مرکزی صفحہ » گمراہ فرقے » خوارج » خوارج کو قوم عاد اور ثمود کی طرح قتل کرنے کا حکم آخر کیوں ؟؟؟

خوارج کو قوم عاد اور ثمود کی طرح قتل کرنے کا حکم آخر کیوں ؟؟؟

image_pdfimage_print
photo_2017-09-13_10-00-21

خوارج کو قوم عاد اور ثمود کی طرح قتل کرنے کا حکم

آخر کیوں ؟؟؟

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

تاریخ کا مطالعہ کرنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ خوارج ایک ایسی خبیث صفت قوم ہے کہ جس نے ہر موڑ اور ہر موقع پر اپنے اسلام اور اسلامیان کو لہو لہان کی اپنوں کی ہمیشہ انہوں نے مخالفت کی دکھ تو اس بات کا ہوتا ہے کہ اس دور کے خوارج نے صحابہ کرام کی بھی نہ چھوڑا ، ان کے تقوی اور اسلام پسندی کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے صحابہ کرام کو بھی کافر سمجھنا شروع کر دیا۔

ان کے نزدیک سیدنا علی المرتضی ، عثمان غنی ذو النورین ،طلحہ ، زبیر اور ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہم ، اصحاب جمل ، معاویہ رضی اللہ عنہ ، دونوں حَکم (سیدنا معاویہ اور امیر المؤمنین علی المرتضی کے درمیان فیصلہ کرنے والے دونوں جج ابو موسیٰ اشعری اور عمرو بن العاص) سب کو یہ خوارج کافر سمجھتے ہیں کہ انہوں نے شریعت اسلام کی خلاف ورزی کی ۔ جبکہ یہ خود امت کا قتل عام کر کے بھی اپنے آپ کو آٹے میں سے بال  کی طرح نکالنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں اور شریعت اسلامیہ کا نام لیکر یہ درندے امت کا خون بہانے میں دن رات نئے سے نئے منصوبے اور طریقے ڈھونڈتے رہتے ہیں ۔ اللہ انہیں تباہ برباد کرے آمین

خوارج کے قبیح اور شنیع افعال و اعمال کی وجہ سے شریعت میں ان کی سخت ترین مذمت وارد ہوئی ہے ۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :  

من أبغض خلق اللہ

“اللہ کے ہاں سب سے ناپسندیدہ لوگ”

(مسلم: 2517)

اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے ان سے قتال کرنے کی بڑی فضیلت بیان کی اور امت کو اس فتنہ سے خبردار کیا ۔ اسی طرح آپ ﷺ نے اس فتنہ کی سرکوبی کرنے والوں کے لئے امت کو خوشخبری بھی سنائی ؛  فرمایا : 

طوبی لمن قتلھم و قتلوہ

” اس شخص کے لئے خوشخبری ہے جس نے انہیں قتل کیا اور وہ ان خوارج کے ہاتھوں شہید ہو گیا ۔ ”

(ابو داؤد: 4767)

مزید آپ ﷺ نے ترغیب دلاتے ہوئے فرمایا : 

فإنَ فی قتلھم أجراً عظیماً عند اللہ لمن قتلھم یوم القیامۃ

“پس یقینا ان (خوارج ) سے قتال کرنے والے شخص کے لئے قیامت کے دن اللہ کے ہاں بہت زیادہ اجر ہے ۔”

(بخاری: 6531)

مزید آپ ﷺ نے فرمایا :  لو یعلم الجیش الذین یصیبونھم ما قضی لھم علی لسان نبیھم ﷺ لاتکلوا عن العمل

“اگر خوارج سے قتال کرنے والا لشکر اس اجر کو جان لے جس کا فیصلہ ان کے نبی ﷺ کی زبان پر کر دیا گیا ہے تو وہ باقی سارے اعمال چھوڑ کر صرف اسی عمل (یعنی خوارج سے قتال والے عمل) پر اکتفاء کر بیٹھیں گے ۔ ”

(مسلم: 2516)

ایک جگہ رسول اللہ ﷺ نے حکماً فرمایا : أینما لقِیتُموھم فاقتلوھم

“جہاں تم ان خوارج سے ملو انہیں قتل کر دو۔ “ 

(بخاری : 4770)

ان سے بڑھ کر خود آنحضرت ﷺ نے ایک لمبی حدیث میں خوارج کے خلاف لڑنے والی امت مسلمہ کی نڈر ، بے باک اور دلیر افواج کی حوصلہ افزائی فرماتے ہوئے ان خوارج کا قلعہ قمعہ کرنے کی خواہش کا اظہار کچھ اس طرح عزم کرتے ہوئے فرمایا :  

لَئِنْ أَدْرَكْتُهُمْ لأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ ثمود

“اگر میں نے ان خوارج کو پا لیا تو میں انہیں قوم ثمود کی طرح قتل کروں گا ”

(بخاری: 4094)

اور دوسری روایت میں ہے :

لَئِنْ أَدْرَكْتُهُمْ لأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ عَادٍ

” میں قوم عاد کی طرح قتل کروں گا ”

(بخاری : 3166)

امام قرطبی  رحمہ اللہ صحیح مسلم کی شرح المفہم میں نے یہی بات لکھتے ہیں :  

أنه ـ صلى الله عليه وسلم ـ كان يقتلهم قتلاً عامًا ؛ بحيث لا يبقى منهم أحدًا في وقت واحد ، لا يؤخر قتل بعضهم عن بعض ، ولا يقيل أحدًا منهم ، كما فعل الله بعاد ؛ حيث أهلكهم بالريح العقيم ، وبثمود حيث أهلكهم بالصيحة

یعنی رسول اللہ ﷺ ان خوارج کا قتل عام کریں گے تاکہ پوری طور پر ان میں سے کوئی بھی بچ نہ پائے ، نہ تو کسی کے قتل کو کسی وجہ سے مؤخر کیا جائے گا اور نہ ہی کسی کو کوئی گنجائش دی جائے گی جیسا کہ اللہ رب العزت نے قوم عاد حشر کیا  کہ انہیں بانجھ (خیر و برکت سے خالی  یعنی سراسر تباہی اور بربادی والی ) آندھی کے ساتھ ہلاک کیا ، اور قوم ثمود کو ہولناک چیخ  اور خوفناک کڑکنے والے بجلی سے نیست و نابود کر دیا گیا جیسے کبھی ان کا کبھی وجود ہی نہ تھا ۔

امام نووی رحمہ اللہ اپنی شرح صحیح مسلم میں اس کا معنی یوں بیان کرتے ہیں :

أي قتلا عاما مستأصلا كما قال تعالى ‹فَهَلْ تَرَى لَهُمْ مِنْ بَاقِيَةٍ› [الحاقۃ: 8] وفيه الحث على قتالهم وفضيلة لعلى رضي الله عنه في قتالهم

یعنی ان خوارج کا ایسا قتل عام کیا جائے کہ اس فتنے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے ، جیسا کہ اللہ تعالی نے قوم عاد  کے بارے میں فرمایا ‹کیا تم نے ان میں سے کسی کو باقی دیکھا ›  اور اس میں خوارج سے قتال کرنے کی ترغیب بھی ہے اور علی رضی اللہ عنہ کی خوارج سے کی گئی جنگ کی بھی فضیلت واضح ہوتی ہے ۔

امام سیوطی رحمہ اللہ نے سنن نسائی کی شرح میں ، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فتح الباری میں اور محمد شمس الحق عظیم آبادی رحمہ اللہ نے بھی ابو داؤد کی شرح عون المعبود میں اس حدیث کے تحت یہی معنی بیان کیا ہے کہ ؛ ان خوارج کو جڑ سے اکھاڑ دیا جائے ، بالکل نیست و نابود کر دیا جائے ۔

Print Friendly

About alfitan

مزید دیکھئے

فرقہ معتزلہ کا مختصر تعارف

فرقہ معتزلہ کا مختصر تعارف

فرقہ معتزلہ کا مختصر تعارف  فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ  الحمد للہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *