الغرض، علامہ یوسف القرضاوی نے قدم قدم پر قطر اپنے مذہبی افکار کو قطر کی ریاستی پالیسی کے دفاع کے لیے استعمال کیا۔ یہی وجہ ہے کہ قطر نے انہیں آج تک دہشت گردی کی فہرست میں شامل ہونے سے روکنے کے لیے تمام تر کوششیں بروئے کار لانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اپنی ویب سائیٹ پر القرضاوی نے اعتراف کیا ہے کہ اگر امیر قطر الشیخ حمد بن خلیفہ نہ ہوتے تو امریکی ان کا نام بھی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرلیتے۔

بشکریہ العربیہ