مرکزی صفحہ » مسئلہ تکفیر » مسئلہ تحکیم » آیات تحکیم کی غلط تاویل کے باعث خوارج کی گمراہی اور منہج اسلاف

آیات تحکیم کی غلط تاویل کے باعث خوارج کی گمراہی اور منہج اسلاف

image_pdfimage_print

آیات تحکیم کی غلط تاویل کے باعث خوارج کی گمراہی اور منہج  اسلاف

ائمہ عظام و محدثین عظام  کی نظر میں

  
الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

امام ا بو عبیدہ نے فضائل قرآن میں اور سعید بن منصور نے ابراہیم تمیمی سے بیان کیا ہے کہ وہ فرماتے ہیں امیر المومنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ یہ بات سوچ رہے تھے کہ اس امت میں اختلاف کیسے واقع ہو سکتا ہے۔ پھر عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما کو بلوایا اور فرمایا اے ابن عباس رضی اللہ عنہ اس امت کا نبی ایک، قبلہ ایک، کتاب ایک پھر یہ امت اختلاف میں کیسے پڑے گی ….؟ (یعنی بظاہر یہ ممکن نہیں۔ ) 

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا : اے امیر المومنین یہ قرآن ہم میں نازل ہوا ہم نے اسکو نبی سے پڑھا اور ہمیں معلوم ہے(کون سی آیات) کس بارے نازل ہوئی۔ جبکہ ہمارے بعد کچھ لوگ آئیں گے جو قرآن تو پڑھیں گے لیکن انہیں یہ معلوم نہ ہو گا کہ کونسی آیت کس بارے نازل ہوئی اور وہ خود سے اس کے بارے رائے زنی کرینگے ۔ جب اپنی اپنی آراء پہ چلیں گے تو ان میں اختلاف ہو گا۔۔۔

[فضائل قرآن لابی عبیدۃ]

اسی پہ امام شاطبی فرماتے ہیں : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما کا یہ فرمانا برحق ہے کہ جب آدمی کو علم ہو کہ یہ آیت کس بارے نازل ہوئی تو وہ اسکے ماخذ، تفسیر، اور شریعت کے مقصد کو معلوم کر لیتا ہے اور زیادتی کا شکار نہیں ہوتا تو جب کوئی آدمی اپنی نظر سے کئی احتمالات بنانا شروع کردیتا ہے تو ایسے لوگوں کے علم میں۔پختگی نہی ہوتی اور یہ لوگ خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔

اسکی وضاحت اس واقع سے بھی ہوتی ہے جب سیدنا نافع رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ صحابی رسول عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما کی حروریہ(خوارج)کے بارے کیا رائے ہے تو انہوں نے فرمایا : وہ انکو اللہ کی سب سے بدترین مخلوق سمجھتے ہیں کیونکہ وہ خوارج کفار کے بارے نازل شدہ آیات کو مسلمانوں پہ فٹ کرتے ہیں۔

یہ سن نے سعید بن جبیر تابعی رحمہ اللہ متوجہ ہوئے اور فرمایا یہ لوگ متشابہ آیات جو مختلف احتمال رکھتی ہیں انکی پیروی کرتے ہیں جیسے اللہ کا فرمان: 

ومن لم یحکم بما انزل اللہ فأولئک الکافرون
اور جو اللہ کے نازل کردہ کے مطابق فیصلہ نہ کرے وہ کافر ہے

اور ساتھ یہ آیت ملا لیتے ہیں۔۔۔۔

وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآَخِرَةِ وَهُمْ بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ (الانعام: 150)  

وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں لائے اور وہ اپنے رب کے ساتھ برابری کرنے والے تھے

اور نتیجہ یہ نکالتے ہیں کہ جس نے کفر کیا اس نے اللہ کی برابری کی اور جس نے رب کے ساتھ برابری کی اس نے شرک کیا۔۔۔!!!
پس یہ لوگ مشرک ہیں لہٰذا وہ خروج کرتے ہیں اور قتل و غارت کرتے ہیں۔کیونکہ انہوں نے آیت کی تفسیر ہی ایسے لی تھی

[الاعتصام للشاطبی ج2، ص 692_691]

اہل السنة والجماعة کے علماء کا اجماع ہے کہ آیات تحکیم سے ظاہر مراد نہیں ہے اور ان آیات کے ظاہر سے خوارج اور معتزلہ، کفر اکبر کا استدلال کرتے ہیں ۔۔۔ !!!!

saidagate_47826

مندرجہ ذیل علماء کے اقوال ملاحظہ فرمائیں:

1⃣۱۔ علامہ قرطبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

’’اس آیت کے ظاہر سے وہ لوگ کفر اکبر کی حجت بیان کرتے ہیں جو گناہوں کی وجہ سے کفر اکبر کا فتوی لگاتے ہیں اور وہ خوارج ہیں۔ اور اس آیت میں انکی کوئی حجت نہیں۔‘‘ 

[المفہم جلد نمبر5صفحہ نمبر117]

2⃣۲۔ حافظ ابن عبدالبر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

‘‘ اوراس باب میں اہل بدعت کی ایک جماعت گمراہ ہوئی ۔اس باب میں خوارج اور معتزلہ میں سے پس انہوں نے ان آثار سے حجت بیان کی کہ کبیرہ گناہوں کے مرتکب کافر ہیں اور اللہ تعالی کی کتاب میں سے ایسی آیات کو حجت بنایا جن سے ظاہر مراد نہیں ہے جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا
(وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ) (المائدة: 44)‘‘

[التمہید جلد 16، صفحہ 312]

3⃣۳۔ امام آجری رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں:

’’اورحروری (خوارج) جن متشابہ آیات کی پیروی کرتے ہیں ان میں سے یہ آیت بھی ہے‘‘
(وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ [المائدة: 44]

اور اس آیت کے ساتھ یہ آیت بھی بیان کرتے ہیں

ثُمَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ [ الانعام : 1]

’’پس جب وہ کسی حکمران کو دیکھتے ہیں کہ وہ بغیر حق کے فیصلہ کرتا ہے ،کہتے ہیں یہ کافر ہے اور جس نے کفر کیا اس نے اپنے رب کے ساتھ شریک بنا لیا ، پس یہ حکمران مشرک ہیں ،پھریہ لوگ نکلتے ہیں اور وہ کرتے ہیں جو آپ دیکھتے ہیں کیونکہ (وہ )اس آیت کی تاویل کرتے ہیں ۔‘‘

[الشریعہ صفحہ:44]

4⃣ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’اور یہ وہ آیت ہے جسے خوارج ایسےحکمرانوں کی تکفیرکے لئے بطور حجت پیش کرتے ہیں جو اللہ تعالی کے نازل کردہ فیصلوں کے خلاف فیصلہ کرتے ہیں۔‘‘

[منہاج السنہ ج5 ص131]

5⃣علامہ ابو الحسن الملطی رحمہ اللہ کی رائے یہ ہے کہ ؛

یہ بات فیصلہ شدہ ہے کہ سب سے پہلے خوارج وہ تھے کہ جنہوں نے لا حکم الا للہ ۔۔۔ اللہ عزوجل کی ذات اقدس کے علاوہ کسی کا فیصلہ قابلِ قبول نہیں کا نعرہ لگایا تھا ۔ اور ان کا دوسرا نعرہ یہ تھا کہ ؛ امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کفر کا ارتکاب کیا ہے والعیاذ باللہ کہ انہوں نے بندوں کے درمیان فیصلے کا اختیار حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ کو سونپ دیا تھا ۔ جبکہ فیصلے کا اختیار تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہے ۔۔۔۔۔!!!!

خارجیوں کے فرقے کو اس وجہ سے بھی خوارج کہا جاتاہے کہ انہوں حکمَین والے دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف خروج کیا تھا کہ جب انہوں نے جناب علی اور ابو موسیٰ اشعری کے فیصلہ کرنے والے عمل کو ناپسندیدگی اور نفرت سے دیکھتے ہوئے کہا تھا ؛ لا حکم الا للہ ۔۔۔۔۔

[التنبیہ والرد علی اھل الاھواء والبدع ص 47]

تو قارئین کرام!!!

خوارج کی بنیاد یعنی مسئلہ تحکیم کے اوپر میں مکمل وضاحت ہو چکی ہے ۔ اب ہم امید کرتے ہیں کہ کوئی عام درد دل رکھنے والا ، امت کا غم رکھنے والا مسلمان بھائی مسئلہ تحکیم کی وجہ سے گمراہی کا شکار نہیں ہوگا اور نہ ہی خوارج العصر ، داعش ، القاعدہ اور ٹی ٹی پی جیسے فتنہ کا شکار ہوگا ۔ ان شاءاللہ ۔۔۔۔۔۔

Print Friendly

About alfitan

مزید دیکھئے

c4e81416-68ff-4756-b7f8-17c763c5f352

تاتاری قانون الیاسق سے موجودہ حکمرانوں کی تکفیر پر خوارج کا رد ۔ الشیخ عبد اللہ الفتوحی حفظہ اللہ

تاتاری قانون الیاسق سے موجودہ حکمرانوں کی تکفیر پر خوارج کا رد الشیخ عبد اللہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *