مرکزی صفحہ » گمراہ فرقے » خوارج » عقیدہ خوارج کا رد گناہگار مسلمان “کافر” نہیں ہوتا

عقیدہ خوارج کا رد گناہگار مسلمان “کافر” نہیں ہوتا

image_pdfimage_print
photo_2017-09-21_21-26-18

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

عقیدہ خوارج  کا رد

گناہگار مسلمان  “کافر” نہیں ہوتا!

الحمد للہ والصلوٰۃ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ امابعد !

خوارج کی مختلف علامات میں ایک بڑی واضح اور ان کے تمام فرقوں میں پائی جانے والی علامت یہ ہے کہ یہ کبیرہ گناہوں کی وجہ سے مسلمانوں کی تکفیر کرتے ہیں ۔  امام نسفی رحمہ اللہ نے درج ذیل آیت کریمہ کی روشنی میں  خوارج پر کئی ردود لکھے :

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَصُوحًا﴾ 

(سورة النساء8)

“اے ایمان والو! تم اللہ کے سامنے سچی خالص توبہ کرو۔” 

چنانچہ توبہ نصوحہ (خالص توبہ) کبیرہ گناہ ہی سے ہوتی ہے۔

اسی طرح احادیث رسول اللہ ﷑ سے بھی کئی دلیلیں اخذ کی ہیں ،آپ ﷑ کا ارشاد ہے:

 لاَ يَزْنِى الزَّانِى حِينَ يَزْنِى وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلاَ يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلاَ يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ

[صحيح مسلم ]

“زنا کار زناکاری کے وقت مومن نہیں رہتا، چور چوری کے وقت مومن نہیں رہتا، شراب خور شراب خوری کے وقت مومن نہیں رہتا۔” 

 اسکی تفسیر میں  امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

“صحیح قول جو محققین نے کہا ہےاس حدیث کا معنیٰ یہ ہے کہ  وہ جب گناہ کرتا ہے تو کامل مومن نہیں ہوتا،یہ ان الفاظ میں سے ہےجن کااطلاق کسی چیز کی نفی کیلئے ہوتا ہے اور اس سے اس کے کمال اور عمدگی کی نفی مراد ہوتی ہے،جیسے کہا جاتا ہے:نفع بخش علم کے علاوہ کوئی علم نہیں،اور اونٹ کے علاوہ کوئی مال نہیں اور زندگی درحقیقت آخرت کی زندگی ہے۔” 

(صحیح مسلم بشرح نووی 1/41)

خوارج کی غلطی یہ ہے کہ  وہ کبیرہ و صغیرہ گناہوں کے درمیان تفریق نہیں کرتے ،حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے درمیان فرق کیا ہے، جیسا کہ ارشاد باری ہے:

﴿ إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُمْ مُدْخَلًا كَرِيمًا 

(سورة النساء31)

“اگر تم ان بڑے گناہوں سے بچتے رہوگے جن سے تم کو منع کیا جاتا ہے تو ہم تمہارے چھوٹے گناه دور کر دیں گے اور عزت وبزرگی کی جگہ داخل کریں گے۔” 

لہذا خوارج امت کی تکفیر کیلئے خواہ کتنی بھی کوشش کریں کامیاب نہیں ہو سکتے،خواہ تمام گناہوں کو کبائر ہی کیوں نہ بنا دیں لیکن کسی عقلی و سمعی دلیل کی راہ نہیں پا سکتے۔ 

(الخوارج والاصول التاریخیہ لمسئلۃ تکفیر المسلم،ص31) 

کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کے درمیان فرق کرنا ضروری: 

کبائر: کبیرہ کی تعریف میں اختلاف ہے،سب سے عمدہ تعریف یہ ہے کہ کبیرہ گناہ وہ ہیں جن پر کوئی حد (متعین اسلامی سزا) مرتب ہوتی ہو یا اس پر لعنت یا غضب کی وعید سنائی  گئی ہو۔

صغائر: صغیرہ گناہ وہ ہیں جن پر دنیا میں نہ کوئی حد مرتب ہوتی ہو اور نہ آخرت میں کوئی وعید،اور وعید سے مراد جہنم یا لعنت یا غضب کی وعید ہو ۔

 (شرح عقیدہ طحاویہ ص418 )

خوارج اور انکے ہم مشرب لوگ  جو کبیرہ گناہوں کے مرتکبین سے ایمان سلب کرتے ہیں،ان کی تردید اللہ عزوجل کے درج ذیل فرمان سے ہوتی ہے:

﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْأُنْثَى بِالْأُنْثَى فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ 

(البقرۃ : 178)

” اے ایمان والو! تم پر مقتولوں کا قصاص لینا فرض کیا گیا ہے، آزاد آزاد کے بدلے، غلام غلام کے بدلے، عورت عورت کے بدلے۔ ہاں جس کسی کو اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معافی دے دی جائے اسے بھلائی کی اتباع کرنی چاہئے اور آسانی کے ساتھ دیت ادا کرنی چاہئے۔” 

چنانچہ اللہ نے  قاتل کو مومنوں  کے زمرہ سے  خارج نہیں کیا بلکہ اسے قصاص کے ولی کا بھائی قرار دیا ہے،اور بلاشبہ اس سے مراد دینی اخوت ہے۔

﴿ وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ

(الحجرات : 9)

“اور اگر مسلمانوں کی دو جماعتیں آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں میل ملاپ کرا دیا کرو۔ پھر اگر ان دونوں میں سے ایک جماعت دوسری جماعت پر زیادتی کرے تو تم [سب] اس گروه سے جو زیادتی کرتا ہے لڑو۔ یہاں تک کہ وه اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے۔” 

نیز ارشاد ہے:  ﴿إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ

(الحجرات: 10)

[یاد رکھو] “سارے مسلمان بھائی بھائی ہیں پس اپنے دو بھائیوں میں ملاپ کرا دیا کرو۔” 

 کتاب و سنت کے نصوص اور اجماع امت دلالت کناں ہیں کہ زنا کار،چور اور تہمت گر وغیرہ کو قتل نہیں کیا جائے گا، بلکہ ان پر حد قائم کی جائے گی ، اس سے معلوم ہوا کہ یہ مرتد نہیں ہیں۔

(شرح عقیدہ طحاویہ ص361)

رہا خوارج اور ان کے ہم مشرب لوگوں کے اس عقیدہ کی تردید کہ اہل کبائر جہنم میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے ،تو امام طحاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :اہل کبائر…اگر حالت توحید میں وفات پائیں اور اللہ کو پہنچانتے ہوئے اس سے ملاقات کریں اگرچہ توبہ نہ کئے ہوں،ہمیشہ ہمیش جہنم میں نہ رہیں گے بلکہ اللہ کی حکمت و مشیت تلے ہوں گے،اگر وہ چاہے تو اپنے فضل سے انہیں بخش دے اور معاف فرما دے،جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:

﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاء

(النساء: 48)

یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کئے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دے۔

اور اگر چاہے تو اپنے عدل و انصاف کی بنیاد پر انہیں عذاب جہنم میں مبتلا کرے اور پھر اپنی رحمت اور اپنے اطاعت گزار سفارشیوں کی سفارش سے انہیں اس سے نکال کر جنت مین داخل فرما دے۔

(شرح عقیدہ طحاویہ ص416)

جیسا کہ آپﷺ کا ارشاد ہے:

مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ،‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ

(صحيح البخاري1237)

میری امت میں سے جو کوئی اس حال میں مرے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس نے کوئی شریک نہ ٹھہرایا ہو تو وہ جنت میں جائے گا۔ اس پر میں نے پوچھا اگرچہ اس نے زنا کیا ہو، اگرچہ اس نے چوری کی ہو؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں اگرچہ زنا کیا ہو اگرچہ چوری کی ہو۔

اہل کبائر کیلئے نبیﷺ کی سفارش:

اس بارے میں احادیث متواتر ہیں،آپ ﷺ کا ارشاد ہے:

شفاعتي لأهلِ الكبائرِ من أمَّتي

(صحيح الترمذي:2436، صحيح أبي داود:4739،صحيح الجامع:3714، صحيح الترغيب:3649)

ترجمہ:میری امت میں جولوگ کبیرہ گناہوں کے مرتکب ہوئے میری شفاعت ان کے لیے ہو گی۔

نبی کریم  ﷺ سے سفارش چار مرتبہ : 

پہلی مرتبہ: آپﷺ اپنے رب کی اجازت کے بعد جیسا کہ قرآن نے وضاحت کی ہے، اپنی سفارش سے ان لوگوں کو جہنم سے نکلوائیں گےجن کے دل میں جو کے برابر بھی ایمان ہو گا۔

آپﷺ کا ارشاد ہے: فأخرج منها من كان في قلبه مثقال ذرة أو خردلة من إيمان

(صحیح مسلم1/183)

….چنانچہ میں جہنم سے ان لوگوں کو نکلواؤں گاجن کے دل میں ایک گیہوں یا جو کے برابر ایمان ہو گا۔

دوسری مرتبہ: ان لوگوں کو جہنم سے نکلوائیں گے جن کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو گا۔

تیسری مرتبہ: ان لوگوں کو جہنم سے نکلوائیں گے جن کے دل میں رائی کے دانے کےمعمولی ترین حصہ کے  برابر ایمان ہو گا۔

چوتھی مرتبہ: ان لوگوں کو جہنم سے نکلوائیں گے جنہوں نے صرف”لاالہ الا اللہ“  کہا،چنانچہ اللہ عزوجل کا ارشاد ہے : وَعِزَّتِي وَجَلالِي وَكِبْرِيَائِي وَعَظَمَتِي لأُخْرِجَنَّ مِنْهَا مَنْ قَالَ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ”

(صحیح مسلم1/183)

میری عزت،جلال،کبریائی،اور عظمت کی قسم! میں ان لوگوں کو جہنم سے ضرور نکالوں گا جنھوں نے”لاالہ الا اللہ“     کہا۔

تو یہ بات ہمارے سامنے بالکل واضح ہو گئی کہ خوارج کے دلائل بالکل کھوکھلے اور لاعلمی کا انعکاس ہیں ۔۔۔۔ اللہ رب العزت امت مسلمہ کو بالخصوص غیور نوجوانوں کو ان خوارج کے فتنے سے محفوظ فرمائے آمین ۔ 

Print Friendly

About alfitan

مزید دیکھئے

فرقہ معتزلہ کا مختصر تعارف

فرقہ معتزلہ کا مختصر تعارف

فرقہ معتزلہ کا مختصر تعارف  فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ  الحمد للہ …

ایک تبصرہ

  1. Good job god blessing you

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *