مرکزی صفحہ » اسلام اور حکمران » فتنۂ ابن اشعث (81ھ)۔

فتنۂ ابن اشعث (81ھ)۔

image_pdfimage_print
photo_2017-07-23_12-16-10

فتنۂ ابن اشعث (81ھ)

خلیفۂ وقت عبد الملک بن مروان کے زمانے میں حجاج بن یوسف نے 81ھ میں عراق پر اپنی گورنری کے ایام میں عبد الرحمن بن محمد بن اشعث کی قیادت میں شاہ ترکی ’’رتبیل‘‘ کے خلاف ایک لشکر جرار روانہ کیا۔ شاہ ترکی رتبیل نے اسلامی لشکر سے شکست کھانے کے بعد ایک جنگی چال چلتے ہوئے اسلامی لشکر کو  پہاڑوں میں گھیر کر تقریباً تیس ہزار (30،000) اسلامی سپاہ کو قتل کر ڈالا تھا۔ جس کا انتقام لینے کے لئے حجاج نے ایک جنگی مہم روانہ کی۔ جس میں ایک لاکھ بیس ہزار سپاہیوں کو شامل کیا گیا حجاج نے اس عظیم لشکر پر دل کھول کر مال لٹایا اسی لئے اس لشکر کا نام بھی ’’ جیش طواویس ‘‘ رکھ دیا گیا۔ حجاج نے اس لشکر کو حکم دیا تھا کہ شاہِ ترکی کی مکمل طور پر شکست فاش اور اس کی حکومت کے خاتمے تک جنگ جاری رکھنی ہے۔

ابن اشعث اس لشکر جرار کے ساتھ جس میں عراقی علماء و صالحین کی بڑی تعداد بھی شامل تھی، روانہ ہوا اور رتبیل کو مسلسل شکست سے دوچار کیا ۔ اسلامی لشکر شاہ ترکی کے علاقوں میں دور تک گھس گیا اور شہر پہ شہر فتح ہوتے گئے حتیٰ کہ موسم سرما شروع ہو گیا۔ ابن اشعث نے اپنے رفقاء سے مشورہ کے بعد جنگ عارضی طور پر موقوف کر دی تاکہ مفتوحہ علاقوں کا انتظام و انصرام درست کیا جا سکے اور اپنی قوت کو دوبارہ مجتمع کیا جائے ، پھر موسم سرما گزرنے کے بعد دوبارہ قتال کا آغاز کیا جائے ۔ ابن اشعث نے یہ سب کچھ ایک خط میں عراق کے گورنر حجاج بن یوسف کو لکھ بھیجا۔

ابن اشعث اور حجاج کی ناچاقی:

گورنر عراق حجاج اور ابن اشعث کے مابین پرانی  دشمنی تھی جب اسے یہ خط ملا تو وہ غضب ناک ہو گیا اور اس نے مسلسل جنگ جاری نہ رکھنے پر ابن اشعث کو جوابی خط میں خوب برا بھلا کہنا اور سخت لہجے میں اسے بزدلی اور کم ہمتی کا طعنہ دیتے ہوئے جنگ جاری رکھنے کا حکم صادر کیا۔ ابن اشعث کو جب یہ خط ملا تو اس نے اپنے مشیروں اور ساتھیوں سے مشاورت کی، جس پر انھوں نے حجاج کی رائے کو احمقانہ قرار دیا اور متفقہ طور پر فیصلہ دے دیا کہ ہم اس اللہ کے دشمن (حجاج) کی بات ہر گز نہ مانیں گے، وہ ایک ایک کر کے حجاج کے مظالم اور سیاہ کاریاں بیان کرتے گئے حتیٰ کہ آخر میں انھوں نے مل کر یہ اعلان کر دیا کہ حجاج کی بیعت توڑ کر ابن اشعث کے ہاتھ پر بیعت کی جائے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور پورے لشکر نے ابن اشعث کو اپنا امیر مقرر کر لیا اور مرکز اسلامی سے بغاوت کر دی۔

خلیفۂ وقت اور گورنر عراق کے خلاف  بغاوت :

ابن اشعث نے شاہ ترکی رتبیل کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا کر جنگ بندی کی پیش کش کی تاکہ اس جانب سے مطمئن ہو کر حجاج سے نمٹ سکے۔ شاہ ترکی نے اس پیشکش کو قبول کر لیا۔ اب ابن اشعث نے اپنے لشکر کے ہمراہ عراق کا رخ کیا تاکہ وہ حجاج کے ساتھ نبرد آزما ہو سکے۔ لشکر ابھی راستے ہی میں تھا کہ کسی نے یہ نعرہ بلند کر دیا کہ خلیفۂ وقت عبد الملک بن مروان کی بیعت توڑے بغیر، حجاج کی بیعت ختم نہیں ہو سکے گی کیونکہ وہ اسی کا مقرر کردہ گورنر ہے، چنانچہ سب نے خلیفہ عبد الملک کی بیعت بھی توڑ ڈالی۔ ابن اشعث نے والی خراسان مہلب بن ابی صفرہ ﷫کو بھی اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی مگر اس نے انکار کر دیا اور اسے مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے اور امت کو تقسیم کرنے سے باز رہنے کی نصیحت کی۔

ابن اشعث عراق میں پہنچا اور چونکہ اس کے پاس بہت بڑا لشکر تھا ، اس لئے یہ پے در پے کئی معرکوں میں حجاج کے لشکروں کو شکست دینے میں کامیاب ہو گیا، بہت سے نئے لوگ بھی اس کی جماعت میں شامل ہو گئے۔ جب ابن اشعث بصرہ پہنچا تو وہاں کے علماء، فقہاء اور مشائخ کی بڑی تعداد نے عبد الملک اور حجاج سے بغاوت کر کے اس کی بیعت کر لی۔

علماء کرام کی وعظ و نصیحت :

اس موقع پر سیدنا حسن بصری﷫ جو کہ 300 سے زائد صحابہ کرام کے شاگرد ، اور فتنوں کے بارے گہری بصیرت رکھتے ہیں ۔انہوں نے اپنے وعظ و نصیحت سے ان لوگوں کو بغاوت سے باز رہنے کی بھر پور کوشش کی اور حجاج کے ظلم پر صبر کرنے اور مسلمانوں کی جمعیت سے جڑے رہنے کے شرعی احکام اور فرامین نبوی یاد دلائے۔ ان کے مواعظ میں یہ کلام بھی شامل تھا کہ : ’’ حجاج اللہ کا عذاب ہے اور اس لیے عذاب الٰہی کو بزور بازو روکنے کی کوشش نہ کرو بلکہ دعا اور اللہ کی طرف رجوع کرو۔ کیونکہ فرمان ربانی ہے :

‹وَلَقَدْ اَخَذْنَاھُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَکَانُوْا لِرَبِّہِمْ وَمَا یَتَضَرَّعُوْنَ› 

’’اور بلاشبہ یقینا ہم نے انھیں عذاب میں پکڑا، پھر بھی وہ نہ اپنے رب کے آگے جھکے اور نہ عاجزی اختیار کرتے تھے۔‘‘ (المومنون : 76)

مشہور تابعی حضرت مجاہدبن جبر ﷫وغیرہ بھی لوگوں کو اس فتنے سے ڈراتے رہے اور مسلمانوں کی جمعیت سے مل کر رہنے کی نصیحت کرتے رہے مگر بے سود ! اکثریت نے اس پر کان نہ دھرے اور اس فتنے میں مشغول رہے۔ ابن اشعث نے کوفہ بھی فتح کر لیا اور اہل کوفہ کی اکثریت نے اس کی بیعت بھی کر لی اور یوں اس کے حامیوں کی تعداد اور بڑھ گئی اور فتنہ و اختلاف مزید بڑھتا گیا۔

خلیفۂ وقت عبد الملک بن مروان کی حکمت عملی :

ابن اشعث نے ہر مرتبہ حجاج کے شکروں کو شکست دی حتیٰ کہ ان کے درمیان برپا ہونے والے معرکوں کی تعداد اسّی سے زیادہ ہو گئی۔ عبدالملک بن مروان نے اس فتنہ کو ختم کرنے کے لیے ابن اشعث کو پیشکش کی کہ وہ حجاج کو معزول کر کے اس کی جگہ گورنری اسے دے دیتا ہے مگر ابن اشعث اور اس کے ساتھیوں نے انکار کر دیا۔ چنانچہ حجاج نے اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے ساری توجہ لشکر ابن اشعث کے علماء و صالحین پر مرکوز کر دی کیونکہ اس کے لشکر کی اصل قوت اور روح رواں یہی طبقہ تھا۔ اور آخر کار وہ اس تدبیر میں کامیاب رہا اور نتیجے میں ابن اشعث کا لشکر انتشار کا شکار ہو گیا اور وہ شکست کھا کر شاہ ترکی رتبیل کی پناہ لینے پر مجبور ہو گیا۔

آخر ابن اشعث نے خود کشی کر لی :

حجاج نے شاہ ترکی رتبیل کو دھمکی آمیز خط لکھ کر مطالبہ کیا کہ وہ ابن اشعث کو اس کے حوالے کر دے ۔ اس پر رتبیل نے مجبوراً ایسا ہی کیا۔ ابھی ابن اشعث کو قیدی بنا کر حجاج کے پاس لے جایا جا رہا تھا کہ راستے میں اس نے بلندی سے کود کر خود کشی کر لی۔ اس کا سرکاٹ کر حجاج کے پاس لے جایا گیا۔ جسے پہلے عراق میں اور پھر خلیفۂ وقت عبد الملک کے پاس شام بھیج کر عوام الناس میں پھرایا گیا۔

حجاج بن یوسف کی انتقامی کاروائی :

بعد میں حجاج نے چن چن کر ابن اشعث کے ساتھیوں اور حامیوں کو قتل کرایا اور عراق میں ظلم و تشدد کی ایک نئی تاریخ رقم کی گئی حتیٰ کہ ان لوگوں کی تعداد ایک لاکھ تیس ہزار تک پہنچ گئی جنھیں حجاج کے حکم پر گرفتار کر کے قتل کیا گیا ان میں چار ہزار کے قریب علماءومشائخ اور صالحین بھی شامل تھے اور اس طرح یہ فتنہ اپنے انجام کو پہنچا۔

اس بغاوت کے نتائج :

1۔مسلمانوں کا باہمی انتشار، صف اسلام کی شکست و ریخت اور معاملات امت کا عدم استحکام۔

2۔بڑے پیمانے پر خون ریزی، حرمتوں کی پامالی اور بڑے فساد کا ظہور۔

3۔مملکت اسلام اس فتنے کے باعث فریضۂ جہاد سے ہٹ گئی جس کے نتیجے میں فتوحاتِ اسلامیہ کا سلسلہ رک گیا، حجاج کی خوبیوں میں جہاد و فتوحات کی محبت بھی شامل تھی۔

فتنۂ ابن اشعث اور امام شعبی ﷫ کا تبصرہ :

امام شعبی﷫ بھی ابن اشعث کے ساتھیوں میں شامل تھے اور حجاج نے انھیں امان دے دی تھی۔لیکن بعد میں اپنے اس فعل پر نادم ہوئے۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ آپ کیوں اس فتنے کا شکار ہو گئے ؟تو انھوں نے ایک شعر پڑھ کر جواب دیا کہ ؛

عَوى الذِئبُ فَاِستَأنَستُ بِالذِئبِ إِذا عَوى                    وَصَوَّتَ إِنسانٌ فَكِدتُ أَطيرُ

’’ میری حالت اس شخص کی تھی کہ جو بھیڑیے کی آواز سے مانوس اور انسانی آواز سے متوحش ہو کر بھاگ جاتا ہے۔‘‘

ماخوذ از حقیقۃ الخوارج لفیصل بن قزار الجاسم 

Print Friendly

About alfitan

مزید دیکھئے

photo727360090787655056

موجودہ حکام اور انکے باطل نظام / ایک خارجی کی عجیب وغریب بوکھلاہٹ

موجودہ حکام اور انکے باطل نظام   ایک خارجی کی عجیب وغریب بوکھلاہٹ الشیخ ابو حذیفہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *