مرکزی صفحہ » گمراہ فرقے » خوارج » قعدیہ بدترین فرقہ خوارج

قعدیہ بدترین فرقہ خوارج

image_pdfimage_print
  قعدیہ بدترین فتنہ خوارج  

“قعدیہ” بد ترین فرقہ خوارج 

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد ! 

خوارج کے نت نئے طریقوں اور منصوبوں کی بناء پر ان کے نئے نئے نام اور القاب  بھی سامنے آتے رہتے ہیں،یا تو عوام الناس ان کویہ نئے نام و القاب دیتے ہیں،یا وہ خود اپنے اوپر ان کا اطلاق کرتے ہیں، اس سے ان کا مقصدلوگوں سے اپنی حقیقت چھپانا،ان کی آنکھوں میں دھول جھونکنا،اور اپنے گھناؤنے افعال کو خوبصورت بنا کے پیش کرنا ہوتا ہے،جیسے ہمارے موجودہ زمانے میں ان خوارج کو القاعدہ ، الدولۃ الإسلامیہ فی العراق والشام ، داعش ، بوکو حرام ، تحریک طالبان پاکستان اور جماعت الاحرار وغیرہ جیسے نام سے جانا جاتا ہے۔

خوارج کے فرقوں میں سب سے زیادہ خبیث فرقہ (القعدیہ) ہے، یہ لوگ زبان کے ذریعہ حاکم کے خلاف خروج وبغاوت کرتے ہیں، اور تلوار کے زریعے بغاوت کو پوشیدہ رکھتے ہیں، علانیہ اس اظہار نہیں کرتے ہیں، بلکہ حاکم کےعیوب ونقائص ذکر کر کے اور انکی اچھی سیرت و کردار کی غلط تصویر کشی کرکے عوام کو ان کے خلاف ورغلاتے ہیں، اور حکومت و ریاست میں ان سے مزاحمت کرتے ہیں۔

حافظ ابنِ حجر﷫ فرماتے ہیں:خوارج کے القعدیہ فرقے کے لوگ(حکام کے خلاف) جنگ کرنے کے قائل نہیں،بلکہ وہ لوگ ظالم حکمرانوں کے ظلم وستم پر حسبِ استطاعت انکی تکفیر کرتے ہیں،اور لوگوں کو اپنے اس قول اور رائے کو اختیار کرنے کی دعوت دیتے ہیں،اس کے باوجود یہ لوگ خروج وبغاوت کو مزین کرکےاور خوشنما بنا کر پیش کرتے ہیں۔

(تھذیب التھذیب: 8/129)

آپ ﷫ مزید فرماتے ہیں:القعدیہ وہ لوگ ہیں،جو حکام کے خلاف بغاوت کو خوشنما بناکرلوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں،وہ خوداس کام کو براہ راست ہیں کرتے ہیں (گویا پردے کے پیچھے سے بغاوت کرتے ہیں)۔

(فتح الباری1/459)

یعنی القعدیہ اپنے ولاۃ وحکام کےعیوب ونقائص ذکر کرکے ان کے خلاف عام لوگوں کے دلوں میں کینہ وعداوت کا بیج بوتے ہیں،حکام پر طعن وتشنیع کیلئے عوام کوابھارتے ہیں ،اور ان کے خلاف لوگوں کو بھڑکاتے ہیں، اور ظاہر یہ کرتے ہیں کہ ہم یہ سب دین کیلئے غیرت کی بناء پراور حق قائم کرنےاور برائی کا انکار کرنے کی خاطر کرتے ہیں۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہی لوگ فتنہ وفساد بھڑکانےاور تلوار کےذریعہ خروج وبغاوت پھیلانے کی اصل بنیاد  ہیں،اور اس کیلئے راہ ہموار کرتے ہیں،

اسی بناء پر عبداللہ بن محمد الضعیف﷫ نے فرمایا:القعدیہ خارجی فرقوں میں سب سے خبیث فرقہ ہے۔

(مسائل الإمام أحمد لإبی داؤد ص271)

یہی کام عبداللہ بن سبا نےاس وقت کیا جب اس نے عثمان﷜ کےخلاف لوگوں کو ورغلایا۔

حافظ ابنِ عساکر﷫  فرماتے ہیں:وہ(عبداللہ بن سبا)یہودی تھا،لیکن اس نے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرکےمسلم ملکوں کا دوراہ کیا ، تاکہ وہاں کے مسلمانوں کو ان کے حکام کی اطاعت سے برگشتہ کردے،اور ان کے درمیان شروفساد ڈال دے….پھراس کے بعد(عبداللہ بن سبا نے)ان سے کہا کہ عثمان﷜ نے بہت سامال جمع کرلیا ہے،جسے انہوں نے ناحق حاصل کیاہے،اور وہ کہا کرتا تھا کہ پہلے تم اپنے امراء وحکام پر طعن وتشنیع شروع کرو،اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر(اچھی بات کا حکم دینے اور برائی سے روکنے)کا اظہار کرو،اس طرح تم لوگوں کو اپنی طرف مائل کر لو گے  ۔

(تاریخ دمشق 29/3-4)

نیزوں اورتلوارں سے خروج و بغاوت اسی وقت ہوتی ہےجب اس سے پہلےزبان کے زریعہ بغاوت ہو چکی ہو۔

اس کے دلائل میں سے ایک دلیل وہ حدیث ہے، جس میں ہے کہ علی ﷜ نے یمن سے رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ سونا بھیجا،جسے نبی ﷺ نے چار آدمیوں میں تقسیم کر دیا،تو ایک شخص(ذوالخویصرہ التمیمی)نے اپنی زبان سے یہ کہتے ہوئے رسول اللہﷺ   کی تقسیم  پر اعتراض کیا:اے اللہ کے رسولﷺ اللہ سے ڈریں۔

آپﷺ نے فرمایا:

(ویلک أولست أحق اھل الأرض أن  یتقی اللہ)

تم پر افسوس، کیا میں اس روئے زمین پراللہ سے ڈرنے کا سب سے زیادہ مستحق نہیں ہوں؟

راوی کہتے ہیں کہ پھر وہ شخص چلا گیا،اس کے بعد نبیﷺ نے اس (منافق) کی طرف دیکھا تو وہ پیٹھ پھیر کر جا رہا تھا،آپ ﷺنے فرمایا:

إنہ یخرج من ضئضئ ھذا قوم یتلون کتاب اللہ رطباً لا یجاوز حناجرھم،یمرقون من الدین کما یمرق السھم من الرمیۃ -وأظنہ قال- :لئن أدرکتھم لأقتلنھم قتل ثمود۔

(صحیح البخاری  4094)

اس کی نسل سے ایسے لوگ نکلیں گے،جو کتاب اللہ کی تلاوت بڑی خوش الحانی کے ساتھ کریں گے،لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا،دین سے وہ لوگ اس طرح نکل جائیں گے،جیسے تیر شکار کے پار نکل جاتا ہے۔

راوی کہتے ہیں: اور میرا خیال ہے کہ آپﷺ نے یہ بھی فرمایا، اگر میں ان کے دور میں ہوا اور وہ مجھے مل گئے تو میں ان خوارج کو قومِ ثمود کی طرح قتل کرڈالوں گا۔

یہاں ملاحظہ کریں:  اس شخص نے رسول اللہ ﷺ پر تلوار نہیں اٹھائی،بلکہ آپﷺ کے خلاف اپنی زبان استعمال کی،اور آپﷺ پر اعتراض کیا تھا،تو رسول اللہ ﷺ نے اس کو خوارج کی اصل اور جڑ قرار دیا۔

اللہ ان شر پسند عناصر سے مسلمان معاشروں کو پاک فرمائے آمین ۔ 

Print Friendly

About alfitan

مزید دیکھئے

فرقہ معتزلہ کا مختصر تعارف

فرقہ معتزلہ کا مختصر تعارف

فرقہ معتزلہ کا مختصر تعارف  فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ  الحمد للہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *