مرکزی صفحہ » گمراہ فرقے » خوارج » خوارج حکام کیلئے دعانہیں کرتے

خوارج حکام کیلئے دعانہیں کرتے

image_pdfimage_print
خوارج اپنے حکام کے لئے دعا نہیں کرتے 2

خوارج اپنے حکام کیلئے دعانہیں کرتے


عبدالصمد بن یزیدبغدادی ؒ(جومردودیہ سے مشہور ہیں)فرماتےہیں کہ :حاکم کیلئے دعا کرنا ایسی چیزہے،جس کی وجہ سے سنی مسلمان دوسروں سےممتازونمایاں ہوتےہیں،اور  حکام کیلئے دعائیں نہ کرناخواج کی نشانی ہے ،بلکہ انکےخلاف بددعائیں کرنا انکا شیوہ ہے ،اورلوگوں کوبھی اس کی دعوت دیتے ہیں ،حالانکہ حکام کیلئے دعائیں کرنا سلف صالحین کی سنت ہے ،بلکہ صحابہ وتابعین تو اس کواپنے اوپرفرض سمجھتے تھے،اور لوگوں کو بھی اسکی تلقین کرتے تھےجو حکمرانوں کےخلاف زرہ سی بھی بات کرتا تھا اسے وہ خارجی کہتےتھے۔اورکائنات کا جاہل ترین آدمی سمجھتے تھے،بلکہ انکی یہ خواہش  ہوتی تھی کہ انکی حکام کیلئے دعا ضرورقبول ہو، کیونکہ وہ اس بات کو جانتے تھے کہ حکمران کی اصلاح میں سارے معاشرے کا فائدہ پوشیدہ ہے  ۔

میں نےفضیل بن عیاض کویہ کہتے ہوئےسنا:اگرمیرےپاس کوئی دعائےمستجاب ہوتی تو میں اسے صرف حاکم کے حق میں کرتا،ان سے پوچھا گیا اےابوعلی!کیوں؟انہوں نےکہا جب یہ دعائےمستجاب میں اپنے حق میں کروں گاتواس کا فائدہ صرف مجھے ہی ہوگا،دوسروں تک نہیں پہنچے گا،لیکن جب میں یہ دعا حاکم کے لئے کروں گا،توحاکم کی صلاح میں ملک وعوام سب کی صلاح ہے۔

(حلیۃ الأؤلیاء:ص 8/91)

یعنی اگر حاکم درست ہےتو اسکا فائدہ ملک کو بھی ہو گااور رعایا کو بھی۔

امام احمدبن حنبل  ؒاپنے حاکم کےمتعلق فرماتے تھے:

میں اس کے لئے دن رات اللہ سےتوفیق و تائیداور راہِ راست کی طرف اسکی راہنمائی کی دعا کرتا ہوں،اور میں اس کیلئے دعاکرنااپنے اوپر واجب سمجھتا ہوں۔

(السنہ للخلال:ص14)

اورآپ فرماتے تھے:کوئی دن مجھ پر ایسا نہیں آتاجس میں میں حاکم کیلئےاللہ تعالیٰ سے دعانہ کرتا ہوں

(سیر أعلام النبلاء:ص 11/292)

اس بات سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا حکمران سے کیسا تعلق تھا کہ اپنی دعاؤں کو بھی اس کے لئے خاص کیا کرتے تھے ۔

امام طرطوشیؒ فرماتے ہیں:

تمام رعایاپریہ حق ہےکہ وہ حاکم کی اصلاح کیلئےعاجزی وانکساری کے ساتھ اللہ سےدعاکریں،اس کےساتھ خیرخواہی کریں،اورخصوصاً اپنی نیک دعاؤں میں اسےیاد رکھیں،کیونکہ اگر اس کے اندرصلاح ودرستگی ہے،تووہ ٹھیک ہے،اورملک بھی ٹھیک رہے گااورعوام بھی ٹھیک رہے گی،اسی طرح اگراس کے اندرفسادہے تواسکی وجہ سےعوام کےاندربھی فسادہوگا،اورملک کےاندر بھی۔(سراج الملوک(ص 151)  

اسی لئےامام بہاریؒ نےفرمایا:

جب تم کسی شخص کو دیکھوکہ وہ حاکم پربددعاکررہا ہے،توسمجھ لو کہ وہ خواہشاتِ نفس کا غلام ہے،اورجب کسی کودیکھوکہ وہ حاکم کیلئےصلاح کی دعا کررہا ہے توسمجھ جاؤ کہ وہ صاحبِ سنت ہے،انشاءاللہ،کیونکہ ہمیں حکام کیلئے صلاح کی دعا کرنے کا حکم دیا گیا ہے،ان پربددعا کرنے کا حکم نہیں دیا گیا،خواہ وہ ظلم وزیاتی کریں اس لئے کہ انکےظلم وزیاتی کا گناہ انکےاوپرہے،لیکن ان کےصلاح کا فائدہ انکوبھی ہےاورتمام مسلمانوں کو بھی۔

(شرح السنہ :ص116)

اوریہی وہ طریقہ ہے جس پر امت کے نیک لوگ ہمیشہ چلتے رہے ہیں۔

مشہور تابعی فضیل بن عیاضؒ فرماتے ہیں:

اگربیت المال مجھے مل جاتا تو میں اس میں سے حلال مال لے کراس سے اچھا کھانا بناتا،پھر صالحین اور اہل فضل کو کھانے پر مدعو کرتا،اورجب سب لوگ کھانے سے فارغ ہوجاتےتومیں ان سے کہتا،آؤہم سب مل کراپنے رب سے دعا کریں کہ وہ ہمارے بادشاہوں اورہمارےتمام ذمہ داروں کواچھےکاموں کی توفیق عطاء فرمائے۔

(سراج الملوک:ص 116)

مشہور تابعی سعیدبن عامرؒکہتے ہیں کہ:

محمدبن واسع،امیربلال بن ابی بردہ  سے ملاقات کیلئے آئے اور انہوں نے ان کواپنے ساتھ کھانے کی دعوت دی،لیکن محمد بن واسع نےبیماری کا عذرپیش کر کےکھانے سے معذرت کی،اس پرامیربلال ناراض ہو گئے،اور کہا کہ میراخیال  ہے کہ تم ہمارے کھانے کو ناپسند کرتے ہو،محمد بن واسع نے کہا: امیرِ محترم ایسی بات نہ کہیں،اللہ کی قسم آپ لوگوں میں سےجو بہترین امیروحاکم ہیں وہ ہمیں اپنےبیٹوں سے بھی زیادہ عزیزہیں۔

(سیر أعلام النبلاء:6/122)

لہٰذاجوحکمرانوں  کی صلاح کرنا چاہتا ہے،وہ ان پر بددعا نہیں کرتا،بلکہ انکےلئے خیروبھلائی کی دعا کرتا ہے،تاکہ انکوزیادہ سے زیادہ بھلائی کی توفیق ملے اور لوگوں میں انکا عدل وانصاف پھیلے۔

ابن الازرقؒ فرماتے ہیں:

امام نووی نے شب قدر کے بارےمیں فرمایاکہ آدمی کیلئےمستحب ہےکہ وہ شب قدر میں مسلمانوں کے اہم امورومسائل کیلئے کثرت سےدعا کرے،یہی صالحین کا شعار ہے،اور اللہ کے نیک بندوں کا طریقہ ہے۔

ابن الازرق کہتے ہیں کہ یہ بات مخفی نہیں ہےکہ حاکم کیلئے صلاح کی دعا کرنا، مسلمانوں کےاہم امور میں سے ہے،کیونکہ انکی صلاح کا دارومدارحاکم کی صلاح پر ہے۔

(بدائع السلک:ص 43)

علامہ ابنِ عثیمینؒ فرماتے ہیں:

اس لیے کہ جوحاکم کیلئے دعا نہیں کرتااس کے اندر قبیح قسم کی بدعت ہے،یعنی حکام کےخلاف خروج و بغاوت کی بدعت،اگرتم اللہ کے،اس کی کتاب کے،اس کے رسول کے،مسلم حکمرانوں کے،اور عام مسلمانوں کے خیرخواہ ہوتے توحاکم کیلئے دعا کرتے،کیونکہ رعایا کا صحیح ہونا  حاکم کے صحیح ہونے کے ساتھ ہے،لیکن بعض لوگ ایسے ہیں کہ جب وہ حاکم کے اندر کوئی انحراف  یا کسی طرح کی خرابی دیکھتے ہیں ،اور ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ حاکم کو ہدایت دے تو وہ کہتے ہیں،نہیں دعا نہیں کریں گے اس کوتو اللہ تعالیٰ ہرگزہدایت نہیں دے گا،بلکہ میں تو اللہ تعالیٰ سے اسکی ہلاکت کی دعا کروں گا۔اللہ تعالیٰ اس کیوں ہدایت نہیں دے گا،اللہ تعالیٰ نے بعض کافر حکمرانوں کو ہدایت نہیں دی؟یقیناً دی ہے اگر فرض کرلیا جائےکہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری خواہش کے مطابق اسکو ہلاک کر دیا،رو اسکے بعد اقتدار کون سنبھالےگا،اسکا متبادل کون ہے؟ اس وقت عرب عوام نے کئی ملکوں میں انقلاب برپا کردیاہے،اب ان ممالک کےلوگوں سے پوچھو،کس طرح کی حکومت بہتر ہے،جب ان ملکوں میں بادشاہت تھی،وہ بہتر تھی یا انقلابی حکومت بہترہے؟وہ سب کھڑے ہوں،بیٹھے ہوں یاپہلو کے بل لیٹے ہوں،بیک وقت وبیک زبان بول پڑیں گے،کہ جب ہمارےملک میں بادشاہت تھی وہ ہزار درجے بہتر تھی،یہ چیز بالکل واضح ہے۔

(لقاءالباب المفتوح:نمبر169۔کیسٹ)

تو یہ بات واضح ہو گئی کہ ہمیں اپنے حکمرانوں کے لئے اللہ رب العزت سے دعائیں کرنی چاہیے اور ان کے لئے دعا نہ کرنا خوارج کا خاصہ ہے۔ اللہ ہمیں ان فتنوں سے محفو ظ رکھے آمین

Print Friendly

About alfitan

مزید دیکھئے

خوارج،کبار صحابہ کے قاتل۔ سیدنا طلحہ،زبیر،عمار بن یاسررضی اللہ عنہم

خوارج،کبار صحابہ کے قاتل سیدنا زبیربن عوام و طلحہ بن عبید اللہ  اور عمار بن …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *