مرکزی صفحہ » گمراہ فرقے » خوارج » مشہور تابعی یزید الفقیر خوارج کے چنگل سے کیسے بچے

مشہور تابعی یزید الفقیر خوارج کے چنگل سے کیسے بچے

image_pdfimage_print
Alfitan,Tabee

مشہور تابعی یزید الفقیر خوارج کے چنگل سے کیسے بچے ! 

          الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

مشہور تابعی یزید الفقیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

             میں نوجوان تھا،میں نے قرآن پڑھا توخوارج کی ایک جماعت مجھ سے بے حد قریب ہو گئی،یہ لوگ مجھے اپنے مذہب اور فکر کی دعوت دینے لگے،اللہ کی مشیت دیکھو کہ میں ان کے ساتھ حج کیلئے بھی نکل گیا ،اسی دوران انہوں نے مجھ سے کہا کہ اگر تمہیں محمد ﷺ کے صحابہ میں سے کسی سےملاقات کرنے کی رغبت ہےتو ہمارے ساتھ چلو۔تو میں ان کے ساتھنکل پڑا تو  صحابی رسول  ﷺ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی ،تو انہوں نے کہا : اے ابو سعید!ہم میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جو قرآن پڑھتے ہیں اور خوب پڑھتے ہیں، ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے ابھی یہی باتیں چل ہی رہیں تھیں کہ  انہوں (خوارج ) نے ہمارے خلاف تلوار سونت لی،تو ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا  کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:

         إنَّ قوماً يقرأون القرآن لا يُجاوِز تراقِيَهم، يمرُقون من الإسلام كما يَمْرُق السّهم من الرَمِيَّة

             کچھ ایسے لوگ ظاہر ہوں گے جو قرآن پڑھیں گے،مگر قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں جائے گا،وہ اسلام سےاسی طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار کے پار نکل جاتا ہے۔

(الطیوریات:  2/713 ، تاریخ الکبیر للبخاری : 3251 )

واقعہ کی تشریح :

             یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ اس نوجوان(یزید الفقیر)نے قرآن تو پڑھ لیا تھا،لیکن اس کے پاس علم نہیں تھا، اور نہ وہ اہل علم کی صحبت میں رہا تھا،لہذا خوارج نے اس صورت حال کا فائدہ اٹھایا،وہ اس کے آگے پیچھے رہتے،،اور اس سے جدا نہ ہوتے، اسے اپنے مذہب کی دعوت دیتے رہتے،پھر اس کو حج کی رغبت دلائی،تاکہ اس دوران اس سے تنہائی میں ملیں،اور اپنے شکوک و شبہات اور اپنے منہج سے اس کوآسودہ و مطمئن کردیں،جیسا کہ خوارج کا طریقہ ہےکہ وہ نوجوانوں کو ایسی جگہوں میں چلنے کی دعوت دیتے ہیں،جو اہل و عیال اور حکام کی نظروں سے دور ہوں،جیسے دور دراز  علاقوں میں کیمپ لگانا،حج و عمرہ کیلئے سفر کرنا،صحرا اور بیابانوں کی طرف جانا وغیرہ ۔

           پھر ان خوارج نے اس نوجوان کوصحابی  رسول ﷺ  سے ملاقات کی دعوت دی،تاکہ  صحابی  رسول ﷺ   سے مل کراس نوجوان کے سامنے یہ ظاہر کریں کہ وہ جس چیز کی دعوت دے رہے ہیں،وہ سب درست  ہے، صحابی  رسول ﷺ   کے پاس وہ اس لئے نہیں گئے تھے کہ ان کے علم سے استفادہ حاصل کریں،اور ان سے کچھ سیکھ سکیں،بلکہ اس لیے گئے تھے کہ ان سےوہ اپنے اعمال کی مدح و ستائش کروا سکیں۔ 

            چنانچہ انہوں (خوارج ) نے کہا : اے ابو سعید! (رضی اللہ عنہ) ہمارے اندر بہت سے ایسے لوگ ہیں  جو قرآن بہت زیادہ پڑھتے ہیں، اور عموما ایسا اس لیے کہا جاتا ہے تاکہ پڑھنے والے کی تعریف کی جائے، یا اس سے سکوت اختیار کیا جائے، اور نکیر نہ کی جائے، اور یہ اس نوجوان کے نزدیک ان کے مذہب کو صحیح ثابت کرنے کیلئے کافی ہوتا ہے،جو ان کے ساتھ چل کر گیا ہو،ان کی صحبت میں رہا ہو،اور صرف ان کے ظاہری تقویٰ و صلاح کو دیکھتا ہو۔

           لیکن چونکہ صحابی  رسول ﷺ صاحب بصیرت اور سنت کا پختہ علم رکھتے تھے ،اور وہ ان لوگوں سے اچھی طرح واقف تھے،اس لیےانہوں نے ان کو ان خوارج کی چاہت کے مطابق جواب نہیں دیا، بلکہ ان کوبے نقاب کر دیا، اس پر انہوں نے اپنی حقیقت ظاہر کرتے ہوئےاپنا حقیقی چہرہ دکھایا اور تلوار  اٹھالی،اور اس طرح سے اللہ تعالیٰ نے اس نوجوان کوایک عالم صحابی کی مجلس میں صرف ایک  مرتبہ بیٹھنے کے باعث خوارج کے شر سے بچا لیا۔

          ہمارے زمانے میں ٹھیک یہی صورت حال ہے کہ خوارج جب کسی نوجوان کواکیلے میں پاتے ہیں تو یہی کام کرتے ہیں، اور اسے صرف انہی لوگوں کے پاس لے کر جاتے ہیں،جن کو وہ اچھی طرح جانتے ہیں،اور جن سے وہ مطمئن ہوتے ہیں،تاکہ ان کا معاملہ طشت از بام نہ ہو جائے،اور ان کی چال ناکام نہ ہو جائے،اور کبھی پہلے سے اس کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے،اور یہ کام بڑے ہی منظم طریقے سے کیا جاتا ہے،اسی کے ساتھ وہ اپنے جس شیخ یا پیشوا کے پاس نوجوان کو لے کر جاتے ہیں،اس کی شان میں مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہیں،اس کی تعریفوں کے پل باندھ دیتے ہیں،اور اس کے اوپرالقاب و آداب کا بالہ بنا کر اسے آسمان تک اٹھا دیتے ہیں،تاکہ اس کے ذریعے کمزور لوگوں کو شکار کر لیں۔

         جبکہ یہ طریقہ کار بالکل بھی اہل سنت اور اہل علم کا نہیں رہا بلکہ یہ اس کے مخالف ہے ،کیونکہ علمائے اہل سنت نہ اپنی تعریف کرتے ہیں اور نہ ہی اسے پسند کرتے ہیں۔

       حافظ ابن رجب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

       نفع بخش علم والے علماء کی علامات میں سے یہ ہےکہ وہ اپنے لیے نہ کسی حال کے قائل ہیں،اور نہ مقام کے،وہ تو تزکیہ اور مدح وستائش کودل سے ناپسند کرتے ہیں، وہ کسی طرح کا تکبر نہیں کرتے،اور نہ اپنے آپ کو کسی سے بڑا سمجھتے ہیں،اور جیسے جیسے ان کے علم میں اضافہ ہوتا ہے،اللہ کیلئے ان کی تواضع،خشیت اور عاجزی و انکساری میں اضافہ ہوتا ہے۔

اور نفع بخش علم کی علامات میں سے یہ ہے کہ یہ علم آدمی کو دنیا سے دور رہنے کی رہنمائی کرتا ہے،اور دنیا کی سب سے بڑی چیز ریاست و حکومت،شہرت و ناموری اور مدح و ستائش ہے۔

(بیان فضل علم السلف علی الخلف ص8)

حاصل کلام :

الغرض یزید الفقیر رحمہ اللہ کے اس واقعہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ علمائے اہل سنت کی ہم نشینی اختیار کرنے اور ان کی مجالس میں بیٹھنے سے انسان منحرف افکار ونظریات سے اور قرب قیامت اس زمانے میں بارش کے قطروں کی طرح پیدا ہونے فتنوں سے نجات پائے گا اور اپنے آپ کو محفوظ کر لے گا۔

ماخوذ از:

خوارج اور ان کے اوصاف

(ڈاکٹر محمدغیث)

Print Friendly

About alfitan

مزید دیکھئے

فرقہ معتزلہ کا مختصر تعارف

فرقہ معتزلہ کا مختصر تعارف

فرقہ معتزلہ کا مختصر تعارف  فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ  الحمد للہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *