی خواہشات کی پیروی کرنا

بلاشبہ کسی رائے کے اچھا لگنے  والی آفت ومصیبت نے اس رائے کو قبول کرنے والوں کو ہم سے پہلے والے زمانے کے لوگوں کو بھی بہت ہی خطرناک قسم کی گہرائیوں میں اوپر سے بہت نیچے پھینک رکھا تھا ۔ان سب کا سرغنہ اجہل الناس ذو الخویصرہ تھا کہ جسے اس کی رائے نے گمراہی کے فہرے گڑھے میں پھینک دیا تھا  ۔

امام ابن جوزی رحمہ اللہ لکھتے ہیں : اس شخص کے لیے آفت ومصیبت یہ تھی کہ وہ اپنی ذاتی رائےپر خوش تھا ۔اگر وہ توقف کر کرکے غور وفکر کر لیتا  تو وہ یہ بات خوب اچھی طرح جان جاتا کہ رسول اللہ ﷺ کی رائے سے بڑھ کر کوئی رائے نہیں ہو سکتی ۔ 

(تلبیس ابلیس ،ص:9)

اور پھر ذوالخویصرۃ کے حامیوں کو جس چیز نے گمراہی کے گڑھے میں پھینک دیا تھا وہ بھی ان کی اپنی رائے کا ان کو بہت اچھا لگنا تھا  اور دوسروں کے کے بارے میں سوء ظن ۔پھر خوارج مکمل طور پر ان کے پیچھے چل پڑے جیسے ان کے غلام ہوں  

ان ظالموں کا عقیدہ تھا کہ وہ  امیر المومنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے زیادہ علم رکھتے ہیں  اور اسی بات نے ان کو ہلاک کردیا ۔

(تلبیس ابلیس ، ص:91) 

محمد ابو زہرہ کہتے ہیں :یہی وہ لوگ تھے کہ جن پر ایمان کے الفاظ غالب آ گئے تھے اور ان کا یہ کہنا بھی ان پر غالب آگیا تھا :”لا حکم الا اللہ”  ایک اللہ کے سوا کسی کا فیصلہ قبول نہیں ۔

(تاریخ المذاھب الاسلامیۃ ، محمد ابو زھرۃ ، ص:61)

💢 تو تیسری بات کہ جس نے تکفیری سوچ کو پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کیا وہ یہ تھی کہ وہ ظالم لوگوں سے براءت کا اظہار کرتے تھے اور اسی بناء پرانہوں نے مسلمانوں کے خون کو مباح کرلیا تھا ۔چنانچہ انہوں نے صحابہ کرام  وتابعین عظام کے خون سے تمام اسلامی ممالک کو رنگین کر دیا تھا۔

اس قابل نفرت تعصب نے انہیں حق کو مکمل طور پر قبول کرنے سے  روک دیا حالانکہ حق ان پر مکمل واضح تھا۔اور سیدنا ابن عبا س رضی اللہ عنہما  ان خوارج سے مناظرہ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے اشکالات کا ازالہ بھی کر چکے تھے ۔اور سیدنا ابن عبا س رضی اللہ عنہما   کی باتوں کا وہ کوئی قابل قبول جواب بھی نہ دے پائے تھے ۔لیکن تعصب کی وجہ سے ماننے سے انکار کر دیا  ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ  عصبیت کا نعرہ لگا کر مسلمانوں کا خون گرایا جانے لگا ۔

تو گزری ہوئی ان تمام باتوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ  اپنی رائے کا تعصب  اور دوسروں کو جاہل شمار کرنا اسلام کے اہم ترین مبادی کی یکسر نفی کرنا ہے ۔ان مبادی میں شوریٰ اور تناصح بھی شامل ہیں ۔

Print Friendly

About alfitan

مزید دیکھئے

WhatsApp Image 2017-03-22 at 9.14.00 PM

بغیر استاد کے کتابوں کا مطالعہ کرنا(حصہ دوم)۔

خوارج کی جدید گمراہ کن راہیں دوسرا سبب بغیر استاد کے کتابوں کا مطالعہ (قسط …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *