مرکزی صفحہ » گمراہ فرقے » خوارج » لقد جئتکم بالذبح خوارج کے فتنہ انگیز نعرے کا شرعی جائزہ

لقد جئتکم بالذبح خوارج کے فتنہ انگیز نعرے کا شرعی جائزہ

image_pdfimage_print
photo_2017-08-17_21-06-59

لقد جئتکم بالذبح” خوارج کے فتنہ انگیز نعرے کا شرعی جائزہ 

داعش ہو یا القاعدہ ، تحریک طالبان پاکستان ہو یا جماعت الاحرار ، بوکو حرام ہو یا کوئی اور خارجی گروہ ہو ، سبھی خوارج آپ کو یہ نعرہ لگاتے ہوئے سنائی دیں گے ؛
جئناکم بالذبح
لقد جئتکم بالذبح
یعنی میں تمہیں ذبح کرنے آیا ہوں ۔

اور بس یہی نعرے لگاتے ہوئے اپنے ہر مخالف کو قتل کرنا اپنا اصل فریضہ سمجھتے ہیں ، چاہے وہ ان کی بیعت کا انکاری ہو ، ان کی خلافت کا انکاری ہو ، انہیں غلط فکر و منہج والے سمجھتا ہو ، یا وہ انہیں خوارج کی صف میں کھڑا کرتا ہو، غرضیکہ مرد و عورت ، بچے ، بوڑھے اور جوان میں سے جو بھی ان کی منشا و مرضی کے مخالف چلے گا ، یہ اس کو قتل اور ذبح کریں گے ۔

درحقیقت یہ خوارج کی مشہور صفت ہے کہ یہ نصوص شرعیہ کو اپنی ٹیڑھی سوچ میں ڈھال کر پیش کرتے ہیں جیسا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے جنگ نہروان کے موقع پر خوارج کو فرمایا تھا؛
کلمۃ حق ارید بھا الباطل
بات تو حق ہے لیکن اس سے باطل مراد لیا جا رہا ہے ۔

یقینا رسول اللہ ﷺ نے یہ جملہ فرمایا تھا ؛  لقد جئتکم بالذبح  لیکن کب بولا گیا ؟، مخاطب کون لوگ تھے ؟ کیوں کہا گیا ؟ یہ وہ سب ہے جسے خوارج بالکل نظر انداز کرتے ہوئے اپنے مذموم مقاصد کو پورا کرنے ، امت کا خون بہانے کے لئے یہ جملہ اکثر اپنی زبانوں پر رکھتے ہیں ۔

اس مضمون میں ہم اسی بات کا جائزہ لیں گے کہ آیا رسول اللہ ﷺ کے ان الفاظ کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے یا کوئی معاملہ کچھ الگ ہے ۔

یہ حدیث مصنف ابن ابی شیبہ ، مسند احمد، خلق افعال العباد للامام البخاری ، صحیح ابن حبان ، سنن بیھقی اور دلائل النبوۃ لابی نعیم میں صحیح سند سے مروی ہے ۔ مشہور محقق شیخ احمد شاکر نے مسند احمد کی تحقیق کرتے ہوئے حسن اور امام البانی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب صحیح سیرت النبوی میں صحیح درجے کی روایت قرار دیا ہے ۔

یہ بات کسی صورت بھی درست نہیں کہ حدیث کے عموم کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جائے کہ اسلام یا نبی مکرم ﷺ لوگوں کو ذبح کرنے کے لئے آئے تھے ۔ جیسا کہ یہ بیوقوف خوارج لوگوں کا گمان ہے ۔ بلکہ اس کی دوسری جگہوں پر وضاحت بھی موجود ہے کہ یہ تو سرداران قریش اور ائمۃ الکفر ابو جہل ، ابی بن خلف اور عقبہ بن ابی معیط جیسے لوگوں کو خطاب تھا ۔

اسی طرح نبی کریم ﷺ تو رحمۃ للعالمین بن کر آئے ، ارشاد ربانی ہے ؛  

وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ  {الأنبياء:107}.

مسند احمد کی حدیث ملاحظہ کیجیے ؛
مسندِ أحمدَ مُسْنَدُ الْمُكْثِرِينَ مِنَ الصَّحَابَةِ باب (مُسْنَدُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا برقم 6739

عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: قُلْتُ لَهُ :مَا أَكْثَرَ مَا رَأَيْتَ قُرَيْشًا أَصَابَتْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ فِيمَا كَانَتْ تُظْهِرُ مِنْ عَدَاوَتِهِ قَالَ: حَضَرْتُهُمْ وَقَدْ اجْتَمَعَ أَشْرَافُهُمْ يَوْمًا فِي الْحِجْرِ فَذَكَرُوا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالُوا :مَا رَأَيْنَا مِثْلَ مَا صَبَرْنَا عَلَيْهِ مِنْ هَذَا الرَّجُلِ قَطُّ سَفَّهَ أَحْلَامَنَا ، وَشَتَمَ آبَاءَنَا، وَعَابَ دِينَنَا ،وَفَرَّقَ جَمَاعَتَنَا، وَسَبَّ آلِهَتَنَا لَقَدْ صَبَرْنَا مِنْهُ عَلَى أَمْرٍ عَظِيمٍ أَوْ كَمَا قَالُوا .قَالَ: فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ طَلَعَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ فَأَقْبَلَ يَمْشِي حَتَّى اسْتَلَمَ الرُّكْنَ ثُمَّ مَرَّ بِهِمْ طَائِفًا بِالْبَيْتِ فَلَمَّا أَنْ مَرَّ بِهِمْ غَمَزُوهُ بِبَعْضِ مَا يَقُولُ قَالَ: فَعَرَفْتُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ ثُمَّ مَضَى فَلَمَّا مَرَّ بِهِمْ الثَّانِيَةَ غَمَزُوهُ بِمِثْلِهَا فَعَرَفْتُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ ثُمَّ مَضَى ثُمَّ مَرَّ بِهِمْ الثَّالِثَةَ فَغَمَزُوهُ بِمِثْلِهَا فَقَالَ:

تَسْمَعُونَ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ أَمَا وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَقَدْ جِئْتُكُمْ بِالذَّبْحِ

فَأَخَذَتْ الْقَوْمَ كَلِمَتُهُ حَتَّى مَا مِنْهُمْ رَجُلٌ إِلَّا كَأَنَّمَا عَلَى رَأْسِهِ طَائِرٌ وَاقِعٌ حَتَّى إِنَّ أَشَدَّهُمْ فِيهِ وَصَاةً قَبْلَ ذَلِكَ لَيَرْفَؤُهُ بِأَحْسَنِ مَا يَجِدُ مِنْ الْقَوْلِ حَتَّى إِنَّهُ لَيَقُولُ: انْصَرِفْ يَا أَبَا الْقَاسِمِ انْصَرِفْ رَاشِدًا فَوَاللَّهِ مَا كُنْتَ جَهُولًا قَالَ: فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ حَتَّى إِذَا كَانَ الْغَدُ اجْتَمَعُوا فِي الْحِجْرِ وَأَنَا مَعَهُمْ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: ذَكَرْتُمْ مَا بَلَغَ مِنْكُمْ وَمَا بَلَغَكُمْ عَنْهُ حَتَّى إِذَا بَادَأَكُمْ بِمَا تَكْرَهُونَ تَرَكْتُمُوهُ فَبَيْنَمَا هُمْ فِي ذَلِكَ إِذْ طَلَعَ رَسُولُ اللَّهِ فَوَثَبُوا إِلَيْهِ وَثْبَةَ رَجُلٍ وَاحِدٍ فَأَحَاطُوا بِهِ يَقُولُونَ لَهُ: أَنْتَ الَّذِي تَقُولُ كَذَا وَكَذَا لِمَا كَانَ يَبْلُغُهُمْ عَنْهُ مِنْ عَيْبِ آلِهَتِهِمْ وَدِينِهِمْ قَالَ: فَيَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ :نَعَمْ أَنَا الَّذِي أَقُولُ ذَلِكَ قَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَجُلًا مِنْهُمْ أَخَذَ بِمَجْمَعِ رِدَائِهِ قَالَ: وَقَامَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ دُونَهُ يَقُولُ وَهُوَ يَبْكِي:{ أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ } ثُمَّ انْصَرَفُوا عَنْهُ؛ فَإِنَّ ذَلِكَ لَأَشَدُّ مَا رَأَيْتُ قُرَيْشًا بَلَغَتْ مِنْهُ قَطُّ .

عروہ بن زبیر سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص سے کہا کہ مجھے کسی ایسے سخت واقعے کے متعلق بتائیے جو مشرکین نے نبی ﷺ کے ساتھ روا رکھا ہو ؟ انہوں نے کہا کہ ایک دن اشرافِ قریش حطیم میں جمع تھے ، میں بھی وہاں موجود تھا ، وہ لوگ نبی کریم ﷺ کا تذکرہ کر نے لگے اور کہنے لگے کہ ہم نے جیسا صبر اس آدمی پر کیا ہے کسی اور پر کبھی نہیں کیا ، اس نے ہمارے عقلمندوں کو بیوقوف کہا ، ہمارے آباؤ اجداد کو برا بھلا کہا ، ہمارے دین میں عیوب نکالے ، ہماری دعوت کو منتشر کیا ، اور ہمارے معبودوں کو برا بھلا کہا ، ہم نے ان کے معاملے میں بہت صبر کر لیا ، اسی اثناء میں نبی ﷺ بھی تشریف لے آئے ، نبی ﷺ چلتے ہوئے آگے بڑھے اور حجر اسود کا استلام کیا ، اور بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے ان کے پاس سے گزرے ، اس دوران وہ نبی کریم ﷺ کی بعض باتوں میں عیب نکالتے ہوئے ایک دوسرے کو اشارے کرنے لگے ، مجھے نبی ﷺ کے چہرہ مبارک پر اس کے اثرات محسوس ہوئے ، تین چکروں میں اسی طرح ہوا ۔

بالآخر نبی ﷺ نے فرمایا: اے گروہ قریش ! تم مجھے سن رہے ہو ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے میں میں تمہیں ذبح کرنے آیا ہوں ۔ 

لوگوں کو نبی ﷺ کے اس جملے پر بڑی شرم آئی اور ان کی کیفیت ایسی تھی کہ جیسے ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوئے ہوں ، حتی کہ اس سے پہلے جو آدمی انتہائی سخت تھا ، وہ اب اچھی بات کہنے لگا کہ اے ابو القاسم ! (ﷺ) آپ خیرو عافیت کے ساتھ تشریف لے جائیے ، بخدا آپ ناواقف نہیں ہیں ، چنانچہ نبی ﷺ واپس چلے گئے ۔ اگلے دن وہ لوگ پھر حطیم میں جمع ہوئے ، میں بھی ان کے ساتھ تھا ، وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ پہلے تو تم نے ان سے پہنچنے والی صبر آزما باتوں کا تذکرہ کیا اور جب وہ تمہارے سامنے ظاہر ہوئے جو تمہیں پسند نہ تھا تو تم نے انہیں چھوڑ دیا ، ابھی وہ یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ نبی ﷺ تشریف لے آئے ، وہ سب اکٹھے نبی ﷺ پر کود پڑے اور آپ ﷺ کو گھیرے میں لے کر کہنے لگے کیا تم ہی اس اس طرح کہتے ہو؟ نبی ﷺ نے فرمایا: ہاں ! میں ہی اس طرح کہتا ہوں ، راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان میں سے ایک آدمی کو دیکھا کہ اس نے نبی ﷺ کی چادر کو گردن میں پکڑ لیا (اور گھوٹنا شروع کر دیا ) یہ دیکھ کر حضرت صدیق اکبر نبی ﷺ کو بچانے کے لئے کھڑے ہوئے ، وہ روتے ہوئے کہتے جا رہے تھے : “کیا تم ایک ایسے آدمی کو صرف اس وجہ سے قتل کر دو گے کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے ۔” اس پر وہ لوگ واپس چلے گئے ، یہ سب سے سخت دن تھا جس میں قریش کی طرف سے نبی ﷺ کی اتنی سخت اذیت پہنچی تھی ۔

بعض حضرات اس حدیث سے یہ بھی استدلال کرتے ہیں کہ اسلام تلوار کے زور پر پھیلا ہے ۔لیکن ان کی یہ بات کئی وجوہات کی بنا پر غلط ہے ۔

ذیل میں چند نکات ملاحظہ کیجیے:

معترضین نے اس واقعے کو صحیح طریقے سے سمجھا ہی نہیں کیونکہ اگر وہ اس واقعے کا مکمل سیاق وسباق دیکھیں تو یہ اعتراض پیدا ہی نہ ہوتا کیونکہ مکمل واقعہ اس اعتراض کی قلعی چٹھی کھول کر رکھ دیتا ہے ۔چنانچہ یہ بات نبیﷺ نے مشرکین قریش کو اس وقت کہی تھی کہ جب ان کے ظلم حد سے بڑھ گئے تھے اور انہوں نے حضرت یاسر اور حضرت سمیہ کو شہید کر دیا تھا،تب نبیﷺ نے یہ الفاظ ان کو کہے ۔

دوسری بات یہ کہ الفاظ معین لوگوں کو کہے گئے تھے ۔اور غزوات کے اندر وہ مارے بھی گئے تھے ۔چنانچہ یہ الفاظ صرف قریش کے ان لوگوں کو کہے گئے تھے کہ جو اہل اسلام پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑ رہے تھے ۔اور انہوں نے اہل اسلام کو ہجرت کرنے پر مجبور کر دیا تھا ۔اور نبیﷺ کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی۔

تیسری بات یہ ہے کہ کیا ظالم کو قتل کرنے کی دھمکی دینا غلط ہے؟ اگر صحیح ہے تو پھر اس پر اعتراض کیوں؟

چوتھی بات یہ ہے کہ دعوت کے طریقوں میں سے ایک طریقہ انذار (ڈرانا) اور وعید (عذاب کی خبر) سنانے والا ہوتا ہے۔ سو آپﷺ یہاں اسی طریقے کو زیر عمل لائے اور اس کے ذریعے ان کو اس ظلم وستم سے روکنے کی کوشش کی ۔

دراصل اسلام کے دشمن صرف ایک لفظ کو لے کر مسلمانوں کو اسلام سے متنفر کرنا چاہتے ہیں ۔حالانکہ فیصلہ تب تک نہیں دیا جانا چاہیے جب تک آپ اس معاملہ سے مکمل آگاہی حاصل نہ کر لیں اور حقیقت یہ ہے کہ جو شخص اس واقعے سے بزور تلوار اسلام کا پھیلنا ثابت کرتا ہے وہ واضح اور کھلی گمراہی میں ہے ۔

اور اگر تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ نبیﷺ نے تو ان کے ظلم وستم کی وجہ سے ان پر اللہ کی طرف سے عذاب کی وعید سنانے کے باوجود ان کے لئے رحمت کی دعا کی تھی ۔اور فتح مکہ کے موقع پر،جب آپ لاشوں کے پشتے لگا سکتے تھے اور کشت وخون کا بازار گرم کر سکتے تھے ۔لیکن آسمان دنیا نے یہ نایاب ترین واقعہ دیکھا کہ ان کے ظلم وستم کے باوجود آپ ﷺکی زبان مبارک سے“لا تثریب علیکم الیوم “کے تاریخ ساز الفاظ نکلے تھے۔

مزید یہ اعلان بھی کیا تھا کہ جو ابو سفیان کے گھر میں داخل ہو جائے تو اس کی جان محفوظ ہے۔ اور یہی نبیﷺ تھے کہ مدینہ میں رہائش پذیر ہوتے وقت یہود ونصاری ٰ سے معاہدہ کر لیا۔ حالانکہ اگر وہ چاہتے تو صحابہ کرام ان کے حکم سے مشرکین مکہ کے گھروں کو اجاڑ دیتے ۔

اسی پر بس نہیں بلکہ اس منزل قرآن نبیﷺ نے تو اپنے متبع لوگوں کی بھی یہی تربیت کی تھی کہ جہاں امن ورحمت سے معاملہ حل ہو سکتا ہو ،وہاں لڑائی جھگڑے سے پرہیز ہی کرنا چاہیے۔کہ جس کی مثال اسلامی تاریخ کے سنہری اوراق پر لکھی جانی والی صلح حدیبیہ ہے۔اور اسی نبیﷺ نے مشرکین پر بد دعا کرنے سے انکار کر دیا تھا ،کیونکہ ان کی “رحمۃاللعالمین” طبیعت نے اس چیز کو گوارا نہیں کیا ،چنانچہ اس واقعہ کو بیان کرتے ہوئے سیدنا ابو ہریرہ فرماتے ہیں:

” قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ عَلَى الْمُشْرِكِينَ ! قَالَ : إِنِّي لَمْ أُبْعَثْ لَعَّانًا ، وَإِنَّمَا بُعِثْتُ رَحْمَةً “ (مسلم : 2599)

نبیﷺ کو مشرکین پر بد دعا کرنے کا کہا گیا تو آپ ﷺ نے جواب دیا کہ میں لعنت کرنے والا نہیں بلکہ “رحمۃ اللعالمین “کے لقب کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں۔

میں سوال کرتا ہوں کہ جس دین کا تابناک ماضی ایسی مثالوں سے بھرا ہو ،اس کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ تلوار کے زور پر پھیلا تھا ،تو یہ بات کم عقلی ،سوء فہمی اور نیت کی خرابی کو واضح کرتی ہے ۔کیونکہ اتنے واقعات کو جاننے کے بعد ایک عقل مند،ذکی اور حقیقت پسند شخص کبھی بھی اس بات کو اپنے زبان سے نکالنا پسند نہیں کرے گا ۔

Print Friendly

About alfitan

مزید دیکھئے

فرقہ معتزلہ کا مختصر تعارف

فرقہ معتزلہ کا مختصر تعارف

فرقہ معتزلہ کا مختصر تعارف  فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ  الحمد للہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *