مرکزی صفحہ » گمراہ فرقے » خوارج » خوارج کی قرآن سے جہالت پر چند مثالیں

خوارج کی قرآن سے جہالت پر چند مثالیں

image_pdfimage_print
photo_2017-08-23_17-49-31

خوارج کی قرآن سے جہالت پر   “چند مثالیں” 

فضیلۃ الشیخ مفتی ابو حنظلہ عبد العزیز نعیم حفظہ اللہ 

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

خوارج کے بارے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ یہ قرآن کی بہت زیادہ تلاوت کیا کریں گے لیکن یہ ان کی حلقوں سے نیچے نہیں اترے گا یعنی یہ صرف ان کے مونہوں تک ہی رہےگا ، اور دل دماغ تک بالکل نہیں پہنچے گا۔ جو کچھ کریں گے وہ صرف اسی چیز کا غماز ہو گا کہ یہ قرآن سے جاہل ہیں ، اسی وجہ سے اندازے لگا رہے ہیں ۔ اپنے قارئین کے لئے ذیل میں بالکل ایسی ہی چند مثالیں جمع کی گئی ہیں جس سے بات مزید واضح ہو جائے گی؛ 

بکیر بن عبداللہ بن الأشج سے روایت ہے کہ انہوں نےنافع سے پوچھا “حرویہ فرقہ” کے بارے میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی کیا رائے تھی؟ تو انہوں نے کہا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ان کو اللہ تعالیٰ کی بد ترین مخلوق سمجھتے تھے،انہوں نے کفار سے متعلق آیات کومومنوں پر منطبق کر دیا،اور کہا کہ یہ مومنوں کے بارے میں ہیں۔

(حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری(12/286)میں اسے امام طبری رحمہ اللہ  کی تہذیب الآثار کی طرف منسوب کیا ہے، اور کہا ہے کہ اس کی سند صحیح ہے،اور بخاری نے اس کو اپنی صحیح میں  ابنِ عمر رضی اللہ عنہما سے تعلیقاً، بصیغہ جزم روایت کیا ہے۔)

یہی وہ چیز ہے جو خوارج  کے انحراف کی اصل وجہ ثابت ہوئی ۔

شیخ الاسلام امام ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ ان کی بدعت کی اصل کے بارے میں فرماتے ہیں:

ان کی بدعت کی اصل قرآن کے بارے میں ان کی سمجھ ہے،یعنی انہوں نے قرآن کو سمجھنے میں غلطی کی۔

(مجموع الفتاویٰ :17/447)

حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

خوارج لوگ قرآن مجید کے حقیقی معنیٰ ومرادکو چھوڑ کرقرآن کی من مانی تاویل کرتے ہیں،اور اپنی رائے پر اڑے رہتے ہیں اور اسی کو ترجیح دیتے تھے۔

(فتح الباری: 12/283)

ان کی زبردست جہالت  اور غلط فہمی کی ایک دلیل ان کی زبان درازی ہے،وہ مسلمانوں کی تکفیر کرتے ہیں،اور ان کا خون  بہانے کو مباح اور جائز قرار دیتے ہیں۔

حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں:

اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جب خوارج نے ان لوگوں پر کفر کا حکم لگایا جنہوں نے ان کی مخالفت کی تو ان کا خون بہانے کو مباح قرار دیا،اور اہل ذمہ (غیر مسلموں)کوچھوڑ دیا،اور کہا کہ ہم ان سے کئے ہوئے عہدو پیمان پورے کریں گے،اور مشرکین  کے ساتھ جنگ چھوڑ کرمسلمانوں سے جنگ میں مشغول ہوگئے۔یہ تمام چیزیں  ان جاہلوں  کی عبادت کے آثار میں سے ہیں،جن کے سینے نورِ علم کیلئے کشادہ نہیں ہوئے،اور انہوں نےعلم کی مضبوط رسی کو نہیں پکڑا، ان کی جہالت اور ضلالت وگمراہی کیلئے یہ کافی ہے کہ ان کے سردار اور سرغنہ نے رسول اللہ ﷺکے فیصلے اور حکم کو رد کردیا، اور اسے ظلم وجور پر محمول کیا۔والعیاذ باللہ 

(فتح الباری: 12/301)

یہ سب نقصانات علماء سے دور رہنے اور انکی مجالس اور انکے فہم سے رو گردانی اور اعراض کرنے کے آثار و نتائج میں سے ہیں،

اسی لیے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما  خوارج کے پاس  ان سے مناظرہ کرنے کیلئے آئے تو فرمایا:

میں رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام کے پاس سے آیا ہوں،جن میں انصار بھی ہیں،اور مہاجرین بھی،اور نبی ﷺ کے چچا زاد بھائی اور آپ ﷺ کے داماد (علی رضی اللہ عنہ) کے پاس سے آیا ہوں، یہ وہ لوگ ہیں جن کے موجودگی میں  قرآن نازل ہوتا رہا ، یہ لوگ تم سے زیادہ اس کی تاویل وتفسیر جانتے ہیں،اور تم تمام لوگوں میں  ان (صحابہ کرام ) میں سے کوئی ایک بھی نہیں۔

( سنن نسائی الکبریٰ :8522)اور مستدرک حاکم : 2/495/2648 )

علامہ ابنِ حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

خوارج کے اسلاف بدوی اور دیہاتی لوگ تھے،انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے ثابت شدہ (صحیح) سنتوں میں تفقہ حاصل کرنے سے پہلےقرآن پڑھا، ان کے اندر مشہور فقہاء میں سےکوئی نہ تھا، نہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ  کے شاگردوں میں سے ، نہ  حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ  کے شاگردوں میں سے ، نہ حضرت علی  رضی اللہ عنہ  کے شاگردوں میں سے ، نہ  حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے شاگردوں میں سے ، نہ  حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ  کے شاگردوں میں سے ، نہ حضرت معاذ بن جبل   رضی اللہ عنہ  کے شاگردوں میں سے ، نہ  حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ  کے شاگردوں میں سے ، نہ   حضرت سلمان رضی اللہ عنہ  کے شاگردوں میں سے ، اورنہ   حضرت زیدبن ثابت،عبداللہ بن عباس،اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم  کے شاگردوں میں سے کوئی تھا۔ اسی لئے آپ ان کو دیکھیں گے کہ جب کبھی ان کو کوئی نیا مسئلہ پیش آتا اور اس میں معمولی فتویٰ  کی بھی ضرورت پڑتی، تو ان کے درمیان سخت اختلاف ہوجاتا اور اس بناء پر وہ ایک دوسرے کی تکفیر کرنے لگتے،  اس قوم کی کمزوری اور دور کی جہالت ظاہر کرنے کے لئے یہی کافی ہے۔

(الفصل فی الملل والاھواء والنحل: 4/121)

اور جس وقت علی رضی اللہ عنہ ان کو نصیحت کرتے کرتے مایوس ہو گئے، اور زمین میں ان کے فتنہ وفساد پھیلانے اور ناحق خون بہانے کے بعد ان سے جنگ کرنے کیلئے تیار ہوئے تو ان خوارج کی یہ صفات بیان کیں:

“ان لوگوں سے جنگ کرو جو اللہ سے دشمنی رکھتے ہیں، اور اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں، ان لوگوں سے قتال کرو جو خطاکار، گمراہ، ظالم اور مجرم ہیں، یہ نہ قرآن کے قراء ہیں، اور نہ دین کے فقہاء ہیں، نہ علم تفسیر وتاویل کے علماء ہیں، اور نہ اسلام میں اس سے پہلے ان کا کوئی وجود رہا ہے، اللہ کی قسم اگر یہ تمہارے حاکم بن گئے، تو وہ تمہارے اندر وہی کام کریں گے جو کسریٰ وہرقل (ایران و روم کے بادشاہوں) نے کئے۔ 

(تاریخ طبری : 5/78)

 اللہ کریم سے دعا ہے کہ وہ تمام مسلمانوں کو بالخصوص مسلم نوجوانوں کو فتنہ خوارج سے محفوظ فرمائے آمین ۔

Print Friendly

About alfitan

مزید دیکھئے

فرقہ معتزلہ کا مختصر تعارف

فرقہ معتزلہ کا مختصر تعارف

فرقہ معتزلہ کا مختصر تعارف  فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ  الحمد للہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *