مرکزی صفحہ » گمراہ فرقے » خوارج » غداری اور فتنہ و فساد پھیلانا خوارج کی فطرت ہے

غداری اور فتنہ و فساد پھیلانا خوارج کی فطرت ہے

image_pdfimage_print

fsad

غداری اور فتنہ وفساد پھیلاناخوارج کی فطرت ہے

یہ ہر زمانے میں خوارج کی عادت رہی ہے۔واقعات اور  تاریخ اس کے بہترین گواہ ہیں۔

حافظ ابن کثیر﷫فرماتے ہیں : پھر 153ہجری کا سال شروع ہو گیا ۔اوراس سال میں خوارج افریقی ممالک میں گئے ،وہاں خوب فتنہ وفساد پھلایا ،عورتوں اور بچوں کو قتل کیا اور عوام الناس کو ایذا ء پہنچائی ۔

(البدایۃ والنھایۃ:13/428)

اس کے متعلق میں دو قصے ذکر کروں گا :ایک قصہ غداری کے متعلق،اور دوسرا زمین میں فساد پھیلانے اور تخریب کاری کے متعلق ہے ۔

سیر اعلام النبلاءمیں ،قائم ابو قاسم محمد بن مہدی صاحب المغرب العبیدی الزندیق کے ترجمہ میں ہے ،جس نے متعدد علماء کو ہلاک کیا ،وہ بحرین کے قرامطہ سے خط وکتابت کرتا تھا ،اور انہیں مساجد اورمصاحف(قرآن مجید) کو جلانے کا حکم دیتا تھا تو ابو یزید مخلد بن کیداد البربری نے اس کے خلاف بغاوت کردی،اور یہ مخلد عابد وزاہد تھا لیکن خارجی تھا،اس کے ساتھ بہت سے اہل سنت اور صلحاء بھی اٹھ کھڑے ہوئے ،قریب تھا کہ وہ دنیا کا مالک ہو جائے ،اس کے جھنڈے جامع قیروان کے پاس گھاڑ دیے گئے ،اس پر لکھا تھا : “لا الہ الا اللہ،لا حکم الا اللہ “اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ،حکم صرف اللہ کا ہے ) اس کے علاوہ دو پیلے جھنڈے تھے ۔جن پر لکھا تھا کہ :”نصر من اللہ وفتح قریب”اور ایک جھنڈا مخلد کا تھا ،جس پر لکھا تھا:”اللھم انصر ولیک علیٰ من سب نبیک”اے اللہ ! اپنے ولی کی اس شخص کے خلاف مدد کر جس نے تیرے نبی کو برا بھلا کہا۔

احمد بن ولید نے ان کے سامنے خطبہ دیا اور اس مین انہیں جہاد کی ترغیب دی ،پھر یہ لوگ وہاں سے چلے اور فرقہ مہدیہ سے مقابلے کےلئے اترے ۔جب ان کی مڈبھیڑ ہوئی ،اور مخلد کو کامیابی کا یقین ہو گیا ،تو اس کا خارجی نفس حرکت مین آیا ،اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا ،اہل قیروان سے الگ ہوجاؤ ،تاکہ ان کے دشمن ان سے اپنا مطلوب حاصل کر لیں تو انہوں نے ایسا ہی کیا،اس کے نتیجے میں پچاسی علماء وصلحاء شہید ہوئے۔

خوارج ایسے ہیں کہ ان پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔

کتاب نثر الدرر فی المحاضرات میں ہے :مدینہ میں ایک خارجی تھا ،اس کے متعلق ایک شخص نے بیان کیا کہ میں نے اس کو دیکھا کہ مسجد کی لالٹینوں پر کنکری مار کر انہیں توڑ رہا ہے ،میں نے اس سے کہا کہ تم یہ کیا کر رہے ہو؟ اس نے کہا میں ایک بوڑھا آدمی ہوں ۔جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو ۔اس سے زیادہ کرنے کی مجھ میں استطاعت نہیں ہے ،میں روزانہ دو عدد لالٹینیں توڑ کر ان کو نقصان پہنچاتا ہوں ۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خوارج مساجد کو خراب کرنے ،مسلمانوں کے ملک کو تباہ کرنے اور ان کے مفادات کو نقصان پہنچانی کی کوشش کرتے رہتے ہیں ۔  

Print Friendly

About alfitan

مزید دیکھئے

فرقہ معتزلہ کا مختصر تعارف

فرقہ معتزلہ کا مختصر تعارف

فرقہ معتزلہ کا مختصر تعارف  فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ  الحمد للہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *