مرکزی صفحہ » گمراہ فرقے » خوارج » اوصاف خوارج : خود پسندی اور تکبر

اوصاف خوارج : خود پسندی اور تکبر

image_pdfimage_print
 photo_2017-09-13_10-00-22

اوصاف خوارج خود پسندی اور تکبر

خود پسندی اور اپنے عمل کےتئیں خود فریبی

الحمد للہ رب العالمین والعاقبۃ للمتقین والصلوۃ والسلام علی رسولہ الکریم اما بعد !

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےخوارج کی کئی ایک نشانیاں بیان کر کے اس فتنے سے امت کو ڈرایا ہے، کیونکہ وہ دکھنے میں معمولی  اور ان کا گناہ اور انجام بڑا ہی بھیانک ہوتاہے،ان میں سے ایک نشانی اور وصف خود پسندی ہے ،اپنے کام بات کو سب سے اعلی و بہترین سمجھنا اور لوگوں کو حقیر جاننا، یہ کام خوارج میں عام پایا جاتا ہے،وہ بڑے بڑے علماء پر طنز کرتے ہیں ان کے فتاوی جات کا مذاق اڑاتے ہوئے رد کرتے ہیں،اور یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم سے بڑا عالم کوئی نہیں ہے،اور ہم ہی سب سے بڑھ کر حق پر ہیں،یہ کام اتنا سنگین ہے کہ اس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

انس رضی اللہ عنہ روایت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ  میں نے آپ ﷺ  سے خود یہ حدیث نہیں سنی مجھے بیان کیا گیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ :

« إِنَّ فِيكُمْ قَوْمًا يَعْبُدُونَ وَيَدْأَبُونَ، حَتَّى يُعْجَبَ بِهِمُ النَّاسُ، وَتُعْجِبَهُمْ نُفُوسُهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ »

{مسند احمد : 12886}

تمہارے اندر ایک قوم ہو گی جو عبادت کرے گی،اور سخت جانفشانی اور محنت ومشقت کے ساتھ عبادت کرے گی،یہاں تک کہ لوگوں کو انکی کثرت عبادت پر تعجب ہو گا،اور وہ خود پسندی اور غرور میں مبتلا ہو گی،پھر یہ لوگ دین سے اس طرح  نکل جائیں گے،جیسے تیر شکار کے پار نکل جاتا ہے۔

اور ایک روایت میں ہے:

« سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي اخْتِلَافٌ وَفُرْقَةٌ ، وَسَيَجِيءُ قَوْمٌ يُعْجِبُونَكُمْ ، وَتُعْجِبُهُمْ أَنْفُسُهُمْ»

{مستدرک حاکم : 2/ 147 ، 2648}

عنقریب میری امت میں اختلاف اور فرقہ بندی ہو گی،اور ایک قوم ایسی آئے گی،جو{اپنی کثرت عبادت کی بنا پر}تم کو تعجب میں ڈال دے گی،اور انکا نفس انہیں غرور و تکبر میں  مبتلا کر دے گا۔

اور خود پسندی اور غرور و تکبر باعث ہلاکت ہے۔

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

« ثَلَاثٌ مُهْلِكَاتٌ شُحٌّ مُطَاعٌ وَهَوًى مُتَّبَعٌ  وَإِعْجَابُ الْمَرْءِ بِنَفْسِهِ »

{مسند بزار: 7291}

تین چیزیں ہلاک و برباد کر دینے والی ہیں،بخل و حرص،خواہشات نفس کی اتباع،اور اپنی رائے پر مغرور ہونا۔

اور مسند بزار کی ایک روایت میں الفاظ کچھ یوں ہیں:{ وَإِعْجَابُ الْمَرْءِ بِنَفْسِهِ  }

[مسند بزار: 6491]

آدمی کی خود پسندی اور اس کا اپنے نفس پر مغرور ہونا۔

اس حدیث سے معلوم ہواکہ انسان جب صرف اپنی رائے پر اعتماد کرتا ہے تو اس کے اندر غرور و تکبر پیدا ہو جاتا ہے،اور وہ یہ گمان کرتا ہے کہ وہ حق پر ہے، اس کے نتیجے میں وہ اپنی رائے پر نظر ثانی نہیں کرتاہے،اور علماء کی مجالس میں بیٹھنے کی زحمت نہیں کرتاہے تاکہ اس  کی اپنی غلطی اورعیب واضح ہو سکے،بلکہ وہ اپنے آپ کو سب سے بڑا علامہ اور سب سے بڑا فقیہ سمجھنے لگتا ہے،یہیں سے انحراف شروع ہوتا ہے،اور شیطان خواہش نفس کے زریعہ اسے دھوکہ و فریب میں مبتلا کر دیتا ہے،اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ اس کے دوست و احباب ہوتے ہیں،جو اپنی جہالت کی وجہ سےاس کی بے جا تعریف کرکے اس میں ہوا بھرتے ہیں،اور پھر اس کی ہلاکت کا وقت آجاتا ہے،اور وہ دین سے نکل جاتا ہےپھر بھی وہ سمجھتا ہے کہ وہ مجاہدین میں سے ہے۔

 رسول اللہ ﷺ نے انہی  کے متعلق فرمایا تھا:

{یظھرالاسلام حتی یختلف التجار فی البحر،وحتی تخوض الخیل فی سبیل اللہ،ثم یظھر قوم یقرءون القرآن،یقولون: من اقرا منا؟ من اعلم منا؟من افقہ منا؟ ثم قال لاصحابہ: ھل فی الئک من خیر؟ قالو:اللہ ورسولہ اعلم،قال[اولئک منکم من ھذہ الامۃ،واولئک ھم وقود النار}

{طبرانی الاوسط : 6242}

اسلام غالب ہو گایہاں تک کہ تجار بکثرت سمندری سفر کریں گے،اور گھوڑے اللہ کے راستے میں کود پڑیں گے،پھر ایسے لوگ ظاہر ہوں گے،جو قرآن پڑھیں گے تو کہیں گے کہ ہم سے  بڑا قاری کون ہے؟ہم سے بڑا عالم کون ہے؟ہم سے بڑا فقیہ کون ہے؟ پھر نبی ﷺ نے اپنےصحابہ کرام سے پوچھا کہ کیا ان لوگوں میں کوئی خیر ہے؟انہوں نے فرمایا،اللہ اور اس کے رسول کو بہتر علم ہے،تو آپ نے فرمایا:وہ تم میں سے،اور اسی امت میں سے ہوں گے،اور وہ جہنم کا ایندھن ہوں گے۔

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

ان ما اتخوف علیکم رجل قرآ القرآن، حتی اذا رئیت بھجتہ علیہ، وکان رداء للاسلام، غیرہ الی ما شاء اللہ، فانسلخ منہ، ونبذہ وراء ظھرہ، وسعی علی جارہ بالسیف، ورماہ بالشرک قال :قلت: یا نبی اللہ، آیھما اولی بالشرک، المرمی ام الرامی؟ قال: بل الرامی  

[صحیح ابن حبان:81 ، مسند بزار7293]

مجھے تمہارے بارے میں سب سے زیادہ ڈر اس آدمی کے متعلق ہے،جو قرآن پڑھے گا،یہاں تک کہ  جب اس کی رونق و خوبصورتی کے آثار اس پر نظر آئیں گے اور وہ اسلام کا معاون و مدد گار بھی ہو گا،تو وہ اس کو بدل ڈالے گا جس طرح اللہ چاہے گا،پھر وہ قرآن سے نکل جائے گا اور اسے پس پشت ڈال دے گا،اپنے پڑوسی کو تلوار سے مارنے کی کوشش کرے گا،اور اس پر شرک کی تہمت لگائے گا۔حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا اے اللہ کے نبی[ﷺ]دونوں میں سے شرک کا زیادہ مستحق کون ہوگا؟ جس پر شرک کی تہمت لگائی گئی وہ؟ یا جس نے تہمت لگائی؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا شرک کی تہمت لگانے والا۔

اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں:

{حتی اذا رئی علیہ بھجتہ، وکان رداء اللاسلام، اعتزل الی ما شاء اللہ}  

[مسند بزار: 2793]

یہاں تک کہ  جب  اس کے اوپر قرآن کی رونق و تروتازگی ظاہر ہو گی اور وہ اسلام کا مدد گار بھی ہو گا تو وہ مسلمانوں کی جماعت سے الگ ہو جائے گا۔

اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں:

{حتی اذا رئیت بھجتہ، وکان رداءالاسلام، اغترہ الشیطان الی ما شاء اللہ}

[ ذم الکلام للھروی : 89]

یہاں تک کہ  جب  اس کے اوپر قرآن کی رونق و تروتازگی ظاہر ہو گی اور وہ اسلام کا مدد گار بھی ہو گاکہ شیطان اس کو دھوکہ و فریب میں مبتلا کر دے گا ۔

قابل غور ہے کہ اس شخص نے بھی بقیہ خوارج کے مثل  اس طرح قرآن پڑھا کہ  وہ حلق سے نیچے نہیں جاتا ہے،اس نے قرآن تو پڑھا ، لیکن بغیر سمجھے،اور اسی وجہ سے اس کو دھوکہ وفریب ہوا،پھروہ لوگوں سےبدظنی اور دین کو غلط سمجھنے کی بنا پر جماعت سے الگ ہو گیا،اور مسلمانوں کی تکفیر شروع کردی،پھر اس کے بعد ان کے خلاف تلوار اٹھائی اور اس کا استعمال پڑوسی سے شروع کیا،حالانکہ پڑوسی سب سے زیادہ حقدار ہے کہ اس کے ساتھ بھلائی کی جائے،اور اس کو شر سے مامون و محفوظ رکھا جائے،لیکن خوارج کا معاملہ فطرت کے خلاف ہی چلتا ہے،احسان کرنے والوں کے ساتھ دھوکہ دہی،خیانت  اور احسان فراموشی اور ادائیگی حقوق  میں کوتاہی کرنا ہے۔

اسی طرح علامہ ابن کثیر  رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

قال أبو أيوب: وطعنت رجلا من الخوارج بالرمح فانفذته من ظهره وقلت له: أبشر يا عدو الله بالنار، فقال: ستعلم أينا أولى بها صليا.

قالوا: وجعل علي يمشي بين القتلى منهم ويقول: بؤسا لكم ! لقد ضركم من غركم، فقالوا: يا أمير المؤمنين ومن غرهم ؟ قال: الشيطان وانفس بالسوء أمارة، غرتهم بالاماني وزينت لهم المعاصي، ونبأتهم أنهم ظاهرون

(البدایۃ والنھایۃ : 10/ 588 ) 

ابو ایوب نے بیان کیا کہ میں نے خوارج میں سے ایک شخص کونیزہ مار کر اس کی پیٹھ سے پار کر دیا،اور اس سے کہا کہ اے اللہ کے دشمن!تمہیں جہنم کی آگ کی خوشخبری ہو،تو اس نے کہا،تمہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ ہم میں سے کون جہنم میں داخلےکا زیادہ مستحق اور سزا وار ہے۔

علی رضی اللہ عنہ  ان کے مقتولین کے درمیان چلتے ہوئے کہنے لگے، تمہاراستیا ناس ہو ،بے شک تمہیں اسی نے نقصان پہنچایا جس نے تمہیں دھوکہ میں  ڈال دیا،لوگوں نے پوچھا کہ اے امیر المؤمنین! کس نے ان کو دھوکہ دیا؟ تو انہوں نے فرمایا:شیطان نے اور نفس نےجو برائی پر ابھارتا ہے،خواہشات کے ذریعے ان کودھوکہ دیا،اور معاصی اور گناہ کے کاموں کومزین و خوبصورت بنا کر ان کے سامنے پیش کیا،اور انہیں یہ بتایا کہ وہ غالب ہونے والے ہیں۔

خوارج کی خود فریبی کی علامات میں سے یہ بھی ہے کہ وہ اپنے اعمال کی تعریف کرتے ہیں،اور اس کے ذریعے سادہ لوح و نا تجربہ کار نوجوانوں کوشکوک و شبہات میں مبتلا کر دیتے ہیں۔

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ  اللہ تعالی ہمیں ان جیسے تمام فتنوں سے محفوظ فرمائے،اور منہج سلف کے مطابق دین اسلام پر عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے  آمین

Print Friendly

About alfitan

مزید دیکھئے

فرقہ معتزلہ کا مختصر تعارف

فرقہ معتزلہ کا مختصر تعارف

فرقہ معتزلہ کا مختصر تعارف  فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ  الحمد للہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *